TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ فُضَالَةَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي، أَنْ قَالَ لی: حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ، إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، قَـالَ: حَافِـظْ عَـلَى الْعَصْرَيْنِ: صَلاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا
فضالہ لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تعلیم دی، انہوں نے مجھے جو تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی كہ، پانچ نمازوں كی حفاظت كرو، میں نے كہا: ان اوقات میں مجھے مصروفیت ہوتی ہے۔ مجھے كسی جامع كام كا حكم دیجئے۔ جب میں وہ كام كروں تو مجھے كفایت كر جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصرین كی حفاظت كرو، ایك نماز طلوع شمس سے پہلے اور ایك غروب شمس سے پہلے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1813) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ رقم (364) .
615
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْدِمْنَا فَقَالَ: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَقَالَ: خِرْ لِي قَالَ: خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُـلَامَ الْآخَـرَ فَقَالَ: اسْتَـوْصِ بِهِ خَـيْرًا ثُـمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ! مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ؟ قَالَ: أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے آئے ان كے ساتھ دو غلام تھے۔ علی‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمیں خادم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے جسے چاہولے لو، علی‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرے لئے پسند كیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسے لے لو، اور اسے مارنا مت، كیونكہ میں نے اسے خیبر سے آتے ہوئے نماز پڑھتے دیكھا ہے۔ اور مجھے نمازیوں كو مارنے سے منع كیا گیا ہے۔ابو ذر‌رضی اللہ عنہ كو دوسرا غلام دیا اور اس كے بارے میں بھلا ئی كا حكم دیا ، پھر فرمایا: اے ابو ذر تم نے غلام كا كیا كیا جو میں نے تمہیں دیا تھا؟ انہوں نے كہا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حكم دیا تھا كہ اس كے ساتھ بھلائی كروں تو میں نے اسے آزاد كر دیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1428) مسند أحمد رقم (21198) .
616
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ فَجَاءَتْهُ الْأَنْصَارُ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ يَقُولُ: هَكَذَا وَبَسَطَ كَفَّهُ وَبَسَطَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ كَفَّهُ وَجَعَلَ بَطْنَهُ أَسْفَلَ وَجَعَلَ ظَهْرَهُ إِلَى فَوْقٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قباء کی طرف نماز پڑھنے كے لئےآئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس انصار آئے اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نماز پڑھ رہے تھے کہ انھوں نے سلام کہا۔ میں نے بلال‌رضی اللہ عنہ سےپوچھا: تم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كو كس طرح جواب دیتے ہوئے دیكھا جب یہ سلام كہہ رہے تھے اور آپ حالت نما ز میں تھے؟ بلال نے كہا: آپ اس طرح كر رہے تھے اور اپنی ہتھیلی كھولی، جعفر بن عون نے بھی اپنی ہتھیلی كھولی اور اس كے اندر كا حصہ نیچے اور پشت والا حصہ اوپر كیا
Takhreej
الصحيحة رقم (185) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب رَدِّ السَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ رقم (792) .
