TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خوبیوں اور خامیوں کا بیان - خوبیوں اور خامیوں کا بیان - Book 26 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 26 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أخطط، ثم قَالَ: تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار خط کھینچے، پھر فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتےہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کی افضل عورتیں، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ،مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، فرعون کی بیوی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1508) مسند أحمد رقم (2751) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (18535) .
3470
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عُمَر قَالَ : « تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَإِنَّ نَمْرَة مِّنْ صوف تَنْسِجُ لَه »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو اون کا ایک؟؟؟، آپ کے کے لئے بنا جا رہا تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2687) شعب الإيمان للبيهقي رقم (5894) .
3471
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ البَرَاء بْن عَازِب ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَي فَقِيْلَ: يَا رَسُولَ الله! إِنَّ أَبَا سُفْيَان بْن الحَارِث بْن عَبْدِ المُطَّلِبْ يَهْجُوكَ فَقَامَ ابْنُ رَوَاحَة ، فَقَال : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْهِ ، فَقاَلَ : « أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ ثَبَّتَ اللهُ ؟ » قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ : فَثَبَّتَ اللهُ مَا أَعْطَاكَ مِنْ حُسْنِ تَثْبِيْت مُوسَى وَنَصَرا مِثْل مَا نَصَرُوا قَالَ : « وَأَنْتَ يَفْعَل اللهُ بِكَ خَيْرًا مِّثْل ذَلِك » قَالَ : ثُمَّ وَثَبَ كَعْب فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْه قَالَ : « أَنْتَ الَّذِي تَقُول هَمَّتْ » . قَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ يَا رَسُولَ الله : هَمَّتْ سَخِيْنَة أَنْ تُغَالِبَ رَبَّهَا فَلَيَغْلِبَنَّ مَغَالِبَ الغلَاب قَالَ : « أَمَا إِنَّ اللهَ لَمْ يَنْسَ لَكَ ذَلِكَ » قَالَ : ثُمَّ قَامَ حَسَّان ، فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي فِيْهِ وَأَخْرَج لِسَاناً لَه أَسْوَد فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ! إِيْذَنْ لِي إِنْ شِئْتَ أَفَريتُ بِهِ المزاد فَقَالَ : « اذْهَبْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ لِّيُحَدِّثَك حَدِيْث القَوْمِ وَأَيَّامَهُمْ وَأَحْسَابَهُمْ ، ثُمَّ اهْجهُمْ وَجِبْرِيْلُ مَعَكَ »
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان بن حارث آپ کی ہجو کر رہا ہے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس بارے میں کچھ کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہی ہو جو کہتے ہو: اللہ تعالیٰ ثابت رکھے۔۔۔؟ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نےکہا : اے اللہ کے رسول اللہ تعالیٰ آپ کوثابت قدم رکھے اللہ نے آپ کو جو موسی کی طرح ثابت قدمی دی ہے اور جس طرح موسی کی مددکی آپ کی بھی مددکرے۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارا یہ کام نہیں بھولے گا۔ ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : ہی تو ہو جوکہتے ہو جنگ نے ارادہ کیا :حسان رضی اللہ عنہ نے کہا :جی ہاں، میں نے کہا:اے اللہ کے رسول جنگ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنے مالک پر غالب آجائے ۔لیکن اس کا مالک جنگ کے ہر میدان اور ماقع پر اس جنگ پر غالب آئے گا۔ پھر حسان‌رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ اس بارے میں کچھ کہہ سکوں، اور اس (ابو سفیان بن حارث) کے بارے میں سیاہ زبان نکالوں۔ اے اللہ کے رسول! اگر آپ چاہیں تو مجھے اجازت دیں کہ اس کے بارے میں بہت کچھ کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کے پا سجاؤ تاکہ وہ تمہیں اس قوم کے نسب کے بارے میں، ایام کے بارے میں اور ان کے اپنے بارے میں بتائے۔ پھر ان کی ہجو کرو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ ترجمہ ناقص ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1970) المستدرك على الصيحين للحاكم رقم (6106) .
3472
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَالَسْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَكْثَرَ مِنْ مِّائَةِ مَرَّةٍ فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ . ( )
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سو مرتبہ سے زائد بیٹھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اشعار کہا کرتے تھے۔ اور جاہلیت کی کچھ چیزوں کا تذکرہ کرتے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش بیٹھے رہتے، کبھی کبھی مسکرا دیتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (434) ، سنن الترمذي،كِتَاب الْأَدَبِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ رقم (2777)، مسند أحمد رقم (201023) .
