TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُوَ يُبَايِعُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اُبْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ قَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ وَتُقِيْمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ .
جریر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا ۔آپ بیعت لے رہے تھے، میں نے كہا: اے اللہ كے رسول اپنا ہاتھ آگے كیجئے، تاكہ میں آپ كی بیعت كر سكوں ، اور مجھ پر كچھ شرائط عائد كیجئے كیونكہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تم سے اس شرط پر بیعت لیتا ہوں كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، نماز قائم كرو گے، زكاۃ ادا كرو گے، مسلمانوں كی خیر خواہی كرو گے اور مشركین كو چھوڑ دو گے
Takhreej
الصحيحة رقم (636) سنن النسائي كِتَاب الْبَيْعَةِ باب الْبَيْعَةُ عَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ رقم ( 4106) .
475
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن الْمُطَّلِب بن عبد الله بن حَنْطَب ، عن عبد الله بن عَمرو بن الْعاص ، قال : صَعِد رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمِنْبَر فَقَال : لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ ، ثمَّ نَزل فَقَال أبْشِرُوا، أَبْشِرُوا، إنَّه مَنْ صَلَّى الصَّلوَاتِ الخمسَ، واجْتَنَبَ الكَبَائِرَ، دَخَلَ مِنْ أيِّ أبوابِ الجَنَّةِ شَاءَ قال المطلب : سَمعتُ رَجُلاً يَّسْأَلُ عبد الله بن عَمرٍو ، أسَمِعتَ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَذْكُرهُنّ؟ قال: نَعَم، عُقوْقُ الوَالِدَيْنِ، والشِّرْكُ بالله، وقتلُ النَّفس، وقَذْفُ المحصَنات، وأكلُ مالِ اليتيمِ، والفرارُمن الزَّحفِ. وأكلُ الربا
مطلب بن عبداللہ ،عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت كرتے ہیں ،انہوں نے كہا کہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌منبر پر چڑھے ، اور فرمایا : میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، میں قسم نہیں كھاتا ، پھر نیچے اتر آئے اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، خوش ہو جاؤ، جس نے پانچ نمازیں پڑھیں اور كبائر سے اجتناب كیا ، وہ جنت كے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا۔ مطلب نے كہا: میں نے ایك آدمی كو عبداللہ بن عمرو سے سوال كرتے ہوئے سنا، كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ان كبائر كا ذكر سنا ہے؟ عبداللہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: جی ہاں ، وہ یہ ہیں: والدین كی نافرمانی، اللہ كے ساتھ شرك، بے گناہ كو قتل كرنا، پاكدامن پر تہمت لگانا، یتیم كا مال كھانا، میدان جنگ فرار اور سود كھانا
Takhreej
الصحيحة رقم (3451)
476
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَبَ مَنْ عَقَبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِّنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَّهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ مغرب كی نماز پڑھی ،جانے والے چلے گئے ،كچھ لوگ بیٹھے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی میں آئے آپ كا سانس پھول ر ہا تھا، آپ نے اپنے گھٹنےسےکپڑا ہٹا دیا پھرآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمانے لگے: خوش ہو جاؤ، یہ تمہارا رب ہے، جس نے آسمان كے دروازوں میں سے ایك دروازہ كھول دیا ہے، تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر كر رہا ہے اور فرما رہا ہے میرے بندوں كی طرف دیكھو، جنہوں نے ایك فرض ادا كيا، اور دوسرے كے منتظر ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (661) سنن إبن ماجه كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَالْجَمَاعَاتِ بَاب لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ رقم ( 793)
477
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
قال صلی اللہ علیہ وسلم : «ابْنوه عَرِيشًا كَعَرِيش مُوسَى». -يعني: مسجد المدينة۔ روی مرسلا عن الحسن البصری و سالم بن عطیہ والزھری و راشدین سعد و موصولا عن ابی الدرداء و عبادہ بن الصامت
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے(مسجد نبوی كو) لکڑی سے اس طرح بناؤ جس طرح موسی علیہ السلام نے بنائی تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (616) دلائل النبوة للبيهقي رقم ( 794) .
