ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ نوچنے والی پر لعنت كی، گریبان پھاڑنے والی پر، اور ہلاكت كی دعا كرنےوالی پر لعنت كی
Takhreej
الصحيحة رقم (2147) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ...رقم (1574)
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں كو”لااله الااللہ“كی تلقین كرو، كیوں كہ مومن كی روح پسینے کاقطرہ ٹپکنے کی طرح نرمی سے نكل جاتی ہے۔ جب كہ كافر كا سانس اس كی باچھوں سے نكلتا ہے۔ جس طرح گدھے كا سانس نكلتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2151) المعجم الكبير للطبراني رقم (10264)
عَنِ الْبَرَاءِ بن عَازِبٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رضی اللہ عنہما ، أَنَّ صَبِيًّا دُفِنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ أَفْلَتَ أَحَدٌ مِّنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لأَفْلَتَ هَذَا الصَّبِيُّ.
براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں كہ ایك بچہ دفن كیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قبر كے دباؤ سےكوئی بچتا تو یہ بچہ بچتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2164) المعجم الكبير للطبراني رقم (3765)
عَنْ أَنسٍ عَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِي حَدِيث الرَّهْط الْعُرَنِيِّين الَّذِين قَدَمُوا عليه الْمَدِينَة فَاجْتَوَوْهَا، فقال: لَو خَرَجْتُم إلى إِبِلِنَا فأصبتم مِّن أَبْوَالهَا وأَلْبَانهَا فَفَعَلُوا فَصَحوا فَمَالُوا عَلَى الرِّعَاء فَقَتَلُوهُم واسْتَاقُوا الْإِبِل وارْتَدُّوا عن الْإِسْلَام، فَأَرْسَل النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فِي آثَارهُم، فَأُتِي بِهم، فَقَطَّع أَيْدِيَهُم وأَرْجُلَهُم وسَمَل أَعْيُنَهُم وتَرَكُوا بِالْحَرَّة حَتَّى مَاتُوا.
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرنیین (قبیلہ عرینہ کے لوگ) لوگوں كے قصے كے بارے میں بیان کر رہے تھے، جو مدینے آئے تو انہیں مدینے كی ہواموافق نہ آئی۔ اور ان كے پیٹ پھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں كی طرف چلے جاؤ اور ان كا دودھ اور پیشاب پیو تو تم ٹھیك ہو جاؤ گے۔ انہوں نے ایسا ہی كیا اور صحیح ہو گئے، اس كے بعد چرواہوں پر حملہ كر كے انہیں قتل كر دیا، اونٹ ہانك كر لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے پیچھے لوگ بھیجے، انہیں پکڑ کرلایا گیا، آپ نے ان كے ہاتھ پاؤں كاٹ دیئے اور ان كی آنكھوں میں گرم سلائیاں پھیریں اور مرنے تك حرہ(سخت پتھریلی آتش فشانی زمین) میں چھوڑ دیا۔(
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار كے ایك باغ كے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آواز سنی تو فرمایا: یہ كیاہے؟ لوگوں نے كہا: ایك آدمی كی قبر ہے جسے جاہلیت میں دفن كیا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے ڈر نہ ہوتا كہ تم مردوں كو دفن كرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا كرتا كہ تمہیں قبر كا عذاب سنائےجو اللہ تعالیٰ نے مجھے سنایا ہے
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر اس (حجر اسود) کو جاہلیت کی نجاستوں نے نہ چھوا ہوتا تو كوئی بھی بیماری والا اسے چھوتا تو شفایاب ہو جاتا، اور روئے زمین پر اس پتھر كے علاوہ جنت کی كوئی چیز نہیں
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: دن كا جو بھی عمل ہوگا، اس پر خاتمہ ہوگا جب مومن بیمار ہوجاتا ہے تو فرشتے كہتے ہیں: اےہمارے رب ! تیرا فلاں بندہ، تو نے اسے روك لیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس كے عمل پر اس كا خاتمہ كرو، جب تك یہ تندرست نہ ہوجائے یا مرنہ جائے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: عافیت والے قیامت كے دن جب وہ آزمائش والوں كا ثواب دیكھیں گے تویہ خواہش كریں گے كہ ان كی كھال قینچیوں سے كاٹ دی جاتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2206) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْبَصَرِ رقم (2326)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: دَخلتُ عَلَى أُم عبد الله بنت أَبِي ذُبَاب عَائِدًا لَهَا من شَكْوٰى فَقَالَت: يَا أبا هُرَيْرَة ! إِنِّي دَخَلتُ عَلَى أَم سَلمْة أعودها من شَكْوًى، فَنَظَرَت إلى قَرْحَة في يَدِي فَقَالَت: سَمِعت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقول: مَا ابْتَلَى الله عَبْدًا بِبَلَاء وَّهُو عَلَى طَرِيقَة يَكْرَهُهَا، إِلَا جَعَل الله ذَلِك الْبَلَاء لَه كَفَّارَة وطَهُورًا، ما لَم يَنزل ما أَصَابَه من الْبَلَاء بِغَيْر الله، أَو يَدْعُو غَيْر الله في كَشَفِه.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں ام عبداللہ بنت ا بی ذباب كے پاس ان كی بیماری میں عیادت كرنے آیا، انہوں نے كہا: ابو ہریرہ! میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا كے پاس ان كی بیماری میں عیادت كرنے گئی، انہوں نے میرے ہاتھ میں زخم یا پھوڑا دیکھا، كہنے لگیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ كسی بندے كو اس كی نا پسندیدہ آزمائش میں مبتلا كرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آزمائش كو اس كے لئے كفارہ اور پاكیزگی كا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ جب تك وہ اپنی اس آزمائش میں اللہ كے علاوہ كسی كے پاس نہیں جاتا یا اسے ٹھیك كرنے میں اللہ كے علاوہ كسی اور كو نہیں پكارتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2500) الكفارات لابن أبي الدنيا (69 / 2 )
