عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَلْبَسْ ثَوْبَيْهِ ، فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ مَنْ تُزُيِّنَ لَهُ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز پڑھے ،تو وہ اپنے دونوں كپڑے پہن لے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ اس كی آرائش كا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1369) المعجم الكبير للطبراني رقم (450) .
عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قال: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذاَ صَلَّى الإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
معاویہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام بیٹھا ہوا نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو ۔ (یہ حکم ابتدائی طور پر تھا بعد میں یہ منسوخ ہوگیا)
Takhreej
الصحيحة رقم (1363) المعجم الكبير للطبراني رقم (16120) .
عن ربيع بن معوذ رضی اللہ عنہ أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: إِذَا صَلَّوا عَلى جَنَازَةٍ وَأَثْنَوا خَيراً يَّقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَل: أَجَزْتُ شَهَادَتَهُم فِيْمَا يَعْلَمُونَ وَأَغْفِرُ لَه مَا لَا يَعْلَمُونَ.
ربیع بن معوذرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھیں، اور اس كی تعریف كریں تو اللہ رب العزت فرماتا ہے: جو یہ لوگ جانتے ہیں اس بارے میں ان كی گواہی كافی ہوگئی، اور جو یہ لوگ نہیں جانتے میں اسے بخشتا ہوں۔
صفوان بن معطل سلمیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہ:اے اللہ كے رسول ! میں آپ سے اس چیز كے بارے میں سوال كرنا چاہتا ہوں ،جسے آپ جانتے ہیں اور میں لاعلم ہوں۔ رات و دن كے كونسے اوقات ہیں جن میں نماز پڑھنانا پسندیدہ عمل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم صبح كی نماز پڑھ لو تو سورج طلوع ہونے تك نماز پڑھنے سے ركے رہو،( كیونكہ سورج شیطان كے دو سینگوں كے درمیان سے طلو ع ہوتاہے) جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر نماز پڑھو۔ كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مقبول ہوتی ہے۔حتیٰ كہ جب سورج عین تمہارے سر پر كھڑا ہو جائے۔(تو پھر نماز نہ پڑھو)۔ جب وہ تمہارے سر كے برابر ہو جائے تو یہ وہ گھڑی ہے جس میں جہنم بھڑكائی جاتی ہے ، اور اس گھڑی میں جہنم كے دروازے كھولے جاتے ہیں ۔حتی كہ وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے(زوال ہوجائے)۔ جب وہ تمہارے دائیں طرف ڈھل جائے تو پھر نماز پڑھو۔كیونكہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور مقبول ہوتی ہے حتی كہ تم عصر پڑھ لو۔پھر سورج غروب ہونے تك نماز چھوڑ دو(نہ پڑھو)۔
طارق بن عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے نہ تھوكو نہ اپنے دائیں طرف تھوکو لیكن اپنے بائیں جانب تھوکو اگر وہ خالی ہو، وگرنہ اپنے قدموں کے درمیان تھوك کرمسل دو
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص نماز كے لئے كھڑا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوكے ،كیونكہ جب تك وہ نماز میں ہے اللہ سے سر گوشی كر رہا ہے، اور نہ اپنے دائیں طرف تھوكے ،كیونكہ اس كے دائیں طرف فرشتہ ہے ۔ لیكن وہ اپنے بائیں طرف یا اپنے قدم كے نیچے تھوك كر اسے دفن كر دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3974) صحيح البخاري كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب دَفْنِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ رقم (399) .