478
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي إِدْرِيس الْخَوْلَانيّ ، قال: كُنْتُ في مَجْلِسٍ مِّنْ أَصَحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِيهِم عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت فَذَكَرُوا الْوِتْرَ فَقَال بَعْضهُم : وَاجِبٌ وَقَال بَعْضَهُم : سُنَةٌ فَقَالَ عُبَادَةُ بنُ الصَّامِت : أَمَا أَنا فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعَتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ : أَتَانِي جِبْرِيلُ عليه السلام مِن عنْدِ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ : يَا مُحَمدُ إِن الله عَزّ وَجَل قَالَ لَكَ: إِنِّي قَد فَرَضْتُ عَلَى أُمَّتكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ مَنْ وَّافَاهُن عَلَى وُضُوئِهِنّ وَمَوَاقِيتِهِنّ وَسُجُودِهِنّ فَإِن لَه عِنْدِي بِهَنَّ عَهْدًا أَن أُدْخِلَه بِهَن الْجَنَّة ، وَمَنْ لَقِيَنِي قَد اَنْقَصَ مِنْ ذَلِك شَيْئًا أَو كَلِمَةً تُشْبهُهَا فَلَيْس لَه عِنْدِي عَهدٌ إِن شِئْتُ عَذَّبْتُه وَإِن شِئْتُ رَحِمتُه .
ابو ادریس خولانی سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كی ایك مجلس میں تھا۔ ان میں عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وتر كا تذكرہ چل پڑا، كسی نے كہا: واجب ہے، اور كسی نے كہا: سنت ہے۔ عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں گواہی دیتا ہوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میرے پاس جبریل علیہ السلام، اللہ تبارك وتعالیٰ كے پاس سے آئے اور كہا: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) یقینا اللہ عزوجل نے آپ كے لئے فرمایا ہے كہ میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض كی ہیں، جس شخص نے ان كا وضو ، رکوع اور سجدہ اچھے انداز سے کیااور انہیں وقت پر ادا كیا تو اس شخص كے لئے ان كے بدلے میرے ذمے عہد ہے كہ میں اسے جنت میں داخل كروں گا، اور جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا كہ اس نے ان میں كمی كوتاہی كی ہوگی۔ یا ایسا ہی كوئی جملہ كہا، تو میرے ذمے اس كے لئے وعدہ نہیں۔ اگر میں چاہوں تو اسے عذاب دوں اور اگر چاہوں تو اس پر رحم كروں
Takhreej
الصحيحة رقم (842) مسند الطيالسي رقم ( 568) .
479
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ جَابِر بنْ عَبْداللهِ رضي الله عنهما قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَصَلَّى فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَتُرِيْدُ أَنْ تَكُوْنَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ! إِذَا أَمَمْت النَّاسَ فَاقْرَأْ بِـ وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں كو عشاء كی نماز پڑھائی، تونماز لمبی كر دی۔ ہم میں سے ایك آدمی پیچھے ہو گیا( اور نماز پڑھ لی) ،معاذ رضی اللہ عنہ كو اس كے بارے میں بتلایا گیا تو معاذ نے كہا: وہ منافق ہے، اس آدمی كو جب یہ پتہ چلا تو وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور جو بات معاذ نے كہی تھی وہ آپ كو بتائی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاذ سے كہا: معاذ كیا تم فتنہ كا باعث بنناچاہتے ہو؟ جب تم لوگوں كی امامت كرواؤ تو : وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ پڑھا كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3171) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ رقم ( 710)
480
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ: اتَّقُوا اللهَ رَبَّكُمْ وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ .
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، حجۃ الوداع كا خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے:اللہ سے ڈرو جو کہ تمہارا رب ہے، پانچ نمازیں پڑھو، رمضان كے روزے ركھو، اپنے اموال كی زكاۃ ادا كرو، اپنے امراء كی فرمانبرداری كرو، تم اپنے رب كی جنت میں داخل ہو جاؤ گے
Takhreej
الصحيحة رقم (867) سنن الترمذي كِتَاب الْجُمُعَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب مِنْهُ رقم ( 559) .
