TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان - Book 24 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 24 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 128 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

128 Hadith · 1 Chapters
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَّسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي إِنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ نَفْسًا ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: رَاهِبٍ) فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لِّي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَّتِسْعِينَ نَفْسًا؟ قَالَ: فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً. ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ؟ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ (عالم) فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لِّي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: وَمَنْ يَّحُوْلُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ؟ اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا (فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَّعْبُدُونَ اللهَ) فَاعْبُدْ رَبَّكَ (مَعَهُمْ) فِيهَا (وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ) قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي (بَعْضَ الطَّرِيقِ) (فَنَاءَ بِصَدْرِهِ نَحْوَهَا) قَالَ: فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ قَالَ: فَقَالَ إِبْلِيسُ: أَنَا أَوْلَى بِهِ إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطٌّ قَالَ: فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا (مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ: إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ) فَبَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَلَكًا (فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ) فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ قَالَ: فَقَالَ: انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا (فَأَوْحَى الهُ( إِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي وَأَوْحَى اللهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي) (فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ (بِشِبْرٍ) فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ) (فَغفِرَلَه) قَالَ الْحَسَنُ: لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ (وَفِي رواية: نَاءَ بِصَدْرِهِ) فَقَرَّبَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں تمہیں وہی حدیث سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے۔ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کر لیا۔ ایک بندے نے ننانوے قتل کئے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے زمین پر موجود سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک آدمی کا پتہ دیا گیا( اور ایک روایت میں ہے: ایک راہب کا) وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے ننانوے قتل کئے ہیں، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی گنجائش ہے ؟وہ کہنے لگا: کیا ننانوے قتل کرنے کے بعد بھی توبہ کی گنجائش ہے؟ اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور اسے بھی قتل کر دیا، اور سو کی تعداد مکمل کر لی۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے زمین میں موجود سے سب بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا؟ تو اسے ایک( عالم) آدمی کا پتہ بتایا گیا، وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے سو آدمی قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ اس عالم نے کہا: تمہارے اور توبہ کے درمیان کونسی رکاوٹ ہے؟ جس خبیث بستی میں تم ہو اس سے نکل کر فلاں نیک بستی کی طرف چلے جاؤ(اس بستی میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں) ان کے ساتھ مل کر اپنے رب کی عبادت کرو (اور اپنے علاقے میں واپس نہ آنا کیوں کہ یہ برا علاقہ ہے) وہ شخص نیک بستی کی طرف چل پڑا۔ (راستے میں) اسےموت نے آلیا، (وہ سینے کے بل گھسٹا ہوا نیک بستی کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنے لگا) اس کے بارے میں رحمت اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے۔ ابلیس نے کہا: میں اس کا وارث ہوں کیوں کہ اس نے ایک لمحہ بھی میری نا فرمانی نہیں کی ،جب کہ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ اپنے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر توبہ کی غرض سے نکلا تھا۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی، تب اللہ عزوجل نے ایک فرشتہ(آدمی کی صورت میں) بھیجا وہ اس کے پاس جھگڑالے کر گئے، وہ کہنے لگا: دیکھو یہ کس بستی کے زیادہ قریب ہے ؟ اسے اس بستی والوں سے ملا دو( اللہ تعالیٰ نے اس بستی کی طرف وحی کی کہ قریب ہو جاؤ، اور اس بستی کی طرف وحی کی کہ دور ہو جاؤ، )(انہوں نے پیمائش کی تو جس بستی کی طرف جا رہا تھا اس سے(ایک بالشت)نزدیک تھا، اس لئے اسے رحمت کے فرشتوں نے لے لیا(اور اللہ نے اس کی بخشش کردی۔ حسن کہتے ہیں کہ جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ مرنے والا ہے تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹنے کی کوشش کی(اور ایک روایت میں ہے کہ: سینے کے بل کوشش کی) تو اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی کے قریب کر دیا، اور بری بستی کو اس سے دور کر دیا، اس لئے فرشتوں نے اسے نیک بستی والوں سے ملادیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2640) ، صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب حَدِيثُ الْغَارِ رقم (3211)
3124
