TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1434 - Chapter: What Has Been Related About Stoning The Married Adulterer - The book on legal punishments (al-hudud) - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
Chapter: What Has Been Related About Stoning The Married Adulterer
باب: شادی شدہ کو رجم (سنگسار) کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا،‏‏‏‏ الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ الرَّجْمُ،‏‏‏‏ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَنَفْيُ سَنَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ،‏‏‏‏ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،‏‏‏‏ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ الثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ،‏‏‏‏ وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ،‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَغَيْرُهُمَا،‏‏‏‏ الثَّيِّبُ إِنَّمَا عَلَيْهِ الرَّجْمُ،‏‏‏‏ وَلَا يُجْلَدُ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ هَذَا فِي غَيْرِ حَدِيثٍ فِي قِصَّةِ مَاعِزٍ وَغَيْرِهِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ أَمَرَ بِالرَّجْمِ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَأْمُرْ أَنْ يُجْلَدَ قَبْلَ أَنْ يُرْجَمَ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ.
Narrated 'Ubadah bin As-Samit: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Take from me. For Allah has a way made for them : For the married person who commits adultery with a married person is one hundred lashes, then stoning. And for the virgin who commits adultery with a virgin is one hundred lashes and banishment for a year.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دین خاص طور پر زنا کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ۱؎ راہ نکال دی ہے: شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ ملوث ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہل علم صحابہ کا اسی پر عمل ہے، ان میں علی بن ابی طالب، ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی الله عنہم شامل ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: شادی شدہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا، بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- جب کہ صحابہ میں سے بعض اہل علم جن میں ابوبکر اور عمر وغیرہ رضی الله عنہما شامل ہیں، کہتے ہیں: شادی شدہ زنا کار پر صرف رجم واجب ہے، اسے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح دوسری حدیث میں ماعز وغیرہ کے قصہ کے سلسلے میں آئی ہے کہ آپ نے صرف رجم کا حکم دیا، رجم سے پہلے کوڑے لگانے کا حکم نہیں دیا، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ۲؎۔
1434
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 1434 In-book reference : Book 17, Hadith 16 English translation : Vol. 3, Book 15, Hadith 1434
صحيح، ابن ماجة (2550) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1434
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحدود ۳ (۱۶۹۰)، سنن ابی داود/ الحدود ۲۳ (۴۴۱۵)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۷ (۲۵۵۰)، (تحفة الأشراف : ۵۰۸۳)، و مسند احمد (۳/۴۷۵)، سنن الدارمی/الحدود ۱۹ (۲۳۷۲)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اللہ نے ایسے لوگوں کے لیے راہ نکال دی ہے، اس سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے «واللاتي يأتين الفاحشة من نسآئكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» ” یعنی تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کی موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکالے “ (النساء : ۱۵)، یہ ابتدائے اسلام میں بدکار عورتوں کی وہ عارضی سزا ہے جب زنا کی سزا متعین نہیں ہوئی تھی۔ ۲؎ : جمہور علماء اور ائمہ اربعہ کا یہی قول ہے کہ کوڑے کی سزا اور رجم دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے، کیونکہ قتل کے ساتھ اگر کئی حدود ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو صرف قتل کافی ہو گا اور باقی حدود ساقط ہو جائیں گی «واللہ اعلم» ۔

Related Chapters

203
1
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
Sahih Bukhari
2
(31) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married lady who has become pregnant through illegal sexual intercourse.
زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادیشدہ ہو
Sahih Bukhari
3
Chapter: Stoning of a married person for Zina
زنا (کی حد)میں شادی شدہ کو رجم کرنا
Sahih Muslim
4
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
5
CHAPTER: Stoning.
باب: شادی شدہ زانی کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
Musnad Ahmad
7
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
اہل کتاب کے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے اور اس معاملے میں اسلام کے شرط نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
9
(13) CHAPTER. The Statement of Allah: “Cut off (from the wrist joint) the (right) hand of the thief, male or female... (V.5:38)
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
Sahih Bukhari
10
(29) CHAPTER. The question of the ruler to the confessing person, “Are you married?
زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادیشدہ ہو ؟
Sahih Bukhari
11
(32) CHAPTER. Unmarried males and females (committing illegal sexual intercourse) should be flogged and exiled.
غیرشادیشدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کیا جائے
Sahih Bukhari
12
CHAPTER: A slave girl commits zina and has not been married.
باب: غیر شادی شدہ لونڈی زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
13
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Married A Woman His Father Was Married To (Previously)
باب: باپ کی بیوی سے شادی کرنے والے پر وارد سختی کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Confirming Stoning
باب: رجم کے ثبوت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Something Else About That Refraining From Stoning The Pregnant Woman Until She Gives Birth
باب: بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Stoning The People Of The Book
باب: اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Mujahid, The One Getting Married, And The Mukathib, And Allah's Help For Them
باب: مجاہد، شادی کرنے والے اور مکاتب غلام کے لیے مدد الٰہی کا بیان
Jam e Tirmazi
19
(25) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) at the Musalla (the open place where Eid prayer take place).
عیدگاہ میں رجم کرنا ( عیدگاہ کے پاس یا خود عیدگاہ میں )
Sahih Bukhari
20
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
ذمیوں کے احکام اور اگر شادی کے بعد انہوں نے زنا کیا اور امام کے سامنے پیش ہوئے تو اس کے احکام کا بیان
Sahih Bukhari
21
Chapter: Seeking permission of a previously-married woman in words, and of a virgin by silence
نکاح میں ثیبہ (جس کی پہلے بھی شادی ہوئی تھی) سے اس کے بولنے اور باکرہ سے اس کی خاموشی (عدمِ انکار) کے ذریعے سے اجازت لینا
Sahih Muslim
22
Chapter: It is recommended to get married and arrange marriages in Shawwal, and it is recommended to consummate the marriage in that month
شوال کے مہینے میں شادی کرنا، شادی کرانا اور شوال میں رخصتی ہونا مستحب ہے
Sahih Muslim
23
Chapter: Stoning Jews and Ahl Adh-Dhimmah for Zina
زنا (کے جرم )میں ذمی یہود کو رجم کی سزا
Sahih Muslim
24
CHAPTER: Stoning of Ma’iz bin Malik.
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: The stoning of the two jews.
باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Zakat On Acquired Wealth Until The Hawl Has Passed
باب: حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For the Muhrim To Marry
باب: حالت احرام میں محرم کی شادی کرانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Permission For That
باب: محرم کے لیے شادی کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Stoning After The Sun Has Passed The Zenith
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد جمرات کی رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Stoning The Jimar While Riding (And Walking)
باب: جمرات کی رمی پیدل اور سوار ہو کر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: (What Has Been Related About) The Manner Of Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کیسے کی جائے؟
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The People To Crowd When Stoning The Jimar
باب: جمرات کی رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے اور ہٹانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: The Talbiyah On Behalf Of Women And Stoning On Behalf Of Boys
باب: بچوں کے حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Giving Permission For The Shepherds To Stone A Day And Leave (Stoning) A Day
باب: چرواہوں کو ایک دن چھوڑ کر ایک دن جمرات کی رمی کرنے کی رخصت ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Looking at The Proposed Woman
باب: جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Marrying Virgins
باب: کنواری لڑکی سے شادی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Two Wali Giving The Same Woman In Marriage
باب: کسی لڑکی کی اگر دو ولی (الگ الگ جگہ) شادی کر دیں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of That
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About A Man Is Not To Propose To A Woman Who Has Been Proposed To By His Brother
باب: آدمی اپنے مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About A Married Couple Who Are Idolaters, Then One Of Them Accepted Islam
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

77
Jam e Tirmazi
1240
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَرْبَى بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الْبُرَّ بِالتَّمْرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيعُوا الشَّعِيرَ بِالتَّمْرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرُّ بِالشَّعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الْبُرَّ بِالشَّعِيرِ كَيْفَ شِئْتُمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَرَوْنَ أَنْ يُبَاعَ الْبُرُّ بِالْبُرِّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفَ الْأَصْنَافُ فَلَا بَأْسَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُبَاعَ مُتَفَاضِلًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِيعُوا الشَّعِيرَ بِالْبُرِّ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Narrated 'Ubadah bin As-Samit: That the Prophet (ﷺ) said: Gold for gold, kind for kind; silver for silver, kind for kind; dried-dates for dried-dates, kind for kind; wheat for wheat, kind for kind; salt for salt, kind for kind; and barley for barley, kind for kind. Whoever increases or seeks an increase, then he dealt with Riba. Sell gold for silver as you wish, hand to hand; and sell wheat for dried-dates as you wish, hand to hand; and sell barley for dried-dates as you wish, hand to hand. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Abu Hurairah, Bilal, And Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of 'Ubadah bin As-Samit is Hasan Sahih. Some of them reported this Hadith from Khalid, with this chain, and he said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. Some of them reported this Hadith from Khalid, from Abu Qilabah, from Ash'ath, from 'Ubadah from the Prophet (ﷺ). In that Hadith, they added that Khalid said: Abu Qilabah said: Sell wheat for barley as you wish, hand to hand. This Hadith is acted upon according to the people of knowledge, they do not think that one may sell wheat for wheat except when it is the same kind for the same kind, and (the same for) barely in exchange for barley, kind for kind. When the items are themselves different, then there is no harm in one being more than the other if it is hand to hand. This is saying of most of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ) and others. It is the view of Sufyan Ath-Thawri, Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Ash-Shafi'i said: And the proof for that is the saying of the Prophet (ﷺ): 'Sell barley for wheat as you wish, hand to hand.' [Abu 'Eisa said:] Some of the people of knowledge considered it disliked that wheat be sold for barely unless it was kind for kind. This is the view of Malik bin Anas, but the first view is more correct.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو، گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو، اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ گیہوں کو جو سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اور خالد نے ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ نے ابوالاشعث سے اور ابوالاشعث نے عبادہ سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: خالد کہتے ہیں: ابوقلابہ نے کہا: گیہوں کو جو سے جیسے سے چاہو بیچو۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، ۴- اس باب میں ابوسعید، ابوہریرہ، بلال اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے صرف برابر برابر ہی بیچنے کو جائز سمجھتے ہیں اور جب اجناس مختلف ہو جائیں تو کمی، بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بیع نقداً نقد ہو۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ جو کو گیہوں سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۶- اہل علم کی ایک جماعت نے جو سے بھی گیہوں کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے، الا یہ کہ وزن میں مساوی ہوں، پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1438
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ،‏‏‏‏ وَغَرَّبَ ،‏‏‏‏ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ،‏‏‏‏ وَأَنَّ عُمَرَ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ. رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ،‏‏‏‏ فَرَفَعُوهُ،‏‏‏‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ،‏‏‏‏ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ،‏‏‏‏ وَأَنَّ عُمَرَ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ. وَهَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ رِوَايَةِ ابْنِ إِدْرِيسَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ،‏‏‏‏ وَأَنَّ عُمَرَ:‏‏‏‏ ضَرَبَ وَغَرَّبَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَقَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْيُ،‏‏‏‏ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وعبادة بن الصامت،‏‏‏‏ وغيرهم،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَعَلِيٌّ،‏‏‏‏ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُهُمْ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) lashed and banished, Abu Bakr lashed and banished, and 'Umar lashed and banished.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے عبداللہ بن ادریس سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع کیا ہے، ( جب کہ ) بعض لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «عن عبد الله بن إدريس هذا الحديث عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے ( غیر شادی شدہ زانی کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے اسے ابوسعید اشج نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، نیز اسی طرح یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کئی ایک نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، اسی طرح اسے محمد بن اسحاق نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، لیکن اس میں ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۱- حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی شہر بدر کرنے کی روایت صحیح ہے، ۲- اسے ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت وغیرہ رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں میں ابوبکر، عمر، علی، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں، اسی طرح یہ حدیث کئی تابعین فقہاء سے مروی ہے، سفیان ثوری مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
80
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ بِعُلَالَةٍ مِنْ عُلَالَةِ الشَّاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
Jabir narrated: Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
87
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا،‏‏‏‏ وَقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَفْطَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّأ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ أَنَا صَبَبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وقَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ:‏‏‏‏ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏الْوُضُوءَ مِنَ الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ فِي الْقَيْءِ وَالرُّعَافِ وُضُوءٌ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ جَوَّدَ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَوْزَاعِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ:‏‏‏‏ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ.
