TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عن عبد الله قال : سُئِل النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم عن لَيْلَة الْقَدر، فَقَال : قَد كَنت أُعْلِمْتُهَا ثم اُفْلِتَتْ مِنِّي، فَاطْلُبُوهَا في سَبع يَّبْقَيْن ، أَو ثَلَاث يَّبْقَيْن
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر كے بارے میں سوال كیا گیا، تو آپ نے فرمایا: مجھے وہ رات بتلائی گئی ،پھر مجھے بھلادی گئی۔ اس لئے سات باقی رہ جائیں یا تین باقی رہ جائیں (یعنی تیسویں یا ستائیسویں) میں تلاش کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1112) مسند البزار رقم (1546) .
715
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَائَشَة مرفوعاً: لَأَن تُصَلِّي الْمَرْأَة في بَيْتَهَا خَيْر من أَن تُصَلِّي في حُجْرَتِهَا ، وَلَأَن تُصَلِّي في حُجْرَتِهَا خَيْر من أَن تُصَلِّي في الدَّار ، وَأَن تُصَلِّي في الدَّار خَيْر من أَن تُصَلِّي في الْمَسْجِد .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ :عورت اپنے گھر (کے اندرونی کمرے) میں نماز پڑھے تو یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ اپنے حجرے میں نماز پڑھے، اور وہ حجرے میں نماز پڑھے تو یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ کھلے گھر میں نماز پڑھے، اور وہ گھر میں نماز پڑھے تو اس کیلئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ مسجد میں نماز پڑھے
Takhreej
الصحيحة رقم (2142) السنن الكبرى للبيهقي .
716
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى(في الصلاة) خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَق فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(نماز میں) تم میں سے كوئی شخص اپنا ہاتھ كنكری سے روك كر ركھے تو یہ اس كے لئے سو اونٹنیوں سے بہتر ہےجوکہ سب كی سب سیاہ آنکھوں والی ہوں ، اگر تم میں سے كسی شخص پر شیطان غالب آجائے، تو وہ ایك مرتبہ چھو کر (ہموار کرلے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3062) مسند أحمد رقم (13990) .
717
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عائشة قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مُرُوطِنَا، وَ نَنْصَرِفُ وَمَا يَعْرِفُ بَعْضُنَا وُجُوهَ بَعْضٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ چادروں میں لپٹی ہوئی نماز پڑھتیں اور جب واپس لوٹتیں تو ایک دوسری کے چہروں کو پہچانتی نہیں تھیں۔ پھرہم نماز پڑھ كر واپس جاتیں تو ہمارے چہرے نہ پہچانے جاتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (332).
718
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن ابن عمر مرفوعاً: لِيُصَلِّ الرَّجُلُ في الْمَسْجِد الذي يَلِيه وَلَا يَتْبَعُ الْمَسَاجِد .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ آدمی اس مسجد میں نماز پڑھے جو اس كے قریب ہے دوسری مسجدیں ڈھونڈتا نہ پھرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2200) فوائد تمام رقم (1315) .
719
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ الْحَكَمِ بْن مِينَاءَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ .
حكم بن میناء سے مروی ہے كہ عبداللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم نے اسے بیان كیا كہ ان دونوں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے منبر پر كھڑے فرما رہے تھے: لوگ یا تو جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان كے دلوں پر مہر لگادے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2967) صحيح مسلم كِتَاب الْجُمُعَةِ بَاب التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ رقم (1432) .
720
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن جابر موقوفاً: مَا أُحِبُّ أَنْ أُسَلِّمَ عَلَى الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي وَلَوْ سَلَّمَ عَلَيَّ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے كہ مجھے یہ بات پسند نہیں كہ كوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو اور میں اسے سلام كہوں۔ اور اگر كوئی مجھے سلام كہے گا تو میں اسے جواب دوں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2212).
721
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أنس قال : سُئِلََ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الغَدَاةِ ؟ فَصَلَّى حِيْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بَعْدُ ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح كی نماز كے وقت كے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے ایک دن طلوع فجر کے (فوراً) بعد نماز پڑھی ۔ پھر (دوسرے دن) كچھ روشنی میں نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: صبح كی نماز كے وقت كے بارے میں پوچھنے والا كہاں ہے؟ ان دونوں اوقات كے درمیان وقت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1115).