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، مَوْقُوْفاً: « إِنَّ فِرْعَوْن ، أَوْتَدَ لِإْمْرَأَتِه أَرْبَعَة أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْهَا ظَلَّلَتْها المَلَائِكَة ، فَقَالَتْ :رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ ، فَكَشَفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّة ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ: فرعون نے اپنی بیوی کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار کیلیں ٹھونک دیں ، جب وہ لوگ اس کے پاس سے چلے جاتے تو فرشتے اس پر سایہ کردیتے۔ وہ کہنے لگی: رَبِّ ابۡنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الۡجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ اے میرے رب! اپنے پاس جنت میں میرے لئے ایک گھر بنا ،مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے۔ اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ،تب اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں اس کا گھر دکھادیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2508) ، مسند أبي يعلي رقم (6300)
3125
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرحمن تَبَارَك وَتعَالَى، لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الدَاعِي لَأَجبْتُ إِذ جَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ (يوسف: ٥٠) وَرَحْمَةُ اللهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ لِقَومِه: لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ (۸۰) (هود: ٨٠) فَمَا بَعَثَ اللهُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کریم(معزز) بن کریم بن کریم بن کریم ،یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل الرحمن تبارک وتعالیٰ ہیں۔جتنا عرصہ وہ جیل میں رہے، اگر میں رہتا اور میرے پاس کوئی آتا تو میں اس کی بات قبول کرلیتا۔جب ان کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ اور اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کاش میرے پاس قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط ستون کی پناہ لیتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا وہ اس قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا
Takhreej
الصحيحة رقم (1617) ، صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب مَنْ انْتَسَبَ إِلَى آبَائِهِ فِي الْإِسْلَامِ وَالْجَاهِلِيَّةِ رقم (3262)
3126
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ سَالِمِ بن عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بن الْخَطَّابِ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، جَلَسُوا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ الهِأ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ، (يَنْتَهُون إِلَيْه) فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو بن الْعَاصِ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبَ الْخَمْرِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا، (حَتَّى أَتَوْهُ فِي دَارِهِ) فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مَلِكًا مِّنْ بني إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَّشْرَبَ الْخَمْرَ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا، أَوْ يَزْنِيَ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى، فَاخْتَارَ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَهَا لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أرادوهُ مِنْهُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَّشْرَبُهَا فَتُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَلا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ إِلا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ مَّاتَ فِي الأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کچھ صحابہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی وفات کے بعد بیٹھے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ان کے پاس اس بارے میں کوئی حتمی علم نہیں تھا۔ (جس پر وہ سب متفق ہوسکیں) انہوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ شراب پینا ہے۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا اور سب کے سب ان کی طرف چل پڑے۔ (اور ان کے گھر آگئے) عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑااور اسے اختیار دیا کہ وہ شراب پئے یا بچے کو قتل کر دے۔ یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھائے۔ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔اس نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی ،تو جن کاموں کا اس سے مطالبہ ہوا تھا کسی سے بھی باز نہیں رہا، اس وقت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہم سے فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور جو شخص مرجائے اور اس کے مثانے میں کچھ(تھوڑی سی ہی ) شراب ہو تو اس پر جنت حرام ہے ،اور اگر وہ چالیس دن کے اندر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2695) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (1528)
3127