481
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِوَجْهِهِ حِيْنَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: أَتِمُّوا الصُّفُوفَ (وَفِي رِوَايَةٍ: اِسْتَوُوْا، اِسْتَوُوْا) (وَتَرَاصُّوا)، فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي (كَمَا أَراَكُمْ بَيْنَ يَدَيَّ) .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب نماز كے لئے كھڑے ہوئے تو تكبیر كہنے سے پہلے اپنا رخ ہماری طرف كر كے متوجہ ہوئے۔ اور فرمایا: صفیں مكمل كرو(اور ایك روایت میں ہے: برابر ،برابر ہو جاؤ) (آپس میں اچھی طرح مل جاؤ)میں تمہیں اپنے پیچھے سے اس طرح دیكھتا ہوں(جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیكھتا ہوں)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3955) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ رقم ( 6579) .
482
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مَرْفُوْعاً: اثْنَانِ لا تُجَاوِزُ صَلاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ أبَقَ مِنْ مَّوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ، وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ: دو آدمی ایسے ہیں جن كی نمازیں ان كے سروں سے اوپر نہیں جاتیں۔ مفرور غلام حتی كے اپنے مالكوں كی طرف لوٹ آئے، اور وہ عورت جو اپنے شوہر كی نافرمانی كرے، جب تک کہ باز نہ آجائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (۲۵۴۹) مسند أحمد رقم ( 22041) مسند أبي يعلى الموصلي رقم ( 7009) .
483
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
قال صلی اللہ علیہ وسلم : اجْعَل بَيْن أَذَانِك وَإِقَامَتِك نَفَسًا قَدْرَ ما يَقْضِي الْمُعْتَصِرُ حَاجَتَه في سَهل وَقَدْرَ ما يَفْرُغ الْآكِل مِنْ طَعَامِه في مَهْل. روی من حدیث اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَّ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ وَابِیْ ھُرَیْرَہَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسیِّ
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنی اذان اور اقامت كے درمیان اتنا وقفہ كرو كہ پانی پینے والا سہولت سے پی لےاور كھانا كھانے(یعنی افطار كرنے) والا تسلی سے كھانا كھالے
Takhreej
الصحيحة رقم (887) المسند للشاشي رقم ( 1424) .
484
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ.
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Takhreej
الصحيحة رقم (۳۱۱۲) فضائل القرآن للفريابي رقم ( 32)
485
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا تو كہا: بیٹھ جاؤ، اہل كتاب اس لئے برباد ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا
Takhreej
الصحيحة رقم (۲۵۴۹) مسند أحمد رقم ( 22041) مسند أبي يعلى الموصلي رقم ( 7009) .
486
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُّصَلِّي (بَعْدَهَا) فَرَآهُ عُمَرُ ، (فَأَخَذَ بِرِدَائِه أَوْ بِثَوْبِهِ) فَقَالَ لَه:ُ اِجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَحْسَنَ (وَفِي رِوَايَةٍ:صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ .
عبداللہ بن رباح، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے روایت كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عصر كی نماز پڑھائی۔ عصر کے بعد ایك آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھنے لگا، عمر‌رضی اللہ عنہ نے اسے دیكھا( تو اس كی چادر یا اس كا كپڑا پكڑا) اور كہا: بیٹھ جاؤ، كیونكہ اہل كتاب اس لئے ہلاك ہوئے كہ ان كی نماز میں فاصلہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن الخطاب نے اچھا كیا(اور ایك روایت میں ہے: ابن الخطاب نے سچ كہا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3173) مسند أحمد رقم ( 22041) .
487
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: اُحْضُرُوا الذِّكْرَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ دَخَلَهَا.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نصیحت كی مجالس (خطبہ جمعہ) میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو کیونکہ آدمی دور ہوتا رہتا ہے حتی کہ وہ جنت میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے اگرچہ اس میں داخل ہوجا ئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (365) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الدُّنُوِّ مِنْ الْإِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ رقم (934).
