عامر شعبی سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کے تین آدمیوں کو تشبیہ دی ،دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو جبرائیل سے مشابہت دی، عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کو عیسی بن مریم سے تشبیہ دی اور عبدالعزی کو دجال سے تشبیہ دی۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نوجوان لڑکی نے میرااستقبال کیا۔ میں نے کہا: تم کس کے لئے ہو؟ اس نے کہا: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1859) ، الآحاد والمثاني لإبن أبي نعيم رقم (243) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے قراءت کی آواز سنی۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ فرشتے کہنے لگے: حارثہ بن نعمان، اسی طرح نیک شخص ہوتا ہے ،اسی طرح نیک شخص ہوتا ہے ۔حارثہرضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے بہت اچھا سلوک کرنے والے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (913) ، الآحاد والمثاني لإبن أبي نعيم رقم (1730) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاتم کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا آدمی تھا جب کسی کام کا ارادہ کرتا تو اسے پالیتا تھا۔
عَنْ مُجَاشِع بن مسعود قَالَ: أَتَيْتُ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِأَخِي مجالد بَعْدَ الْفَتْحِ فقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُكَ بِأَخِي مجالد لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فقَالَ: ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا . فَقُلْتُ: فعَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ يا رسول الله؟ قَالَ: أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَاد
مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی مجالد کو لایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس اپنے بھائی مجالد کو لایا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل ہجرت، ہجرت کا اجر لے گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس بات پر آپ اس سے بیعت لیں گے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے اسلام، ایمان اور جہاد پر بیعت لوں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (662) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْمَغَازِي ، بَاب وَقَالَ اللَّيْثُ ... ، رقم (3966) .
عَنْ عَمْرو بْن حُرَيث قَالَ : « ذَهَبْتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم (وَأَناَ غُلَام) فَمَسَح عَلَى رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالرِّزْق» ، (وَفِي رِوَايَة: بِالْبَرْكَة)
عمرو بن حریثرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی( میں بچہ ہی تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے رزق کی دعا کی۔(اور ایک روایت میں ہے: برکت کی دعا کی)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2943) ، الآحاد والمثاني لإبن أبي عاصم رقم (666) .
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِي قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : رَأَتْ أُمِّي كأَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری والدہ نے دیکھا ،گویا ان سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے ہیں۔
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : رَأَيْتُ جَعْفَرَ بن أَبِي طَالِبٍ ، مَلَكًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ ، مع الملائكة ِبجَنَاحَيْنِ .رویمن حدیث.......
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو جنت میں فرشتے کی صورت میں اڑتے ہوئے دیکھا، فرشتوں کے ساتھ دو پروں کےذریعے۔ یہ حدیث ......... سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1226) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (1449) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (6333) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بہت زیادہ کالی بکریاں دیکھیں، جن میں بہت زیادہ سفید بکریاں داخل ہوگئی ہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجمی لوگ تمہارے دین اور نسب میں شامل ہو جائیں گے۔ صحابہ نے تعجب سے کہا: اے اللہ کے رسول! عجمی لوگ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایمان ثریا کے ساتھ معلق ہوتا توبھی عجم کے کئی لوگ اسے حاصل کر لیتے اور کتنے خوش نصیب لوگ ہوتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1018) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (8309)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے(خواب میں) اپنے آپ کو دیکھا، گویا کہ میں ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں۔ اور ذبح کی ہوئی ایک گائے دیکھی، میں نے تعبیر کی کہ مضبوط زرہ مدینہ ہے اور گائے، واللہ! خیر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: اگر ہم مدینے میں ٹھہرے رہیں اوراگر وہ یہاں داخل ہو جائیں تو ہم ان سےقتال کریں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! واللہ! وہ زمانہ جاہلیت میں ہمارے خلاف مدینے میں داخل نہ ہو سکے تو اب اسلام میں وہ ہمارے خلاف مدینے میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں؟ عفان نے اپنی حدیث میں کہا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب جو تمہاری مرضی، اور اپنی زرہ پہن لی، انصار نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے رد کر دی، وہ آئے اور کہنے لگے: اے للہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! جو آپ کی مرضی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب وہ اپنی زرہ پہن لے تو قتال کرنے سے پہلے اسے اتار دے
Takhreej
الصحيحة رقم (1100) ، مسند أحمد رقم (14260) ، سنن الدارمي رقم (2214) .
