Every available translation of Surat Yousuf, verse 76, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
فَبَدَاَ
پس اس نے شروع کیا
|
بِاَوۡعِیَتِہِمۡ
ان کے تھیلوں / خر جیوں کے
|
قَبۡلَ
پہلے
|
وِعَآءِ
تھیلے / خرجی سے
|
اَخِیۡہِ
اپنے بھائی کے
|
ثُمَّ
پھر
|
اسۡتَخۡرَجَہَا
اس نے نکال لیا اسے
|
مِنۡ وِّعَآءِ
تھیلے / خرجی سے
|
اَخِیۡہِ
اپنے بھائی کے
|
کَذٰلِکَ
اسی طرح
|
کِدۡنَا
تدبیر کی ہم نے
|
لِیُوۡسُفَ
یوسف کے لئے
|
مَا
نہ
|
کَانَ
تھا وہ
|
لِیَاۡخُذَ
کہ وہ پکڑ سکے
|
اَخَاہُ
اپنے بھائی کو
|
فِیۡ دِیۡنِ
دین / قانون میں
|
الۡمَلِکِ
بادشاہ کے
|
اِلَّاۤ
مگر
|
اَنۡ
یہ کہ
|
یَّشَآءَ
جو چاہے
|
اللّٰہُ
اللہ
|
نَرۡفَعُ
ہم بلند کرتے ہیں
|
دَرَجٰتٍ
درجات
|
مَّنۡ
جس کے
|
نَّشَآءُ
ہم چاہتے ہیں
|
وَفَوۡقَ
اور اوپر
|
کُلِّ
ہر
|
ذِیۡ عِلۡمٍ
علم والے کے
|
عَلِیۡمٌ
ایک خوب علم والا ہے
|
|
فَبَدَاَ
چنانچہ اس نے ابتدا کی
|
بِاَوۡعِیَتِہِمۡ
ان کے تھیلوں سے
|
قَبۡلَ
پہلے
|
وِعَآءِ
تھیلے کے
|
اَخِیۡہِ
اپنے بھائی کے
|
ثُمَّ
پھر
|
اسۡتَخۡرَجَہَا
نکال لیا اس کو
|
مِنۡ وِّعَآءِ
تھیلے سے
|
اَخِیۡہِ
اپنے بھائی کے
|
کَذٰلِکَ
اسی طرح
|
کِدۡنَا
تدبیر کی ہم نے
|
لِیُوۡسُفَ
یوسف کے لیے
|
مَا
نہیں
|
کَانَ
تھا
|
لِیَاۡخُذَ
کہ وہ رکھ لیتا
|
اَخَاہُ
اپنے بھائی کو
|
فِیۡ دِیۡنِ
قانون میں
|
الۡمَلِکِ
بادشاہ کے
|
اِلَّاۤ
سوائے
|
اَنۡ
اس کے کہ
|
یَّشَآءَ
چاہے
|
اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ
|
نَرۡفَعُ
ہم بلند کر دیتےہیں
|
دَرَجٰتٍ
درجے
|
مَّنۡ
جس کے
|
نَّشَآءُ
ہم چا ہتے ہیں
|
وَفَوۡقَ
اور اوپر
|
کُلِّ
ہر
|
ذِیۡ عِلۡمٍ
علم والے کے
|
عَلِیۡمٌ
سب کچھ جاننے والا ہے
|
So he began [the search] with their bags before the bag of his brother; then he extracted it from the bag of his brother. Thus did We plan for Joseph. He could not have taken his brother within the religion of the king except that Allah willed. We raise in degrees whom We will, but over every possessor of knowledge is one [more] knowing.
پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاش شروع کی اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان ( زنبیل ) سے نکالا ہم نے یوسف کے لئے اسی طرح یہ تدبیر کی اس بادشاہ کی قانون کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے جاسکتا تھا مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے ۔
پھر اس ضامن نے یوسف کے بھائی (بنیامین) کے سامان کی تلاشی سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی پھر پیالہ کو اس کے بھائی کے سامان سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ یوسف کے لئے مناسب نہ تھا کہ شاہ مصر کے قانون (چوری) کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ سکیں الا یہ کہ ہم جس کے چاہیں درجات بلند کردیتے ہیں اور ایک علیم ہستی ایسی ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے
چنانچہ اُس نے اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے اُن کے تھیلوں سے ابتداکی،پھراپنے بھائی کے تھیلے سے اُسے نکال لیا،اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیرکی وہ بادشاہ کے قانون کی رُوسے اپنے بھائی کونہیں رکھ سکتا تھا سوائے اس کے کہ اﷲ تعالیٰ ہی ایساچاہے،ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلندکردیتے ہیں،اور ہر صاحبِ علم سے اوپرایک سب کچھ جاننے والا ہے۔
So, he started with their bags before the bag of his broth¬er, then, recovered it from the bag of his brother. This is how We planned for Yusuf. He had no right to take his brother according to the law of the king, unless Allah so willed. We elevate in ranks whom so We will. And above every man who has knowledge, there is someone more knowledgeable.
پھر شروع کی یوسف (علیہ السلام) نے ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے یوں داؤ بتایا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا
تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے
Then Joseph began searching their bags before searching his own brother's bag. Then he brought forth the drinking-cup from his brother's bag. Thus did We contrive to support Joseph. He had no right, according to the religion of the king (i.e. the law of Egypt), to take his brother, unless Allah so willed. We exalt whomsoever We will over others by several degrees. And above all those who know is the One Who truly knows.
تب یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی ، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کی تائید اپنی تدبیر سے کی ۔ 59 اس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین﴿یعنی مصر کے شاہی قانون﴾ میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ۔ 60 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں ، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ۔
چنانچہ یوسف نے اپنے ( سگے ) بھائی کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی شروع کی ، پھر اس پیالے کو اپنے ( سگے ) بھائی کے تھیلے میں سے برآمد کرلیا ۔ ( ٤٩ ) اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر یہ تدبیر کی ۔ اللہ کی یہ مشیت نہ ہوتی تو یوسف کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ لیتے ، اور ہم جس کو چاہتے ہیں ، اس کے درجے بلند کردیتے ہیں ، اور جتنے علم والے ہیں ، ان سب کے اوپر ایک بڑا علم رکھنے والا موجود ہے ۔ ( ٥٠ )
پھر یوسف نے اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے دوسروں کی خرچیاں رکھنی شروع کیں بعد اس کے وہ کہ وہ اپنے بھائی کی خرجی سے نکلوایا ہم نے اس طرح سے یوسف کو بنیامین کے رکھ لینے کی تدبیر بتائی 9 وہ مصر کے بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو رکھ نہیں سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہتا 2 ہم جس کے چاہتے ہیں اس کے درجے بلند کرتے ہیں 3 اور دنیا میں ہر ایک عالم سے بڑھ کر دوسرا عالم ہے 4
پھر انہوں (یوسف علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے اسباب سے تلاش شروع کی پھر اپنے بھائی کے اسباب سے اسے برآمد کرلیا اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کے مطابق نہیں لے سکتے تھے سوائے اللہ کی مرضی کے۔ ہم جس کے چاہتے درجات بلند فرماتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک علم والا ہے
پھر ان کے سامان کی تلاشی اپنے بھائی کے سامان سے پہلے لی گئی ۔ پھر اس کو اپنے بھائی کے سامان سے برآمد کرلیا گیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کیلئے تدبیرکر دی (کیوں کہ) یوسف اپنے بھائی کو اس بادشاہ کے قانون کے ذریعہ نہیں لے سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ ہی کو یہ بات منظور تھی وہ جس کے درجات کو بلند کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور وہ تمام علم رکھنے والوں سے بڑھ کر علم رکھنے والا ہے۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
Then he began with their sacks before the sack of his brother; then he brought it forth from his brothers sack. In this wise We contrived for Yusuf. He was not one to take his brother by the law of the king, except that Allah willed. We exalt in degrees whomsoever We will, and above every knowing one is a Knower.