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ أَرِنِي آدَمَ الَّذِي أَخْرَجَنَا وَنَفْسَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَرَاهُ اللهُ آدَمَ فَقَالَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: نَعَمْ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي نَفَخَ اللهُ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَعَلَّمَكَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ أَخْرَجْتَنَا وَنَفْسَكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى قَالَ: أَنْتَ نَبِيُّ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللهُ مِنْ وَّرَاءِ الْحِجَابِ لَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ رَسُولًا مِنْ خَلْقِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَفَمَا وَجَدْتَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي كِتَابِ اللهِ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فِيمَ تَلُومُنِي فِي شَيْءٍ سَبَقَ مِنْ اللهِ تَعَالَى فِيهِ الْقَضَاءُ قَبْلِي؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عِنْدَ ذَلِكَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! مجھے آدم علیہ السلام تو دکھاجس نے ہمیں اور خود اپنے آپ کو جنت سے نکلوا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آدم دکھلا دئیے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے والد آدم ہیں؟ آدم علیہ السلام نے ان سےکہا: ہاں،موسیٰ علیہ السلام نے کہا:آپ ہی وہ شخص ہیں جس میں اللہ تعالی نے اپنی روح پھونکی ، تمام نام سکھائے اور فرشتوں کوآپ کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیا ؟آدم علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ موسیٰ نے کہا: آپ کو کس بات نے اس کام پر مائل کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا ؟آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تم ہی بنی اسرائیل کے وہ نبی ہو جس سے اللہ تعالیٰ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی ؟ اپنی مخلوق میں سے اپنے اورتمہارے درمیان کسی کو قاصد نہیں بنایا؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا:جی ہاں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ یہ اللہ کی کتاب میں میرے پیدا ہونے سے پہلے لکھا جا چکا تھا؟انہوں نے کہا: ہاں۔ آدم علیہ السلام نے کہا: تب تم مجھے اس کام پر کیوں ملامت کر رہے ہو جس کے بارے میں مجھ سے پہلے اللہ کی تقدیر کا فیصلہ ہو چکا تھا؟ اس وقت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پس آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1702) ، سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْقَدَرِ رقم (4080)
3128
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً : « إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللهِ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُه ثَمَان عَشَرَة سَنَة فَرَفَضَهُ القَرِيْبُ وَالبَعِيْد إِلاَّ رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوْحَان، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِه ذَاتَ يَوْمٍ : تَعْلَم وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوْبَ ذَنْباً مَا أَذْنَبه أَحَدٌ مِّنَ العَالَمِيْنَ؟ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُه : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانِي عَشَرَة سَنَة لَمْ يَرْحَمُه الله فَيكْشِف مَا بِه فَلَمَّا رَاحَا إِلَى أَيُّوبٍ لَمْ يَصْبِرالرَّجُل حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَه ، فَقَالَ أَيُّوب : لاَ أَدْرِي مَا تَقُولَانِ، غَيْرَ أَنَّ الله يَعْلَم أَنِّي كُنْتُ أَمُر بِالرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيذكَرَانِ اللهَ فَأَرْجِع إِلَى بَيْتِي ، فَأُكَفِّرُ عَنْهُماَ كَرَاهِيَّة أَنْ يَّذْكُرَ الله إِلَّا فِي حَقٍّ ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسكَتهُ امْرَأَتَه بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى إِلَى أَيُّوْبٍ أَنْ اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿۴۲﴾ (ص: ٤٢) ، فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلقته تَنْظُر وَقَدْ أَقْبَل عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ البَلَاءِ وَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْه قَالَتْ : أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ! هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا المبتلى؟ وَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ (أَحَدا) رَجُلا أَشْبَه (بِهِ) مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيْحاً فَقَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، وَكَانَ لَه أَنْدران (أَىْ: بيدران) أَنَدُرٌ لِّلْقَمْح وَأَنْدَرٌ لِّلشَّعِيْر ، فَبَعَثَ اللهُ سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمًّا كَانَتْ أَحَدُهَمَا عَلَى أَنْدَر القَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيْهِ الذَّهَبُ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى فيِ أَنْدَرِ الشَّعِيْر الوَرَق حَتَّى فَاضَ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کی آزمائش اٹھارہ سال تک رہی ،قریب و دور کے سب عزیزوں نے انہیں چھوڑ دیا ،سوائے ان کے دو بھائیوں کے۔ وہ صبح و شام ان کے پاس آتے ،ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: واللہ! تمہیں معلوم ہے کہ ایوب نے ایسا گناہ کیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا؟ کہنے لگا: اٹھارہ سال ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں کیا اور ان کی تکلیف دور نہیں کی، جب شام کو وہ دونوں ایوبکے پاس آئے تو جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اس سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ اس نے ان سے اس بات کا ذکر کردیا، ایوب علیہ السلام نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا کہہ رہے ہو سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں جب بھی دو جھگڑا کرنے والوں کے پاس سے گزرتا تھا جو (اپنے جھگڑے میں) اللہ کا ذکر کرنے (یعنی قسم اٹھاتے) تو میں گھر جا کر ان کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے کہ اللہ کا ذکر نا حق کام میں کیا گیا۔ ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر نکلا کرتے تھے ،جب وہ قضائے حاجت کر لیتے تو ان کی بیوی گھر آنے تک ان کا ہاتھ پکڑے رکھتی ،ایک دن انہوں نے دیر کر دی اور ان کی طرف وحی کی گئی کہ (سورۃ ص: ٤٢) اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے ،ان کی بیوی کو ان کی تاخیر کا احساس ہوا تو وہ انہیں دیکھنے نکل پڑیں، ایوب علیہ السلام ان کی طرف آرہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی تھی، اور پہلے سے زیادہ اچھے ہو گئے تھے ۔جب ان کی بیوی نے انہیں دیکھا تو کہنے لگیں:اللہ تمہیں برکت دے! کیا تم نے مصیبت زدہ اللہ کا نبی دیکھا ہے ؟واللہ وہ اسی راستے پر گیا تھا۔ جب وہ صحیح تھا تو میں نے تم سے زیادہ اس کے مشابہہ(کسی کو) نہیں دیکھا، ایوب علیہ السلام نے کہا: میں ہی وہ ہوں۔ان کےلئے دو ڈھیرتھے۔ ایک گندم کا ،دوسرا جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ،جب ایک گندم کےڈھیرپر پہنچا تو اس نے سونا برسانا شروع کر دیا حتی کہ سونا بہنے لگا اور دوسرے نے جو کے ڈھیر پر چاندی برسانا شروع کر دی حتی کہ چاندی بہنے لگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (17) ، مستدرك الحاكم رقم (4080) مسند أبي يعلي رقم (3520)
3129
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ: أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ قَالَ: يُرِيدُ أَنْ يَّضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعِ ابْنِ رَاعٍ قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ: أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَّا يَعْقِلُ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ نُوحًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ آمُرُكَ بِاثْنَتَيْنِ وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ آمُرُكَ بِـ(لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ) فَإِنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَّوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فِي كِفَّةٍ رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعَ كُنَّ حَلْقَةً مُّبْهَمَةً قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَسُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ قَالَ: قُلْتُ: أَوْ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: أَنْ يَّكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هُوَ أَنْ يَّكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: لَا. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ گاؤں کا ایک دیہاتی شخص آیا ،اس نے ریشمی بٹنوں والا ایک سیجانی جبہ پہنا ہوا تھا ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: خبردار !تمہارے اس ساتھی نے ہر شہ سوار ابن شہ سوار کو مات دے دی ہے۔ اور یہ چاہتا ہے کہ ہر شہ سوار کو مات دے دے۔اور ہر چرواہےابن چرواہے کو بلند کر دے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کواس کے جبے سے پکڑا اور فرمایا: میں تم پر کسی بے وقوف کا لباس دیکھ رہا ہوں۔ پھر فرمایا:اللہ کے نبی نوح علیہ السلام!جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تمہیں وصیت بتاتا ہوں، میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تمہیں(لا الہ الا اللہ) کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں ،اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں تو لا الہ الا اللہ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر ساتوں زمین اور ساتوں آسمان ایک مضبوط دائرہ بن جائیں تو لا الہ الا اللہ انہیں توڑ دے گا، اور میں تمہیں سبحان اللہ وبحمدہ کا حکم دیتا ہوں کیوں کہ یہ ہر مخلوق کی دعا ہے اور اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔ میں تمہیں شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں، میں نے کہا: یا کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شرک تو ہمیں معلوم ہے، یہ تکبر کیا ہے؟ کیا ہم میں کسی شخص کے خوب صورت جوتے اور خوب صورت تسمے ہوں ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں ۔ کیا ہم میں سے کسی شخص کے دوست ہوں جو اس کے پاس بیٹھیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں۔ اے اللہ کے رسول! پھر تکبر کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (134) ، مسند أحمد رقم (6295)
3130
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَّتَخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ،ایک انصاری عورت نے جس کا غلام بڑھئی تھا: نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا غلام بڑھئی ہے، کیا میں اسے کہوں کہ وہ آپ کے لئے منبر بنادے؟ جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں تو اس نے آپ کے لئے منبر بنا دیا۔ جب جمعہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ وہ تناجس سے ٹیک لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ اس وجہ سے رو رہا ہے کہ یہ ذکر سے محروم ہو گیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3547) ، صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ رقم (3319) مسند أحمد رقم (13690)
3131
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي الدَردَاء ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَا حَظُّكُمْ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُم حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں انبیاء میں سے تمہارا بہترین منتخب (حصہ) نبی ہوں اور تم امتوں میں سے میرے لئے بہترین منتخب(حصہ) امت ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3207) ، صحيح ابن حبان رقم (7337)
3132
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
) عَنْ عَطَاء عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّا مَعْشَر الأَنْبِيَاء تَناَمُ أَعْيُنُنَا وَلَا تَنَامُ قُلُوبُنَا.