3473
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ جَابِر بْن عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : أَمَرَ أَبِي بِخَزِيْرَة فَصَنَعْتُ ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : فَأَتَيْتُه وَهُوَ فِي مَنْزِلِه قَالَ : فَقَالَ لِي : « مَاذَا مَعَكَ يَا جاَبِر ، أَلَحْمٌ ذَا ؟ » قَالَ: قُلْتُ : لَا، قَالَ : فَأَتَيْتُ أَبِي ، فَقَالَ لِي : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلَّا سَمِعْتُه يَقُول شَيْئاً؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ ليِ : « مَاذاَ مَعَك يَا جَابِر ، أَلَحْمٌ ذَا ؟ » قَالَ : لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يَّكُونَ اشْتَهى ، فَأَمَرَ بِشَاةِ لَّنَا دَاجِنٌ فُذُبِحَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِّيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي : مَاذَا مَعَكَ يَا جَابِر؟ فَأَخْبَرْتُه ، فَقَالَ : «جَزَى اللهُ الأَنْصَار عَنَّا خَيْرًا ، وَلاَ سِيْمَا عَبْد الله بْن عَمْرو بْن حَرَام ، وَسَعَد بْن عُبَادة »
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھے کھچڑی بنانے کا حکم دیا، پھر مجھے حکم دیا تو میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، میں آپ کے پاس آیا تو آپ اپنے گھر میں تھے ۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے کہا: جا بر تمہارے پاس کیاہے؟ کیا گوشت ہے؟ میں نے کہا: نہیں، پھر میں اپنے والد کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سےکہا:کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ کیا تم نے ان سے کوئی بات سنی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: جابر تمہارے پاس کیا ہے؟ کیا یہ گوشت ہے؟ میرے والد نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت کھانے کی خواہش رکھتے ہوں۔ انہوں نے گھر کی پالتو بکری کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ اسے ذبح کیا گیا اور بھوننے کا حکم دیا تو وہ بھونی گئی، مجھے حکم دیا تو میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر تمہارے پاس کیا ہے؟ میں نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو بہترین بدلہ دے، خاص طور عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو
Takhreej
الصحيحة رقم (461) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (2026) .
3474
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حِجْرِهِ وَقَالَ الحَسَنُ مِنِّي وَالْحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا .
خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مقدام بن معدیکرب اور عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما فوت ہو چکے ہیں؟ مقدام رضی اللہ عنہ نے اناللہ پڑھی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم اسے مصیبت سمجھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا: حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (811) ، مسند أحمد رقم (16559) .
3475
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ورد من حدیث .......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین نوجوانان اہل جنت کے سردار ہیں۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (796) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، رقم (3701)
3476
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
الصحيحة رقم (796) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رضی اللہ عنہ ، رقم (3701)
یعلی بن مرہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسین مجھ سے ہےاور میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔حسین ایک بہترین نواسہ ہے ،(یا بہترین شخص ہے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1227) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، رقم (3708) .
3477
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ شَهَابٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِّنْ بَنِي الْحَارِثِ
ابن شہاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضر موت بنو حارث سے بہتر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3051) ، مسند أحمد رقم (18631) .
3478
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَّأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَّمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَّسَالِمٍ مَّوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار لوگوں سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود سے، ابی بن کعب سے، معاذبن جبل سے، اور سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہا سے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1827) ، صحيح البخاري ،كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ، بَاب الْقُرَّاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، رقم (4615) .
3479
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
) عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہم بْنِ مَوَلَةَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَّسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اَللهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ ، قَالَ: وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ . قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَّظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يُسْأَلُونَهَا. قَالَ: وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ
ابو نضرہ، عبداللہ بن مولہ سے بیان کرتے ہیں کہ: میں اہواز میں سے گزر رہا تھا، اچانک میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک آدمی خچر پر سوار چل رہا ہے اور کہہ رہا ہے : اے اللہ! اس امت میں سے میرا زمانہ چلا گیا(میرا وقت ختم ہوگیا )، مجھے بھی ان کے ساتھ ملا دے، میں نے کہا: مجھے بھی اپنی دعا میں شامل کر لو، اس نے کہا: اور میرے اس ساتھی کو بھی اگریہ چاہے تو ،پھر کہنے لگا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ میرے زمانے والے ہیں پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا ظاہر ہوگا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔ابو نضرہ نے کہا :میں نے دیکھا تو وہ ابو بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1841) ، مسند أحمد رقم (12882) .
