TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَائشَة قَالَت: كَان رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُهْرِ، ورَكْعَتَيْن قَبْلَ الْفَجْرلا يَدَعُهُمَا، قَالَت: وكَان يقول: نِعْمَتِ السُّورَتَان يُقْرَأ بِهِمَا في رَكْعَتَيْن قَبْلَ الْفَجْر ( قُل هَوالله أَحَدْ ) و( قُل يَا أَيَّهَا الْكَافِرُون ).
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ظہر سے پہلے چار ركعت پڑھتے، اور فجر سے پہلے دوركعت پڑھتے، یہ دوركعت چھوڑا نہیں كرتے تھے۔ اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا كرتے تھے: اچھی سورتیں جوفجر سے پہلے کی دوركعتوں میں پڑھی جاتی ہیں قل ھواللہ احداور قل یا ایھا الكافرون ہیں
Takhreej
حيحة رقم (646) ، صحيح ابن خزيمة ( 1 / 121 / 2 ) .
755
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن مَكْحُولٍ مرفوعا: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَن يُبَال بِأَبْوَابِ الْمَسَاجِد.
مكحول سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مساجد كے دروازوں پر پیشاب كرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2723) ، تاريخ المدينة لأبن أبي شيبة ( 1 / 36 ) .
756
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن مُخَوَّلِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى الْحَسَنَ وَهُويُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ فَأَطْلَقَهُ أَونَهَى عَنْهُ وَقَالَ نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوعَاقِصٌ شَعَرَهُ.
مخول بن راشد سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے ابوسعد(مدینے کے ایك شخص) سے سنا كہہ رہا تھاكہ میں نے ابورافع‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كےآزاد کردہ غلام كودیكھا، انہوں نے حسن‌رضی اللہ عنہ كودیكھا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اور اپنے بال باندھے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہ بال كھول دیئے یا اس سے منع كیا اور كہا كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے منع كیا ہے كہ آدمی اپنے بال باندھ كر نماز پڑھے
Takhreej
الصحيحة رقم (2386) ، سنن ابن ماجه،كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا،بَاب كَفِّ الشَّعَرِ وَالثَّوْبِ فِي الصَّلَاةِ،رقم (1032) .
757
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنَسٍ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے نماز میں اقعاء اور تورکاً بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1670) ، مسند أحمد رقم (12956) .
758
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَلِيٍّ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس صورت میں كہ سورج بلند ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (200) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الصَّلَاةِ، بَاب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا... ، برقم (1082) .
759
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أٌخْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ. يَعْنِي: فِي الْعِيْدَيْن.
عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر بالغ لڑكی كا نكلنا واجب ہےیعنی نمازِ عیدین میں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2408) ، مسند أحمد رقم (25772) .
760
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أٌخْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: وَجَبَ الْخُرُوجُ عَلَى كُلِّ ذَاتِ نِطَاقٍ. يَعْنِي: فِي الْعِيْدَيْن
عبداللہ بن رواحہ انصاریکی بہن سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہر بالغ لڑكی كا نكلنا واجب ہےیعنی نمازِ عیدین میں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2408) ، مسند أحمد رقم (25772) .
761
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن نَعِيم بن النَّحَّام من بَنِي عَدِيٍ بن كَعب قال: نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وأَنا في مِرْطِ امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: لَيْتَ الْمُنَادِي يُنَادِي وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ.
بنی عدی بن کعب قبیلے سے تعلق رکھنے والے نعیم بن نحام سےمروی ہے كہتے ہیں كہ ایك ٹھنڈےدن کی صبح اذان دی گئی میں اپنی بیوی كے بستر میں تھا، میں نے كہا: كاش كوئی ندا دینے والا ندا دیتا كہ جوشخص بیٹھا رہے تواس پر كوئی حرج نہیں ۔ اتنے میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے منادی نے ندادی: جوشخص بیٹھا رہے اس پر كوئی حرج نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2605) ، مصنف ابن أبي شيبة ( 2 / 5 / 2 ) .