Madan bin Abi Talhah narrated from Abu Ad-Darda that : Allah's Messenger vomited [so he broke fast] so he performed Wudu. So I met Thawban in a Masjid in Damascus, and I mentioned that to him. He said: 'He told the truth, I poured the water for his Wudu.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ توڑ دیا اور وضو کیا ( معدان کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے دمشق کی مسجد میں ملاقات کی اور میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ابو الدرداء نے سچ کہا، میں نے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم پر پانی ڈالا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صحابہ اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کی رائے ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو ( ٹوٹ جاتا ) ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ قے اور نکسیر سے وضو نہیں ٹوٹتا یہ مالک اور شافعی کا قول ہے ۲؎، ۲- حدیث کے طرق کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین المعلم کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
96
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَصِحُّ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ. وقَالَ زَائِدَةُ:‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل:‏‏‏‏ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ.
Safwan bin Assal narrated: 'When we were traveling, Allah's Messenger would order us not to remove our Khuff for three days and nights, except for Janabah, but not for defecating, urinating, and sleep.
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
131
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقْرَأْ الْجُنُبُ وَلَا الْحَائِضُ ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا طَرَفَ الْآيَةِ وَالْحَرْفَ وَنَحْوَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصُوا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ إِسْمَاعِيل بْنَ عَيَّاشٍ يَرْوِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهُ ضَعَّفَ رِوَايَتَهُ عَنْهُمْ فِيمَا يَنْفَرِدُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنَ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَهْلِ الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ مِنْ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ذَلِكَ.
Ibn Umar narrated that : the Prophet said: The menstruating woman does not recite - nor the Junub - anything from the Qur'an. [He said:] There is narration on this topic from Ali
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ ( قرآن ) نہ پڑھیں“، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔
Jam e Tirmazi
230
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ بِي عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ زِيَادٌ، حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ، أَنَّ رَجُلًا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يُعِيدُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى حَدِيثَ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هِلَالًا قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَابِصَةَ.
Hilal bin Yasar said: Ziyad bin Abi Al-Ja'd took me by the hand while we were in Ar Raqqah, he made me stand before a Shaikh who was called Wabisah bin Ma'bad, from Bani Asad. Ziyad said: 'This Shaikh narrated to me that a prayed alone behind the row' - and the Shaikh was listening - 'so Allah's Messenger ordered him to repeat the Salat.'
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
311
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
Ubadah bin As-Samit narrated: Allah's Messenger prayed the Subh prayer, and he had difficulty with the recitation. When turned (after finishing) he said: 'I think that you are reciting behind your Imam?' He said: We said: 'Yes, Messenger of Allah, by Allah!' He said: 'Do not do that, except for Umm Al-Kitab, for there is no Salat for one who does not recite it.'
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ۳ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
312
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُمَارَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ لَا يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger turned (after praying) from a Salat in which he recited aloud and said: 'Has any one of you recite along with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Indeed I said to myself: Why was I being contended with for the Quran?' He (Az-Zuhri one of the narrators) said: So when they heard that from Allah's Messenger, the people stopped reciting with Allah's Messenger in the prayers that Allah's Messenger recited aloud.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! ( میں نے کی ہے ) آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے“، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا“ ۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے“ تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، ”یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے“، ۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ ”جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎“۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