عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو كر( نفل نماز)پڑھ رہے تھے اور دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی جانب اور بند تھا۔ (ایک مرتبہ )میں نے دروازہ كھٹكھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں یا بائیں(پاؤں) پرچل کرا دروازہ كھولا پھر اپنی جگہ واپس آگئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2716) مسند إسحاق بن راهوية رقم (541) .
قابوس اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ میرے والد نے ایك عورت عائشہ رضی اللہ عنہا كی طرف بھیجی، كہ ان سے پوچھ كر آئے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو كونسی نماز سب سے زیادہ پسند تھی جس پر ہمیشگی كیا كرتے تھے؟ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہرسے پہلے چار ركعت پڑھا كرتے تھے، اور ان میں لمبا قیام كیا كرتے ، ركوع و سجود احسن طریقے سے ادا كرتے، اور جو نماز وہ چھوڑ انہیں كرتے تھے، تندر ست ہوں یا بیمار سفر میں ہوں یا حضر میں وہ فجر سے پہلے كی دو ركعتیں ہیں
عبداللہ بن سائب سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال كے بعد ظہر سے پہلے چار ركعت نماز پڑھتے، اور فرماتے : یقینا آسمان كے دروازے (اس وقت) كھولے جاتے ہیں ۔ میں پسند كرتا ہوں كہ اس وقت میں نیك عمل بھیجوں۔
عن الْمِقْدَام بن شُرَيْح عن أَبِيه قال سَأَلْتُ عَائَشَة عن صَـلَاةِ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ فَقَـالَت: كَان يُصَلِّي الْهَجِيرَ ثم يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْن ثم يُصَلِّي الْعَصْرَ ثم يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْن قُلْت: فَقَدْ كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ عَلَيْهِمَا وَيَنْهَى عَنْهُمَا؟ فَقَالَتْ: كَانَ عُمَرُ رضی اللہ عنہ يُصَلِّيَهُمَا وَقَدْ عَلِمَ أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كَان يُصَلِّيَهُمَا وَلَكِنْ قَوْمَكَ أَهَلَ الْيَمَنِ قَوْمٌ طُغَامٌ يُصَلُّون الظُّهْر ثم يُصَلُّون ما بَيْن الظُّهْر وَالْعَصْر وَيُصَلُّون الْعَصْر ثم يُصَلُّون ما بَيْن الْعَصْر والمغرب فضربهم عمر وَقَد أَحْسَنَ.
مقدام بن شریح اپنے والد سے بیان كرتے ہیں ، انہوں نے كہا كہ: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی نماز كے بارے میں سوال كیا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كس طرح نماز پڑھا كرتے تھے؟ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر كی نماز پڑھتے ،پھر اس كے بعد دو ركعت نماز پڑھتے، پھر عصر كی نماز پڑھتے تو اس كے بعد دو ركعتیں پڑھتے۔ میں نے كہا: عمررضی اللہ عنہ ان دو ركعتوں پر مارتے تھے۔ اور ان سے روكتے تھے؟ انہوں نے كہا: عمررضی اللہ عنہ یہ دو ركعتیں پڑھتے تھے، اور انہیں معلوم ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو ركعتیں پڑھتے تھے ،لیكن تمہاری یمنی قوم کم ظرف اور جاہل ہیں۔ظہر كی نماز پڑھتے ہیں پھر ظہر اور عصر كے درمیان نماز پڑھتے ہیں، اور عصر كی نماز پڑھتے ہیں، تو پھر عصر اور مغرب كے درمیان نماز پڑھتے ہیں، اس لئے عمررضی اللہ عنہ نے انہیں مارا ہے اور انہوں نے اچھا كیا۔
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو حسن اور حسین دونوں كھیل رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی پیٹھ مبارك پر بیٹھ رہے تھے۔ مسلمان انہیں ہٹانے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام كہہ دیا تو فرمایا: میرے ماں باپ قربان! ان دونوں كو چھوڑ دو، جو مجھ سے محبت كرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت كرے۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے تو فرماتے:( ركوع و سجود میں) امام سے جلدی نہ كرو، جب وہ تكبیر كہے تو تم بھی تكبیر كہو، اور جب وہ وَلَا الضَّالِّينَ كہے تو تم آمین كہو( كیونكہ جب اس كی بات فرشتوں كے كلام سے مل گئی تو اس سے جو گناہ سرزد ہوئے ہیں بخش دیے جائیں گے)۔ اور جب وہ ركوع كرے تو تم بھی ركوع كرو، اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ(اللہ نے اس شخص كی فریاد سن لی جس نے اس كی تعریف کی) كہے: تو تم اللهم رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ (اے اللہ ہمارے رب تیرے لئے ہی تعریفات ہیں)كہو: ( اور اس سے پہلے نہ اٹھو)( اور جب وہ سجدہ كرے تو تم بھی سجدہ كرو)
Takhreej
الصحيحة رقم (3476) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ رقم (626) .
