TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان - بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان - Book 25 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 25 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 118 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

118 Hadith · 1 Chapters
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَامِرِ بن سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: فِي النَّارِ، فَكَأنَّ الأَعْرَابِيَّ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَأَيْنَ أَبُوكَ؟، قَالَ: حَيْثُ مَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ، قَالَ: فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ.
عامر بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں، كہتے ہیں كہ ایك بدو نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: میرا والد صلہ رحمی كرتا تھا، اور یہ كرتا تھا، وہ كرتا تھا۔ وہ كہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ میں۔ اعرابی كو غصہ آگیا۔ اس نے كہا: آپ كا باپ كہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم كسی كافر كی قبر كے پاس سے گزرو تو اسے آگ كی خوشخبری دو، وہ اعرابی اس كے بعد مسلمان ہو گیا، اور كہتا تھا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ایك مشكل كام مجھے سونپ دیا ہے۔ میں جس كافر كی قبر كے پاس سے گزرتا ہوں اسے آگ كی خوشخبری دیتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (18) المعجم الكبير للطبراني رقم (330)
3272
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عُثْمَان بْن عَفَان مَرفُوعاً: الحُمَّى حَظّ الْمُؤْمِن مِن النَّار يَوم القِيَامَة. ( )
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مؤمن کے لئے بخار قیامت کے دن آگ کے حصے کا بدلہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1821) المرض و الكفارات لابن أبي الدنيا (181/1- 2)
3273
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مرفوعا: الْحُمَّى كِيرٌ مِّنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ. ( )
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:بخار جہنم كی بھٹی ہے اس میں سے مومن كو جتنا بخار ہوتا ہے وہ آگ میں سے اس كا حصہ ہے(جو اسے دنیا میں مل جاتا ہے اور آخرت میں وہ محفوظ ہوجاتا ہے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1822) مسند أحمد رقم (21243) المعجم الكبير للطبراني رقم (7341)
3274
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عن أبي سعيد الخدري مرفوعا: خَمْس من عملهن في يَوم كَتَبَه الله مِن أَهل الْجَنَّة: مَن عَاد مَرِيضًا، وَشَهِد جَنَازَة ، وَصَام يَوْمًا ، وَرَاح يَوم الْجُمعَة ، وَأَعْتَق رَقَبَة.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: پانچ اعمال ایسے ہیں جس شخص نے یہ اعمال ایك دن میں كئے اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں سے لكھ دیں گے۔ جس شخص نے مریض كی عیادت كی، جنازے میں شریك ہوا، اس دن روزہ ركھا ،جمعہ کے دن خوشی خوشی نماز کے لئے گیااور ایك غلام آزادكیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1023) صحيح ابن حبان رقم (2826)
3275
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَخْلًا لِّبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِّنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَزِعًا فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ تَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
جابر بن عبدالل رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بنو نجار كے كھجور كے باغ میں داخل ہوئے، تو بنی نجار كے ان آدمیوں كی آوازیں سنیں جوجاہلیت میں مر گئے تھے۔ انہیں ان كی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌گھبرا كر باہر نكل آئے۔ اور اپنے صحابہ كو حكم دیا كہ وہ عذاب قبر سے پناہ مانگیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3954) مسند أحمد رقم (13636)
3276
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَلَامٌ قَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: تَسْتَطِيلُونَ عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا؟ فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: دَعُوا لِي أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِّثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا مَّا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما كے درمیان تلخ كلامی ہوگئی۔خالد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے كہا: تم اپنےسبقت والے دنوں كی وجہ سے ہمارے بڑے بن رہے ہو؟ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بات كا تذكرہ كیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خاطر میرے صحابہ کو اور مجھے (ہمارے حال پر) چھوڑ دو اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد كے برابر یا پہاڑوں كے برابر سونا خرچ كرو تب بھی تم ان كے اعمال تك نہیں پہنچ سكتے
Takhreej
الصحيحة رقم (1923) مسند أحمد رقم (13310)
3277
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عن عبدالله بن محمد -يعني ابن عمر- عن أبيه مرسلاً: رَشَّ على قَبْرِ ابنِهِ إبراهيمَ (الماء).
عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب اپنے والد سے مرسلاً بیان كرتے ہیں كہ: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے بیٹے ابراہیم كی قبر پر( پانی) چھڑ كا
Takhreej
الصحيحة رقم (3045) المراسيل لأبي داود (304/ 424)
3278
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعا:الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْشَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْكَيَّةٍ بِنَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: تین چیزوں میں شفا ہے۔ سینگی لگانے والے كی سینگی میں، یا شہد كے گھونٹ میں یاآگ سے داغنے میں اور میں اپنی امت كو داغنے سے منع كرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1154) صحيح البخاري كِتَاب الطِّبِّ بَاب الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ رقم (5249)
3279
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِكٍ مَرفُوعاً: صَوتَانِ مَلْعُونَان ، صَوْتُ مِزْمَار عِنْد نِعمَةٍ ، وَ صَوت وَيْلٍ عِنْد مُصِيْبَة. ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: دو آوازیں ملعون ہیں۔ خوشی كے وقت ساز كی آواز اور مصیبت كے وقت نوحے كی آواز۔
Takhreej
الصحيحة رقم (427) الرباعيات لأبو بكر الشافعي (2/22/1)
3280
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَاعِدٌ مَّعَ أَصْحَابِهِ إِذْ ضَحِكَ فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمِمَّ تَضْحَكُ؟ قَالَ: عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ إِنْ أَصَابَهُ مَا يُحِبُّ حَمِدَ اللهَ وَكَانَ لَهُ خَيْرٌ وَإِنْ أَصَابَهُ مَا يَكْرَهُ فَصَبَرَ كَانَ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ كُلُّ أَحَدٍ أَمْرُهُ كُلُّهُ لَهُ خَيْرٌ إِلَّا الْمُؤْمِنُ.
صہیب رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے صحابہ كے ساتھ بیٹھے تھے۔ اچانك مسكرا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم پوچھو گے نہیں كہ میں كیوں مسكرایا؟ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ كس وجہ سے مسكرائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مومن كے معاملے سے خوش ہوا۔ اس كا سارے كا سارا معاملہ بھلائی ہے۔ اس كی پسندیدہ چیز اسے مل جائے تو اللہ كا شكر كرتا ہے، اور یہ اس كے لئے بہتر ہے۔ اگر نا پسندیدہ چیز سے اس كا سامنا ہو جائے تو صبر كرتاہے، اور یہ اس كے لئے بہتر ہے۔ مومن كے علاوہ كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس كا سارے كا سارا معاملہ بھلائی ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (147) مسند أحمد رقم (22804)
3281
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : عَجَبًا لِّلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللهُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَّهُ. ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مومن (کا معاملہ) عجیب ہے ، اللہ تعالیٰ اس كے لئے جس چیز كا فیصلہ كرتا ہے اس كے لئے وہ بہتر معاملہ ہوتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (148) مسند أحمد رقم (22804)
3282
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا ابْتَلَيْت عَبْدِي الْمُؤْمِن، وَلَم يشكني إلى عوَّاده أَطلقته من أساري، ثم أبدلته لَحْمًا خَيْرًا من لَحْمه، وَدَمًا خَيْرًا من دَمه، ثم يَسْتَأْنِف الْعَمَل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندے كو آزماتا ہوں اپنی عبادت کرنے والوں سے میرا شکوہ نہیں كرتا تو میں اسے اپنے قیدیوں سے آزاد كردیتا ہوں۔ پھر اس كے گوشت كو بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں، اس كے خون كو بہتر خون سے بدل دیتا ہوں، پھر وہ نئے سرے سے عمل كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (272) مستدرك الحاكم رقم (1237)
3283
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَن العِربَاضِ بن سَارِيَة مَرفُوعاً: قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِذَا قَبَضْتُ مِنْ عَبْدِي كَرِيْمَتَه -وَهُوَ بِهَا ضَنِين - لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ، إِذَا حَمِدَنِي عَلَيْهَا
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے سے اس كی دو محبوب چیزیں چھین لیتا ہوں حالانكہ وہ اسے انتہائی پسند كرتا ہے اور وہ اس معاملے پر میری تعریف كرتا ہے تو میں اس کے لئے جنت كے علاوہ كسی اور ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2010) الحلية لأبي نعيم (6/ 103)
3284
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ تَبَارَك وَ تَعَالَى لِلنَّفْسِ: اخْرُجِي، قَالَت: لَا أَخْرج إِلَا وأَنا كَارِهَة، (قال: اخْرُجِي و إِن كَرِهتِ).
