عبداللہ مزنیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو ركعت نماز پڑھی پھر فرمایا: مغرب كی نماز سے پہلے دو ركعتیں پڑھو، (تین دفعہ فرمایا اور) پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو پڑھنا چاہے، اس ڈر سے كہ كہیں لوگ اسے لازم نہ سمجھ لیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (233) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ رقم (1089) .
قَالَ عَبْدُاﷲِ بن مَسْعُودٍ: جَمَعَ رَسُوّلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم : بَیّنَ الأُولَی وَالْعَصْرِ، وَبَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ، فَقِیْلَ لَہُ، فَقَالَ: صَنَعْتُ ھٰذَا لِکَيْ لَا تُحْرَجُ أُمَّتِي۔
عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ میری امت پر مشکل نہ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (233) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الصَّلَاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ رقم (1089) .
ازرق بن قیس سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كو دیكھا آپ نماز میں ہاتھوں کا سہارا لے رہے تھے (یعنی مٹھیاں بنا رہے تھے ) جب كھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں كا سہارا لیتے، میں نے كہا: ابو عبدالرحمن یہ كیا ہے؟ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو نماز میں ہاتھوں کا سہارا لیتے دیکھا
Takhreej
الصحيحة رقم (2674) المعجم الكبير للطبراني رقم (902) .
عثمان بن ابی العاص نے كہا كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جوآخری كلام كیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف كا نگران بنایا وہ یہ تھاكہ لوگوں كو ہلكی نماز پڑھانا حتی كہ ﴿سورۃ الاعلى، سورۃ العلق﴾اور اس طرح كی دوسری سورتیں مقرر كر دیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایك صحابی كی عیادت كی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ تھا۔ آپ اس كے پاس تو وہ ایک لکڑی پر نماز پڑھ رہا تھا۔ (سجدے کے وقت وہ اپنی پیشانی لکڑی پر رکھ دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف (منع کے انداز میں) اشارہ کیا تو اس نے لکڑی پھینک کر تکیہ لے لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر ہو سكے تو زمین پر سجدہ كرو، وگرنہ اشارہ كردو، اور اپنے سجدے كو ركوع سے زیادہ نیچے لے جاؤ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (323) المعجم الكبير للطبراني رقم (12906) .
)(ايك روايت ميں ہے)نہیں لیكن مصافحہ كرو۔ یعنی اپنے دوست كے لئے نہ جھكے نہ اس سے چمٹےاور جب اس سے ملے تو اس كا بوسہ نہ لے۔ انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم میں سے كوئی شخص اپنے دوست سے ملتا ہے تو كیا اس كے لئے جھكے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ، اس نے كہا، اس گلے لگائے اور اس كا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں ۔ اس نے كہا اس سے مصافحہ كرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں اگر چاہے تو۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں بہترین شخص وہ ہے جس كے كاندھے نماز میں نرم رہتے ہیں، كوئی قدم اجر كے لحاظ سے اس قدم سے بڑھ كر نہیں جو صف كی خالی جگہ پر كرنے كے لئے بڑھا
Takhreej
الصحيحة رقم (2533) المعجم الكبير للطبراني رقم (813) .
عن أبي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصَّلَاةُ ثَلَاثةُ أَثْلَاثٍ الطَّهُوْرُ ثُلُثٌ وَالرُّكُوعُ ثُلُثٌ وَالسُّجُودُ ثُلُثٌ فَمَنْ أَدَّاهَا بِحَقِّهَا قُبِلَتْ منه وَقُبِلَ مِنْهُ سَائِرُ عَمَلِهِ وَمَنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاته رُدّ عَلَيْهِ سَائِرُ عَمَلِه.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تین حصوں میں تقسیم ہے، پاكیزگی ایك تہائی ہے،اور رکوع ایک تہائی ہے اورسجدے ایك تہائی ہیں، جس نے اسے كماحقہ ادا كیا تو اس كی نماز قبول كی جائے گی، اور اس كے سارے اعمال قبول ہوں گے اور جس كی نماز مردود ہوگئی اس كے سارے اعمال مردود ہو گئے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك صحابی سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا: كونسا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز كو وقت پر ادا كرنا، والدین كے ساتھ نیكی كرنا اور جہاد كرنا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَـا اجْتُنِبَـتِ الْكَبَائِـرُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ .
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پانچ نمازیں اپنے درمیانی اوقات كے گناہوں كا كفارہ ہیں جب تك كبائر سے اجتناب کیا جاتارہے، اور جمعہ دوسرے جمعہ تك گناہوں كا كفارہ ہے اور تین دن زیادہ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1920) المطالب العالية للحافظ ابن حجر رقم (703) بغية الحارث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: پانچ نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیانی اوقات تک گناہوں کا کفارہ ہیں۔ جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جاتا رہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1920) المطالب العالية للحافظ ابن حجر رقم (703) بغية الحارث .
عَنِ ابن عَبَاسٍ:أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسْجُدُ عَلَى وَجْهِهِ وَلَا يَضَعُ أَنْفَه قَالَ:ضَعْ أَنْفَكَ يَسْجُدُ مَعَكَ. ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایك آدمی كے پاس آئے ،جو اپنے چہرے كے بل سجدہ كر رہا تھا۔ لیكن ناك زمین پر نہیں لگا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ناك ركھو یہ بھی تمہارے ساتھ سجدہ كرے۔
ابو موسیٰرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں اور میرے ساتھ جو میرے ساتھ كشتی میں (جثہ سے) آئے تھے بقیع بطحان میں ٹھہرے ہوئے تھے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں تھے، ان میں سے ایك گروہ ہر رات نماز عشاء كے وقت بار ی باری نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آتا۔ میں اور میرے ساتھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كسی كام میں مصروف تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تاخیر كی حتیٰ كہ آدھی رات ہوگئی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مكمل كی تو حاضرین سے کہا کہ: اپنی جگہ ٹھہرو۔ (پھر فرمایا) خوش ہو جاؤ، تم پر اللہ كی نعمت ہے كہ تمہارے علاوہ اس گھڑی میں كوئی نماز نہیں پڑھ رہایا فرمایا: تمہارے علاوہ یہ نماز كسی (اس وقت) نے نہیں پڑھی۔ معلوم نہیں آپ نے كونسا كلمہ كہا؟ ابو موسیٰ نے كہا: ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات سنی تھی اس كی وجہ سے خوشی خوشی واپس پلٹے
Takhreej
الصحيحة رقم (3969) صحيح البخاري كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ الْعِشَاءِ رقم (534) .
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو ركعتوں میں تشہد اور رسولوں پر سلام بھیجنا ہے اور اللہ کے ان نیک بندوں پر جنہوں نے (رسولوں) کی پیروی کی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلاَةُ وَفَجْرٌ تحْرُمُ فِيهِ الصَّلاَةُ وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہیں، ایك فجر جس میں (سحری) كھانا ممنوع ہو جاتا ہے، اور نماز (فجر) جائز ہو جاتی ہے، اور دوسری فجر جس میں نماز (فجر) ممنوع ہوتی ہے اور كھانا (سحری) جائز ہوتا ہے۔
عن جابر بن عبد الله قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ يُقَالُ لَهُ: ذَنَبُ السِّرْحَان وَهُوَ الْكَاذِبُ يَذْهَبُ طُوْلاً وَلَا يَذْهَبُ عَرْضًا وَالْفَجْرُ الآخِرُ يَذْهَبُ عَرْضًا وَلَا يَذْهَبُ طُوْلًا. ( )
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہیں ایك فجر جسے ذنب السرحان(بھیڑئے کی دم) كہا جاتا ہے۔ یہ (فجر)كاذب ہے۔ یہ لمبائی میں پھیلتی ہے ،چوڑائی میں نہیں ۔ اور دوسری فجر(صادق) چوڑائی میں پھیلتی ہے، لمبائی میں نہیں ۔
ابو قتادہ بن ربعیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتے ہیں: میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض كی ہیں، اور میں نے اپنے پاس ایك عہد كیا ہے كہ جس شخص نے ان كے اوقات پر ان كی محافظت كی میں اسے جنت میں داخل كروں گا۔ اور جس نے ان كی حفاظت نہیں كی اس كے لئے میرے پاس كوئی عہد نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (4033) سنن ابن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ...رقم (1393)
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں ، گویا كہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم كی پہلو كی سفیدی دیكھ رہا ہوں(ہاتھوں کو چوڑا کرنے کی وجہ سے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے كی حالت میں ہیں
عن أبي هُرَيْرَة ، أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كَان إِذا أَرَاد أَن يَسْجُدَ كَبَّر ثم يَسْجُد ، وَإِذَا قَام من الْقَعْدَة كَبَّر، ثُمَّ قَام .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے كا ارادہ كرتے تو پہلے تكبیر كہتے ،پھر سجدہ كرتے، اور جب قعدے سے كھڑے ہوتے تو پہلے تكبیر كہتے پھر كھڑے ہوتے
Takhreej
الصحيحة رقم (604) مسند أبي يعلى الوصلي رقم (5894) .