TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1225 - تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 37 of 123 in this chapter
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مَرْفُوعًا: إِنَّ رَبك ليَعْجَبُ لِلشَّابِّ لَا صَبْوَة لَهُ.
عقبہ بن عامرسے مرفوعا مروی ہے كہ: تمہارا رب اس نوجوان سے خوش ہوتا ہے جو خواہشات کی طرف مائل نہ ہو۔( )
1225
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (2843) مسند أحمد رقم (16731) المعجم الكبير للطبراني رقم (14269)

Related Chapters

56
1
Chapter: What Has Been Related About Doing Business Early
باب: سامان تجارت لے کر سویرے نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Someone Who Purchases A Slave And He Profited From him, Then He Found A Defect In Him
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
3
Chapter: About The Description Of The One For Whom The World Has Been Gathered
باب: زہد و قناعت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
4
باب: زہد و ورع سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
Mishkat
6
باب [فی البیع المشروط]
مشروط تجارت کا بیان
Mishkat
7
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
Musnad Ahmad
8
تجارت کے ذریعے کمائی کرنے کا بیان خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
ان چیزو ں کا بیان کہ جن کی تجارت جائزنہیں ہے شراب، نجس اور بے فائدہ چیزوں کی تجارت کا بیان
Musnad Ahmad
11
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
12
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
13
قافلوںکوملنے اور شہری کا دیہاتی کے لئے تجارت کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
14
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
15
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
16
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
17
فاسد شرط کے ہونے کے باوجود تجارت کے عقد کے صحیح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
18
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
Musnad Ahmad
19
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
21
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
Musnad Ahmad
22
(120) CHAPTER. The butcher should not be given anything of the Hady.
قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے
Sahih Bukhari
23
(150) CHAPTER. Trading during the time of Hajj, and selling in the markets of the Pre-Islamic Period.
زمانہ حج میں تجارت کرنا اور جاہلیت کے بازاروں میں خریدوفروخت کا بیان
Sahih Bukhari
24
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
25
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
26
(9) CHAPTER. Going out for trading.
تجارت کے لیے گھر سے باہر نکلنا
Sahih Bukhari
27
(10) CHAPTER. Trading in sea.
سمندر میں تجارت کرنے کا بیان
Sahih Bukhari
28
(51) CHAPTER. Weighing or measuring goods is to be done by the seller or the giver.
ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے ( خریدار پر نہیں )
Sahih Bukhari
29
(105) CHAPTER. Trade of alcoholic drinks is illegal.
شراب کی تجارت کرنا حرام ہے
Sahih Bukhari
30
(1) CHAPTER. To hire a pious man.
کسی بھی نیک مرد کو مزدوری پر لگانا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ
Sahih Bukhari
31
(2) CHAPTER. To shepherd sheep for Qirat.
چند قیراط کی مزدوری پر بکریاں چرانا
Sahih Bukhari
32
(3) CHAPTER. The employment of Mushrikun (by Muslims) if necessary, or if no Muslim is available for that purpose.
جب کوئی مسلمان مزدور نہ ملے تو ضرورت کے وقت مشرکوں سے مزدوری کرانا جائز ہے
Sahih Bukhari
33
(10) CHAPTER. The sin of him who withholds the wages of employee.
اس امر کا بیان کہ مزدور کی مزدوری مار لینے کا گناہ کتنا ہے
Sahih Bukhari
34
(11) CHAPTER. Employment from Asr till night.
عصر سے لے کر رات تک مزدوری کرانا
Sahih Bukhari
35
(13) CHAPTER. One who employs himself to carry loads on his back and then gives in charity from his wages, and (what is said about) the wages of porters.
جس نے اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کی یعنی حمالی کی اور پھر اسے صدقہ کر دیا اور حمال کی اجرت کا بیان
Sahih Bukhari
36
(15) CHAPTER. Is it permissible for a Muslim to work as an employee for Mushrikun in a land of infidelity?
کیا کوئی مسلمان دار الحرب میں کسی مشرک کی مزدوری کر سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(5) CHAPTER. Whoever manumits his portion of a common slave and does not possess enough money to manumit him completely, then that slave should be helped to work without hardship to earn what will enable him to get complete freedom according to the writing (of emancipation)
اگر کسی شخص نے ساجھے کے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ نادار ہے تو دوسرے ساجھے والوں کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے گی جیسے مکاتب سے کراتے ہیں ، اس پر سختی نہیں کی جائے گی ۔
Sahih Bukhari
38
(22b) CHAPTER. How a guardian is to deal with an orphan's wealth and what he can eat thereof according to his labour.
وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھالینا درست ہے
Sahih Bukhari
39
(120) CHAPTER. The labourer (whose services are hired for the purpose of Jihad).
جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو
Sahih Bukhari
40
Chapter: The verse: “And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing”
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ‘‘
Sahih Muslim
41
CHAPTER: If The Property Is Meant For Trade, Will Zakat Be Levied Upon It?
باب: کیا تجارتی سامان میں زکاۃ ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Taking Provisions For The Hajj.
باب: حج میں تجارت کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Regarding Fighting For Wages.
باب: مزدوری پر جہاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Engaging In Trade During Battle.
باب: جہاد میں تجارت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Levying The ’Ushur On Ahl Adh-Dhimmah If They Deal In Trade.
باب: ذمی مال تجارت لے کر پھریں تو ان سے عشر ( دسواں حصہ ) وصول کیا جائے گا ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Regarding Trade That Is Mixed With Swearing And Idle Talk.
باب: تجارت میں قسم اور لایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جاتی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Regarding Partnerships.
باب: تجارت میں شراکت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Regarding A Man Who Does Trade With Another Man’s Wealth Without His Permission.
باب: آدمی مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے تجارت کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding Meeting Merchants Outside The City.
باب: تاجروں سے بازار میں آنے سے پہلے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
50
تجارت میں احتیاط برتنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