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تبارك وتعالیٰ روح كے لئے فرماتا ہے: نكل، روح كہتی ہے: میں اس معاملے كو نا پسند كرتے ہوئے ہی نكلوں گی(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نكل، اگرچہ تجھے نا پسند ہی كیوں نہ ہو۔)
Takhreej
الصحيحة رقم (2013) لأدب المفرد للبخاري (219)
3285
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِجَنَازَةٍ فَقَامَ وَقَالَ: قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سے ایك جنازہ گزرا تو آپ كھڑے ہو گئے اور فرمایا: كھڑے ہو جاؤ، كیوں كہ موت كے لئے ایك گھبراہٹ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2017) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ رقم (1532)
3286
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ سَلْمَى امْرَأة أَبِي رَافِعٍ:كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ رَأْسَهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَاحْتَجِمْ ، وَإِذَا اشْتَكَى رِجْلَهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَاخْضِبْهَا بِالْحِنَّاءِ
سلمی رضی اللہ عنہا ابو رافع رضی اللہ عنہ كی بیوی سے مروی ہے كہ: جب كسی كے سر میں درد ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے كہتے: جا ؤ اور سینگی لگواؤ، اور جب کسی كی ٹانگ میں درد ہوتا تو اس سے كہتے: جاؤ اور اسے مہندی سے رنگ دو(مہندی لگاؤ)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2059) المعجم الكبير للطبراني رقم (20212) مسند أحمد رقم (26334)
3287
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ مرفوعا: كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: بِاسْمِ اللهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ كو (ان الفاظ سے) دم كرتے: اللہ كے نام كےساتھ، جو آپ كو ہر بیماری سے شفا دے، ہر حسد كرنے والے كے شر سے ،جب وہ حسد كرے اور ہر نظر لگانے والے كے شر سے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2060) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى رقم (4055)
3288
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ (اللهم رَبَّ النَّاسِ) أَذْهِبِ الْبَاسَ وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا ثَقُلَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ (بِهَا) وَأَقُولُهَا فَنَزَعَ يَدَهُ مِن يَدِي وَقَالَ: اللهم اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعلَى. قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
ائشہكہتی ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ان كلمات كے ساتھ پناہ مانگا كرتے تھے:( اے اللہ! لوگوں كے رب!) بیماری كو دور كردے، اور شفا دے دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا كے علاوہ كوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری نہ چھوڑے، جب آپ اپنے مرض الموت میں بوجھل ہوگئے۔ تو میں نے آپ كا ہاتھ پكڑ كر آپ كے جسم پر پھیرا ، اور یہی كلمات كہے،آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا كر كہا: اے اللہ مجھے بخش دے ، اور مجھے رفیق اعلیٰ سے ملادے، عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ یہ آخری كلام تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2775) مسند أحمد رقم (23052)
3289
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ (علاقة بن صَحَّار) أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرَهُ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ.
خارجہ بن صلت رحمۃ اللہ علیہ اپنے چچا(علاقہ بن صحار)سے بیان كرتے ہیں كہ وہ ایك قوم كے پاس سے گزرے، تو وہ ان كے پاس آئے اور كہنے لگے: تم اس آدمی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) كے پاس سے خیر لے كر آئے ہو۔ اس آدمی کو دم کرو، وہ اس آدمی كو لے كر آئے۔ جو بیڑیوں میں جكڑا ہوا تھا۔ علاقہ بن صحار نے اس آدمی كو تین دن صبح وشام دم كیا۔ جب بھی وہ دم ختم كرتے تو تھوك جمع كرتے، پھر اس پر تھوك پھینكتے۔ اس طرح محسوس ہوتا گویا وہ رسیوں میں سے كھل رہا ہے۔ انہوں نے اسے كچھ دیا، وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ سے اس كا تذكرہ كیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كھاؤ كتنے ہی لوگ جھوٹے دم كے ذریعے كھاتے ہیں، تم تو سچے دم كے ساتھ كھا رہے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2027) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب فِي كَسْبِ الْأَطِبَّاءِ رقم (2966)
3290
Sahih
بیماری، جنازے اور قبروں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِنتاً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ: أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَتْ: أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: لَسْتُ أَبْكِي إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان كی بیٹی كو لیا جو موت كے قریب تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گود میں لیااور آپ نے اسےاپنے سینے سے لگایا، وہ آپ كی گود میں ہی فوت ہوگئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا كی چیخ نكل گئی، ان سے كہا گیا: كیا تم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس رو رہی ہو؟ وہ كہنے لگی:اے اللہ كے رسول ! كیا میں آپ كو روتا نہیں دیكھ رہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے، مومن تو ہر حال میں بھلائی میں ہوتا ہے، روح پہلو میں سے نكلتی ہے تب بھی وہ اللہ كی حمد كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1632) مسند أحمد رقم (2346)
3291
Sahih