762
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن جَابر بن عبد الله قال: بَيْنَمَا النَّبِيُ صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ يَومَ الْجُمُعَةِ، وَقَدِمَتْ عِيْرٌ إِلى الْمَدِيَنَةِ فَابْتَدَرَهَـــا أَصَحَابُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًافَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : وَالّـَذِي نَفَـسِي بِيَـده لَـو تَتَابَعْتُم حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُم أَحَدٌ لَسَالَ بِكُم الْوَادِيُ النَّارَ، فَنَزَلَتْ هَـذِه الْآيَة: وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا (الجمعة:١١)، وَقَال: في الإِثْنَي عَشَرَ الَّذِين ثَبَتُوْا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أبوبكرٍ، وعمرُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جمعہ كا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ مدینے میں ایك قافلہ آیا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ جلدی جلدی اس كی طرف گئے، حتیٰ كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سارے كے سارے چلے جاتے اور ایك بھی نہ بچتا توتمہاری وجہ سے ساری وادی میں آگ بھرجاتی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : (الجمعة:١١)”اور جب یہ تجارت یا كوئی كھیل دیكھتے ہیں توجلدی سے اس كی طرف لپكتے ہیں، اور آپ كوكھڑا چھوڑ دیتے ہیں“۔اور فرمایا: ان بارہ افراد میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس بیٹھے رہے ابوبکر اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3147) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (1935) .
763
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي وَائلٍ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ لَعَبْدِ اللهِ (يَعْني ابن مَسْعَود رضی اللہ عنہ ): (قَوْمٌ) عُكُوفٌ بَيْنَ دَارِكَ ودَارِ أبِي مَوسَى لَا تُغَيِّرُ (وفي رِوَايَة: لَا تَنْهَاهُمْ) وقَدْ عَلمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَال: لَا اعْتِكَافَ إِلَا فِي الْمَسَاجِدِ الثلَاثَة. فَقَال عبد الله: لَعَلَّكَ نَسِيْتَ وحَفِظُوا، أَوأَخْطَأَتَ وأَصَابُوا.
ابووائل سے مروی ہے كہتے ہیں كہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے كہا: (كچھ لوگ ہیں) جوآپ كے گھر اور ابوموسیٰ كے گھر كےدرمیان اعتكاف میں بیٹھے ہوئے ہیں، آپ انہیں منع نہیں كرتے؟ حالانکہ آپ كومعلوم ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین مساجد كے علاوہ اعتكاف نہیں۔ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: شاید تم بھول گئے اور انہیں یاد ہو،آپ غلطی پر ہوں اور وہ درست ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2786) ، السنن البيهقي ( 4 / 316 ) .
764
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ مرفوعاً: لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اپنے گھروں كوقبرستان مت بناؤ، ان میں نماز پڑھاكرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم ( 2418) ، مسند أحمد رقم (16416) .
765
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، (عَبْداللهِ بْنِ عُمَر) مَرْفُوْعاً: لاَ تَتَّخِذُوا الْمَسَاجِدَ طُرُقًا إِلا لِذِكْرٍ أَوصَلاةٍ. ( )
سالم اپنے والد(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما )سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ:مساجد كوگزرگاہ مت بناؤ، صرف ذكر اور نماز كے لئے خاص ركھو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1001) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (13041) .
766
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعاً: لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عام راتوں میں سے جمعہ كی رات كوقیام كے لئے مخصوص نہ كرو، اور عام دنوں میں سے جمعہ كے دن كوروزے كے لئے خاص نہ كرو، سوائے اس صورت میں كہ جمعہ كا دن اس (تاریخ) میں آجائے جس میں كوئی شخص روزہ ركھتا ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (980) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الصِّيَامِ، بَاب كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا، رقم (1930) .
767
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعاً: لا تُصَلُّوا إِلَى قَبْرٍ، وَلا تُصَلُّوا عَلَى قَبْرٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: كسی قبر كی طرف رخ كر كے نماز نہ پڑھو، اور كسی قبر پر نماز نہ پڑھو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1016) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (11883) .
