TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خوبیوں اور خامیوں کا بیان - خوبیوں اور خامیوں کا بیان - Book 26 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 26 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ. روی من حدیث .......( )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب سکھا، اور اسے عذاب سے بچا۔ یہ حدیث ......... رایت کی گئی ہے۔
Takhreej
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو حساب و کتاب سکھا، اور اسے عذاب سے بچا۔ یہ حدیث ......... رایت کی گئی ہے۔
3390
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: اَنَّهُ سَكَبَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَضُوءًا عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ:مَنْ وَّضَعَ لِي وَضُوئِي؟ قَالَتْ: ابْنُ أُخْتِي يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ:اللهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ , وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھا، جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌باہرآئے تو فرمایا: میرے لئے کس نے وضو کا پانی رکھا ہے؟ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھانجے نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اسے دین میں سمجھ اور تفسیر کا علم دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2589) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (12343)
3391
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عُبَادَة بْن صَامِت مَرْفُوعاً: اللهم مَنْ ظَلَمَ أَهْل الْمَدِينَةِ وَأَخَافَهُمْ فَأَخِفْهُ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اهَِد، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اے اللہ! جس نے اہل مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو بھی اسے ڈرا ، اور اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس سے فرض و نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (351) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (6496)
3392
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى نَسْأَلَهُ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ فَقَالَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ وَّعَلِيٌّ وَّزَيْدٌ مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ وَدَخَلُوا فَقَالُوا: مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: فَاطِمَةُ قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ: أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ! فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقَكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ! فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ
محمد بن اسامہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: جعفر، علی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ جعفر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیارا ہوں۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارا ہوں۔ انہوں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ ہم آپ سے پوچھ لیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دیکھو یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے کہا: یہ جعفر ،علی اور زید رضی اللہ عنہم ہیں۔ میں نے اپنے والدزید کا نہیں بتایا ؟ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، وہ اندر آئے اور کہنے لگے: آپ کو سب سے زیادہ پیارا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: فاطمہ، انہوں نے کہا: ہم آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جعفر! تمہاری عادت میری عادت سے مشابہہ ہے اور میری صورت تمہاری صورت سے مشابہہ ہے تم مجھ سےاور میرے نسب سے ہو اور اے علی! تم میرے داماد اور میرے بیٹے کے والد ہو، میری بیٹی کے نگران ہو، میں تم سے ہوں۔ اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میری طرف منسوب ہو اور لوگوں میں سب سےزیادہ محبوب ہو ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1550) ، مسند أحمد رقم (20778
3393
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَائِشَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ذَكَرَ فَاطِمَة ، قَالَتْ : فَتَكلَمْتُ أَنَا ، فَقَالَ : « أَمَا تَرْضِيْن أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَة ؟ » ، قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ ، قَالَ : « فَأَنْتَ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَة » .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی رہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ،اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (3011) ، صحيح ابن حبان رقم (7220) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (6807)
3394
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : أُتِي النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقِيْلَ لَهُ : هَذِه ِالْأَنْصَار رِجَالهُاَ وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِد يَبْكُوْن ! قَالَ: وَمَا يَبْكِيْهَا ؟. قَالَ : يَخَافُوْنَ أَنْ تَمُوْتَ ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُّتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ(وكان آخر مجلس جلسه) فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَّلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا(من أمة محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاستطاع أن) يَّضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَهُ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُّسِيئِهِمْ . ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو بتایا گیا: یہ انصار ہیں ،ان کے مرد اور عورتیں مسجد میں رو رہے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کس بات نے رلایا ہے؟ اس نے کہا: یہ ڈرتے ہیں کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے آپ پر ایک چادر تھی جسے آپ نے اپنے کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا، اور آپ نے سیاہی مائل عمامہ باندھا ہوا تھا۔ آپ آکر منبر پر بیٹھ گئے( یہ آپ کی آخری مجلس تھی جو آپ نے کی۔) اللہ کی حمدو ثنا کی پھر فرمایا: اما بعد! اے لوگو! لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہو جائیں گے حتی کہ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہو جائیں گے۔ تم میں سے جو شخص (امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی معاملے کا نگران بنے( اور وہ اپنی طاقت کے مطابق) کسی کو نقصان پہنچائے یا نفع، تو وہ انصار کے نیک شخص سے قبول کرے اور خطار کار سے در گزر کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3430) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ...، رقم (3516)
3395
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَّقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِرَجُلٍ يُّقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ؟ فَقَالُوا: صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُّفْطِرَ فَقَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى تَصُومَ؟( )
ابو زبیر سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو دوہرا ہوا جا رہا تھا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کے بارےمیں پوچھا تو لوگوں نے کہا: روزے دار ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے روزہ کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہیں کافی نہیں کہ تم اللہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو؟ اور تمہیں روزہ رکھنے کی نوبت آگئی ہے؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2595) ، مسند أحمد رقم (13984) .
3396
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّة مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ . ورد من حدیث .........
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں خدیجہ کو(جنت میں) یاقوت کے ایک گھر کی بشارت دوں جس میں نہ شور ہو اور نہ تھکاوٹ۔ یہ حدیث ........ سے مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1554) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْحَجِّ ، بَاب مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ ... ، رقم (1666) .