پھر (یوسف علیہ السلام) نے اپنے (حقیقی) بھائی کے تھیلے سے قبل دوسروں کے تھیلوں سے (تلاش کی) ابتداء کی پھر اس (پیمانہ) کو اپنے (حقیقی) بھائی کے تھیلہ سے برآمد کرلیا اس طرح کی تدبیر ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی خاطر کردی ۔ (یوسف علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کے لحاظ سے نہیں لے سکتے تھے ۔ مگر یہ ہے کہ اللہ ہی کو منظور تھا ہم جس کے مرتبہ چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک عالم ہے ۔
پس اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے تفتیش کا آغاز کیا ، پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا ۔ اس طرح ہم نے یوسف کیلئے تدبیر کی ۔ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو پکڑنے کا مجاز نہ تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے ۔
پس یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے ان کے سامانوں کی تلاشی وسے ابتداکی پھر پیالے کو اپنے بھائی کے سامان سے نکال لیا ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کی خاطر اس طرح کی تدبیر کی یوسف ( علیہ السلام ) اللہ ( تعالیٰ ) کی منشیت کے بغیر بادشاہ کے قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے ۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کر دیتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک علم والا ہے
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شیلتوں کو دیکھنا شروع کیا، پھر اپنے بھائی کے شیلتے میں سے اس کو نکال لیا اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی ورنہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت الٰہی کے سوا اس کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔
تب یوسف نے (ان کی تلاشی لینی شروع کی اور) اپنے بھائی کے اسباب سے پہلے ان کے اسباب کی تلاشی شروع کی، آخر میں اسے اپنے بھائی کے اسباب سے برآمد کرلیا، اس طرح ہم نے یہ تدبیر کی یوسف کے لئے، ورنہ آپ ایسے نہ تھے کہ اپنے بھائی کو پکڑتے بادشاہ کے دین میں، مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے، ہم جس کے درجے چاہیں بلند کردیتے ہیں، مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا ہے، اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے،
پھر یوسف نے اپنے بھائی ( بنیامین ) کے سامان سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان کی تلاشی شروع کی پھر اپنے بھائی کے تھیلے سے پیالہ نکال لیا ، اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیرکی ، یوسف قانون مصرکے مطابق اپنے بھائی کو اپنے ہاں رکھ نہیں سکتے تھے سوائے اس کے کہ اللہ ایساہیچاہےہم جس کے چاہیں درجات بلند کردیتے ہیں اور ہر جاننے والے کے اوپراس سے بڑاجاننے والا ہے
تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی ( ف۱۷۲ ) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا ( ف۱۷۳ ) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی ( ف۱۷٤ ) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے ( ف۱۷۵ ) مگر یہ کہ خدا چاہے ( ف۱۷٦ ) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں ( ف۱۷۷ ) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے ( ف۱۷۸ )
پس یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی شروع کی پھر ( بالآخر ) اس ( پیالے ) کو اپنے ( سگے ) بھائی ( بنیامین ) کی بوری سے نکال لیا ۔ یوں ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کو تدبیر بتائی ۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہِ ( مصر ) کے قانون کی رو سے ( اسیر بنا کر ) نہیں رکھ سکتے تھے مگر یہ کہ ( جیسے ) اﷲ چاہے ۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں ، اور ہر صاحبِ علم سے اوپر ( بھی ) ایک علم والا ہوتا ہے
تب یوسف ( ع ) نے اپنے ( سگے ) بھائی کی خرجین سے پہلے دوسروں کی خرجینوں کی تلاشی لینا شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجین سے وہ گم شدہ کٹورا نکال لیا ہم نے اس طرح ( بنیامین کو اپنے پاس رکھنے ) کیلئے یوسف کے لیے تدبیر کی کیونکہ وہ ( مصر کے ) بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بلند کر دیتے ہیں اور ہر صاحبِ علم سے بڑھ کر ایک عالم ہوتا ہے ۔
So he began (the search) with their baggage, before (he came to) the baggage of his brother: at length he brought it out of his brother's baggage. Thus did We plan for Joseph. He could not take his brother by the law of the king except that Allah willed it (so). We raise to degrees (of wisdom) whom We please: but over all endued with knowledge is one, the All-Knowing.