488
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ : هَلْ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ بِأَبَا - وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ : بِأَبَا - سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ :« أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيْدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِيْنَ » .
حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سوال كیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے كہا: جی ہاں میرے باپ آپ پر قربان ہوں۔ وہ جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے حدیث بیان كرتیں تو كہا كرتی تھیں میرے باپ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌پر قربان ہوں: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے نوجوان اور بالغ لڑكیوں كو نکالو کہ وہ عید اور مسلمانوں كی دعا میں شریك ہوں، اور حائضہ عورتیں عیدگاہ سے الگ رہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (600) مسند الحميدي رقم ( 385) .
489
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَّنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ وَّأَمَرَنَا فَقَالَ: اُخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بَيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا قُالوا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ؟ فَقَالَ مُدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِّنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ .
طلق بن علی سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم ایك وفد كی صورت میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے۔ ان سے بیعت كی اور ان كے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو بتایا كہ ہمارے علاقے میں ایك گرجا گھرہے۔ ہم نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے پانی منگوایا، وضو كیا اور كلی كی، پھر اسے برتن میں ڈال دیا، اور ہمیں حكم دیا كہ جاؤ، اور جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے كو توڑ دینا۔ اس پانی كو اس جگہ چھڑكنا اور وہاں مسجد بنا لینا۔ لوگوں نے كہا: علاقہ دور ہے، گرمی شدید ہے یہ پانی تو ختم ہوجائے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس میں پانی ملالینا، یہ اسے پاكیزگی میں زیادہ كرے گا، ہم وہاں سے چل پڑے، اور اپنے علاقے میں پہنچ گئے۔ ہم نے گرجے كو توڑا ، اس جگہ پرپانی چھڑكا اور وہاں مسجد بنالی، پھر اس میں اذان كہی، وہاں كا راہب قبیلہ طے كا تھا جب اس نے اذان سنی تو كہا: سچی دعوت ہے پھروہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیااس كے بعد ہم نے اسے نہیں دیكھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2582) سنن النسائي كِتَاب الْمَسَاجِدِ باب اتِّخَاذُ الْبِيَعِ مَسَاجِدَ رقم ( 694) .
490
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن سَعد بن أبي وَقَاص، عَنِ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: إِذا أَتَيْتَ الصَّلاةَ فَأتِهَا بِوَقَارٍ وَّسكِينَةٍ، فَصَلِّ مَا أَدْرَكتَ، وَاقْضِ مَا فَاتَكَ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے آؤ تو وقار اور سكون كے ساتھ آؤ۔ جو مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں)پورا كر لو
Takhreej
الصحيحة رقم (1198) المعجم الكبير للطبراني رقم ( 1389) .
491
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ (أول) سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ (أولَ) سَجْدَةٍ مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے نمازِ عصر كی ایك ركعت پالے تو وہ اپنی نماز مكمل كرلے ، اور جب سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح كی نماز كی ایك ركعت پالے تو اپنی نماز مكمل كرلے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (66) صحيح البخاري كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ بَاب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ الْعَصْرِ قَبْلَ الْغُرُوبِ رقم ( 523) .
492
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِّنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ (فَطَلَعْتَ)، فَصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم سورج طلوع ہونےسے پہلے نمازِ فجر كی ایك ركعت پالو(اور پھر سورج طلوع ہو جائے) تو دوسری ركعت بھی پڑھ لو
Takhreej
الصحيحة رقم (2475) مسند أحمد رقم ( 6918) .
493
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَذَّنْتَ الْمَغْرِبَ فَاحْدُرْهَا مَعَ الشَّمْسِ حَدْرًا .
ابو محذورہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سےفرمایا: جب تم مغرب كی اذان دو تو سورج غروب ہوتے ہی جلدی جلدی اذان دے دیا کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2245) المعجم الكبير للطبراني رقم ( 6604) .
494
Sahih

Chapters

1