TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat Younus - سورة يونس | Verse 83 Translations

Every available translation of Surat Younus, verse 83, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
But no one believed Moses, except [some] youths among his people, for fear of Pharaoh and his establishment that they would persecute them. And indeed, Pharaoh was haughty within the land, and indeed, he was of the transgressors
پس موسیٰ ( علیہ السلام ) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعو ن سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا ، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا ۔
Bookmark
Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

Info
فَمَاۤ
تو نہ
اٰمَنَ
بات مانی
لِمُوۡسٰۤی
موسیٰ کی
اِلَّا
مگر
ذُرِّیَّۃٌ
چند نوجوانوں نے
مِّنۡ قَوۡمِہٖ
اس کی قوم میں سے
عَلٰی خَوۡفٍ
خوف کی بنا پر
مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ
فرعون سے
وَمَلَا۠ئِہِمۡ
اور اس کے سرداروں سے
اَنۡ
کہ
یَّفۡتِنَہُمۡ
وہ فتنے میں ڈال دے گا انہیں
وَاِنَّ
اور بیشک
فِرۡعَوۡنَ
فرعون
لَعَالٍ
البتہ سرکش تھا
فِی الۡاَرۡضِ
زمین میں
وَاِنَّہٗ
اور بیشک وہ
لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ
یقینا حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا
Word by Word by

Nighat Hashmi

Info
فَمَاۤ
تو نہیں
اٰمَنَ
ایمان لایا
لِمُوۡسٰۤی
موسیٰ پر
اِلَّا
سوائے
ذُرِّیَّۃٌ
چند لڑکوں کے
مِّنۡ قَوۡمِہٖ
اس کی قوم میں سے
عَلٰی خَوۡفٍ
ڈر سے
مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ
فرعون سے
وَمَلَا۠ئِہِمۡ
اور اس کے سرداروں کے
اَنۡ
یہ کہ
یَّفۡتِنَہُمۡ
وہ فتنے میں ڈال دے گا ان کو
وَاِنَّ
اور بلاشبہ
فِرۡعَوۡنَ
فرعون
لَعَالٍ
یقیناً سرکش تھا
فِی الۡاَرۡضِ
زمین میں
وَاِنَّہٗ
اور یقیناً وہ
لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ
بلاشبہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا
Translated by

Juna Garhi

Info

But no one believed Moses, except [some] youths among his people, for fear of Pharaoh and his establishment that they would persecute them. And indeed, Pharaoh was haughty within the land, and indeed, he was of the transgressors

پس موسیٰ ( علیہ السلام ) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعو ن سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا ، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

چناچہ موسیٰ پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ انھیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور فرعون تو ملک میں بڑا غلبہ رکھتا تھا اور وہ حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

موسیٰ پراس کی قوم کے چندلڑکوں کے سواکوئی ایمان نہ لایا،فرعون کے اوراس کے سرداروں کے ڈرسے کہ وہ اُنہیں کسی فتنے میں ڈال دے گا، اوربلاشبہ فرعون زمین میں سرکش تھااور یقیناوہ بلاشبہ حدسے گزرنے والوں میں سے تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

Then, except an offspring of his people, no one believed in Musa for the fear of Pharaoh and his group, lest should prosecute them. And the Pharaoh was high-handed in the land and he was of those who crossed all limits.

پھر کوئی ایمان نہ لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے ڈرتے ہوئے فرعون سے اور ان کے سرداروں سے کہ کہیں ان کو بچلا نہ دے، اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں، اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

تو کوئی ایمان نہیں لایا موسیٰ (علیہ السلام) پر مگر چند نوجوان اس کی قوم میں سے ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے سرداروں سے کہ وہ ان کو مصیبت میں مبتلا نہ کردیں اور یقیناً فرعون زمین میں بہت سرکشی کر رہا تھا اور وہ یقیناً حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

None but a few youths of Moses' people accepted him, fearing that Pharaoh and their own chiefs would persecute them. Indeed Pharaoh was mighty in the land, he was among those who exceed all limits.