617
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَائَشَة مَرْفُوْعاً: خِصَالُ سِتٍّ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ في وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، إِلَا كَانتْ ضَامِنًا عَلَى الله أَن يُدْخِلَه الْجَنَّةَ: رَجَلٌ خَرَجَ مُجَاهِدًا، فَإِن مَاتَ في وَجْهِه كَان ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ تَبِعَ جَنَازَةً، فَإِن مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ عَادَ مَرِيضًا، فَإِن مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوَضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إلى المَسْجِدِ لصَلَاتِهِ، فَإِنَّ مَاتَ في وَجْهِهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ أَتَى إِمَامًا، لَا يَأْتِيَه إِلَا لِيُعَذِّرهُ وَيُوَقِّرَهُ، فَإِنْ مَاتَ في وَجْهِهِ ذَلِكَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله، وَرَجُلٌ في بَيْتِه لَا يَغْتَابُ مُسْلِمًا، وَلَا يَجُرُّ إِلَيْهم سَخَطاً وَلَانَقْمَةً، فَإِنْ مَاتَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى الله
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ : چھ حالتیں ایسی ہیں جو بھی مسلمان ان میں سے كسی ایك حالت میں فوت ہوا تو اللہ پر ذمہ ہے كہ وہ اسے جنت میں داخل كر دے۔ (١) وہ شخص جو جہاد كرنے كے لئے نكلا ،اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو اللہ كا ذمہ ہے، (٢) وہ شخص جو كسی جنازے كے ساتھ چلا، اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٣)وہ شخص جس نے كسی مریض كی عیادت كی اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٤)وہ شخص جس نے اچھی طرح وضو كیا پھر نماز پڑھنے كے لئے مسجد كی طرف چلا اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٥)وہ شخص جوكسی شرعی امیر كے پاس آیا اس كے پاس صرف اس كی مدد اور عزت كے لئے آیا اگر یہ اسی حالت میں مرگیا تو یہ اللہ كے ذمے میں ہے،(٦)وہ شخص جو اپنے گھر میں ہے كسی مسلمان كی غیبت نہیں كرتا، نہ ان پر ناراضگی كا اظہار كرتا ہے، اور نہ غصے كا، اگر وہ مرگیاتو وہ اللہ كے ذمے میں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3384) المعجم الأوسط للطبراني رقم (3964)
618
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قال: مرَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى قَبْرٍ دُفِنَ حَدِيثًا فَقَالَ: رَكْعَتَان خَفِيفَـتَان مِمَّـا تَحْقِـرُون وتَنْـفُلُون يَزِيدُهُما هَذا في عَمَلِه أَحَبَّ إِلَيْه مِنْ بَقِيةِ دُنْيَاكُم .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك نئی قبر كے پاس سے گزرے تو فرمایا: دو ہلكی پلكی ركعتیں ہیں ،جنہیں تم حقیر اور اضافی چیز سمجھتے ہو، اگر یہ شخص دو رکعتوں کا اہتمام کرلیتا تو اب اسے تمہاری بقیہ پوری دنیا سے زیادہ عزیز ہوتیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1388) الزهد والرقاق لإبن المبارك رقم (33) .
619
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولَ اللهِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمْ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : زَادَكَ اللهُ حِرْصًـا وَلَا تَعُدْ
ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ (نماز میں) اس وقت پہنچے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ركوع كی حالت میں تھے، ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ نے صف سے پہلے ہی ركوع كر لیا۔ پھر صف كی طرف چل پڑے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: تم میں سے كس شخص نے صف سے پہلے ركوع كیا پھر صف كی طرف بڑھا؟ ابو بكرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری حرص زیادہ كرے اور آئندہ ایسا نہ كرنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (230) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الرَّجُلِ يَرْكَعُ دُونَ الصَّفِّ رقم (586) .
620
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَائَشَة قَالَت : قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : سَجْدَتَا السَّهْوِ تُجْزِئُ فِي الصَّلاَةِ مِنْ كُلِّ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَان
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہتی ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدۂ سہو نماز میں ہر كمی و زیادتی سے كفایت كر جاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1889) المعجم الكبير للطبراني رقم (5290) .
621
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: شَرَفُ الْمُؤْمنِ صَلَاتهُ بِاللَّيْل ، وعِزُّه اسْتِغْنَاؤُهُ عَمَّا في أَيْدِي النَّاس .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن كا شرف رات كو نماز پڑھنے میں ہے، اور اس كی عزت اس چیز سے مستغنی ہوجانے میں ہے جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1903) فوائد تمام رقم (1022) .
