انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے سر پر کپڑا باندھے باہر نکلے تواس دن انصار کے بچوں اور خدمتگاروں کےچہروں پر پریشانی کے آثار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم سے محبت کرتا ہوں( دو یا تین مرتبہ فرمایا) پھر فرمایا: انصار نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور تمہاری ذمہ داری باقی ہے۔ ان کے نیک شخص سے اچھا سلوک کرو اور ان کے خطاکار شخص سے در گزر کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (916) ، السنن الكبرى للبيهقي ، موارد الظمآن ، صحيح ابن حبان رقم (7389) .
- الصحيحة رقم (564) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ ... ، رقم (5535) .
عبدالرحمن بن ابی نعم سے مروی ہے کہ: ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا جو کپڑے میں لگ جاتا ہے؟(میں بیٹھا ہوا تھا) (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ اس نے کہا: اہل عراق سے ہوں۔) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:اوہ! (کلمہ تعجب) اس شخص کی طرف دیکھو، یہ مچھر کے خون کے بارے میں سوال کر رہا ہے؟ حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: حسن اور حسین دنیا میں میری خوشبو ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (564) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ ... ، رقم (5535) .
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اس امت میں سے اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ تعالیٰ یاد آجائے اور اس امت کے بدترین لوگ وہ ہیں کہ جو چغل خوری کرتے ہیں، پیاروں کے مابین تفریق ڈالتے ہیں، اورپاکدامن لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2849) ، مساوئ الأخلاق للخرائطي رقم (225) .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ان اونٹوں میں سے دی جو انہوں نے( غابہ) میں حاصل کی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کچھ دیا، جس پر وہ غصے ہوگیا، میں نے اس منبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:عرب کا کوئی شخص مجھے تحفہ دیتا ہے تو میرے پاس جتنی استطاعت ہوتی ہے اس کے بدلے میں دےدیتاہوں وہ ناراض ہو جاتا ہے اور مجھ پر غصے رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں کسی عرب سے تحفہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی ، انصاری ، ثقفی یا دوسی کے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1684) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ ، رقم (3881) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےقوم (قریش) کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا جسے سودہ کہا جاتا تھا، اس کی ایک پریشانی تھی کہ اس کے پہلے شوہر سے جو مر چکا تھا پانچ یا چھ بچے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تمہیں مجھ سے کونسی بات روک رہی ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے آپ سے کوئی بات منع نہیں کر رہی کہ آپ ساری مخلوق سے زیادہ مجھے پسند ہیں، لیکن میں آپ کی عزت کرتی ہوں اور یہ بچے رات دن آپ کے سر پر کھڑے ہو کر شور مچائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ کوئی اور بات تمہیں روکتی ہے؟ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: واللہ! نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، بہترین عورتیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، بچپن میں بچے کے بارے میں خوفزدہ رہتی ہیں اور اپنے شوہر مال و منال اور آرام کا خیال رکھتی ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش کی ہجو کرو کیوں کہ یہ ان پر تیر سے زیادہ تیز لگتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ان کی ہجو کرو، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ہجو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا، پھر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اب وقت آگیا ہے کہ آپ اس شیر کی طرف پیغام بھیجیں جو اپنی دم مارتا ہے پھر اپنی زبان کو حرکت دی اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں اپنی زبان سے ان کو چمڑے کی طرح چاک کردوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی مت کرو، کیوں کہ ابو بکر قریش کے نسب کو زیادہ جانتے ہیں، اور ان میں میرا نسب بھی ہے۔ انتظار کرو تاکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرا نسب الگ کر دیں۔ حسان رضی اللہ عنہ ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے پھر واپس آکر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ کانسب الگ کر کے بتادیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپ کو ایسے نکال لوں گا جس طرح آٹے میں سے بال نکالا جاتا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حسان رضی اللہ عنہ کے لئے فرما رہے تھے: روح القدس تمہاری مدد کرتا رہے گا جب تک تم اللہ اور اس کے رسولکا دفاع کرتے رہو گے اور کہتی ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے:حسان نے ان کی ایسی ہجو کی ہے کہ اللہ کے رسول کا دل ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہجو کی ہے اور میں اس کا جواب دے رہا ہوں اور اس کام کی اللہ کے پاس جزاء ہے۔ تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی جو یکسو اور نیکوکار ہیں، اللہ کے رسول ہیں، وفا ان کی عادت ہے۔میرے ماں باپ اور میری عزت ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بچانے کیلئے تمہارے سامنے رکاوٹ ہیں۔ دفاع کرنے والے ہیں۔ میری بچے گم ہوجائیں اگر تم انہیں نہ دیکھو کہ وہ کداء کے دونوں جانب گرد و غبار اڑائے ہوئے آرہے ہیں۔ وہ ایسے گھوڑوں یا اونٹنیوں پر اس جن کی باگیں کھچی ہوئی ہیں۔ ہمارے گھوڑے گرد وغبار اڑا رہے ہیں، جن کی پیشانیاں عورتیں اپنے دوپٹوں سے صاف کرتی ہیں۔ اگر تم ہم سے اعراض کرو تو ہم عمرہ کرلیں، اور یوں فتح ہوجائے اور پردہ ہٹ جائے۔ وگر نہ صبر کرو، اس دن کی جنگ کیلئے جس دن اللہ تعالی جسے چاہے عزت دے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے، اس میں کوئی اخفا یا شک شبہ نہیں ہے۔اور اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے اس کے لئے لشکر میسر کردئے ہیں، وہ انصار ہیں، یہ میری ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ ہر دن معد کی طرف سےگالی، یا قتال یا ہجو در پیش ہے۔ تم میں سے جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا ہے یا اس کی مدح کرتا یا اس کی نفرت کرتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جبریل ہم میں اللہ کا قاصد ہے اور روح القدس ہے اس کے برابر کوئی نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1180) ، صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، رقم (4545) .
