TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان - بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان - Book 25 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 25 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 118 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

118 Hadith · 1 Chapters
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنسٍ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اذْكُر الْمَوْت في صَلَاتِك، فَإِن الرجل إِذَا ذكر الْمَوْت في صَلَاته لحريٌ أَن يُّحْسن صَلَاتَه، و صلِّ صَلَاة رَجل لَا يَظُن أَنَّه يُصَلِّي صَلَاة غَيْرَهَا، و إِيَّاك و كُل أَمر يُّعْتَذَر منه.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرو، كیوں كہ جب آدمی اپنی نماز میں اپنی موت كو یاد كرتا ہے تو وہ بہتر انداز میں اپنی نماز ادا كرتا ہے۔ اور اس شخص كی طرح نماز پڑھو جسے یقین ہو كہ وہ اس كے علاوہ كوئی اور نماز ادا نہیں كر سكے گا۔ اور ہر اس معاملے سے بچو جس سے معذرت کرنا پڑے
Takhreej
الصحيحة رقم (1421، 2839) مسند الفردوس للديلمي (1/1/ 51)
3232
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ (فَمَنْ يُّوَارِيهِ؟) قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ قَالَ: (لا أُواريه) (إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا) (فَقَالَ: اذْهَبْ فواره) ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ (حَدثاً) حَتَّى تَأْتِيَنِي فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُه (وعلي أثرُ الترابِ والغُبار) فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي (بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَن لِي بِهِنَّ مَا عَلى الأرضِ مِن شيء).
علی‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا:آپ كا بوڑھا گمراہ چچا فوت ہوگیا ہے (كون اسے دفنائے گا؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جاؤاور اپنے والد كو دفنا دو ۔ علی رضی اللہ عنہ نے كہا: (میں تو اسے دفن نہیں کروں گا کیونکہ)(وہ شرك كی حالت میں فوت ہوا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنے والد كو دفنا دو پھر (كوئی نیا كام) مت كرنا جب تك میرے پاس نہ آجاؤ۔ میں گیا اور انہیں دفنا دیا، میں واپس آیا تو (مجھ پر مٹی اور گردو غبار كا نشان تھا) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے غسل كرنے كا حكم دیا۔ اور میرے لئے ایسی(دعائیں كیں كہ ان کے مقابلےمیں روئے زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی مجھے پسند نہیں)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (161) سنن أبي داؤد بَاب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةٌ مُشْرِكٌ رقم (2799) سنن النسائي بَاب مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ رقم (190)
3233
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَرْبَعٌ مِّنْ عَمَلِ الأَحْيَاءِ يَجْرِي لِلأَمْوَاتِ: رَجُلٌ تَرَكَ عَقِبًا صَالِحًا فَيَدْعُو فَيُبغلهُ دُعَاؤُهُمْ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ جَارِيَةٍ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَجْرُهَا مَا جَرَتْ، وَرَجُلٌ عَلَّمَ عِلْمًا يُعملَ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتقصَ مِنْ (أَجْرِ) عَمَلهِ شَيئاً. وَرَجُل مُرَابِطُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْحِساب.
سلمان رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو فرماتے ہوئے سنا کہ: زندگی كے چار عمل موت كے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ وہ شخص جس كی نیك اولاد ہے اور وہ اس كے لئے دعا كرتی ہے، ان كی دعائیں اس تك پہنچا دی جاتی ہیں۔ وہ شخص جس نے صدقہ جاریہ كیا، اس كے لئے اس كے باقی رہنے تك اجر چلتا رہے گا۔وہ شخص جس نے علم سكھایا جس پر اس كے مرنے كے بعد بھی عمل كیا جاتا رہا، اس كے لئے بھی اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اجر عمل كرنے والے كے لئے ہے۔ اس كے اجر میں سے كچھ بھی كم نہ ہوگا، اور وہ شخص جو پہرہ دیتے ہوئے فوت ہو گیا۔ قیامت تك اس كا اجر جاری رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3984) المعجم الكبير للطبراني رقم (6058)
3234
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِّنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِّنْهُمْ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: اسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ.