3397
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْل: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ . وَفِي رِوَايَة مِنْ طَرِيْقٍ أُخْرى عَنْهُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظٍ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ فِيهَا خَيْرًا مِّنْهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھا جائے گی (حاوی ہوجائے گی)۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ،اور یہ مدینہ ہے۔ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔ اور ایک دوسری روایت ان سے مرفوعا ان الفاظ کے ساتھ ہے: لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے چچازاد اور قریبی کو بلائے گا، آؤخوشحالی کی طرف، آؤ خوشحالی کی طرف، حالانکہ(اس وقت) مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر انہیں علم ہو تو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص اس سے بے رغبت ہو کر نکلے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اس میں لے آئے گا، خبردار مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو بے کار لوگوں کو نکال دے گا، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ اپنے شریر لوگوں کو اس طرح نہ نکال دے جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ نکالتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (274) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْحَجِّ ، بَاب الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا ، رقم (2451) ، مسند أحمد رقم (6934) .
3398
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمن حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَة فَقَالَتْ لِي: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لِي: أَمْرُكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ . ثُمَّ قَالَتْ: فَسَقَى اللهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِوَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَدْ وَصَلَهُنَّ بِمَالٍ فَبِيْعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے مجھے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہا کرتے تھے: میرے بعد تمہارا معاملہ مجھے پریشان کئے ہوئے ہے اور تم پر صبر کرنے والے ہی صبر کر سکتے ہیں۔ پھر کہنے لگیں: اللہ تعالیٰ تمہارے والد کو جنت کی نہر سے سیراب کرے،عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں مال (مویشی ) دیا تو وہ چالیس ہزار (درہم یا دینار )کا بیچا گیا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1594) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ  ، برقم (3682) .
3399
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِر قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِأَصْحَابِه : « امْشُوا أَمَامِي وَخَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَة ».( )
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو اپنے صحابہ سے کہا: میرے آگے آگے چلو ،میرے پیچھے فرشتوں کے لئے جگہ چھوڑ دو ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1557) ، مسند الحارث رقم (935) .
3400
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِالمَلك بْن عُمَيْر قَالَ: اسْتَعْمَل عُمَر بْن الخَطَّاب أَبَا عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح عَلَى الشَّام، وَعَزَلَ خَالِد بْن الوَلِيْد ، فَقَالَ : خَالِدُ بْن الوَلِيْد : بُعِثَ عَلَيْكُم أَمِيْنُ هَذِهِ الْأُمَّة ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: أَمِيْن هَذِهِ الأُمَّة أَبُو عُبَيْدَة بْن الجَرَّاح فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَة : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: خَالِد سَيْف مِّنْ سُيُوفِ اللهِ نِعْمَ فَتَى الْعَشِيْرَة
عبدالملک بن عمیر سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا نگران بنایا، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پر اس امت کے امین کو نگران بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نےکہا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہےاور قبیلے کا بہترین جوان ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1826) ، مصنف ابن أبي شيبه .
3401
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا وَ حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ و دَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَ صَاعِهَا فِي مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ .
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کےلئے دعا کی اور میں نے مدینے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے صاع اور مد میں برکت کے لئے دعا کی ہے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لئے دعا کی تھی
Takhreej
الصحيحة رقم (3501) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْحَجِّ ، بَاب فَضْلِ الْمَدِينَةِ ... ، رقم (2422) .
3402
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَّلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اپنی بیویوں کو مت بتائیں کہ میں نے آپ کو پسند کر لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے مجھے مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا
Takhreej
الصحيحة رقم (1516) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الطَّلَاقِ، بَاب فِي الْإِيلَاءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ ... ، رقم (2708) .
3403
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ اللهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ .
واثلہ بن اسقع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولاد اسماعیل میں سے کنانہ کو چنا، کنانہ سے قریش کو چنا، قریش سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم سے مجھے چنا
Takhreej
الصحيحة رقم (302) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْفَضَائِلِ، بَاب فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ ﷺ ... ، رقم (4221) .
3404
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعًا: إِنَّ اللهَ -عَزَّوَجَلَّ- (وفي لفظ: لَعَلَّ اللهَ) اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ:یقینا اللہ عزوجل نے (اور ایک روایت میں ہے : شاید اللہ تعالیٰ نے) اہل بدر کو دیکھا تو فرمایا: جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2732) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب الْجَاسُوسِ ... ، رقم (2785) .
3405
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ كَعْب بْن عَاصِم الأَشْعَرِيِّ ، سَمِعَ النِّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل : « إِنَّ اللهَ قَدْ أَجَارَ أُمَّتِي مِنْ أَنْ تَجْتَمِعَ عَلَى ضَلَالَة »
کعب بن عاصم اشعری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے بچا لیا ہے کہ وہ گمراہی پر جمع ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1331) ، السنة لإبن أبي عاصم رقم (70) .
3406
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی طرف جھانکتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور بغض وعداوت اور کینہ رکھنے والے کے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1563) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا، بَاب مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، رقم (1380) .
3407
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُّفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْ قَالَ : يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ أَوْ فَاخَرَ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حسان رضی اللہ عنہ کے لئے منبر رکھواتے، جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتے، یارسول اللہ کی مدافعت کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : اللہ تعالیٰ روح قدس کے ذریعے حسان کی مدد کرے جب تک وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فخریہ کلمات کہتا ہے۔یارسول اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1657)
3408
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ أُنَاساً مِّنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُم لَوِ اشْتَرَى رَؤْيَتِي بِأَهْلِهِ وَمَالِه »
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو چاہیں گے کہ اپنا مال اور گھر بار دے کر میری ایک جھلک دیکھ لیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1676) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7092) .
3409
Sahih