عثمانرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: تمہارا كیا خیال ہے، اگر تم میں سے كسی شخص كے صحن میں سے ایك نہر گزر رہی ہو ، جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل كرے، كیا اس پر كوئی میل كچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے كہا: كچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازیں گناہوں كو اس طرح ختم كر دیتی ہیں جس طرح پانی میل كچیل كو ختم كر دیتا ہے۔
عن جَابِر بْنِ عَبْدِ الله قال: دَخَل سُلَيْك الْغَطَفَانِيّ الْمَسْجِدَ يَوَمَ الْجُمُعَة، وَرَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : ارْكَع رَكْعَتَيْن، وَلَا تَعُودَنّ لَمِثْل هذا -يعني التأخير فی المجئ الي الجمعة- قَالَ: فَرَكَعَهُمَا ثـم جَلَس .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا: جمعہ كے دن سكیّ غطفانی رضی اللہ عنہ مسجدمیں داخل ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےكہا: دو ركعتیں پڑھو، اور آئندہ ایسا نہ كرنا( یعنی جمعہ كے لئے آنے میں تاخیر نہ كرنا)وہ دو ركعتیں پڑھ کر بیٹھ گئے۔
عَنْ عَبْدِ الْمَلَك بْنِ الرَّبِيْع بْن سَبْرَة بْن مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عن جَدِّه قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : اسْتَتـرُوا فِي صَلَاتِكُم (وَفِي رِوَايَةٍ: لِيَسْتَتِر أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ) وَلَو بِسَهْم
سررہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں سترے كا اہتمام كیا كرو( اور ایك روایت میں ہے: تم میں سے ہر شخص سترے كا اہتمام كرے) اگرچہ تیر كے ساتھ ہی كیوں نہ ہو۔
عن أبي هُرَيْرَة قال: رَأَى رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا يُّصَلِّي وَالْمُؤَذِّن يُقِيْمُ فَقَال لَه رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَصَلَاتَانِ مَعًا؟.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آدمی كو نماز پڑھتے ہوئے دیكھا، جبکہ موذن اقامت كہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے كہا: كیا دو نمازیں اكٹھی ہیں؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2588) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5850) .
عن مَكْحُول عَنِ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّه قال: اطْلُبُوا اِسْتِجَابَة الدُّعَاء عِنْد اِلْتِقَاء الْجُيُوشِ وَإِقَامَةِ الصّلاة وَنُزُول الْمطَرِِ
مكحولرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا كی قبولیت لشكروں سے ٹكرانے كے وقت ،نماز كی اقامت كے وقت اور بارش كے نزول كے وقت تلاش كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1469) معرفة السنن والآثار للبيهقي رقم (2090) .
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھ كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كی پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی
Takhreej
الصحيحة رقم (2774) مشكل الآثار للطحاوي رقم (2690) .
طاؤس یمانی سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے كہا: لوگوں كا خیال ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ كے دن غسل كرو، اپنے سروں كو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہو، اور خوشبو لگاؤ؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: خوشبو كے بارے میں مجھے علم نہیں ، جبكہ غسل كی بات درست ہے
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا كہنے لگا: اے اللہ كے رسول اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر كتنی نمازیں فرض كی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض كی ہیںاس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس آدمی نے( اللہ كی ) قسم كھائی كہ: وہ اس میں زیادتی نہیں كرے گا، نہ ہی اس میں كمی كرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ كہا تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2794) سنن النسائي كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب كَمْ فُرِضَتْ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ رقم (455) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ،انہوں نے حمران بن ابان سے كہا: تمہیں جماعت كے ساتھ نماز پڑھنے سے كس چیز نے منع كیا؟ اس نے كہا: میں نے جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت پڑھ لی تھی۔ عبداللہرضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تمہیں یہ خبر نہیں ملی كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے نزدیک افضل نماز جمعہ كے دن صبح كی نماز باجماعت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1566) شعب الإيمان للبيهقي رقم (2909) .
ابو شجرہ سے مرفوعا مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں صفوں كو سیدھا كیا كرو، تم فرشتوں كی طرح صفیں بنایا كرو، كاندھے برابر كیا كرو، خالی جگہیں پر كیا كرو، شیطان كے لئے خالی جگہیں نہ چھوڑو۔ جس شخص نے صف كو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (743) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ باب تسوية الصفوف رقم (570) .
