ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - Book 24 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 24 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 128 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے، ہر دن اس میں ایک ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک اس میں دوبارہ داخل نہیں ہو سکیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (477) ، مسند أحمد رقم (12100) مستدرك الحاكم رقم (3701)
عَنْ طَاؤُوسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: تلَقَّى عِيسَى حُجَّتَهُ فَلَقَّاهُ اللهُ فِي قَوْلِهِ: ثُم رَفع البَاقِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَلَقَّاهُ اللهُ: الْآيَةَ كُلَّهَا.
طاؤس رحمۃ اللہ علیہ ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ : عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی حجت اللہ تعالیٰ سے سیکھی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے اس قول میں حجت سکھا دی:جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے عیسیٰ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے علاوہ معبود بنالو؟ پھر باقی حدیث مرفوعا بیان کی، ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو سکھائے گا : تو پاک ہے، میرے لئے جائز ہی نہیں کہ جس بات کا مجھے حق نہیں میں وہ بات کہوں اگر میں نے کہا ہے تو تو اسے جانتا ہے۔ تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے اور تیرے نفس میں جو کچھ ہے میں اسے نہیں جانتا۔ بے شک تو تمام غیبوں کا جاننے والا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2454) ، سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ رقم (2988)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابو القاسم! ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھیں گے ،اگر آپ نے ہمیں جواب دے دیا تو ہم آپ کی پیروی کریں گے آپ کی تصدیق کریں گے ،اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔آپ نے ان سے وہی وعدہ کیا جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے خود سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا:(جو ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس کا نگران ہے) یہودیوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتایئے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ انہوں نے کہا: ہمیں بتایئے کہ بچہ کس طرح مؤنث بنتا ہے اور کس طرح مذکر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں پانی ملتے ہیں اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مونث ہوتا ہے اور اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مذکر بنتا ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ ہمیں رعد کے بارے میں بتایئے کہ وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کا نگران ہے( اس کے ہاتھوں میں یا اس کے ہاتھ میں آگ کا ایک کوڑاہے، جس سے وہ بادلوں کو جھڑکتا ہے) اور وہ آواز جو سنی جاتی ہے وہ اس کا بادلوں کو ڈانٹنا ہے حتی کہ وہ بادل کو ڈانٹتا ہوا مقررہ جگہ پر لے جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1872) ، سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الرَّعْدِ رقم (3042) مسند أحمد رقم (2353)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے (روایات) بیان کرو اور کوئی حرج نہیں ،کیوں کہ ان میں عجیب واقعات ہوا کرتے تھے۔ پھر واقعہ بیان کرنے لگے: بنی اسرائیل کا ایک گروہ باہر نکلا اور اپنے کسی قبرستان میں آگئے۔ کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ عزوجل سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے کوئی مردہ باہر نکالے جس سے ہم موت کے بارے میں سوال کر سکیں ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا وہ اسی کیفیت میں تھے، اچانک ایک قبر سے آدمی نے اپنا سر نکالا، سر مئی سے رنگ کا تھا۔ پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا، کہنے لگا: اے لوگو! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ مجھے مرے ہوئے سو سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی حتی کہ یہ وقت آگیا ہے۔ اللہ سے دعا کرو کہ میں جس حال میں تھا، مجھے اسی میں واپس لوٹا دے
Takhreej
الصحيحة رقم (2926) ، الزهد لأحمد بن حنبل رقم (90) الزهد لوكيع رقم (54)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ، وَالْخَنَازِيرُ مِنْ بني إِسْرَائِيلَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ جنوں کی مسخ شدہ صورتیں ہیں، جس طرح بنی اسرائیل کو بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل کیا گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (1824) ، مسند أحمد رقم (3084، 3085) المعجم الكبير للطبراني رقم (11778