﴿پھر دیکھو کہ﴾ موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں 78 کے سوا کسی نے نہ مانا 79 ، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے ﴿ جنہیں خوف تھا کہ﴾ فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں ۔ 80

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

پھر ہوا یہ کہ موسیٰ پر کوئی اور نہیں ، لیکن خود ان کی قوم کے کچھ نوجوان فرعون ور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے کہ کہیں فرعون انہیں نہ ستائے ۔ ( ٣٣ ) اور یقینا فرعون زمین میں بڑا زور آور تھا ، ور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر قائم نہیں رہتے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

پھر موسیٰ پر صرف انہی کی قوم سے یعنی بنی اسرائیل میں سے) چند نوجوان لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو آفت میں نہ ڈالے 3 اور فرعون مصر کے) ملک میں بڑا زبردست اور حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ان لوگوں کا ڈر بجا تھا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info

پس موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہ لایا مگر ان کی قوم کے چند لڑکے وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ وہ ان کو مصیبت میں نہ ڈال دیں اور بیشک فرعون ملک میں بہت زور آور تھا اور یقینا وہ حد سے بڑھا ہوا تھا

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

پھر موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف سے کوئی ایمان نہ لایا کہ کہیں وہ کسی شدید تکلیف میں نہ پڑجائیں۔ کیونکہ فرعون زمین پر غلبہ رکھتا تھا اور بیشک (ظلم و ستم میں) حد سے گذر جانے والوں میں سے تھا۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

Info

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Info

Then none believed in Musa save a posterity of his people, through fear of Fir'awn and their chiefs, lest he should persecute them; and verily Fir'awn was lofty in the land, and verily he was of the extravagant.

پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی ہر بات کسی (اور) نے نہ مانی بجز ان کی قوم کے تھوڑے سے لوگوں کے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف سے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے اور واقعی فرعون ملک میں زور رکھتا تھا اور واقعی وہ زیادتی کرنے والوں میں سے تھا ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

Info

تو موسیٰ کی بات نہ مانی مگر اس کی قوم کے تھوڑے سے نوجوانوں نے ، ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے بڑوں سے کہ مبادا وہ ان کو کسی فتنہ میں ڈال دے اور بیشک فرعون ملک میں نہایت سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا ۔

Translated by

Mufti Naeem

Info

پس موسیٰ ( علیہ السلام ) پر ان کی قوم کے چند لوگوں کے علاوہ اور لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں ڈال دیں اور بلاشبہ فرعون ملک میں زور آور تھا اور بلاشبہ وہ حد سے آگے بڑھ جانے والوں میں سے ہی تھا ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

Info

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا، مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے اور وہ بھی فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے، کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے، اور فرعون ملک میں متکبر (متغلب) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

Info

پھر بھی موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا بجز آپ کی قوم کے کچھ نوجوانوں کے فرعون اور خود اپنی قوم کے بڑے سرداروں (اور کھڑ پینچوں) کے ڈر سے کہ کہیں وہ انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں، اور واقعی فرعون اس ملک میں تھا بھی بڑا زور دار اور وہ یقینی (اور قطعی) طور پر حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا،

Translated by

Noor ul Amin

Info

چناچہ موسیٰ پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں کے سواکوئی بھی ایمان نہ لایاانہیں یہ خطرہ تھاکہ کہیں فرعون اور اس کے درباری انہیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں اور فرعون زمین میں بڑامتکبربناہواتھا اور وہ حدسے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

Info

تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کی اولاد سے کچھ لوگ ( ف۱۷۷ ) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں انھیں ( ف۱۷۸ ) ہٹنے پر مجبور نہ کردیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے والا تھا ، اور بیشک وہ حد سے گزر گیا ( ف۱۷۹ )

Translated by

Tahir ul Qadri

Info

پس موسٰی ( علیہ السلام ) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا ( کوئی ) ایمان نہ لایا ، فرعون اور اپنے ( قومی ) سرداروں ( وڈیروں ) سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں ( کسی ) مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں ، اور بیشک فرعون سرزمینِ ( مصر ) میں بڑا جابر و سرکش تھا ، اور وہ یقیناً ( ظلم میں ) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

Translated by

Hussain Najfi

Info

پس موسیٰ پر ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے ایک گروہ کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا اور وہ ( ایمان لانے والے ) بھی فرعون اور اپنی قوم کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے ایمان لائے ۔ کہ کہیں وہ انہیں آزمائش ( اور مصیبت ) میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون بڑا سرکش ( بادشاہ ) تھا اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Info

But none believed in Moses except some children of his people, because of the fear of Pharaoh and his chiefs, lest they should persecute them; and certainly Pharaoh was mighty on the earth and one who transgressed all bounds.