ام مبشر رضی اللہ عنہ كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس آئے میں بنو نجار كے كسی باغ میں تھی، اس باغ میں ان كی كچھ قبریں تھیں جو جاہلیت میں مر چكے تھے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں عذاب دیئے جانے كی آوازیں سنیں۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یہ كہتے ہوئے وہاں سے نكلے:عذابِ قبر سے اللہ كی پناہ مانگو، میں نے كہا:اے اللہ كے رسول ! كیا انہیں ان كی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:ہاں ایسا عذاب ہے جسے جانور سن رہے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1444) مسند أحمد رقم (25799)
3235
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْذَرَ اللهُ إِلَى امْرئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كے ہاں اس شخص كا كوئی قابل قبول عذر نہیں جس كی عمر كو ا للہ تعالیٰ نےساٹھ سال تك دراز كیا
Takhreej
الصحيحة رقم (1089) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ...رقم (5940)
3236
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعا: أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَّنْ يَّجُوزُ ذَلِكَ.
) ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میری امت كی عمریں ساٹھ سے ستر سال كے درمیان ہوں گی۔ اور تھوڑے لوگ اس حد سے آگے بڑھیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (757) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ (3473) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْأَمَلِ وَالْأَجَلِ (4226)
3237
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَحمَن بن جَابر، عَن أَبِيه، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَكثر مَن يَّمُوت مِن أُمَتِي بَعَد كِتَاب الله و قَضَائِه و قَدرِه بِالأَنفُس. (يَعْني بِالْعَيْن).
عبدالرحمن بن جابر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگ جو اللہ کی کتاب اس کے فیصلے اوراس کی تقدیر کے بعد فوت ہونگے وہ نظر لگنے سے ہونگے
Takhreej
الصحيحة رقم (747) مسند الطيالسي رقم (1859) مشكل الآثار للطحاوي رقم (2431)
3238
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلاً قَالَ للنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَحْسَنُهُمْ لَه اسْتِعْدَادًا أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كہا: كونسا مومن افضل ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: اچھے اخلاق والا۔ اس آدمی نے كہا: كونسا مومن دانشمند ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو موت كو بہت زیادہ یاد كرتا ہے۔ اور اس كے لئے اچھے طریقے سے تیاری كرتا ہے، یہی لوگ دانشمند ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1384) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ رقم (4249)
3239
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنْسٍ أَنَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرَّ بِقَوْم مُّبْتَلِيْن، فَقَالَ: اَمَا كَان هَؤلَاءِ يسأَلُون العَافِيَة
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك ایسی قوم كے پاس سے گزرے جو كسی مصیبت میں مبتلا تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا یہ لوگ عافیت نہیں مانگتے؟۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2197) مسند البزار (3134)
3240
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ -وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا- فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ (قَالَ عَمْرٌو ): فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَتهُ فِي الْجَنَّةِ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے زیادہ میں نے بچوں پر رحم كرنے والا كوئی نہیں دیكھا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینے کی ایک بستی میں دودھ پلانے کے لئے ایک دایہ کے پاس تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌وہاں جایا كرتے تھے۔ ہم بھی آپ كے ساتھ ہوتے ، آپ گھر میں داخل ہوتے حالانکہ گھر میں سے دھواں اٹھ رہا ہوتا۔ابراہیم رضی اللہ عنہ کا پرورش کنندہ رضاعی باپ لوہار تھا۔آپ اسے(ابراہیم) پكڑتے ،بوسہ لیتے اور واپس لوٹ آتے۔ (عمرو نے كہا) جب ابراہیم فوت ہو گئے تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابراہیم میرا بیٹاشیرخوارگی میں فوت ہوا، اور جنت میں اس كے لئے دودائیاں ہیں جو اس كے دودھ كی مدت پوری كریں گی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2493) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب رَحْمَتِهِ ﷺ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ رقم (4280)
3241