722
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرٍ فَقَالَ إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَاحِلَتُهُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ فَدَعَمْتُهُ فَأَدْعَمَ ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَدَعَمْتُهُ فَانْتَبَهَ فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: أَبُو قَتَادَةَ قَالَ: مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ؟ قُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ: حَفِظَكَ الله كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ ثُمَّ قَالَ: لَوْ عَرَّسْنَا؟ فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ فَنَزَلَ فَقَالَ: انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟ قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ هَذَانِ رَاكِبَانِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً فَقُلنا: احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَنِمْنَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَبَهْنَا فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَسَارَ وَسِرْنَا هُنَيْهَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: ائْتِ بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ: مَسُّوا مِنْهَا مَسُّوا مِنْهَا فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ فَقَالَ: ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا تَقُولُونَ: إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا فَقَالَ: لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَهَا ثُمَّ قَالَ: ظُنُّوا بِالْقَوْمِ قَالُوا: إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا تَعْطَشُوا فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ فَقَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ: بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَا: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا قَالَهَا ثَلَاثًا فَلَمَّا اشْتَدَّتْ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ: لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ! ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ: احْلِلْ لِي غُمَرِي يَعْنِي قَدْحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسُ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ يُصْدِرُ عَنْ رِيٍّ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَصَبَّ لِي فَقَالَ: اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ.
ابو قتادہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا: ممكن ہے كل تمہیں پانی نہ ملے اور تم پا۔س سے بے حال ہو جاؤ۔ جلد باز لوگ جلدی سے پانی کی تلاش میں نكل گئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ساتھ رہا۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سواری پر ایک طرف جھکنے لگے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو اونگھ آگئی تھی۔ میں نے آپ کو سہارا دیا تو آپ سنبھل گئے، آپ پھر جھکنے لگنے، پھر آپ کو سہارا دیا تو آپ سنبھل گئے پھر آپ جھکنے لگے حتی کہ ممکن تھا کہ آپ اپنی اونٹنی سے گرجائیں ، میں نےآپ کو سہارا دیا تو آپ جاگ گئے۔ آپ نے کہا کون ہے ؟میں نے كہا: ابو قتادہ۔آپ نے فرمایا: تمہیں كتنا وقت ہوا ہے ؟ میں نے كہا رات سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: جس طرح تم نے اللہ كے رسول كی حفاظت كی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت كرے۔ پھر فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں تو بہتر ہوگا۔ آپ ایك درخت كی طرف چل پڑے، اور وہاں جا كر اتر گئے۔ آپ نے فرمایا: دیكھو كیا تمہیں كوئی نظر آرہا ہے؟ میں نے كہا: یہ ایك سوار ہے، یہ دو ہیں، حتیٰ كہ سات تك عدد پہنچ گیا۔ ہم نے كہا: نماز فجر کا خیال کرنا پھر ہم سو گئے اور سورج كی تپش نے ہی ہمیں جگایا۔ ہم اٹھ كھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو كر چل پڑے ہم بھی آپ كے ساتھ، تھوڑی دور چلے، پھر آپ سواری سے اتر گئے۔ آپ نے فرمایا: كیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے كہا: جی ہاں، میرے پاس وضو كا برتن ہے، اس میں كچھ پانی ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے لے آؤ، میں اسے لے آیا۔ آپ نے فرمایا: اس میں سے لے لو، اس میں سے لے لو، لوگوں نے وضو كیا اور ایك گھونٹ پانی باقی رہ گیا۔ آپ نے فرمایا: ابو قتادہ اسے سنبھال كر ركھ لو، عنقریب یہ ہمارے لئے بڑی خرل بنے گا۔ پھر بلال‌رضی اللہ عنہ نے اذن كہی۔ لوگوں نے فجر سے پہلے دو ركعتیں ادا كیں، پھر فجر كی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ ہم بھی سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ایك دوسرے سے كہا: ہم نے نماز میں كوتاہی كی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم كیا كہہ رہے ہو؟ اگر تمہاری دنیا كا معاملہ ہے تو تم جانو اور اگر تمہارے دین كا معاملہ ہے تو میرے سامنے پیش كرو۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم نے نماز میں كوتاہی كی ہے۔ آپ نے فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ، کوتاہی جاگتے ہوئے ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو نماز پڑھ لیا کرو، اور دوسرے دن اس كے وقت پر ادا كرو، پھر فرمایا: قوم کے بارے میں خیال کرو، لوگ كہنے لگے آپ نے كل كہا تھا كہ ممكن ہے تمہیں كل پانی نہ ملے اور تم پیاس سے بے حال ہو جاؤ تو لوگ پانی كی تلاش میں ہیں۔ راوی نے كہا جب صبح ہوئی تو لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو نہ پایا تو ایك دوسرے سے كہنے لگے۔: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی كے پاس ہیں۔ ان لوگوں میں ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، دونوں كہنے لگے: لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں كہ خود پانی پر پہنچ جائیں اور تمہیں پیچھے چھوڑ دیں۔ اگر لوگ ابو بكر اور عمر رضی اللہ عنہما كی پیروی كریں گے تو سیدھے راستے پر رہیں گے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، جب دوپہر سخت ہو گئی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌لوگوں کے سامنے آئے۔لوگ كہنے لگے: اے اللہ كے رسول ہم پیاس كی وجہ سے ہلاك ہو گئے۔ گلے خشک ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر كوئی ہلا كت نہیں، پھر فرمایا: ابو قتادہ وضو كا برتن لاؤ، میں برتن آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لایا آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: پیالہ کھولو۔ میں پیالہ کھول کر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس لے آیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس میں پانی ڈالنے لگے اور لوگ پینے لگے۔ لوگوں کی بھیڑ لگ گئی تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: منظم طریقے سے پیو یا بھرو، ہر کوئی سیراب ہو کر لوٹے گا۔ لوگ اس كے گرد جمع ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو اچھی طرح پانی بھر لوتم میں سے ہر شخص سیراب ہو کر نکلے گا،سب لوگوں نے پانی پی لیا، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی بچ گئے۔ آپ نے میرے لئے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ پیو، میں نے كہا : اے اللہ كے رسول آپ پیئں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں كو پانی پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ میں نے پانی پیا اور میرے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا۔ وضو والے برتن میں اتنا ہی پانی موجود تھا جتنا اس میں تھا۔ اس دن لوگوں كی تعداد تین سو تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2225) مسند أحمد رقم (21506) .