3480
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعاً: خَيْرُ أٌمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ (ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ) وَاللهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جن میں مجھے بھیجا گیا ہے، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں(پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔)واللہ اعلم ،آپ نے تیسری صدی کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جو موٹا پے کو پسند کریں گے ،گواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1839) ، صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ... ، برقم (4602) .
3481
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عِمْرَان بْنِ حُصَيْنٍ مرفوعا: خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَّشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَفْشُو فِيهِمْ السِّمَنُ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میری بہترین امت وہ لوگ ہیں جس زمانے میں مجھے بھیجا گیا ہے ۔ پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ واللہ اعلم آپ نے تیسری صدی کا ذکر کیا یا نہیں۔پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی، نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، خیانت کریں گے ،امانت دار نہیں ہوں گے۔ اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1840) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب السُّنَّةِ ، بَاب فِي فَضْلِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، برقم (4038) ولفظ له ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ، بَاب إِثْمِ مَنْ لَا يَفِي بِالنَّذْرِ ، برقم (6201) .
3482
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوعاً: خَيْرُ أَهْل المَشْرِقْ عَبْدُ القَيْس؛ أَسْلَم النَّاسُ كَرْهًا وَّأَسْلَمُوا طَائِعِيْن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : اہل مشرق میں بہترین لوگ عبدالقیس ہیں، لوگ مجبوری میں مسلمان ہوئے اور وہ خوشی سے برضا و رغبت مسلمان ہوئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1843) ، الآحاد والمثاني لإبن أبي عاصم رقم (1437) ، صحيح ابن حبان رقم (7418) .
3483
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أُسَيْرِ بْنَ جَابِرٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ لأويس القرني: استغفر لي . قال: أنت أحق أن تستغفر لي ، إنك من أصحاب رسول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فقال: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ مِّنْ قَرْن يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ
اسیر بن جابر سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اویس قرنی سے کہا: میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے۔ اویس قرنی نے کہا: آپ کا زیادہ حق ہے کہ میرے لئے بخشش طلب کریں، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ عمر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بہترین تابعی قرن قبیلے کا اویس نامی آدمی ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (812) ، صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ  ، رقم (4612) .
3484
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَمَر بْن الخَطَّاب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ النَّاس قَرْنِيَ الَّذِي أَنَا مِنْهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ [ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ] ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَام يَّفْشُو فِيْهِمُ السِّمَن يَشْهَدُوْنَ وَلَا يُسْتَشْهَدُوْن وَلَهُمْ لَغْطٌ فِي أَسْوَاقِهِمْ.
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے والے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں(پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں)۔ پھر ایسے لوگ پیدا ہونگے جن میں موٹاپا غالب ہوگا، گواہی دیں گے حالانکہ گواہی مانگی نہیں جائے گی اور بازاروں میں شور شرابہ کریں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3431) ،
3485
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مَرْفُوعاً: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَّتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ ينطقون الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا
عمران بن حینل‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے ہوں گے، موٹاپے کو پسند کریں گے، گواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (699) ، مسند أحمد رقم (18979) .
3486
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قوم تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں، پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہیں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے سبقت لے جائے گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1843) ، الآحاد والمثاني لإبن أبي عاصم رقم (1437) ، صحيح ابن حبان رقم (7418) .
3487
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: بہترین عورتیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، اپنے بچے پر بچپن میں نرم اور اپنے شوہر کے مال و منال کا خیال رکھنے والی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1052) ، صحيح البخاري ،كِتَاب النِّكَاحِ ، بَاب إِلَى مَنْ يَنْكِحُ ... ، رقم (4692) .
3488
Sahih
خوبیوں اور خامیوں کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعاً: « خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي مِنْ بَعْدِي »
ابو ہریر ہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے گھر والوں کے لئے بہترین ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1845) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (5364) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5791) .
3489
Sahih