عن ابى هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذا اسْتُوْذِنَ عَلَى الرَّجُلِ وَهو يُصَلى فَاذْنُه التَّسْبِيح وَإِذَا اسْتُوْذِنَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَهِي تُصَلى فَاذْنُها التَّصْفِيقُ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تسبیح(سبحان اللہ کہنا ہے)ہے اور جب عورت نماز پڑھ رہی ہو، اور اس سے اجازت مانگی جائے تو اس كی اجازت تالی (ہاتھ پر ہاتھ مارنا )ہے
انس بن مالكرضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب نماز (مغرب) کے لئے اذان کہہ دی جائے اور تم میں سے كوئی روزے سے ہو تو وہ نماز مغرب سے پہلے كھانا كھالے، اور کھانے سے (پہلے کوئی کام کرنے یعنی نماز پڑھنے میں) جلدی نہ کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3964) صحيح البخاري كِتَاب الْأَذَانِ بَاب إِذَا حَضَرَ الطَّعَامُ ... رقم ( 632) .
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ بِه إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ
عثمان بن ابی العاصرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آخری عہد یہ لیا كہ ، جب تم لوگوں كی امامت كراؤ تو انہیں ہلكی نماز پڑھاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (3965) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ رقم ( 718) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قاری(امام)آمین كہے ، تو تم بھی آمین كہو۔ كیونكہ اس وقت فرشتے بھی آمین كہتے ہیں ۔اور جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہو گئی ، ا س كے پچھلے تمام گناہ معاف كر دیئے جائیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1263) صحيح البخاري كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب التَّأْمِينِ رقم ( 5923) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : جب سورج كی ٹكیہ طلوع ہونا شروع ہو جائے تو(فجرکی) نماز مؤ خر كر دو، حتی كہ وہ اچھی طرح طلوع ہو جائے اور جب سورج كی ٹكیہ غروب ہونا شروع ہو جائے تو نماز(عصر)مؤ خر كر دو، حتیٰ كہ وہ اچھی طرح غروب ہو جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3966) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ الصَّلَاةِ فِيهَا رقم ( 1371) .
سعد بن ابی وقاصرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں تھوك پھینكے تو اسے ختم كر دے تا كہ وہ مومن كے جسم یا كپڑے پر لگ كر اسے تكلیف نہ دے
بسر بن محجن اپنے والد محجنرضی اللہ عنہ سے روایت كرتے ہیں كہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایك مجلس میں شریک تھے۔ نماز کےلئے اذان کہی گئ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی۔ پھر آپ واپس لوٹ آئے، محجنرضی اللہ عنہ اسی مجلس میں بیٹھے تھے، آپ كے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: لوگوں كے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں كس چیز نے روكا؟ كیا تم مسلمان نہیں ہو؟ محجنرضی اللہ عنہ نے كہا:اے اللہ كے رسول كیوں نہیں! لیكن میں اپنے گھرمیں نماز پڑھ چكا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا:جب تم آؤ تو لوگوں كے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم نماز پڑھ چكے ہو۔
عَنْ كَثِيرِ بن قاَرَوَنْد قَالَ: سَأَلْنَا سَالِمَ بن عَبْدِ اللهِ عَنْ صَلاةِ أَبِيهِ فِي السَّفَرِ؟ فأَخْبَرَ عَنْ أَبِيهِ ،ابن عمر رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الأَمْرُ يَخْشَـى فَوْتَهُ فَلْيُصَـلِّ هَذِهِ الصَّلاةَ (يَعْنِي) الْجَـمْـع بَيْنَ
الصَّلاتَيْنِ.