عَنْ حُذَيْفَة قال: إِن رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُم، أَو قَالَ الرَجُلُ في صَلَاتِه يُقْبِلُ اللهُ عَلَيه بِوَجْهِه، فَلَا يَبْزُقَنّ أَحَدُكُم في قِبْلَتِه، وَلَا يَبْزُقَنَّ عَنْ يَمِينِه، فَإِنَّ كَاتِبَ الْحَسَنَاتِ عَن يَمِينِه، وَلَكِنْ لِيَبْزُقْ عن يَسَارِه
حذیفہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنی نماز میں كھڑا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے كا رخ اس كی طرف كر كے متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے كوئی شخص اپنے قبلہ كی طرف ہر گز نہ تھوكے ، نہ اپنے دائیں طرف تھوكے۔ كیونكہ نیكیاں لكھنے والے دائیں طرف ہوتے ہیں، لیكن اپنے بائیں طرف تھوكے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1062) تعظيم قدر الصلاة لمحمد بن نصر رقم (112) .
مغیرہ بن شعبہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام دو ركعتوں کے بعد كھڑا ہو جائے، اگر اسے سیدھا كھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے، اور اگر وہ سیدھا كھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے بلكہ سجدہ سہو كرلے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (321) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَنْ نَسِيَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَهُوَ جَالِسٌ رقم (872) .
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَّمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صاحب قرآن (حافظ قرآن) كھڑا ہوتا ہے ، اور رات دن تلاوت كرتا ہے، تو اسے یاد رہتا ہے ، اور اگروہ تلاوت نہ كرے تو قرآن بھول جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (597) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب الْأَمْرِ بِتَعَهُّدِ الْقُرْآنِ ... رقم (1313) .
عَنْ أبي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ) فأمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِن الْمَلَائِكَة تُؤَمِّن عَلَى دُعَائِه، فَمَن وَّافَق تَأْمِينُه تَأْمِينَ الْمَلَائِكَة ، غُفِر لَه ما تَقَدَّم من ذُنْبِه .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَالضَّآلِّیْنَ)پڑھتا ہے اور آمین كہتا ہے تو تم بھی آمین كہو۔كیونكہ فرشتے بھی اس كی دعا پر آمین كہتے ہیں۔ تو جس شخص كی آمین فرشتوں كی آمین كے موافق ہوگئی۔ اس كے پچھلے تمام گناہ معاف كردیئے جاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2534) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5741) .
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ في مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِّنْ صَلَاتهِ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص مسجد میں اپنی( فرض) نماز پوری كر لے تو اپنی نماز كا كچھ حصہ اپنے گھر میں پڑھے۔ كیونكہ اللہ تعالیٰ گھر میں نماز پڑھنے كی وجہ سے بھلائی عطا كرتا ہے۔
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم نہیں جانتے تھے كہ ہم دو ركعتوں میں كیا پڑھیں؟ ہم تو صرف تسبیح، تكبیر اور اپنے رب كی تحمید كیا كرتے تھے۔ اور یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خرأ كی ابتداء و انتامء سكھلادی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دو ركعتوں میں بیٹھو تو یہ كہا كروالتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ترجمہ: تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں، اے نبی آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکات ہوں،ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر جو دعا اسے پسند ہو وہ دعا كرے۔
ابو ایوب انصاریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا مجھے ایك مكمل ومختصر نصیحت كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز كے لئے كھڑے ہوا كرو تو الوداعی نماز سمجھ کر پڑھا كرو، اور كوئی ایسی بات نہ كہو جس كی وجہ سے تمہیں كل معذرت كرنی پڑے، اور لوگوں كے پاس جو كچھ ہے اس سے مایوس ہو جاؤ
سمرہ بن جندبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں كھڑے ہوا كرو تو اپنے امام سے ركوع و سجود میں جلدی نہ كیا كرو ،لیكن وہ تم سے سبقت كرتا رہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1393) المعجم الكبير للطبراني رقم (6891) .
عَنْ رَجُلٍ مِّنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَتَى أُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ؟ قَالَ: إِذَا مَلَأَ اللَّيْلُ بَطْنَ كُلِّ وَادٍ فَصَلِّ الْعِشَاءَ الآخِرَة
ایك جہنی شخصرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیامیں عشاءكی نماز كب پڑھا كروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات كا اندھیرا ہر وادی میں پھیل جائے، تب عشاء كی نماز پڑھو۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جب جمعہ كے دن تم میں سے كسی شخص كو اونگھ آئے تو وہ اپنی اس جگہ سے اٹھ كر دوسری جگہ چلا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (468) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الرَّجُلِ يَنْعَسُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ رقم (944) مسند أحمد رقم (4643) .