كریب مولیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: انہوں نے كہا كہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كا ایك بیٹا فوت ہوگیا، تو انہوں نے مجھ سے كہا:اےكریب كھڑے ہو كر دیكھو كیا میرے بیٹے كے لئے كوئی جمع ہوا ہے؟ میں نے كہا: جی ہاں، انہوں نے كہا: تو برباد ہو، كتنے لوگ ہیں۔۔۔ كیا چالیس ہیں؟ میں نے كہا: نہیں زیادہ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: میرے بیٹے كو باہر نكالو، میں گواہی دیتا ہوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: چالیس مومن اگر كسی مومن كی سفارش كریں تو اللہ تعالیٰ ان كی سفارش قبول كرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2267) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رقم (1478)
معاویہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: مومن كو اس كے جسم میں تكلیف دینے والی كوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس كے بدلے اس كے گناہ مٹا دیتا ہے۔
عن محمد بن عمرو بن حزم عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أنّہ قال: ما من مؤمن یعزي أخاہ بمصیبۃ إلا کساہ اللہ سبحانہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ۔
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو كوئی مومن كسی مصیبت میں اپنے مومن بھائی كو تسلی(مدد) دیتا ہے اس سے تعزیت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اسے عزت كا لباس پہنائے گا۔
ابو ذررضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس مسلمان والدین كے تین بچے فوت ہو گئے جو بلوغت كو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنی رحمت كی وجہ سے انہیں جنت میں داخل كرے گا، اور جو مسلمان اللہ كے راستے میں اپنے مال كی دو عمدہ چیزیں(جوڑی) خرچ كرتا ہے تو جنت كے داروغے اسے اپنی طرف جلدی جلدی بلاتے ہیں( ہر ایك اسے اپنے سامنے کی نعمتوں کی طرف بلائے گا)۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : مومن مرد اور مومن عورت كے جسم، اولاد، اور مال میں آزمائش ہوتی رہتی ہے، حتی كہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات كرے گا تو اس پر كوئی گناہ نہیں ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2280) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ رقم (2323)
عن النّعْمَان بن بَشِير قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : مَثل الْمُؤْمِن ومَثل الْمَوْت، كَمَثل رَجُل لَه ثَلَاثَة أَخِلَّاء، أَحدهُم مَالُه، قال: خُذ مَا شِئْت، وَقَال الْآخَر: أَنا مَعَك فَإِذَا مُتّ أنزلتك. وَقَال الْآخَر: أَنا مَعَك وأَخرج مَعَك، فأحدهم مَالَه والْآخَر أَهله ووَلَدَه والْآخَر عَمَله.
نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اور موت كی مثال اس آدمی كی طرح ہے جس كے تین دوست ہیں، ایك مال ہے، اس نے كہا: جتنا چاہو لے لو، دوسرے نے كہا: میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم مر جاؤ گے تو قبر میں اتار دوں گا۔ اور تیسرے نے كہا: میں تمہارے ساتھ ہوں، اور تمہارے ساتھ ہی نکلوں گا۔ پہلا دوست مال ہے ، دوسرا دوست اس كے بیوی بچے ہیں، اور تیسرا دوست اس كا عمل ہے
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص کے تین بیٹے فوت ہوگئے اور اس نے نے اپنے تین بچوں كے مرنے پر اللہ سے ثواب كی امید ركھی، اس كے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2296) مسند أحمد (16660) المعجم الكبير للطبراني رقم (14245)
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے اپنے تین بچوں كے مرنے پر ثواب كی امید ركھی ، وہ جنت میں داخل ہوگا، ایك عورت نے كہا: اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تب بھی
Takhreej
الصحيحة رقم (2302) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب ثَوَابِ مَنْ احْتَسَبَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ رقم (1849)
عن ابن عباس مرفوعا : مَن بَات وَفِي يَده غَمَر، فَأَصَابَه شَيْء فَلَا يَلُومَنَّ إِلَا نَفسَه .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ : جس اس طرح رات گزاری کہ اس کے ہاتھ میں گوشت یا چکناہٹ کی بو تھی، پھر اسے كسی جانور نےكاٹ لیا تو وہ اپنے آپ كو ملامت كرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2956) المعجم الأوسط للطبراني رقم (505)