768
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أَنس بن مالك قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ وَتَغْرُبُ عَلَى قَرَنِ شَيْطَانٍ، وَصَلَّوْا بَيْنَ ذَلِكَ مَا شِئْتُم.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: طلوعِ شمس اور غروبِ شمس كے وقت نماز نہ پڑھو، كیونكہ یہ شیطان كے سینگ پر طلوع اور غروب ہوتا ہے۔اور ان دونوں وقتوں کے درمیان جتنی چاہونماز پڑھ لو
Takhreej
الصحيحة رقم (314) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (4106) .
769
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نماز اور سلام میں نقص (کمی) جائز نہیں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (318) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الصَّلَاةِ، بَاب رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ، رقم (793)
770
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُويُصَلِّي، فَيَرُدُّ عَلَيْهِ السَّلامَ، ثُمَّ إِنَّهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ وَهُويُصَلِّي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَظَنَّ عَبْدُ اللهِ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ!، كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَتَرُدُّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تُرَدَّ عَلَيَّ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ مَوْجِدَةٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: لا، وَلَكِنَّا نُهِينَا عَنِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ إِلا بِالْقُرْآنِ وَالذِّكْرِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہےہوتے تھے وہ آپ کوسلام کرتے توآپ انہیں جواب دیتے، اس كے بعد عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے آپ كوسلام كیا ۔آپ نماز پڑھ رہے تھے، توآپ نے سلام كا جواب نہیں دیا۔ عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے سمجھا كہ شاید رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌غصے میں ہیں، جب آپ نے سلام پھیردیا توعبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں آپ كوسلام كرتا تھا آپ نماز پڑھ رہے ہوتےتھے، توبھی آپ سلام كا جواب دیتے تھے، آج میں نے آپ كوسلام كیا توآپ نے مجھے جواب نہیں دیا، میں سمجھا كہ شاید آپ مجھ سے ناراض ہیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں، لیكن ہمیں نماز میں بات كرنے سے منع كر دیا گیا ہے، سوائے قرآن اور ذكر كے
Takhreej
الصحيحة رقم (2380) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (9982) .
771
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَا أَوَّابٌ وَهِي صَلَاة الْأَوَّابِين.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ كی طرف) بہت زیادہ رجوع كرنے والا ہی اشراق كی نماز كی حفاظت كرتا ہے، اور یہ رجوع كرنے والوں( اوابین) كی نماز ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (703) ، مستدرك الحاكم رقم (1130) ، صحيح ابن خزيمة رقم (1157) .
772
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِي أَبُوبَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ ذَلِكَ وَنَهَانِي ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا تُصَلُّوا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ.
سعید بن نافع سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابی نے دیكھا، میں سورج طلوع ہوتےوقت اشراق كی نماز پڑھ رہا تھا۔ا نہیں یہ معیوب لگا اور مجھے منع كیا۔ پھر كہا كہ یقینا رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تك سورج بلند نہ ہوجائے نماز نہ پڑھو، كیونكہ یہ شیطان كے دونوں سینگوں كے درمیان طلوع ہوتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3041) ، مسند أحمد رقم (20884)
773
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ الْوَضِين بن عَطَاء أَن الْقَاسِم أبا عبد الرَحَّمَن حَدَثَه قال: حَدَثَنِي بَعْضُ أَصَحَابِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمَ عِيدٍ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، ثم أُقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِه حِين انْصَرَفَ، قالَ: لَا تَنْسَوْا، كتَكبيرِ الْجَنَائز. وأَشَار بِأَصَابِعِه، وقَبَضَ إِبْهَامَه. يَعْني في صَلَاة الْعِيد
وضین بن عطاء سے مروی ہے كہ قاسم ابوعبدالرحمن نے بیان كیا كہ مجھے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے كسی صحابی نے بیان كیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید كی نماز پڑھائی توچار چار تكبیریں كہیں۔ پھر سلام كہہ كر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بھول نہ جانا، جنازے کی تکبیر کی طرح (چار تکبیریں ہیں) اور اپنی انگلیوں كے ساتھ اشارہ كیا۔ اپنا انگوٹھا بند كیا، یعنی نماز عید میں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2997) ، شرح المعاني للطحاوي ( 4 / 345 )
774
Sahih

Chapters

1