عن أَنس رضی اللہ عنہ قال: أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: إِذَا نُودِي بِالصَّلَاة فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ . ( )
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازكے لئے پكارا جاتا ہے تو آسمان كے دروازے كھول دیئے جاتے ہیں، اور دعا قبول كی جاتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1413) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (3962) .
عن عبد الله بن مغفل قَالَ: قَالَ النَّبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَاْ وَجَدْتُمْ الإِمَامَ سَاجِداً فَاسْجُدُوا أَوْ رَاكِعاً فَارْكَعُوا أَوْ قَائِماً فَقُومُوا وَلَا تَعْتَدُوا بِالسُّجُودِ إِذَا لَمْ تُدْرِكُوْا الرَّكْعَةَ.
عبداللہ مغفل مزنیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم امام كو سجدے كی حالت میں پاؤ تو سجدہ كرو، یا ركوع كی حالت میں پاؤ تو ركوع كرو، یا قیام كی حالت میں پاؤ تو قیام كرو۔ اور جب تمہیں ركعت نہ ملے تو سجدوں كو شمار نہ كرو۔
عَنِ قَيْسِ بن طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طلق بن علی، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، خَمْسَةٌ مِنْ بني حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بني ضَبْعَةَ بن رَبِيعَةَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَبايعنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُوْرِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَبـَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ،ثم قَـالَ: اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ،وانْضَحُوا مَكَانَهَا مِنَ هذا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا ، فَقُلْنَا: يَا رسول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ: فَاَمِدُّوْهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا ، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَنَّا عَلَى حَمْلِ الْإِدَاوَة ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا؟ فَجَعَلَهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَوْباً بَينَناَ لِكُلّ رَجَلٍ مِنًّا يَوْمًا وَّلَيْلَةً ، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا وَرَاهِـبُ الْيَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَـيٍّ ، فَنَـادَيْنَا بِالصّـَلاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ
قیس بن طلق اپنے والد طلق بن علیرضی اللہ عنہ سے روایت بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ ہم چھ آدمی وفد بن كر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پانچ آدمی بنو حنیفہ سے اور ایك آدمی بنو ضبعۃ بن ربیعہ سے تعلق ركھتا تھا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تو ہم نے آپ كی بیعت كی، آپ كے ساتھ نماز پڑھی، اور انہیں بتایا كہ ہمارے علاقے میں كلیسا ہے۔اور ہم نے آپ سے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اس سے وضو كیا، كلی كی، پھر ایك برتن میں ہمارے لئے اسے ڈال دیا، پھر فرمایا: اس پانی كو لے جاؤ، جب تم اپنے شہر میں پہنچو تو اپنے كلیسےكو توڑ دینا، اور اس جگہ پر یہ پانی چھڑكنا اور اس جگہ مسجد بنا لینا، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمارا شہر دور ہے یہ پانی تو خشک ہوجائے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی كو زیادہ كر لینا وہ اسے پاكیزہ كرے گا، ہم باہر نكلے تو ہم اس برتن کو اٹھانے کے لئے آپس میں جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان باری مقرر فرمادی۔ ہم میں سے ہر شخص كی باری ایك دن اور ایك رات كی تھی۔ ہم اسے لے كر نكلے حتی كہ ہم اپنے شہر پہنچ گئے۔ پھر ہم نے وہی كام كیا جس كا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حكم دیا تھا۔ ان دنوں راہب قبیلہ طئے كا تھا، جب ہم نے نماز كے لئے پكارا(اذان دی) تو راہب نے كہا: یہ حق كی دعوت ہے اور بھاگ گیا اس كے بعد وہ نظر نہ آیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1430) المعجم الكبير للطبراني رقم (8162) .