723
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(وهو يصلي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي مَا شَأْنِي؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَالَكَ؟) أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ؟ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ الَّذِي أَعْطَاكَ الله؟ قَالَ فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا زاد احمد: قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! الصَّلَاةَ فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءًا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا( آپ رات كے آخر ی وقت میں نماز پڑھ رہے تھے) میں آپ كے پیچھے نماز پڑھنے لگا۔ آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پكڑا ،اور مجھے اپنے برابر كھڑا كر لیا۔ جب آپ نماز میں مشغول ہو گئے تو میں كھسك کر پیچھے ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے كہا: تمہیں كیا ہوگیا، میں نے تمہیں اپنے برابر كھڑا كیا لیكن تم پیچھے ہو گئے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا كسی شخص كے لائق ہے كہ وہ آپ كے برابر نماز پڑھے؟ آپ اللہ كے رسول ہیں اللہ نے آپ كو نبوت عطا كی ہے؟ میری باتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے تو آپ نے اللہ سے میرے لئے دعا كی كہ: اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ كرے۔ امام احمد نے اپنی روایت میں اضافہ كیا: پھر میں نے رسول اللہ كو دیكھا كہ آپ سو گئے ہیں یہاں ک کہ میں نے آپ كے خراٹوں كی آواز سنی۔ پھر آپ كے پاس بلال‌رضی اللہ عنہ آئے اور كہا اے اللہ كے رسول نماز، آپ كھڑے ہوئے۔ نماز پڑھی اور دوبارہ وضو نہیں كیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (606) مسند أحمد رقم (2902) .
724
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن الزُّبَيْرِ مرفوعاً: مَا مِنْ صَلاةٍ مَفْرُوضَةٍ، إِلا وَبَيْنَ يَدَيْهَا رَكْعَتَانِ .
عبداللہ بن زبیر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو بھی فرض نماز ہے اس سے پہلے دو ركعت (نفعل) ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (232) المعجم الكبير للطبراني رقم (82) .
725
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عن النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوجَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئةُ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ -أُرَاهُ- فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ، وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا: جواللہ اور اس كے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم كی، رمضان كےروزے ركھے، اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے، اس نے اللہ كے راستے میں جہاد كیا، یا اپنے اسی علاقے میں بیٹھا رہا جہاں پیداہوا۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا ہم لوگوں كوخوشخبری نہ دے دیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا جنت میں سو درجے ہیں، جواللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ كے لئے تیار كئے ہیں۔ دودرجوں كا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین كے درمیان ہے۔ جب تم اللہ سے سوال كروتوجنت الفردوس كا سوال كرو، كیونكہ یہ جنت كا درمیانی اور بلند درجہ ہے۔ میرے خیال میں اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے، اور اسی سے جنت كی نہریں جاری ہوتی ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (921)، صحيح البخاري،كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ، بَاب دَرَجَاتِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ... ، رقم (2581) .
726
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَر مَرْفُوْعاً: مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِى كُلِّ مَرَّةٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِإِقَامَتِهِ ثَلاَثُونَ حَسَنَةً .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس نے بارہ سال اذان كہی اس كے لئے جنت واجب ہوگئی، اور ہر مرتبہ اس كی اذان كی وجہ سے ساٹھ نیكیاں لكھی جاتی ہیں۔ اور اس كی اقامت كی وجہ سے تیس نیكیاں لكھی جاتی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (42)، سنن الدارقطني رقم (942) .