622
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
) عن ابن عباس قال : صَلَّى بِنَا بِالْمَدِيْنَة ثَمَانِية وَسَبْعاً : الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْربَ وَالْعِشَاءَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینے میں آٹھ اور سات ركعتیں نماز پڑھائی، ظہراور عصر، مغرب اور عشاء۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2795)
623
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ الله ابن بُحَيْنَة: صَلَّى لَنا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ، (وفِي رِوَايَة: صَلَاةَ الظُّهْرِ)، فَقَام مِنِ اثْنَتَيْن (وَلَمْ يَجْلِسْ) فَسُبِّحَ بِه (فَلَمّا اعْتَدَلَ مَضَى وَلَمْ يَرْجِع)، (فَقَامَ النّاسُ مَعَه)، فَمَضَى حَتَّى (إذَا) فرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَلَم يَبْق إِلَا السَّلَام، (وَ انْتَظَرَ النّاسُ تَسْلِيْمَه) سَجَدَ سَجْدَتَيْن، (يُكَبِّرُ فِي كُل سَجْدَةٍ، وَهُو جَالِس) قَبْل أَن يُسَلّم (ثُمّ سَلَّم) ، (وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَه ، مَكاَن مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلوس)
عبداللہ بن بحینہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایك نماز پڑھائی( اور ایك روایت میں ہے ظہر كی نماز) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌دو ركعتیں پڑھ كر كھڑے ہوگئے( بیٹھے نہیں) ۔ سبحان اللہ كہا گیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہوگئے تو پھر كھڑے ہی رہے واپس بیٹھے نہیں)۔لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ كھڑے ہوگئے یہاں تک کہ نماز مکمل کر لی اور سلام باقی رہ گیا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے سلام كا انتظار كر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے (ہر سجدے میں اللہ اکبر کہتے)( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا)۔( لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ سجدے كئے۔ یہ سجدے تشہد میں بیٹھنے سے بھول كی وجہ سےتھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2457) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (1150) .
624
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! حَدِّثْنِي حَدِيْثاً وَاجْعَلْهُ مُوجِزًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِن كُنْتَ لا تَرَاهُ فَإِنَّه يَرَاكَ، وَأْيِسْ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ تَعْشُ غَـنِيًّـا، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ایك آدمی آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے رسول مجھے كوئی حدیث بیان كیجئے جو جامع ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: الوداع ہونے والے شخص كی طرح نماز پڑھو، گویا كہ تم اللہ كو دیكھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیكھ رہے تو وہ تمہیں دیكھ رہا ہے، اور لوگوں كے ہاتھوں میں جو كچھ بھی ہے اس سے مایوس ہو جاؤ تم غنی بن كر زندگی گزارو گے۔ جس بات كی وجہ سے معذرت كرنی پڑے اس سے بچو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1914) المعجم الكبير للطبراني رقم (524) .
625
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُّصَلُّونَ فِي الضُّحَى فَقَالَ: أَمَا لَقَدْ عَلِـمُوا أَنَّ الصّـَلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ ترْمضُ الْفِصَال
قاسم شیبانی سے مروی ہے كہ زید بن ارقم‌رضی اللہ عنہ نے ایك قوم كو دیكھا جو چاشت كے وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ تو انہوں نے كہا: كیا انہیں معلوم نہیں كہ اس گھڑی كے علاوہ دوسرے وقت میں نماز افضل ہے؟ كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اوابین كی نماز اس وقت ہے جب اونٹنی كے بچے كے پاؤں جلنے لگیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1164) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا بَاب صَلَاةِ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ رقم (1237) .
626
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ مَرْفُوْعاً: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْـنَى مَثْـنَى وَجَـوْفُ اللَّيْلِ الْآخِـر أَجْوَبُهُ دَعْوَةً. قـال: قُلْـتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَجْوَبُهُ ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ
عمرو بن عبسہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : رات كی نماز دو دو ركعت ہے۔ اور رات كے آخری حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے كہا: كیا یہ( قبولیت) واجب ہو جاتی ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا نہیں ، بلكہ زیادہ قبولیت كا موقع مل جاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1919) مسند أحمد رقم (18629) .
627
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قال: قال رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : صَلَاةُ الرَّجُلِ في جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِه وَحْـدَه خَمْـسًا وَعِشْرِين دَرَجَةً، فَإِذَا صَلَّاهَا بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَأَتَمَّ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا بَلَغَتْ صَلَاتهُ خَمْسِينَ دَرَجَةً .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت كی نماز آدمی كے اكیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ افضل ہے، اور اگر وہ كسی جنگل میں نمازپڑھے، اس كا وضو ركوع اور سجود پورے كرے تو اس كی نماز پچاس گنا درجے تك پہنچ جاتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3475) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (975) مسند عبد بن حميد رقم (978) .