Translated by

Muhammad Sarwar

Info

No one believed in Moses except some young people of his own tribe who were at the same time very afraid of the persecution of the Pharaoh and his people. The Pharaoh was certainly a tyrant and a transgressor.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Info

But none believed in Musa except the offspring of his people, because of the fear of Fir`awn and his chiefs, lest they should persecute them; and verily, Fir`awn was an arrogant tyrant on the earth, he was indeed one of the transgressors.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Info

But none believed in Musa except the offspring of his people, on account of the fear of Firon and their chiefs, lest he should persecute them; and most surely Firon was lofty in the land; and most surely he was of the extravagant.

Translated by

William Pickthall

Info

But none trusted Moses, save some scions of his people, (and they were) in fear of Pharaoh and their chiefs, that he would persecute them. Lo! Pharaoh was verily a tyrant in the land, and lo! he verily was of the wanton.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

Info

फिर मूसा (अलै॰) को उसकी क़ौम में से चंद नौजवानों के सिवा किसी ने न माना फ़िरऔन के डर से और ख़ुद अपनी क़ौम के बड़े लोगों के डर से कि कहीं वह उनको किसी फ़ित्ने में न डाल दें, बेशक फ़िरऔन ज़मीन में ग़लबा रखता था और वह उन लोगों में से था जो हद से गुज़र जाते हैं।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info

پس (جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ (علیہ السلام) پر (شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف (نہ) پہنچادے اور واقع میں (ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں ( زور سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بات تھی کہ وہ حد (انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا۔ (83)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

” تو موسیٰ پر اس کی قوم کے کچھ نو جوانوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کوئی ایمان نہ لایا اور بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ہے۔ “ (٨٣) ”

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

(پھر دیکھو کہ موسیٰ کو اس کی قوم میں چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا ، فرعون کے ڈر سے اور خود خود اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا) کہ فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

سو موسیٰ پر ان کی قوم میں سے تھوڑے سے لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں فتنے میں نہ ڈالے اور بلاشبہ فرعون اس زمین میں بلندی والا تھا اور اس میں شک نہیں کہ وہ حد سے آگے بڑھ جانے والوں میں سے تھا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

پھر کوئی ایمان نہ لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے ڈرتے ہوئے فرعون سے اور ان کے سرداروں سے کہ کہیں ان کو بچلا نہ دے اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

بایں ہمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سوائے ان کی قوم کے چند نوجوانوں کے اور کوئی ایمان نہ لایا اور وہ بھی فرعون سے اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں فرعون ان کو کسی بلا میں اور مصیبت میں مبتلا نہ کردے اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس ملک میں غلبہ والا تھا اور یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ حد سے آگے نکل جانے والوں میں سے تھا

Related Verses

6
Surat ud Dukhaan
44:31
مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾
From Pharaoh. Indeed, he was a haughty one among the transgressors.
۔ ( جو ) فرعون کی طرف سے ( ہو رہی ) تھی ۔ فی الواقع وہ سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سےتھا ۔
Surat ul Anaam
6:141
وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّ غَیۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّ النَّخۡلَ وَ الزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُکُلُہٗ وَ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشَابِہٍ ؕ کُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَ اٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوۡمَ حَصَادِہٖ ۫ ۖوَ لَا تُسۡرِفُوۡا ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۙ
And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakah] on the day of its harvest. And be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess.
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے ہیں اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسر ےکے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو نا پسند کرتا ہے ۔
Surat ul Aeyraaf
7:31
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾  10
O children of Adam, take your adornment at every masjid, and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He likes not those who commit excess.
اے اولاد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو ۔ بیشک اللہ تعالٰی حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
Surat ul Anbiya
21:9
ثُمَّ صَدَقۡنٰہُمُ الۡوَعۡدَ فَاَنۡجَیۡنٰہُمۡ وَ مَنۡ نَّشَآءُ وَ اَہۡلَکۡنَا الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۹﴾
Then We fulfilled for them the promise, and We saved them and whom We willed and destroyed the transgressors.
پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے سب وعدے سچے کئے انہیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کر دیا ۔
Surat us Shooaraa
26:151
وَ لَا تُطِیۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾ۙ
And do not obey the order of the transgressors,
بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاؤ ۔
Surat ul Momin
40:43
لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ لَیۡسَ لَہٗ دَعۡوَۃٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَا فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَنَّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ﴿۴۳﴾
Assuredly, that to which you invite me has no [response to a] supplication in this world or in the Hereafter; and indeed, our return is to Allah , and indeed, the transgressors will be companions of the Fire.
یہ یقینی امر ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں اور یہ بھی ( یقینی بات ہے ) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی ( یقیناً ) اہل دوزخ ہیں ۔

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.