300
Silsila Sahih
1308
عَنِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مرفوعا: لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ الدَّيْنُ.
عقبہ بن عامر سے مرفوعا مروی ہے كہ : خود كو امن میں آنے كے بعد خوف میں مبتلا نہ كرو۔ صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ خوف كونسا ہے؟ آپ نے فرمایا: قرض
Silsila Sahih
1324
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مرفوعا: إِذَا رَأَيْتَ اللهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَـلَا: الأنعام.فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ (۴۴)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم اللہ كو دیكھو كہ وہ بندے كو اس كے گناہوں كے باوجود دنیا سے دے رہا ہے تو سمجھ لو كہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت نہیں كرتا، كیوں كہ یہ اس كے لئے ڈھیل ہے، پھر یہ آیت تلاوت كی: ﴿الانعام:۴۴﴾ ترجمہ: پھر جو لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کردیئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملیں تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے۔( )
Silsila Sahih
3309
عَنْ عُقْبَةَ بْن عَامِرٍ الجُهنِي مرفوعا: مَنْ أَثْكَلَ ثَلَاثَةً مِّنْ صُلْبِهِ فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص کے تین بیٹے فوت ہوگئے اور اس نے نے اپنے تین بچوں كے مرنے پر اللہ سے ثواب كی امید ركھی، اس كے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے
Jam e Tirmazi
450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفْضَلُ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،‏‏‏‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَرْفُوعًا وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّضْرِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.
Zaid bin Thabit narrated that: The Prophet (S) said: The most virtuous prayer of yours is in your homes, except for the obligatory.
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي سُنَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَالْمَنَاكِيرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَعَ شَرَفِهِ يَكْذِبُ فِي الْحَدِيثِ.
Ibn Mas'ud narrated that : The Messenger of Allah said: Having food on the first day is was is obligatory, and having food on the second day is Sunnah, and having food on the third day is to be heard of, and whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of.
ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے روز کا کھانا حق ہے، دوسرے روز کا کھانا سنت ہے۔ اور تیسرے روز کا کھانا تو محض دکھاوا اور نمائش ہے اور جو ریاکاری کرے گا اللہ اسے اس کی ریاکاری کی سزا دے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث کو ہم صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ اور زیاد بن عبداللہ بہت زیادہ غریب اور منکر احادیث بیان کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا کہ وہ محمد بن عقبہ سے نقل کر رہے تھے کہ وکیع کہتے ہیں: زیاد بن عبداللہ اس بات سے بہت بلند ہیں کہ وہ حدیث میں جھوٹ بولیں۔
Jam e Tirmazi
1254
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ): A riding animal can be ridden while it is pawned, and a milking animal can be milked while it is pawned, and it is up to the one riding and drinking (the milk) to maintain it. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. We do now know of it being Marfu' except by the narration of 'Amir Ash-Sha'bi from Abu Hurairah. Others have reported this Hadith from Al-A'mash, from Abu Salih, from Abu Hurairah in Mawquf form. This is acted upon according to some of the people of knowledge, and it is the view of Ahmad and Ishaq. Some of the people of knowledge said that one may not benefit in any way from what is pawned.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواری کا جانور جب رہن رکھا ہو تو اس پر سواری کی جائے اور دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہو تو اس کا دودھ پیا جائے، اور جو سواری کرے اور دودھ پیے جانور کا خرچ اسی کے ذمہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے بروایت عامر شعبی ہی مرفوع جانتے ہیں، انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے اور اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفا روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رہن سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے۔
Silsila Sahih
349
عن عامر بن سعد ، عن أبيه مرفوعا: « طَهِّرُوا أَفْنِيَتَكُمْ ، فَإِنَّ اليَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا ».
عامر بن سعید اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ:اپنے صحن صاف رکھا کرو کیونکہ یہودی اپنے صحن صاف نہیں رکھتے۔
Silsila Sahih
2859
عن عقبة مرفوعا: « سَيَخْرُج أَقْوَام مِّنْ أُمَتِي يَشْرَبُون الْقُرْآن كَشُربهم الْمَاء ».
)عقبہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن کو پانی کی طرح پئیں گے۔( )s
Silsila Sahih
3316
عَنْ عُقْبَةَ مرفوعاً: الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ.
عقبہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ذات الجنب(نمونیا کی بیماری) سے مرنے والا شہید ہے۔( )