كثیر بن قاروند سے مروی ہے ، انہوں نے كہا كہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان كے والد كی نماز كے بارے میں دریافت كیا؟ تو انہوں نے اپنے والد(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے روایت بیان كی كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی كو یہ معاملہ (یعنی سفر) در پیش آئے جس میں نماز كے فوت ہونے سے ڈرتا ہو تو وہ یہ نماز پڑھ لے(یعنی جمع بین الصلاتین كر لے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1370) المعجم الكبير للطبراني رقم (13055)
عن أبي هُرَيْرَة، قَال: قَال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَ الْمُسْلِمُ إلى الْمَسْجِدِ كَتَبَ اللهُ لَه بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَسَنَةً، وَّمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ، حَتَّى يَأْتِيَ مَقَامَهُ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان مسجد كی طرف نكلتا ہے تو جتنے قدم چلتا ہے اسکے ہر قدم كے بدلے ایك نیكی لكھی جاتی ہے اور اس كے بدلے اس كی ایك غلطی مٹادی جاتی ہے۔ حتی كہ وہ اپنی جگہ پہنچ جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1063) تعظيم قدر الصلاة لمحمد بن نصر رقم (92) .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت مسجد كی طرف نكلے تو خوشبو سے اس طرح غسل كرے(صاف) جس طرح جنابت سے غسل كرتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1031) سنن النسائي كِتَاب الزِّينَةِ باب اغْتِسَالُ الْمَرْأَةِ مِنْ الطِّيبِ رقم (5037) .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن لوگ آگ سے خلاصی پالیں گے، اور بے خوف ہو جائیں گے، تو ( اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے) تم میں سے كوئی شخص دنیا میں اپنے ساتھی سے اتنا سخت جھگڑا نہیں كرتا جتنا شدید جھگڑا مومنین اپنے رب سے اپنے ان بھائیوں كے بارے میں كریں گے جو آگ میں ڈال دیئے گئے ہونگے ۔ كہیں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھا كرتے تھے، روزہ ركھا كرتے تھے، حج كیا كرتے تھے( اور ہمارے ساتھ جہاد كیا كرتے تھے) پھر بھی آپ نے انہیں آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، ان میں سے جن كو پہچانتے ہو آگ سے نكال لو۔ جنتی ان كے پاس آئیں گے ، وہ انہیں ان كے چہروں سے پہچانیں گے۔ آگ ان كے چہروں كو نہیں جلائے گی۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں آگ نصف پنڈلیوں تك جلائے گی، ان میں ایسے بھی ہونگے جنہیں ٹخنوں تك جلائے گی( جنتی) ان میں سے (بے شمار) لوگوں كو نكال لیں گے وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے انہیں نكال لیا۔ پھر( وہ دوبارہ آئیں گے، اور بات چیت كریں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ایک دینار جنان بھی ایمان ہے اسے آگ سے نكال لو۔ (جنتی بے شمار لوگوں كو نكالیں گے) ۔پھر(وہ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان میں سے آگ میں ایك بھی نہیں چھوڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لوٹ جاؤ)جس شخص كے دل میں نصف دینار كے وزن كے برابر ایمان ہو( اسے بھی آگ سے نكال لو، جنتی اس میں سے بے شمار لوگوں كو نكالیں گے، جنتی كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ایك بھی نہیں چھوڑا ۔) حتیٰ كہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس كے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نكال لو(جنتی بے شمار لوگوں كو نكال لیں گے۔) ابو سعید نے كہا: جو شخص اس حدیث كی تصدیق نہ كرے وہ یہ آیت پڑھ لے: ﴿النساء:۴۰﴾ ترجمہ: یقینا اللہ تعالیٰ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں كرتا ، اور اگر نیكی ہو تو اسے کئی گناہ بڑھا دے گا، اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت كرتا ہے ۔ جنتی لوگ كہیں گے: اے ہمارے رب جن كے بارے میں تو نے ہمیں حكم دیا ہم نے ان سب كو نكال لیا، اب آگ میں كوئی بھی شخص ایسا نہیں جس میں كوئی بھلائی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش كی، انبیاءنے سفارش كی، مومنین نے سفارش كی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا۔ اللہ آگ میں سے ایك مٹھی، یا دو مٹھی ایسے لوگوں كی بھر كر نكالے گا، جنہوں نے كبھی كوئی نیكی نہیں كی ہوگی، جو جل كر كوئلہ ہو چكے ہونگے۔ انہیں اس پانی تك لایا جائے گا جسے( آب حیات) كہا جاتا ہے۔ ان پر پانی ڈالا جائے گا وہ اس طرح اُگ آئیں گے جس طرح دانہ سیلاب كے كچرے میں پھوٹ آتا ہے۔(جسےا تم نے چٹان كے اطراف میں دیكھا ہوگا، اور درختوں كے اطراف میں، ان میں سے جو سورج كی طرف ہوتا ہے، وہ سر سبز ہوجاتا ہے، اور جو سائے كی طرف ہوتاہے وہ سفید رہ جاتاہے)۔ ان كے جسم موتی كی طرح ہوجائیں گے ، اور ان كی گردنوں پر مہر لگی ہوگی( اور ایك روایت میں ہے، مہریں لگی ہونگی) یہ اللہ كے آزاد كردہ ہیں۔ ان سے كہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، جس چیز كی تمنا كرو گے ، اور جو چیز دیكھو گے وہ تمہارے لئے ہے۔ (اہل جنت كہیں گے: یہ رحمن كے آزاد كردہ ہیں، اس نے کسی عمل اور نیکی کے بغیر انہیں جنت میں داخل كیا ہے)، وہ كہیں گے: اے ہمارے رب تو نے ہمیں وہ دے دیا جو دنیا والوں میں سے كسی كو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی عمدہ چیز ہے۔ وہ كہیں گے: اے ہمارے رب اس سے عمدہ كیا چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا، اب میں كبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہونگا۔
عن عَطَاء، أَنَّه سَمِع ابنَ الزُبَيْر، عَلَى الْمِنْبَر يَقولُ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُم الْمَسْجِدَ، وَالنَّاسُ رُكُوعٌ فَلْيَرْكَعْ حِين يَدْخُلُ، ثم يَدُبُّ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ في الصَّفّ، فَإِن ذَلِك السُّنَةُ
عطاء سے مروی ہے انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بر سرِ منبر سنا كہہ رہے تھے: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں داخل ہو اور لوگ ركوع میں ہوں تو وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ركوع كر لے، آہستہ آہستہ چلتا ہوا/سرکتا ہوا صف میں آجائے كیونكہ یہ سنت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3971) صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَاب فَضْلِ الْجُمُعَةِ رقم (833) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عمررضی اللہ عنہ خطبۂ جمعہ دے رہے تھے، اچانك ایك آدمی ( اور ایك روایت میں ہے عثمان رضی اللہ عنہ )مسجد میں داخل ہوا۔ تو عمررضی اللہ عنہ نے كہا: تم نماز سے پیچھے کیوں رہتے ہو؟ اس آدمی نے كہا: معاملہ دراصل یہ ہے كہ میں نے اذان سنی تو وضو كر لیا۔ عمررضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ كے لئے جائے تو غسل كر لے؟
Takhreej
الصحيحة رقم (3971) صحيح البخاري كِتَاب الْجُمُعَةِ بَاب فَضْلِ الْجُمُعَةِ رقم (833) .
عَنْ كَعْبِ بن عُجْرَةَ، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ، وَلَعَلِّي لا أَجِدُ قَائِدًا؟ قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللهِ عزوجل
كعب بن عجرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك نابيناآدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے رسول میں اذان سنتا ہوں لیکن كبھی مجھے ساتھ لانے والا کوئی نہیں ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو اللہ كے داعی كو جواب دو
Takhreej
الصحيحة رقم (1354) المعجم الكبير للطبراني رقم (15634) .
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّـلَاةِ فَقُولُـوا كَـمَا يَقُولُ
سہل بن معاذ اپنے والد معاذرضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں،كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان دینے والے كو سنو جو نماز كے لئے پكار رہا ہے، تو جس طرح وہ كہہ رہا ہے تم بھی اسی طرح كہو۔
عبدالرحمن بن عوفرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1356) سنن الترمذي كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي ... رقم (364) .
عبدالرحمن بن عوفرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز میں بھول جائے اور اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے ایك ركعت پڑھی ہے یا دو ركعتیں تو وہ ایك پر بنیاد ركھے۔ اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے دو پڑھی ہیں یا تین تو وہ دو پر بنیاد ركھے، اور اگر اسے معلوم نہ ہو كہ اس نے تین ركعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ تین پر بنیاد ركھے، اور سلام سے پہلے دو سجدے كرے
Takhreej
الصحيحة رقم (1356) سنن الترمذي كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي ... رقم (364)
عَنْ جُبَيْرِ بن مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ ، فَلْيَـدْنُ مِنْهَا، لا يَمُرُّ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُ ، وَبَيْنَهَا
جبیر بن مطعمرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص سترے كی طرف رخ كر كے نماز پڑھے ، تو اس كے قریب ہو جائے تاكہ اس شخص اور سترے كے درمیان سے شیطان نہ گزر سكے
Takhreej
الصحيحة رقم (1386) المعجم الكبير للطبراني رقم (1567) .
عصمہ بن مالك خطمیرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: جب تم میں سے كوئی شخص جمعہ پڑھے، تو اس كے بعد كوئی نماز نہ پڑھے جب تک بات نہ كرلے، یااس جگہ سے ہٹ نہ جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1329) المعجم الكبير للطبراني رقم (13917)