The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلسَّبْقُ: اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ) (۴۹:۴) پھر وہ (حکم الٰہی) کو سننے کے لئے لپکے ہیں۔ اَلْاِسْتِبَاقُ کے معنیٰ تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ ) (۱۲:۱۷) ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے۔ (وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ) (۱۲:۲۵) اور دونوں دوڑتے ہوئے دروازے پر پہنچے۔ مجازاً ہر شے میں آگے بڑھ جانے کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے فرمایا: (مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ) (۴۶:۱۱) تو یہ ہم سے اس کی طرف سبقت نہ کرجاتے۔ (وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ) (۲۰:۱۲۹) اگر تمہارے پروردگار نے پہلے سے ایک بات نہ فرمائی ہوتی۔ پھر استعارہ کے طور پر احراز فضیلت کے معنیٰ میں استعمال ہونے لگا ہے۔ چنانچہ فرمایا: (وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ) (۵۶:۱۰) اور آگے نکل جانے والے ہی اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔ تو سَابِقُونَ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اعمال صالحہ کے ذریعہ ثواب الٰہی اور جنت کی طرف پیش پیش جانے والے ہیں۔ جیساکہ دوسری جگہ ان کے متعلق فرمایا: (یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ ہُمۡ لَہَا سٰبِقُوۡنَ ) (۳۳:۶۱) یہی لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور ان کے لئے لپکتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: (وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ ) (۵۶:۶۰) اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔ کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ ہماری گرفت اور قبضہ سے باہر نہیں نکل سکتے جیساکہ دوسری گجہ فرمایا: (وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا) (۸:۵۹) کافر یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے قابو سے نکل گئے ہیں۔ ( وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ ) (۲۹:۳۹) اور نہ وہ (ہم سے کہیں) بھاگ کرجاسکے۔
5 results