عطاء سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، ہماری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1705) ،
3133
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَہً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمّٰ لَکَ؟ قَالَ اَنا فلان بْنُ فُلَان ابْنِ الْإِسْلَامِ قَالَ: فَأَوْحَى اللهُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ قُل لِّهَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ: أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي أَوِ الْمُنْتَسِبُ إِلَى تِسْعَةٍ! فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ! فِي الْجَنَّةِ فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے زمانے میں دو آدمی نسب پر فخر کرنے لگے۔ ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تم کون ہو، تمہاری ماں مرے؟ تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمی نسب پر فخر کرنے لگے۔ ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں حتی کہ نو نام گنوادیئے ۔تم کون ہو تمہاری ماں مرے؟ اس نے کہا: میں فلان بن فلاں ابن الاسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ان دونوں فخر کرنے والوں سے کہو: تم جو نو(۹) کی طرف نسبت کرنے والے نو(۹) آگ میں ہیں تم دسویں ہو اور تم دو کی طرف نسبت کرنے والے ہو،دونوں جنت میں ہیں اور تم تیسرے بھی جنت میں ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1270) ، مسند أحمد رقم (20241)
3134
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَائِشَةَ! ثَلَاثٌ مَّنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ (قُلْتُ مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ) قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ (۲۳) التكوير . وَ لَقَدۡ رَاٰہُ نَزۡلَۃً اُخۡرٰی (۱۳) النجم فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِّنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَتْ: أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَ ہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ (۱۰۳) الأنعام أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللهَ يَقُولُ: وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ (۵۱) الشورى قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَتَمَ شَيْئًا مِّنْ كِتَابِ اللهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ وَاللهُ يَقُولُ: یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ المائدة: ٦٧ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللهِ الْفِرْيَةَ وَاللهُ يَقُولُ: قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ النمل: ٦٥.
مسروق سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تکئے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا، وہ کہنے لگیں: اے ابو عائشہ! تین باتیں ہیں، جس نے بھی ان میں سے کوئی بات کہی ،اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا(میں نے کہا: وہ کون سی باتیں ہیں؟ کہنے لگیں: جس شخص کا خیال ہے کہ محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔)مسروق کہتے ہیں: میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا، سیدھا ہو کر بیٹھ گیا،میں نے کہا: ام المومنین! مجھے مہلت دیں، جلدی نہ کریں، کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: (النجم:۱۳) کہنے لگیں: میں اس امت میں سے پہلی عورت ہوں جس نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال کیا: آپ نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے ،وہ پیدا کئے گئے ہیں ان دو موقعوں کے علاوہ انہیں اصل صورت جس پر نہیں دیکھا ،میں نے انہیں آسمان سے اترتا ہوا ایک بہت بڑی صورت میں دیکھا جس کی جسامت نے آسمان سے زمین تک فضا کو بھر دیا تھا۔ پھر کہنے لگیں: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا اللہ فرماتا ہے:(الانعام:۱۰۳)کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا اللہ فرماتا ہے: (الشوری:۵۱)پھر کہنے لگیں: جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اللہ کی کتاب سے کوئی چیز چھپائی ہے اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتا ن باندھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( المائدہ:۶۷) پھر کہنے لگیں: جس شخص کا دعویٰ ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کل کی خبریں بتایا کرتے ہیں تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( النمل:۶۵)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3575) ، صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى } رقم (259)
3135
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ! الرَّفِيقَ الْأَعْلَى فَقُلْتُ: إِذن لَا يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ قَالَتْ: فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ! الرَّفِيقَ الْأَعْلَى.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے: کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک جنت میں اس کا ٹھکانہ اسے نہ دکھا دیا جائے، پھر اسے اختیار دے دیا جاتا ہے ۔جب آپ کی موت کا وقت آیا ،آپ کا سر میری ران پر تھا، آپ پر غشی طاری ہو گئی ،پھر کچھ افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے گھر کی چھت کی طرف نظریں اٹھالیں پھر فرمایا: اے اللہ !مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے ، میں نے کہا: تب تو آپ ہمیں نہیں چنیں گے ،(یعنی ہم میں نہیں رہیں گے) اور مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ وہی بات ہے جو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو آپ نے کہا: ’’اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى‘‘تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (3580) ، صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رقم (4104)
3136