ابو درداءرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، تو ان کے دائیں کاندھے پر ضرب لگائی اور سفید اولاد نکالی جو کہ چھوٹی چیونٹیوں کی مانند تھے۔ اور بائیں کاندھے پر ضرب لگائی تو اس سے سیاہ اولاد نکالی گویا کہ کوئلے ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والوں کے لئےکہا: جنت کی طرف اور مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں، اور بائیں طرف والوں کے لئے کہا: جہنم کی طرف اور مجھے ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (49) ، مسند أحمد رقم (26216) مسن الشاميين للطبراني رقم (2164)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کہو جو بیٹھے ہوئے ہیں اور غور سے سننا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔کیوں کہ یہ تمہارا سلام اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم ، فرشتوں نے کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ ۔انہوں نے ورحمۃ اللہ زیادہ کیا۔ جو شخص جنت میں داخل ہوگا آدم کی صورت پر ہوگا اس وقت سے اب تک مخلوق (قد میں) کم ہوتی آرہی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (449) ، صحيح البخاري كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب بَدْءِ السَّلَامِ رقم (5759)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میر ا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے کے دن مٹی پیدا کی، اتوار کے دن اس میں پہاڑ گاڑے، پیر کے دن درخت اگائے ،کام کاج کی چیزیں (لوہا وغیرہ) منگل کے دن پیدا کی، روشنی بدھ کے دن پیدا کی، اور جمعرات کے دن اس میں جانور پھیلا دیئے اور آدم علیہ السلام کو عصر کے بعد جمعے کے دن مخلوقات کے آخر میں پیدا کیا، عصر سے لے کر رات کے درمیان والی جمعے کی آخری گھڑی میں
Takhreej
الصحيحة رقم (1833) ، صحيح مسلم كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَاب ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رقم (4997)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور ابلیس سموم(گرم ہوا ) کی آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام اس چیز سے جو تمہیں بتا دی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک حبشی مدینے میں دفن کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس مٹی میں دفن کیا گیا ہے جس سے پیدا کیا گیا تھا
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے مخلوق میں سب سے بہتر انسان !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3344) ، صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ رقم (4367)
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں نے معراج کی رات کچھ آدمی دیکھے جن کی باچھیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت کے خطیب، لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے لیکن خود کو بھول جاتے حالانکہ یہ کتاب اللہ پڑھتے تھے کیا یہ عقل نہیں رکھتے تھے؟
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میرے لئے ساتویں آسمان میں سدرة المنتہی کو بلند کیا گیا اس کا بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح تھا اور اس کا پتہ ہاتھی کے کان کی طرح۔ اس کے تنے سے دو ظاہر اور دو باطن نہریں نکلتی ہیں میں نے جبریل سے پوچھا: اے جبریل !یہ دونوں کس طرح کی ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: باطن تو جنت میں ہیں جب کہ ظاہر نیل اور فرات ہیں۔
عمر بن خطابرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:ہوا کسی قوم کے لئے عذاب بنا کر بھیجی جاتی ہے اور کسی قوم کے لئے رحمت۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1833) ، صحيح مسلم كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَاب ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رقم (4997)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نےجبریل علیہ السلام سے سوال کیا: موسیٰ علیہ السلام نے دونوں میں سے کونسی مدت پوری کی؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: اکمل اور اتم مدت
Takhreej
الصحيحة رقم (1880) ، مسند أبي يعلي رقم (2354) مسند الحميدي رقم (563)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے صبر اور کرم کو دیکھ کر بہت متعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔ جب ان کی طرف خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے دو آدمی بھیجے گئے اگر میں ہوتا تو اس وقت تک نہ بتاتا جب تک مجھے باہر نہ نکال دیا جاتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور کرم کی وجہ سے پھر تعجب ہوا اللہ انہیں معاف فرمائے۔ انہیں باہر نکالا جانے لگا تو اس وقت تک نہ نکلے جب تک انہیں اپنا عذر نہ بتادیا ۔اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف جلدی کرتا ۔اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی مدد سے جیل سے باہر آنا چاہ رہے تھے جبکہ انہوں نے کہا کہ: ‘‘اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا۔’’ تو وہ جیل میں (اتنی دیر) نہ رہتے
Takhreej
الصحيحة رقم (1945) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (11475)