TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خوبیوں اور خامیوں کا بیان - خوبیوں اور خامیوں کا بیان - Book 26 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 26 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُّضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهَا اللهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِهِ فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ .
ابو طفیل سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں اور عمرو بن صلیع حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ روئے زمین پر اللہ کے کسی نیک بندے کو نہیں چھوڑےگا کہ اسے فتنے میں مبتلا نہ کر دے، اور ہلاک نہ کردے،جب تک ان کے پاس اللہ کے بندوں کا لشکر نہ پہنچ جائے جو انہیں ذلیل کرے حتی کہ یہ کسی پست زمین کے عام لوگوں کو بھی کچھ نہیں کہیں گے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2752) ، مسند أحمد رقم (22227)
3430
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ سِيَابَة، أَنّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: أَنَا ابْنُ الْعَوَاتِكِ .
سیابہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: میں میں شریف زادیوں کا بیٹا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1569) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (6585) ، معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (3240) .
3431
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ أَنَسًا الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ صَائِمٌ فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ رَسُولَ اللهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَقَالَ أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلهِ وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِ اللهِ .
عطاء بن یسار سے مروی ہے، کہ وہ ایک انصاری سے کہ انس انصاری نے عطاء کو بتایا کہ: اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھ کر آئے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کرتے ہیں۔ اس کی بیوی نے اسے بتایا تو اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ چیزوں میں رخصت دی گئی ہے، واپس جاؤ اور دوبارہ آپ سے پوچھو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئی اور کہا کہ وہ یعنی میرا شوہر کہتا ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ چیزوں میں رخصت دی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں تم سے زیادہ متقی اور اللہ کی حدود کا علم رکھنے والا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (329) ، موطأ مالك رقم (568) ، مسند أحمد رقم (22570) .
3432
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرفوعا:« أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَّأْخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا »
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) : میں پہلا شخص ہوں جو جنت کے دروازے کا کڑا پکڑے گا اور اسے کھٹکھٹائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1570) ، سنن الدارمي رقم (59) .
3433
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ . . ورد من حدیث ........( )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں۔ یہ حدیث ........... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1571) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْفَضَائِلِ ، بَاب تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا ﷺ عَلَى جَمِيعِ الْخَلَائِقِ ، رقم (4223) .
3434
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِيها اللهُ .
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں محمد بن عبداللہ ہوں۔ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، مجھے پسند نہیں کہ تم مجھے میرے اس درجے سے بڑھاؤ، جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے متمکن کیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1571) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْفَضَائِلِ ، بَاب تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا ﷺ عَلَى جَمِيعِ الْخَلَائِقِ ، رقم (4223) .
3435
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ سَفِينَةَ قَالَ: كُنَّا (مَعَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) فِي سَفَرٍ قَالَ: فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا أَوْ سَيْفًا حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنْتَ سَفِينَةُ . ( )
سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ: ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب کبھی کوئی آدمی تھک جاتا تو مجھ پر اپنی ڈھال یا تلوار ڈال دیتا، جب میں نے بہت زیادہ چیزیں اٹھالیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو سفینہ(کشتی) ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2959) ، مسند أحمد رقم (20922) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (6326) .
3436
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللهِ مِنَ النَّارِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد کر دیئے گئے ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1574) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب فِي مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كِلَيْهِمَا ، رقم (3612) .
3437
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَاسْمَعُوا) قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ .
عامر بن شہر سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: قریش کو دیکھو، ان کی بات لے لو (اور ایک روایت میں ہے: سنو) او ران کا فعل چھوڑ دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1041) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10428) .
3438
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عن أُمِّ الْفَضْلِ بنتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا مَارَّةٌ وَّالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ:يَا أُمَّ الْفَضْلِ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلامٍ، قَالَتْ: كَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ لا تُولِدُونَ النِّسَاءُ؟ قَالَ:هُوَ مَا أَقُولُ لَكِ، فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِنِي بِهِ، فَلَمَّا وَضَعَتْهُ أَتَتْ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللهِ، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ، ثُمَّ قَالَ:اذْهَبِي بِهِ، فَلَتَجِدِنَّهُ كَيِّسًا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَلَبَّسَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَانَ رَجُلا جَمِيلا مَدِيدَ الْقَامَةِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَّمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ:هَذَا عَمِّي، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاه بِعَمِّهِ، قَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضَ الْقَوْلِ يَا رَسُولُ اللهَ! قَالَ: وَلِمَ لا أَقُولُ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي، وَالْعَمُّ وَالِدٌ.