یحیی بن عباد بن عبداللہ( بن زیبر) اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت فرما رہے تھے: جب حنظلہ اور ابو سفیان بن حارث کا مقابلہ ہوا اور شداد بن اسود تلوار لے کر حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گیا اور انہیں شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے تھے۔ لوگوں نے اس کی بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا: جب اس نے اعلان سنا تو یہ جنبی حالت میں باہر چلا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتے اسےغسل دے رہے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (326) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (4905) .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علماء جب اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے، تو معاذ ان کے سامنے پتھر پر کھڑا ہو گا یا پتھر رکھ رہا ہوگا (یعنی ان کے علم کی فضیلت کی وجہ سے وہ آگے ہونگے )
Takhreej
الصحيحة رقم (1091) ، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل رقم (1247) .
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . . ورد من حدیث ..........
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اس طرح ہے جس طرح باقی کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔ یہ حدیث ...... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3535) ، صحيح البخاري ،كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ، بَاب قَوْلِهِ تَعَالَى { إِذْ قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ... ،} ، رقم (3179) .
زید بن عبدالرحمن بن سعید بن عمرو بن نفیل اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں قریش کے کچھ نو جوانوں کے ساتھ جا بر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ نابینا ہوگئے تھے۔ ہم نے چھت میں ایک رسی لٹکتی دیکھی، کچھ ٹکیاں یا روٹیاں ان کے سامنے رکھی ہوئی تھیں، جب کوئی مسکین ان سے کھانا مانگتا تو جابر رضی اللہ عنہ ایک ٹکیہ اٹھا کر کھڑے ہو جاتے اور رسی پکڑ کر اس مسکین کے پاس آتے اور اسے وہ ٹکیہ دے دیتے۔ پھر رسی کے ذریعے واپس آکر بیٹھ جاتے۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کو عافیت دے، ہمارے پاس کوئی مسکین آتا ہے تو ہم( بیٹھے بیٹھے) اسے دے دیتے ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس طرح چلنے میں ثواب کی امید رکھتا ہوں۔ پھر کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ سب نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قریش اہل امانت ہیں، جو شخص ان کے خلاف ان کی لغزشیں تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل بچھاڑ دے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1688) ، رواه ابن عساكر ( 3 / 320 / 1 - 2) .
عمرو بن سلمہ ہمدانی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: ہم صبح کی نماز سے قبل عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ جاتے تھے، جب وہ باہر نکلتے تو ہم مسجد کی طرف ان کے ساتھ چلتے۔ (ایک دن) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا ابھی تک ابو عبدالرحمن تمہارے پاس نہیں آئے؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ ان کے نکلنے تک ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ جب وہ نکلے تو ہم سب کھڑے ہو کر ان کی طرف گئے، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایسا معاملہ دیکھا ہے جو میری نظر میں عجیب ہے، الحمدللہ! میں نے نیکی کا کام ہی دیکھا ہے، انہوں نے کہا: وہ کیا کام ہے؟ ابو موسیٰرضی اللہ عنہ نے کہا: آپ زندہ رہے تو جلدہی دیکھ لیں گے۔ میں نے مسجد میں کچھ لوگوں کو حلقہ بنائے بیٹھے دیکھا، جو نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور سب لوگوں کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں وہ آدمی کہتا ہے: سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، وہ لوگ سو مرتبہ اللہ اکبر کہتےہیں، وہ کہتا ہے: سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو وہ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان سے کیا کہا؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کی رائے کے انتظار میں ان سے کچھ بھی نہ کہا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں، اور تم نے انہیں ضمانت کیوں نہیں دی کہ ان کی کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی؟ پھر وہ چلے تو ہم بھی ان کے ساتھ چلے وہ ایک حلقے کے پاس پہنچے اور ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، کہنے لگے: یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمن! یہ کنکریاں ہیں، ہم ان کے ساتھ تکبیر تہلیل اور تسبیح کررہے ہیں۔ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گناہ شمار کرو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔افسوس! اےامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم کتنی جلدی ہلاکت میں پڑ گئے۔ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار صحابہ موجود ہیں، یہ آپ کے کپڑے ہیں جو بوسیدہ نہیں ہوئے، یہ آپ کے برتن ہیں جو ابھی ٹوٹے نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کیا تم ایسی ملت پر ہو جو ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے یا تم گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! واللہ! ہم نے تو نیکی کا ارادہ کیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنے ہی بھلائی کا ارادہ کرنے والے بھلائی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ شاید اکثر تم میں سے اس حدیث کا مصداق ہوں گے، پھر ان سے منہ موڑ لیا، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقوں کے اکثر لوگوں کو دیکھا کہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم سے مقابلہ کر رہے تھے۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ: ایک کالی لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے سے واپس آئے تھے، کہنے لگی: میں نے نذر مانی تھی کہ: اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آئے تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ نذرمانی ہے تو کرلو، اور اگر نہیں تو نہ کرو، وہ دف بجانے لگی، ابو بکر رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ دف بجاتی رہی، پھر کوئی اور آیا وہ دف بجاتی رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس نے دف کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے، میں یہاں بیٹھا ہوں، یہ لوگ داخل ہوئے تو یہ دف بجاتی رہی جب تم داخل ہوئے تو دیکھ رہے ہو اس نےکیسا کام کیا۔
جبیر بن مطعمرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کی غیر قریشی کے مقابلے میں دوگنی قوت ہے، زہری سے پوچھا گیا: کس نسبت سے؟ زہری نے کہا: عمدہ رائے کی وجہ سے۔
عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي أَرْجُو اللهَ أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً
سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا حوض ہوگا او ر وہ ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے پاس زیادہ پیرو کار آتے ہیں، اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ میرے پاس سب سے زیادہ پیرو کار آئیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1589) ، سنن الترمذي ،بَاب مِنْهُ، بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْحَوْضِ ، رقم (2367) .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے بھیجا جانے والا سلام مجھے پہنچاتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2853) ، سنن النسائي ،كِتَاب السَّهْوِ، بَاب السَّلَامِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، رقم (1265) ، مسند أحمد رقم (3484) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: قریش کے سردار حجر اسود کے پاس جمع ہوئے اور لات، عزی، مناة، نائلہ اور اساف کے نام پر عہد کیا کہ اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں گے تو ہم سب یکبار گی آپ پر حملہ کریں گے اور جب تک آپ کو قتل نہ کر دیں چھوڑیں گے نہیں۔ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگیں: قریش کے ان سرداروں نے آپ کے خلاف عہد کیا ہے کہ اگر آپ کو دیکھیں گے تو یکبارگی حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں گے، اس طرح ان میں سےہر شخص آپ کے خون سے اپنے حصے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی وضو کا برتن لاؤ، آپ نے وضو کیا، پھر ان کے پاس مسجد میں گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ آگیا، ان کی نظریں جھک گئیں اور ٹھوڑیاں سینے سے آلگیں اوراپنی جگہوں پر دہشت زدہ ہوگئے، کسی نےآپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا نہ کوئی آپ کی طرف کھڑا ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر کھڑے ہوگئے ،مٹی کی ایک مٹھی بھری اور فرمایا :چہرے برباد ہوجائیں ۔پھر ان کی طرف پھینک دی ،ان میں سے جس شخص تک اس کے ذرات پہنچے وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں مرا ۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس عبدالرحمن بن عوفرضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اماں!(ام المومنین ) مجھے خدشہ ہے کہ کہیں مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کر دے، میں قریش میں سب سے زیادہ مال والا ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! اسے خرچ کرو کیوں کہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میرےکچھ صحابہ ایسے ہوں گے کہ جب میں ان سے جدا ہو جاؤں گا تو وہ مجھے دیکھ نہ سکیں گے۔ وہ باہر نکلے تو عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی،اور عمررضی اللہ عنہ کو بتایا تو عمر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! ان میں سے میں بھی ہوں؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں میں تمہارے بعد کسی کو بھی ہر گزعذر پیش نہیں کروں گی
عبدالرحمن بن حضرمی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کا انکار کریں گے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کا پتہ نہیں گرتا وہ مسلمان کی طرح ہے، مجھے بتاؤ وہ کونسا درخت ہے؟ لوگ پہاڑوں کے درختوں کے بارے میں بتانے لگے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن میں بتانے میں شرم محسوس کر رہا تھا، پھر صحابہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتایئے وہ کونسا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3544) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْعِلْمِ ، بَاب قَوْلِ الْمُحَدِّثِ ...، رقم (59) .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ ہم بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر سے نکلے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، آپ کی چپل ٹوٹ گئی، علیرضی اللہ عنہ اسے گانٹھنے کے لئے پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے ہم بھی آپ کے ساتھ چلنے لگے، پھر آپ کھڑے ہو کر علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل(تفسیر) کے تحفظ کے لئے قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول پر قتال کیا۔ ہم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ہم میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن چپل گانٹھنے والا ہے۔ ہم علی رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے گئے لیکن ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے سن لیا ہے۔