ابو ذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا یا میں نے پوچھا: اے اللہ كے رسول مال و دولت والے اجر لے گئے، جس طرح ہم كہتے ہیں وہ بھی كہتے ہیں( كرتے ہیں)، وہ خرچ كرتے ہیں لیكن ہم خرچ نہیں كر سكتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا میں تمہیں ایسے عمل كے بارے میں نہ بتاؤں كہ جب تم وہ عمل كرو گے تو تم اپنے ان ساتھیوں کے برابر پہنچ جاؤ گے اور اپنے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ گےتم ہر نماز كے بعد اللہ كی حمد، تسبیح اور بڑائی بیان كرو، (الحمدللہ ، سبحان اللہ)٣٣،٣٣ مرتبہ اور اللہ اکبر 34 مرتبہ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1125) سنن إبن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ رقم (917) .
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِصَلاَةِ الْمُنَافِقِ؟ أَنْ يُّؤَخِّرَ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشمسُ كَثَرْبِ الْبَقَرَةِ صَلاَّهَا »
رافع بن خدیجرضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہیں منافق كی نماز كے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ عصر كی نماز مو خر كر تا رہتا ہے حتی كہ جب سورج گائے كی كھال كی طرح زرد ہوجاتا ہے، تو پھر نماز پڑھتا ہے۔
عوف بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ،نو ،آٹھ، یا سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے ابھی كچھ عرصہ پہلے ہی بیعت كی تھی۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ! ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: كیا تم اللہ كے رسول كی بیعت نہیں كرو گے؟ ہم نے اپنے ہاتھ آگے كر دیئے اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كی بیعت كر چكے ہیں، اب كس بات پر بیعت كریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر كہ تم اللہ كی عبادت كرو گے، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہیں كرو گے، پانچ نمازیں ادا كروگے، اور فرمانبرداری كرو گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات آہستہ سے كہی ’’اور تم لوگوں سے كسی بھی چیز كا سوال نہیں كرو گے۔ عوفرضی اللہ عنہ نے كہا كہ میں نے اس جماعت كے كچھ لوگوں كو دیكھا، ان میں سے كسی كا كوڑا بھی گر جاتا تو اسے پكڑ انے كے لئے كسی سے سوال نہیں كرتا تھا۔‘‘
عن طَلْحَة بن عُبَيْد الله رضی اللہ عنہ أَن رَجُلَيْن من بَلِيً وَهو حَيٌّ مَّنْ قُضَاعَة، قُتِل أَحَدُهُمَا في سَبِيْلِ الله، وَأُخِّر الْآخَر بَعْدَه سَنَة، ثم مَات. قال طَلْحَة: فَرَأَيْتُ في الْمَنَام الْجَنَّةَ فُتِحَتْ، فَرَأَيْتُ الْآخَر مِنَ الرَّجُلَيْن دَخَلَ الْجَنَّة قَبْل الْاَوَّلِ فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتُ ذَكَرَتُ ذَلِك، فَبَلَغَت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لي رَسُـول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَيْـس قَد صَام بَعْدَه رَمَضَان؟ وَصَلَّى بَعْدَه سِتَّةَ رَكْعَةٍ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةٍ لِصَلَاةِ اٰلَافِ السَّنَہِ
طلحہ بن عبیداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ بلی جو كہ قضاعہ كا ایك قبیلہ تھا، كے دو آدمی تھے، ان میں سے ایك اللہ كے راستے میں قتل كر دیا گیا، جبكہ دوسرا شخص اس كے ایك سال فوت ہوا، طلحہ نے كہا كہ: میں نے خواب میں جنت كو دیكھا کہ جنت كا دروازہ كھول دیا گیا ہے۔ میں نے دوسرے شخص كو دیكھا كہ وہ پہلےشخص سے پہلےجنت میں داخل ہو رہا ہے۔مجھے تعجب ہوا، جب صبح ہوئی تو مجھے یہ خواب یاد آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات كا تذكرہ كیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا اس نے اس كے بعد رمضان كے روزے نہیں ركھے؟ اور اس كے بعد چھ ہزار ركعات ادا نہیں كیں ، اور سال کی اتنی اتنی ركعتیں ؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2591) مشكل الآثار للطحاوي رقم (1914) .
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ كے ایك بندے كے بارے میں حكم دیا گیا كہ اسے قبر میں سو كوڑے مارے جائیں۔ وہ التجاو دعائیں كرتا رہا حتی كہ ایك كوڑا بطور سزا رہ گیا۔ اسے ایك كوڑا مارا گیا، اس كی قبر آگ سے بھر گئی، جب آگ ختم ہوئی اور اسے كچھ افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھے كس وجہ سے كوڑا مارا ہے؟ فرشتوں نے كہا: تم نے ایك نماز بغیر طہارت كے پڑھی تھی، اور تم ایك مظلوم كے پاس سے گزرے تھے لیكن تم نے اس كی مدد نہیں كی تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2774) مشكل الآثار للطحاوي رقم (2690) .