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں گزر رہی تھی، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ام فضل! میں نے کہا: حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم ایک بچے کو جنم دوگی، ام فضل نے کہا: کس طرح ممکن ہے حالانکہ قریش نے قسم کھائی ہے کہ عورتوں سے بچے نہیں جنوائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح میں تم سے کہہ رہا ہوں اسی طرح ہوگا۔ جب تم بچے کو جنم دے دو تو میرے پاس لے آنا۔ جب میں نےبچےکو جنم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اس کا نام عبداللہ رکھااور اسے اپنے لعاب مبارک کی گھٹی دی پھر فرمایا: اسے لے جاؤ یہ بہت ذہین ہوگا۔ کہتی ہیں کہ میں عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں بتایا،انہوں نے چادر اوڑھی پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ ایک خوب صورت دراز قد شخص تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کی طرف گئے اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا، پھر انہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا، پھر فرمایا: یہ میرے چچا ہیں، تم میں سے جو شخص چاہے اپنے چچا پر فخر کرے، پھر عباس رضی اللہ عنہ نے کوئی بات کہی اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں نہ کہوں، آپ میرے چچا ہیں اور میرے والدین کی نشانی ہیں اور چچا باپ کے برابر ہوتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1628) ، مسند أحمد رقم (16328) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (16281)
3439
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مرفوعا: إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَّاللهُ يَهْدِي وَقَاسِمٌ وَّاللهُ يُعْطِي فَمَنْ بَلَغَهُ مِنِّي شَيْءٌ بِحُسْنِ رَغْبَةٍ وَحُسْنِ هُدًى فَإِنَّ ذَلِكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ بَلَغَهُ عَنِّي شَيْءٌ بِسُوءِ رَغْبَةٍ وَّسُوءِ هُدًى فَذَاكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: میں تو تبلیغ کرنے والا ہوں، ہدایت تو اللہ دیتا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں ،عطا کرنے والا اللہ ہے۔میری طرف سے کسی کو کوئی چیز اچھے طریقے اور ا چھی رغبت سے پہنچے تو اس کے لئے اس میں برکت کر دی جائے گی، اور جس شخص کے پاس میری طرف سے کوئی چیز برے طریقے اور بری رغبت سے پہنچے تو یہ ایسا شخص ہے جو کھائے گا لیکن سیر نہیں ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (217) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَحْكَامِ ، بَاب مَنْ بَايَعَ ثُمَّ اسْتَقَالَ الْبَيْعَةَ ، رقم (6671) .
3440
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبَهَا .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: ایک اعرابی نے اسلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اعرابی کو مدینے میں شدید بخارہوا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیعت واپس کر دیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، وہ پھرآپ کے پاس آیا اور کہا: میری بیعت واپس کر دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، وہ پھر آپ کے پاس آیا اور کہا: میری بیعت واپس کر دیجئے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انکار کر دیا۔ اعرابی باہر نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ بھٹی کی طرح ہے، میل کو نکال دیتا ہے اور صاف باقی رکھتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (217) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَحْكَامِ ، بَاب مَنْ بَايَعَ ثُمَّ اسْتَقَالَ الْبَيْعَةَ ، رقم (6671) .