628
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ قبَاثِ بن أَشْيَمَ اللَّيْثِى مَرفُوعاً: صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا، صَاحِبهُ أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ ثَمَانِيَةٍ تَتْرَى ، وَصَلاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّهُمْ أَحَدُهُمْ، أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ مِائَةٍ تَتْرَى
قا ث بن اشیم لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:دو آدمیوں کی نماز كہ ان میں سے ایك امامت كروائے، اللہ كے نزدیك پے درپے پڑھی جانے والی آٹھ نمازوں سے بہتر ہے۔ اور چار آدمیوں كی نماز كہ ان میں سے ایك شخص امامت كروائے اللہ كے نزدیك ان سو نمازوں سے بہتر ہے جو پے در پے پڑھی جائیں؟
Takhreej
الصحيحة رقم (1912) السنن الكبرى للبيهقي .
629
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ مَرْفُوْعاً: صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلي النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: (نفلی نماز) بیٹھ كر نماز پڑھنے والے كا اجر كھڑے ہو كر نماز پڑھنے والے كے اجر كا نصف ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3033) موطأ مالك كتاب النِّداءِ لِلصّلاةِ بَاب فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ رقم (284) أحمد رقم (6223) .
630
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عُثْمَان بن الأَرْقَمْ (عَنْ جَدِّهِ الأرقم) أَنَّه قَالَ: جِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ لِي: أَيْن تُرِيدُ ؟ فقُلْتُ: إلي بَيْت الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: إِلَى تِجَارَةٍ ؟ فقُلْتُ: لاَ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَصَلِّيَ فِيْهِ، قَالَ: صَلَاةٌ هَاهُنَا – يُرِيدُ الْمَدِيَنَة- خَيْرٌ مِنْ أَلِفِ صَلَاةٍ هَاهُنَا –يُرِيد: إِيلِيَاء
عبداللہ بن عثمان بن ارقم( اپنے دادا ارقم رضی اللہ عنہ )سے بیان كرتے ہیں،انہوں نے كہا كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے كہا: تم كہاں جا رہے ہو؟ میں نے كہا: بیت المقدس،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارت كی غرض سے؟ میں نے كہا: نہیں، لیكن میں وہاں پر نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہاں كی نماز یعنی مدینے میں ، وہاں یعنی بیت المقدس میں(نماز پڑھنے سے)كی نماز سے ایك ہزار گنا افضل ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2902) مشكل الآثار للطحاوي رقم (498) .
631
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرْفُوْعاً: صَلُّوا صَلاةَ الْمَغْرِبِ مَعَ سُقُوطِ الشَّمْسِ بَادِرُوا بِهَا طُلُوعَ النَّجْمِ.(
ابو ایوب‌رضی اللہ عنہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان كرتے ہیں کہ :سورج غروب ہوتے ہی مغرب كی نماز پڑھ لو، اور ستاروں كے طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا كر لو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1915) المعجم الكبير للطبراني رقم (3952) .
632
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : صَلُّوْا فِي بُيُوْتِكُمْ وَ لَا تَتْرُكُوْا النَّوَافِلَ فِيْهَا
انس اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، ان میں نوافل پڑھنا نہ چھوڑو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1910).
633
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن ابى هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ مَرْفُوْعاً: صَلُّوْا في مَرَاحِ الْغَنَمِ وَامْسَحُوا رِغَامَهَا فَاِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّة
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:بكریوں كے باڑے میں نماز پڑھ لواور(اگر باڑے میں جاتے ہوے بکری کی ناک لگ جائے تو وہ نجس نہیں بلکہ اس کو )صاف کردیا کرو، كیونكہ یہ جنت كے چوپائے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1128) السنن الكرى للبيهقي .
634
Sahih

Chapters

1