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): میں نےدیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں رمیصاء ابو طلحہ کی بیوی کے پاس سے گزرا، اور میں نے اپنے سامنے چلنے کی آواز سنی تو میں نے کہا: جبرائیل یہ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا: یہ بلال ہے، اور میں نے ایک سفید محل دیکھا اس کے صحن میں ایک لڑکی تھی ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کے لئے ہے؟ جبرائیل نے کہا: عمر بن خطاب کے لئے۔میں نے اس میں داخل ہو کر اسے دیکھنے کا ارادہ کیا تو مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی۔ عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ؟
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت کے لئے اس پر راضی ہوا جس پر ام عبد(عبد اللہ بن مسعود)کا بیٹا راضی ہوا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1225) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (5394)
عروہ سے مروی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زینب میری بہترین اور ایک روایت میں ہے :افضل بیٹی ہے، میری وجہ سے اسے تکلیف پہنچی ۔ یہ بات علی بن حسین تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یہ کونسی حدیث ہے جو مجھ تک پہنچی ہے،جس میں تم فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تنقیص کر رہے ہو؟ عروہ نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے فلاں فلاں چیز ہو اور میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے حق میں کمی کروں ۔رہی یہ بات تو اس کے بعد مجھ پر تمہارے لئے لازم ہے کہ میں یہ حدیث کبھی بھی بیان نہیں کروں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3071) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (4883) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: میں نے اللہ عزوجل سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے لئے ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: اے اللہ ! مجھے مزید عطا کر، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمہارے لئے اتنے ہیں اور اپنے دائیں بائیں اور سامنے ڈھیر لگادئے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا، (بعد میں) چاہا کہ یہ سوال میں نے نہ کیا ہوتا۔ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے پہلے رسول تھے، ان میں سے کسی کے لئے آپ نے ہوا کو مسخر کر دیا، کوئی ایساتھا جو مردوں کو زندہ کرتا تھا( اور آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم یتیم نہیں تھے میں نے تمہیں پناہ دی؟ کیا تم انجان نہیں تھے میں نے تمہیں ہدایت دی، (راستہ دکھایا) کیا تم محتاج نہیں تھے میں نے تمہیں غنی کر دیا؟ کیا میں نے تمہارا سینہ کشادہ نہیں کیا؟ اور تم سے تمہارا بوجھ نہیں ہٹایا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے میرے رب! (تب میں نے خواہش کی کہ کاش میں اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کرتا۔)
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ شخص بھی ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہوا اس نے اسے (اچھائی کا) حکم دیا اور (برائی سے) منع کیا۔ تو اس حکمران نے اسے قتل کر دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (374) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (4872) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (4227)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ: مریم بنت عمران کے بعد اہل جنت کی سردار عورتیں فاطمہ ، خدیجہ اور آسیہ رضی اللہ عنہن زوجہ فرعون ہیں۔
Takhreej
لصحيحة رقم (1424) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (12013) .
عبدالرحمن بن عوفرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مطیبین (حلف الفضول) کے حلف نامے میں موجود تھا۔ اس وقت میں بچہ ہی تھا، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے لئے سرخ اونٹ ہوں اور میں اس (قسم نامہ) کو توڑ دوں۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نخع) کے اس قبیلے کے لئے دعا کر رہے تھے یا ان کی تعریف کر رہے تھے حتی کہ مجھے بھی خواہش ہوئی کہ میں ان کا ایک فرد ہوتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3435) ، مسند أحمد رقم (3634) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10063) .