3441
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَنْسٍ: أَن أُكَيْدِر الدّومة بَعَث إِلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جُبَّة سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَتَعَجَّب النَّاس مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِه ؟ فَوَ الَّذِي نَفَسِي بِيَدِه، لَمَنَادِيل سَعْد ابْن مَعَاذ فِي الْجَنَّة خَيْر مِّنْهَا ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَر، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! تُكْرِهُهَا وَألْبِسُهَا ؟ قَالَ: يَا عُمَر! إِنَّمَا أَرْسَلْت بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَث بِهَا وَجْهاً، فَتُصِيْب بِهَا مَالاً؛ وَذَلِكَ قَبْل أَنْ يُّنْهَى عَنِ الْحَرِيْر.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اكیدر دومہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے لئے ریشم كا ایك جبہ بھیجا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے پہنا تو لوگوں كو اس بات سے تعجب ہوا۔ رسول اللہ نے فرمایا: كیا تم اس كی وجہ سے تعجب كر رہے ہو؟ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! سعد بن معاذ كے رومال جنت میں اس سے بہتر ہیں، پھر وہ جبہ عمر‌رضی اللہ عنہ كو تحفے میں دے دیا۔ انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ اسے نا پسند كرتے ہیں، تو میں اسے كس طرح پہن لوں؟ آپ نے فرمایا: عمر ! میں نے یہ جبہ تمہاری طرف اس لئے بھیجا ہے تاكہ آپ اسے کسی کو بیچ کر اس كے ذریعے مال حاصل كریں۔ یہ واقعہ ریشم سے منع سے پہلے كا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3346) مسند البزار (3/257-258)
3442
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَّعَبْدٌ قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: طُولُ الْقُنُوتِ. قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ...
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ! اس دین پر كس شخص نے آپ كی پیروی كی ہے؟ آپ نے فرمایا: آزاد اور غلام نے ۔ میں نے كہا: اسلام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ بات کرنا اور كھانا كھلانا۔ میں نے پوچھا ایمان كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: صبر اور درگزر ۔ میں نے پوچھا كو نسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ میں نے كہا كونسا ایمان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھا اخلاق ۔ میں نے كہا: كونسی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ میں نے كہا: كونسی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس چیز كو تیرے رب نے نا پسند كیا ہے اسے چھوڑ دینا۔ میں نے كہا: كونسا جہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس كے گھوڑے كی كونچیں كاٹ دی جائیں اور اس كا خون بہا دیا جائے۔ میں نے كہا: كون سی گھڑی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: رات کا آخری حصہ
Takhreej
الصحيحة رقم (551) مسند أحمد رقم (18618)
3443
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ. ورد من حدیث ......
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: (حرا ثابت کرو) حرا، رُک جا! كیوں كہ تم پر نبی، صدیق (سچے) یا شہید كے علاوہ كوئی نہیں۔( ) یہ حدیث ..... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (551) مسند أحمد رقم (18618)
3444
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(زَادَ مُسْلِم وَغَيْره: وَعُثْمَانَ) حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِّرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَالِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَّإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَّا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ.
) سعید بن عاص سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اور عثمان رضی اللہ عنہ ، دونوں نے بیان كیا كہ ابو بكر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اجازت طلب، كی آپ اپنے بستر پر عائشہ رضی اللہ عنہا كی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ كو اجازت دے دی۔ اور آپ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر چلے گئے۔ پھر عمر‌رضی اللہ عنہ نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، اور اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے بھی اپنا مقصد پورا كیا، پھر واپس چلے گئے۔ عثمان‌رضی اللہ عنہ نے كہا: پھر میں نے آپ سے اجازت طلب كی، آپ بیٹھ گئے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اپنے كپڑے سمیٹ لو، میں نے اپنی ضرورت پوری كی، پھر واپس پلٹ آیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اے اللہ كے رسول! یہ میں كیا دیكھ رہی ہوں كہ آپ نے ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہ كے لئے گھبراہٹ ظاہر نہیں كی، جب كہ آپ عثمان‌رضی اللہ عنہ كے لئے اٹھ كر بیٹھ گئے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: عثمان ایك با حیا شخص ہے، مجھے خدشہ تھا كہ اسے اس حالت میں اجازت دوں تو ممکن ہے وہ اپنی ضرورت مجھ تك نہ پہنچا سكے
Takhreej
الصحيحة رقم (1687) صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ رقم (4415)
3445