They searched their baggage before that of Joseph's real brother where at last they found it. Thus, We showed Joseph how to plan this; he would not have been able to take his brother under the King's law unless God had wanted it to be so. We give a high rank to whomever We want. Over every knowledgeable person is one more knowing.
So he [Yusuf] began (the search) in their bags before the bag of his brother. Then he brought it out of his brother's bag. Thus did We plan for Yusuf. He could not take his brother by the law of the king (as a slave), except that Allah willed it. We raise to degrees whom We will, but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).
So he began with their sacks before the sack of his brother, then he brought it out from his brother's sack. Thus did We plan for the sake of Yusuf; it was not (lawful) that he should take his brother under the king's law unless Allah pleased; We raise the degrees of whomsoever We please, and above every one possessed of knowledge is the All-knowing one.
Then he (Joseph) began the search with their bags before his brother's bag, then he produced it from his brother's bag. Thus did We contrive for Joseph. He could not have taken his brother according to the king's law unless Allah willed. We raise by grades (of mercy) whom We will, and over every lord of knowledge there is one more knowing.
फिर उसने तलाशी लेना शुरू किया उनके सामान की उसके (छोटे) भाई के सामान से पहले फिर उसके भाई के थैले से उस (प्याले) को निकाला, इस तरह हमने यूसुफ़ (अलै॰) के लिए तदबीर की, वह बादशाह के क़ानून की रू से अपने भाई को नहीं ले सकता था मगर यह कि अल्लाह चाहे, हम जिसके दरजात चाहते हैं बुलंद कर देते हैं और हर इल्म वाले से बढ़ कर एक इल्म वाला है।
پھر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی (کے اسباب) کے تھیلے سے قبل تلاشی کی ابتداء اول دوسرے بھائيوں کے (اسباب کے) تھیلوں سے کی پھر (آخر میں) اس (برتن) کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی خاطر سے اس طرح تدبیر فرمائی (5) یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اس بادشاہ (مصر) کے قانون کی رو سے نہیں لے سکتے تھے مگر یہ ہے کہ اللہ ہی کو منظور تھا ہم جس کو چاہتے ہیں (علم میں) خاص درجوں تک بڑھا دیتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک بڑا علم والا ہے۔ (76)
تو اس نے اس کے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے ابتدا کی پھر اسے اس کے بھائی کے تھیلے سے نکال لیا۔ اسی طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی، ممکن نہ تھا کہ بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ اپنے بھائی کو رکھ لیتا مگر جو اللہ چاہے، ہم جسے چاہتے ہیں درجات کی بلندی دیتے ہیں اور ہر علم والے سے اوپر ایک سب سے زیادہ علم و الا ہے۔ “ (٧٦)
تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی ، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون ) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں ، بلند کردیتے ہیں ، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے تھیلے کی تلاشی لینے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی لینے سے ابتداء کی۔ پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے تھیلے سے بر آمد کرلیا۔ ہم نے یوسف کو اسی طرح تدبیر بتادی۔ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جسے چاہیں درجات کے اعتبار سے بلند کرتے ہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر زیادہ جاننے والا ہے۔
پھر شروع کیں یوسف نے ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے یوں داؤ بتا دیا ہم نے یوسف کو وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا
پھر یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کی بوری سے پہلے اپنے علاقی بھائیوں کی بوریوں میں تلاش کرنا شروع کیا پھر اس برتن کو اپنے بھائی کی بوری میں سے برآمد کرلیا اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی ورنہ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون سے ہرگز نہ حاصل کرسکتا الا یہ کہ خدا ہی کو منظور ہوتا ہم جس کو چاہتے ہیں اس کو مخصوص درجات تک بلند کردیتے ہیں اور ہر صاحب علم سے اوپر ایک اوعالم موجود ہے
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.