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عن ابن عباس ، عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : « أُوْتي موسى عليه السلام الألواح ، وأُوتيتُ المثاني ».( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو تختیاں دی گئیں اور مجھے مثانی (بار بار پڑھی جانے والی آیات )دی گئیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2813) ، معجم أسامي شيوخ أبي بكر رقم (252) فوائد العراقيين لأبي سعيد رقم (59)
3137
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، قَالَ : « أَوَّل نَبِيٍّ أُرْسِلَ نُوْح »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پہلاشخص جسے نبی بنا کر بھیجا گیا وہ نوح علیہ السلام تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (1289) ، صحيح البخاري كِتَاب التَّوْحِيدِ بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى { وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ } رقم (6886)
3138
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَنْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : أَيّ الْخَلْق أَعْجَب إِيمَانًا؟ قَالُوا: الْمَلائِكَةُ . قَالَ: الْمَلائِكَةُ كَيْفَ لا يُؤْمِنُونَ؟ قَالُوا: النَّبِيُّونَ قَالَ: النَّبِيُّونَ يُوحٰي إِلَيْهِمْ فَكَيْفَ لاَ يُؤْمِنُون؟ قَالُوا: الصَحَابَة. قَالَ الصَّحَابَةُ مَعَ الأَنْبِيَاء فَكَيْفَ لا يُؤْمِنُون؟ وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا , قَوْمٌ يَّجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُم فَيَجِدُونَ كِتَاباً مِّنَ الوَحي فَيُؤْمِنُون بِه وَيتبعونه فَهُمْ أَعْجَب النَّاس إِيْمَاناً - أَوِ الخَلْقِ إِيْمَاناً.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کونسی مخلوق ایمان کے لحاظ سے سب سے پسندیدہ ہے ؟ صحابہ نے کہا: فرشتے ۔ آپ نے فرمایا: فرشتے کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ صحابہ نے کہا: انبیاء۔ آپ نے فرمایا: انبیاء کی طرف وحی کی جاتی ہے وہ کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ صحابہ نے کہا: صحابہ ۔ آپ نے فرمایا: صحابہ انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو وہ کس طرح ایمان نہ لائیں ؟ لیکن ایمان کے لحاظ سے سب سے پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے ،تو وحی کو کتاب کی صورت میں دیکھیں گے ،اس پر ایمان لائیں گے ،اور اس کی پیروی کریں گے ، یہ(اللہ کے ہاں) ایمان کے لحاظ سے لوگوں میں یا مخلوق میں سب سے پسندیدہ ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3215) ،
3139
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً:(الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ) لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَّرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُهْلِكُ اللهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ الله الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ (وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ) فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے:(انبیاء علاتی (باپ کی طرف سے) بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے زیادہ قریب ہوں )کیوں کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ آسمان سے اتریں گے جب تم انہیں دیکھو گے تو انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے ہوں گے ان کا رنگ سرخ سفیدی مائل ہے، زردی مائل دو چادروں میں ملبوس ہوں گے، گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا ،اگرچہ ان کے سر میں پانی نہیں ہوگا۔ وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے ،صلیب کو توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کردیں گے ،اور جزیہ ختم کر دیں گے ۔اللہ تعالیٰ اس زمانے میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا(زمین میں امن قائم ہو جائے گا، حتی کہ شیر اونٹوں کے ساتھ ،چیتے گایوں کے ساتھ، اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرا کریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے،لیکن وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے )وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے ،پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2182) ، صحيح البخاري كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ بَاب قَوْلِ اللَّهِ { وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذْ انْتَبَذَتْ } رقم (3187)
3140
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَنَس مَرْفُوعا: « الأَنْبِيَاء –صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِم- أَحيَاءٌ فِي قُبُورِهم يُصَلُّوْن »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (621) ، مسند أبي يعلى رقم (3331)
3141
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میں بنی آدم کی درجہ بدرجہ بہترین صدی میں مبعوث کیا گیا ،حتی کہ جس صدی میں میں ہوں اس میں مجھے مبعوث کر دیا گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (809) ، صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رقم (3293)
3142
Sahih
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِّنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى وَعِزَّتِكَ! وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ ان پر سونے کی ایک ٹڈی گری، ایوب علیہ السلام اسے اپنے کپڑے میں لپیٹنے لگے، تو ان کے رب نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس سے بے پرواہ نہیں کر دیا ہے؟ ایوب علیہ السلام نے کہا: کیوں نہیں تیری عزت کی قسم! لیکن میرے لئے تیری برکت سے بے پرواہی نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3613) ، صحيح البخاري كِتَاب الْغُسْلِ بَاب مَنْ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ وَمَنْ تَسَتَّرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ رقم (270)
3143
Sahih