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِـ(الْجَابِيَةِ) فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَامَ فِينَا مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ: احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ: عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ نے (جابیہ) میں ہم سے خطاب كیا تو كہا: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بھی ہم میں اس طرح كھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تم میں كھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے صحابہ كے بارے میں میری حفاظت كرو۔ پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں، پھر وہ لوگ جو ان سے ملے ہوں۔ پھر جھوٹ پھیل جائے گا، حتی كہ آدمی سے گواہی نہیں مانگی جائے گی وہ گواہی دے گا اور قسم نہیں اٹھوائی جائے گی لیكن وہ قسم كھائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1116) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب كَرَاهِيَةِ الشَّهَادَةِ لِمَنْ لَمْ يَسْتَشْهِدْ رقم (2354)
3446
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَعَلَى عَدُوِّ اللهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ يَعُدُّ أَيَّامَهُ قَالَ: وَرَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ قَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ قَدْ قِيلَ (لِي) ﮋ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟﭠ ﮊ (التوبة: ٨٠) لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ: ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ: فَعُجِبَ لِي وَجُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَوَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ ﮋ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﮊ (التوبة: ٨٤) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ: فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، كہہ رہے تھے: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا تو اس كی نماز جنازہ پڑھنے كے لئے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بلایا گیا۔ آپ كھڑے ہوئے اور نماز پڑھانا چاہی تو میں گھوم كر آپ كے سامنے آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول! كیا اللہ كے دشمن عبداللہ بن ابی كی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ جس نے فلاں فلاں یہ دن یہ بات كہی تھی، اور دن شمار كرنے لاا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مسكراتے رہے،حتی كہ جب میں نے زیادہ كہنا شروع كر دیا تو آپ نے فرمایا: عمر! ہٹ جا ؤ، مجھے اختیار دیا گیا ہے، میں نے اس بات كو اختیار كیا ہے۔ مجھے كہا گیا ہے: ﮋ ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟﭠ ﮊ ( التوبہ: 80) ( آپ ان كے لئے بخشش طلب كریں یا نہ كریں، اگر ان كے لئے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب كریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا)۔ اگر مجھے معلوم ہوتا كہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ مغفرت مانگوں اور اسے بخش دیا جائے تو میں ایسا كرتا۔ پھر آپ نے اس كی نماز پڑھی اور اس كے جنازے كے ساتھ گئے۔ اس کی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ دفن سے فارغ ہوگئے۔ (بعد میں) مجھے رسول اللہ پر جرأت اور اصرار پر بڑا تعجب ہوا حالانکہ اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں، واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا كہ یہ دو آیتیں نازل ہوئیںﮋ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﮊ ( التوبہ84)( ان میں سے جو مرجائے اس كی نماز جنازہ كبھی بھی نہ پڑھو، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہو، كیوں كہ انہوں نے اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ كفر كیا ہے۔ اور فسق كی حالت میں مرے ہیں۔) اس كے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كسی منافق كی نماز نہیں پڑھی، نہ اس كی قبر پر كھڑے ہوئے حتی كہ اللہ تعالیٰ نے آپ كی روح قبض كر لی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1131) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ رقم (3022
3447
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
« إِنِّي أُرِيتُ فِي مَنَامِي كَأَنَّ بَنِي الحَكَم بْن أَبِي العَاص يَنزون عَلى مِنْبَري كَماَ تَنزو القِرْدَة » . ورد من ھدیث ابی ھریرة و ثوبان و مرسل سعید بن المسیب و لفظ حدیث ابی ھریرة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال... فذکرہ قَالَ: فَمَا رَئِي النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْتَجْمِعاً ضَاحِكاً حَتَّى توُفِيَّ
میں نے خواب میں دیکھا کہ حکم بن ابی العاص کی اولاد میرے اس منبر پر اس طرح چڑھ گئی ہے جس طرح بندر چڑھتے ہیں کہتے ہیں کہ اس کے بعد فوت ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھل کرہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ یہ حدیث سیدنا ابوھریرۃ اور ثوبان رضی اللہ عنہما اور سعید بن مسیب سے مرسلا روایت کی گئی ہے۔ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ بھی ذکر کئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3940) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (8618) ، دلائل النبوة للبيهقي رقم (2872) .
3448
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ! ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ:إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً . ( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہا گیا کہ: اے اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف بددعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لعنت دینے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3945) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، بَاب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا ، رقم (4704
3449
Sahih