727
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عبد الله بن أبي قَتَادَة قال: دَخَلَ َعَليَّ أَبِي وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوِمَ الْجُمُعَة، فَقَال: غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ أَولِلْجُمُعَة ؟ قُلْتُ: مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: أَعِدْ غُسْلًا آخَرَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: مَنِ اغْتَسَلَ يَومَ الْجُمُعَة كَانَ فِي طَهَارَةٍ إلى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى.
عبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ جمعہ كے دن میں غسل كر رہا تھا كہ میرے والد آگئے اور كہنے لگے تمہارا یہ غسل جنابت كی وجہ سے ہے یا جمعہ كے لئے ہے؟ میں نے كہا: جنابت كی وجہ سے۔ انہوں نے كہا: دوسرا غسل كروكیونكہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے جمعہ كے دن غسل كیا وہ دوسرے جمعہ تك طہارت میں ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (2331)، المعجم الأوسط للطبراني رقم (8414) .
728
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الصنابحي: أَنَّ جُنَادَةَ بن أبي أمية أَمَّ قَوْمًا، فَلَمَّا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ فَإِنَّ صَلاتَهُ لا تُجَاوِزُ تَرْقُوْتَهُ .
ابوعبداللہ صنابحی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ جنادہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے كچھ لوگوں كی امامت كروائی،جب وہ نماز كے لئے کھڑے ہوئے تودائیں طرف دیكھا اور كہا: كیا تم راضی ہو؟ لوگوں نے كہا: جی ہاں، پھر اپنے بائیں جانب ایسا ہی كیا پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے، جس نے كسی قوم كی امامت كروائی اور وہ لوگ اسے ناپسند كرتے تھے تواس كی نماز گردن سے اوپر نہیں جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2325)، المعجم الكبير للطبراني رقم (2134) .
729
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ بنى لِلهِ مَسْجِدًا بنى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَوْسَعَ مِنْهُ .
ابوامامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے الله کیلئے كوئی مسجد بنائی، تواللہ تعالیٰ اس كے لئے جنت میں اس مسجد سےوسیع گھر بنائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3445)، المعجم الكبير للطبراني رقم (7809)
730
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَائشَة، عن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: من بَنَى مَسْجِدًا، لَا يُرِيد بِه رِيَاءً، وَلَا سُمْعَةً، بَنَى الله لَه بَيْتًا في الْجَنَّة.
عائشہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے كوئی مسجد بنائی،نہ ریاكاری كا ارادہ ركھتا تھا نہ شہرت كا، اللہ تعالیٰ اس كے لئے جنت میں ایك گھر بنائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3399)،المعجم الأوسط للطبراني رقم (7204)
731
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللہِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا جس شخص نے نشے كی وجہ سے ایك نماز چھوڑدی تو وہ ایسے ہے گویا کہ دنیا اور اس کا تمام سامان س کا تھا ارو یہ اس سے چھن گیا ہے، اور جس شخص نے نشے كی وجہ سے چار مرتبہ نماز چھوڑ ی تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے طینۃ الخبال پلائے۔ پوچھا گیا یہ طینۃ الخبال كیا چیز ہے ؟ اے اللہ كے رسول؟ آپ نے فرمایا: اہل جہنم كا پیپ
Takhreej
الصحيحة رقم (3419)، مسند أحمد رقم (6972) .
732
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن يوسف بن عَبْدِ اللہ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاء فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ؟ أَومَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: لَا إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ فَقَالَ أَبُوالدَّرْدَاءِ: بِئسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوأَرْبَعًا شَكَّ سَهْلٌ يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخُشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ.
یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں ابودرداء رضی اللہ عنہ كے پاس ان كے مرض الموت میں آیا توانہوں نے كہا: اے بھتیجے تمہیں اس شہر میں كونسا سبب لے كر آیا ہے؟ میں نے كہا: كوئی نہیں صرف آپ كے اور میرے والد كے تعلق نے مجھے آنے پر مجبور كیا۔ ابودردراء‌رضی اللہ عنہ نے كہا: یہ وقت جھوٹ بولنے کے لحاظ سے بہت برا ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے اچھی طرح وضوكیا،پھر كھڑے ہوكر دوركعت نماز پڑھی، یا چار ركعتیں ۔ سہل كوشك ہوا۔ اس میں (قرآن پاك كی تلاوت) ذكر اور اچھے نمونے سے خشوع وخضوع كیا۔ پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب كی تواسے بخش دیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3398)، مسند أحمد رقم (26266) .
733
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ حَافَظَ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ لَم يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِين، وَمَنْ قَرَأَ في لَيْلَةٍ مِئَةُ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِين.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے فرمایا: جس شخص نے ان فرض نمازوں كی حفاظت كی وہ غافلوں میں نہیں لكھا جائے گا۔ اور جس شخص نے ایك رات میں سوآیات تلاوت کیں وہ فرماں برداروں والوں میں لكھ دیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (657)، مستدرك الحاكم رقم (1108) .
734
Sahih

Chapters

1