وراد،مغیرہ بن شعبہرضی اللہ عنہ كے كاتب سے مروی ہے اس نے كہا كہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ كی طرف بھیجے گئے، خط میں مجھ سے لكھوایا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب سلام پھیر لیتے تو) ہر فرض نماز كے بعد كہتے: لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. ترجمہ: اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں ، وہ اكیلا ہے اس كا كوئی شریك نہیں اسی كے لئے بادشاہت ہے، اور اسی كے لئے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جو تو دینا چاہے اسے كوئی روك نہیں سكتا، اور جس سے تو روكنا چاہے اسے كوئی دے نہیں سكتا، اور كسی شان والے كو اس كی شان تجھ سے فائدہ نہیں دے سكے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (196) صحيح البخاري،كِتَاب الْأَذَانِ بَاب الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ رقم (799) .
میمونہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہوتے (اور اپنی چادر پر ) نماز پڑھتے۔(میمونہ رضی اللہ عنہا نے كہا) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پہلو میں آپ کی جائے نماز پر سو رہی ہوتی۔ جب آپ سجدہ كرتے تو آپ كے كپڑے كا(كنارہ) مجھے لگتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3343) صحيح البخاري كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب إِذَا صَلَّى إِلَى فِرَاشٍ فِيهِ حَائِضٌ رقم (488)
عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے كی حالت میں سوجاتے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی نیند آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے خراٹوں سے معلوم ہوتی۔ پھر آپ كھڑے ہوتے اور نماز مكمل كرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2925) المعجم الكبير للطبراني رقم (9835) .
عن رَاشِد أبي مُحَمَد الْحِمَّانِيّ قال : رَأَيْتُ أَنسَ بنَ مَالَك عَلَيْهِ فَرْوٌ أَحْمَر، فَقَال: كَانَت لُحُفنَا عَلَى عَهِد رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَلْبَسُهَا ونصلي فِيهَا.
راشد ابو محمد حمانی سے مروی ہے كہ میں نے انس بن مالكرضی اللہ عنہ كو دیكھا انہوں نے سرخ رنگ کی پوستین پہنی ہوئی تھی انہوں نے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں ہمارے یہ چادریں تھے ہم انہیں پہنتے اور ان میں نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2791) المعجم الأوسط للطبراني رقم (570) .
عَنِ الْبَرَاء بن عَازِب أَنَّهُم كَانُوا يُصَلُّون مَع رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَإِذَا رَكَع رَكَعُوا، وَإِذَا قال: سَمِع الله لَمَن حَمِدَه لَم يَزَالُوا قِيَاما حَتَّى يَرَوْه قَد وَضَع وَجهَه (وَفِي لَفْظٍ: جَبْهَتَهُ) في الْأَرَض ، ثم يَتْبَعُونَه
براء بن عازبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے ۔جب آپ ركوع كرتے تو وہ بھی ركوع كرتے اور جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ كہتے تو وہ اس وقت تك كھڑے رہتے جب تك آپ اپنی پیشانی زمین پر نہ ركھ دیتے پھر صحابہ بھی آپ كی پیروی كرتے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2616) المعجم الأوسط للطبراني رقم (11340) .
انس بن مالكرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ جب ہم كسی سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ہوتے تو ہم كہتے سورج زائل ہوگیا، یا زائل نہیں ہوا۔ آپ ظہر كی نماز پڑھتے پھر كوچ كرتے۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے فوراً بعد نماز پڑھ لیتے)
Takhreej
الصحيحة رقم (2780) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الْمُسَافِرِ يُصَلِّي وَهُوَ يَشُكُّ فِي الْوَقْتِ رقم (1018) .
معاویہ بن قرہ اپنے والدرضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں ہمیں ستونوں كے درمیان صف بنانے سے منع كیا جاتا تھا، اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا جاتا تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (335) سنن ابن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب الصَّلَاةِ بَيْنَ السَّوَارِي فِي الصَّفِّ رقم (992) .