عَنْ أَنسٍ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اذْكُر الْمَوْت في صَلَاتِك، فَإِن الرجل إِذَا ذكر الْمَوْت في صَلَاته لحريٌ أَن يُّحْسن صَلَاتَه، و صلِّ صَلَاة رَجل لَا يَظُن أَنَّه يُصَلِّي صَلَاة غَيْرَهَا، و إِيَّاك و كُل أَمر يُّعْتَذَر منه.
انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرو، كیوں كہ جب آدمی اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرتا ہے تو وہ بہتر انداز میں اپنی نماز ادا كرتا ہے۔ اور اس شخص كی طرح نماز پڑھو جسے یقین ہو كہ وہ اس كے علاوہ كوئی اور نماز ادا نہیں كر سكے گا۔ اور ہر اس معاملے سے بچو جس سے معذرت کرنا پڑے
Takhreej
الصحيحة رقم (1421، 2839) مسند الفردوس للديلمي (1/1/ 51)
علیرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے كہا:آپ كا بوڑھا گمراہ چچا فوت ہوگیا ہے (كون اسے دفنائے گا؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جاؤاور اپنے والد كو دفنا دو ۔ علی رضی اللہ عنہ نے كہا: (میں تو اسے دفن نہیں کروں گا کیونکہ)(وہ شرك كی حالت میں فوت ہوا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنے والد كو دفنا دو پھر (كوئی نیا كام) مت كرنا جب تك میرے پاس نہ آجاؤ۔ میں گیا اور انہیں دفنا دیا، میں واپس آیا تو (مجھ پر مٹی اور گردو غبار كا نشان تھا) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل كرنے كا حكم دیا۔ اور میرے لئے ایسی(دعائیں كیں كہ ان کے مقابلےمیں روئے زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی مجھے پسند نہیں)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (161) سنن أبي داؤد بَاب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةٌ مُشْرِكٌ رقم (2799) سنن النسائي بَاب مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ رقم (190)
سلمان رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: زندگی كے چار عمل موت كے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ وہ شخص جس كی نیك اولاد ہے اور وہ اس كے لئے دعا كرتی ہے، ان كی دعائیں اس تك پہنچا دی جاتی ہیں۔ وہ شخص جس نے صدقہ جاریہ كیا، اس كے لئے اس كے باقی رہنے تك اجر چلتا رہے گا۔وہ شخص جس نے علم سكھایا جس پر اس كے مرنے كے بعد بھی عمل كیا جاتا رہا، اس كے لئے بھی اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اجر عمل كرنے والے كے لئے ہے۔ اس كے اجر میں سے كچھ بھی كم نہ ہوگا، اور وہ شخص جو پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو گیا۔ قیامت تك اس كا اجر جاری رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3984) المعجم الكبير للطبراني رقم (6058)
ام مبشر رضی اللہ عنہ كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں بنو نجار كے كسی باغ میں تھی، اس باغ میں ان كی كچھ قبریں تھیں جو جاہلیت میں مر چكے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عذاب دیئے جانے كی آوازیں سنیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ كہتے ہوئے وہاں سے نكلے:عذابِ قبر سے اللہ كی پناہ مانگو، میں نے كہا:اے اللہ كے رسول ! كیا انہیں ان كی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں ایسا عذاب ہے جسے جانور سن رہے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْذَرَ اللهُ إِلَى امْرئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كے ہاں اس شخص كا كوئی قابل قبول عذر نہیں جس كی عمر كو ا للہ تعالیٰ نےساٹھ سال تك دراز كیا
Takhreej
الصحيحة رقم (1089) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ...رقم (5940)
عَنْ عَبْدِ الرَحمَن بن جَابر، عَن أَبِيه، أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: أَكثر مَن يَّمُوت مِن أُمَتِي بَعَد كِتَاب الله و قَضَائِه و قَدرِه بِالأَنفُس. (يَعْني بِالْعَيْن).
عبدالرحمن بن جابر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگ جو اللہ کی کتاب اس کے فیصلے اوراس کی تقدیر کے بعد فوت ہونگے وہ نظر لگنے سے ہونگے
Takhreej
الصحيحة رقم (747) مسند الطيالسي رقم (1859) مشكل الآثار للطحاوي رقم (2431)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے كہا: كونسا مومن افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اچھے اخلاق والا۔ اس آدمی نے كہا: كونسا مومن دانشمند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو موت كو بہت زیادہ یاد كرتا ہے۔ اور اس كے لئے اچھے طریقے سے تیاری كرتا ہے، یہی لوگ دانشمند ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1384) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ رقم (4249)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك ایسی قوم كے پاس سے گزرے جو كسی مصیبت میں مبتلا تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا یہ لوگ عافیت نہیں مانگتے؟۔( )
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ میں نے بچوں پر رحم كرنے والا كوئی نہیں دیكھا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینے کی ایک بستی میں دودھ پلانے کے لئے ایک دایہ کے پاس تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جایا كرتے تھے۔ ہم بھی آپ كے ساتھ ہوتے ، آپ گھر میں داخل ہوتے حالانکہ گھر میں سے دھواں اٹھ رہا ہوتا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ کا پرورش کنندہ رضاعی باپ لوہار تھا۔آپ اسے(ابراہیم) پكڑتے ،بوسہ لیتے اور واپس لوٹ آتے۔ (عمرو نے كہا) جب ابراہیم فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹاشیرخوارگی میں فوت ہوا، اور جنت میں اس كے لئے دودائیاں ہیں جو اس كے دودھ كی مدت پوری كریں گی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2493) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب رَحْمَتِهِ ﷺ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ رقم (4280)
حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ بن حذیفہ کو سنا، وہ اپنی پھوپھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتے تھے، انہوں نے كہا كہ میں كچھ عورتوں كے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی عیادت كرنے گئی۔ دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا ہے اور اس کا قطرہ قطرہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گر رہا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تیز بخار تھا۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! اگر آپ اللہ سے دعا كریں تو اللہ تعالیٰ آپ كا بخار ختم كر دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آتی ہیں۔ پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں، پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں۔
ابو الاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ وہ صبح صبح دمشق كی مسجد كی طرف گئے ، شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ملے ان كے ساتھ صنابحی بھی تھے۔ میں نے كہا: اللہ آپ دونوں پر رحم فرمائے، آپ كہاں جا رہے ہیں؟ كہنے لگے: ہم وہاں اپنے ایك بیمار بھائی كی عیادت كرنے جا رہے ہیں ۔ میں بھی ان كے ساتھ چل پڑا، اس آدمی كے پاس آئے تو دونوں نے اس سے كہا: صبح كیسی گزری؟ اس نے كہا: اللہ كی نعمت اور فضل میں صبح کی۔ شداد رضی اللہ عنہ نے كہا: خوش ہو جاؤ، كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے كسی مومن بندے كو آزماتا ہوں، پھر وہ میری تعریف كرتا ہے اور میری دی ہوئی آزمائش پر صبر كرتا ہے تو وہ اپنی اس جگہ سے اس طرح اٹھے گا جس طرح اس كی ماں نے اسے خطاؤں سے پاك جنا تھا۔ اوراللہ تعالیٰ فرشتوں سےفرماتا ہے : میں نے اپنے اس بندے كو قید كر دیا اور اسے آزمائش میں مبتلا كر دیا، اس لئے جو اجر اس كی تندرستی كی حالت میں لكھتے تھے وہی اجر اب بھی لكھو۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنےبندےكوبیماری دےكرآزماتاہےحتی كہ اس کے ذریعے اس كےہرگناہ مٹادیتاہے۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ لوگ ایك جنازہ لے كر نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے گزرے تو لوگ اس كی تعریف كر رہے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی ،پھر ایك دوسرا جنازہ لے كر گزرے تو اس كی برائی كر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:واجب ہوگئی ۔تم ایك دوسرے كے گواہ ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2600) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ رقم (2814) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب الثَّنَاءِ (1907)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَتى رَجُلٌ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي أُحِبُّكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ البَلاَيَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُّحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: اللہ كی قسم! اے اللہ كے رسول! میں آپ سے محبت كرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: جو شخص مجھ سے محبت كرتا ہے مصیبت اس كی طرف اتنی تیزی سے آتی ہے كہ سیلاب بھی اتنی تیزی سے آخری جگہ تك نہیں پہنچتا
Takhreej
الصحيحة رقم (1586) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفَقْرِ رقم (2273) صحيح ابن حبان رقم (2984)
عَنْ يَزِيد بن شَجَرَة ، قَالَ: خَرَج رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِي جَنَازَة، فَقَال النَّاس خَيْرًا، وَأَثْنَوْا عَلَيه خَيْرًا، فَجَاء جِبْرائيل فَقَال: إِن الرجل لَيْس كَمَا ذَكَرُوا، وَلَكَن أَنْتُم شُهَدَاء الله في الْأَرض وَقَد غُفِرَ لَه مَا لَا يعلَمُون.
یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایك جنازے میں نكلے تو لوگوں نے اس كے بارے میں تعریفی كلمات كہے، اور اس كی تعریف كی۔ جبریل علیہ السلام آئے اور كہا:یہ آدمی ایسا نہیں تھا جیسا ذكر كر رہے ہیں ، لیكن تم لوگ روئے زمین پر اللہ كے گواہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے اس كے وہ گناہ معاف كر دیئےجن كے بارے میں یہ لوگ لا علم ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1312) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (6027)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الرَجُل لَيَكُون لَه عِنْد الله الْمَنْزِلَة، فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَل فَمَا يَزَال الله يَبْتَلِيه بِمَا يَكْرَه، حَتَّى يَبْلُغَه إِيَّاهَا.
ابو ہریررضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ہاں آدمی كا ایك مرتبہ ہوتا ہے۔ وہ آدمی اس مرتبے تك كسی عمل سے نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائشیں دیتا ہے جو اسے نا پسند ہوتی ہیں حتی كہ اللہ تعالیٰ اسے اس مرتبے تك پہنچا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1599) مسند أبي يعلى رقم (5961) صحيح ابن حبان رقم (2970)
) انس بن مالكرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك آدمی دو كی سفارش كرے گا، تین كی سفارش كرے گا اور كوئی آدمی ایك كی سفارش كرے گا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی اسے كوئی بیماری (جنون یا مرگی وغیرہ)تھی۔ اس نے كہا: اے اللہ كے رسول! اللہ سے دعا كیجئے كہ مجھے شفا دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے دعا كروں اور اللہ تعالیٰ تمہیں شفا دے دے، اور اگر چاہو تو صبر كر لو، تم سے حساب و كتاب نہیں ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (2502) صحيح ابن حبان رقم (2971) مسند أحمد رقم (9312)
محمد بن زیادہ الہانی رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ابو عنبہ خولانی كے پاس شہداءكا ذكر كیا گیا، تو انہوں نے پیٹ كی بیماری والے ،طاعون والے اور زچگی كے دوران فوت ہونے والی عورت كا تذكرہ كیا۔ ابو عنبہ غصے ہو گئے اور كہنے لگے، ہمارے نبی كے صحابہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كیا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میں اللہ كے شہداءاس كی مخلوق میں سے امین لوگ ہیں۔ قتل كر دیئے جائیں یا مر جائیں۔