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ حُصَيْنٍ بن عبد الرحمن قال: سمعت أَبا عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ يحدث عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ قَالَتْ: عدت رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي نِسوة وَإِذَا سِقَاءٌ مُّعَلَّقٌ وَمَاؤُهُ يَقْطُرُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! لَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَأذهب عنك هذا فَقَالَ: إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ بن حذیفہ کو سنا، وہ اپنی پھوپھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بیان كرتے تھے، انہوں نے كہا كہ میں كچھ عورتوں كے ساتھ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی عیادت كرنے گئی۔ دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا ہے اور اس کا قطرہ قطرہ پانی آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر گر رہا ہے کیونکہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو بہت تیز بخار تھا۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! اگر آپ اللہ سے دعا كریں تو اللہ تعالیٰ آپ كا بخار ختم كر دے گا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آتی ہیں۔ پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں، پھر ان لوگوں پر جو ان كے قریب ہوتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1165) مسند أحمد رقم (25832)
3242
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ: أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ وَالصُّنَابِحِيُّ مَعَهُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدَانِ رَحمَكُما اللهُ؟ فَقَالَا: نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَّنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخلَنا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةِ اللهِ وَفَضْلهِ فَقَالَ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ -تعالى- يَقُولُ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي وَصبَر عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَّضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَّلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا وَيَقُولُ الرَّبُّ لِلحَفظة: إِنِّي أَنَا قَيَّدْتُّ عَبْدِي هَذا وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوْا (لَهُ) مِن الأجْر مَا كُنْتُمْ تُجْرونَ لَهُ قَبل ذَلِك وَهُوَ صَحِيحٌ.
ابو الاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ وہ صبح صبح دمشق كی مسجد كی طرف گئے ، شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ملے ان كے ساتھ صنابحی بھی تھے۔ میں نے كہا: اللہ آپ دونوں پر رحم فرمائے، آپ كہاں جا رہے ہیں؟ كہنے لگے: ہم وہاں اپنے ایك بیمار بھائی كی عیادت كرنے جا رہے ہیں ۔ میں بھی ان كے ساتھ چل پڑا، اس آدمی كے پاس آئے تو دونوں نے اس سے كہا: صبح كیسی گزری؟ اس نے كہا: اللہ كی نعمت اور فضل میں صبح کی۔ شداد رضی اللہ عنہ نے كہا: خوش ہو جاؤ، كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے كسی مومن بندے كو آزماتا ہوں، پھر وہ میری تعریف كرتا ہے اور میری دی ہوئی آزمائش پر صبر كرتا ہے تو وہ اپنی اس جگہ سے اس طرح اٹھے گا جس طرح اس كی ماں نے اسے خطاؤں سے پاك جنا تھا۔ اوراللہ تعالیٰ فرشتوں سےفرماتا ہے : میں نے اپنے اس بندے كو قید كر دیا اور اسے آزمائش میں مبتلا كر دیا، اس لئے جو اجر اس كی تندرستی كی حالت میں لكھتے تھے وہی اجر اب بھی لكھو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2009) مسند أحمد رقم (16496)
3243
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
َنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: إنّ اللهَ ليبتَلي عبدَه بالسَّقمِ، حتّى يُكفِّر ذلكَ عنه كلَّ ذَنبٍ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنےبندےكوبیماری دےكرآزماتاہےحتی كہ اس کے ذریعے اس كےہرگناہ مٹادیتاہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3393) مستدرك الحاكم رقم (1233)
3244
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَرُّوا عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا شَرًّا فَقَالَ: وَجَبَتْ. إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ لوگ ایك جنازہ لے كر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے گزرے تو لوگ اس كی تعریف كر رہے تھے۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: واجب ہوگئی ،پھر ایك دوسرا جنازہ لے كر گزرے تو اس كی برائی كر رہے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:واجب ہوگئی ۔تم ایك دوسرے كے گواہ ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2600) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ رقم (2814) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب الثَّنَاءِ (1907)
3245
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَتى رَجُلٌ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي أُحِبُّكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ البَلاَيَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُّحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اللہ كی قسم! اے اللہ كے رسول! میں آپ سے محبت كرتا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس سے كہا: جو شخص مجھ سے محبت كرتا ہے مصیبت اس كی طرف اتنی تیزی سے آتی ہے كہ سیلاب بھی اتنی تیزی سے آخری جگہ تك نہیں پہنچتا
Takhreej
الصحيحة رقم (1586) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفَقْرِ رقم (2273) صحيح ابن حبان رقم (2984)
3246
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ يَزِيد بن شَجَرَة ، قَالَ: خَرَج رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي جَنَازَة، فَقَال النَّاس خَيْرًا، وَأَثْنَوْا عَلَيه خَيْرًا، فَجَاء جِبْرائيل فَقَال: إِن الرجل لَيْس كَمَا ذَكَرُوا، وَلَكَن أَنْتُم شُهَدَاء الله في الْأَرض وَقَد غُفِرَ لَه مَا لَا يعلَمُون.
یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك جنازے میں نكلے تو لوگوں نے اس كے بارے میں تعریفی كلمات كہے، اور اس كی تعریف كی۔ جبریل علیہ السلام آئے اور كہا:یہ آدمی ایسا نہیں تھا جیسا ذكر كر رہے ہیں ، لیكن تم لوگ روئے زمین پر اللہ كے گواہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے اس كے وہ گناہ معاف كر دیئےجن كے بارے میں یہ لوگ لا علم ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1312) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (6027)
3247
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الرَجُل لَيَكُون لَه عِنْد الله الْمَنْزِلَة، فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَل فَمَا يَزَال الله يَبْتَلِيه بِمَا يَكْرَه، حَتَّى يَبْلُغَه إِيَّاهَا.
ابو ہریر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ كے ہاں آدمی كا ایك مرتبہ ہوتا ہے۔ وہ آدمی اس مرتبے تك كسی عمل سے نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائشیں دیتا ہے جو اسے نا پسند ہوتی ہیں حتی كہ اللہ تعالیٰ اسے اس مرتبے تك پہنچا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1599) مسند أبي يعلى رقم (5961) صحيح ابن حبان رقم (2970)
3248
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّ الرَجُل يَشْفع لِلرَجُلَيْن وَ لِلثَلَاثَة وَ الرَجُل لِلرَجُل.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایك آدمی دو كی سفارش كرے گا، تین كی سفارش كرے گا اور كوئی آدمی ایك كی سفارش كرے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2505) التوحيد لابن خزيمة (ص/ 205)
3249
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَبِهَا لَمَمٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ادْعُ اللهَ أَنْ يَّشْفِيَنِي قَالَ: إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ لَك فَشفَاك وَإِنْ شِئْتِ صَبَرت وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك عورت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئی اسے كوئی بیماری (جنون یا مرگی وغیرہ)تھی۔ اس نے كہا: اے اللہ كے رسول! اللہ سے دعا كیجئے كہ مجھے شفا دے دے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے دعا كروں اور اللہ تعالیٰ تمہیں شفا دے دے، اور اگر چاہو تو صبر كر لو، تم سے حساب و كتاب نہیں ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (2502) صحيح ابن حبان رقم (2971) مسند أحمد رقم (9312)
3250
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ الشُّهَدَاءُ فَذَكَرُوا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَاءَ فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا عَنْ نَّبِيِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ اللهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ فِي خَلْقِهِ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا
محمد بن زیادہ الہانی رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ابو عنبہ خولانی كے پاس شہداءكا ذكر كیا گیا، تو انہوں نے پیٹ كی بیماری والے ،طاعون والے اور زچگی كے دوران فوت ہونے والی عورت كا تذكرہ كیا۔ ابو عنبہ غصے ہو گئے اور كہنے لگے، ہمارے نبی كے صحابہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كیا كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زمین میں اللہ كے شہداءاس كی مخلوق میں سے امین لوگ ہیں۔ قتل كر دیئے جائیں یا مر جائیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1902) مسند أحمد رقم (17118)
3251
Sahih