The tafseer of Surat ul Burooj, verse 11, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
Allah informs about His believing servants that; إِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ... Verily, those who believe and do righteous good deeds, ... لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الاَْنْهَارُ ... for them will be Gardens under which rivers flow. This is the opposite of what he has prepared for His enemies of Fire and Hell. Thus, He says, ... ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ That is the supreme success. Then Allah says, إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
عرش کا مالک اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اپنے دشمنوں کا انجام بیان کر کے اپنے دوستوں کا نتیجہ بیان فرما رہا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جیسی کامیابی اور کسے ملے گی؟ پھر فرمایا ہے کہ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے وہ اپنے ان دشمنوں کو جو اس کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی نافرمانیوں میں لگے رہے سخت تر قوت کیساتھ اس طرح پکڑے گا کہ کوئی راہ نجات ان کے لیے باقی نہ رہے ، وہ بڑی قوتوں والا ہے جو چاہا کیا جو کچھ چاہتا ہے وہ ایک لمحہ میں ہو جاتا ہے اس کی قدرتوں اور طاقتوں کو دیکھ کر اس نے تمہیں پہلے بھی پیدا کیا اور پھر بھی مار ڈالنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے گا نہ اسے کوئی روکے نہ آگے آئے نہ سامنے پڑے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ اس کی طرف جھکیں اور توبہ کریں اور اس کے سامنے ناک رگڑیں پھر چاہے کیسی ہی خطائیں ہوں ایک دم میں سب معاف ہو جاتی ہیں ، اپنے بندوں سے وہ پیار و محبت رکھتا ہے وہ عرش والا ہے جو عرش تمام مخلوق سے بلند و بالا ہے اور تمام خلائق کے اوپر ہے ۔ مجید کی دو قرأت یں ہیں دال کا پیش بھی اور دال کا زیر بھی پیش کے ساتھ وہ اللہ کی صفت بن جائیگا اور زیر کے ساتھ عرش کی صفت ہے معنی دونوں کے بالکل صحیح اور ٹھیک بیٹھتے ہیں وہ جس کام کا جب ارادہ کرے کرنے پر قدرت رکھتا ہے اس کی عظمت عدالت حکمت کی بنا پر نہ کوئی اسے روک سکے نہ اس سے پوچھ سکے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوتا ہے لوگ سوال کرتے ہیں کہ کسی طبیب نے بھی آپ کو دیکھا فرمایا ہاں پوچھا پھر کیا جواب دیا فرمایا کہ جواب دیا انی فعال لما یرید پھر فرماتا ہے کہ کیا تجھے خبر بھی ہے کہ فرعونیوں اور ثمودیوں پر کیا کیا عذاب آئے اور کوئی ایسا نہ تھا کہ ان کی کسی طرح کی مدد کر سکتا نہ کوئی اور اس عذاب کو ہٹا سکا ، مطلب یہ ہے کہ اس کی پکڑ سخت ہے جب وہ کسی ظالم کو پکڑتا ہے تو دردناکی اور سختی سے بڑی زبردست پکڑ پکڑتا ہے ، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ آپ نے سنا کوئی بیوی صاحبہ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ رہی ہیں ۔ ( هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17ۙ ) 85- البروج:17 ) آپ کھڑے رہ گئے اور کان لگا کر سنتے رہے اور فرمایا نعم قد جآءَنی یعنی ہاں میرے پاس وہ خبریں آ گئیں ، یعنی قرآن کی اس آیت کا جواب دیا کہ کیا تجھے فرعونیوں اور ثمودیوں کی خبر پہنچی ہے؟ پھر فرمایا کہ بلکہ کافر شک و شبہ میں کفر و سرکشی میں ہیں اور اللہ ان پر قادر اور غالب ہے نہ یہ اس سے گم ہو سکیں نہ اسے عاجز کر سکیں بلکہ یہ قرآن عزت اور کرامت والا ہے وہ لوح محفوظ کا نوشتہ ہے بلند مرتبہ فرشتوں میں ہے زیادتی کمی سے پاک اور سر تا پا محفوظ ہے نہ اس میں تبدیلی ہو نہ تحریف ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ لوح محفوظ حضرت اسرافیل کی پیشانی پر ہے ، عبدالرحمن بن سلمان فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا ہو رہا ہے اور ہو گا وہ سب لوح محفوظ میں موجود ہے اور لوح محفوظ حضرت اسرافیل کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہے لیکن جب تک انہیں اجازت نہ ملے وہ اسے دیکھ نہیں سکتے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ لوح محفوظ کی پیشانی پر یہ عبارت ہے ، کوئی معبود نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے ، وہ اکیلا ہے اس کا دین اسلام ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے وعدے کو سچا جانے اس کے رسولوں کی تابعداری کرے اللہ عالم اسے جنت میں داخل کریگا فرماتے ہیں یہ لوح سفید موتی کی ہے اس کا طول آسمان و زمین کے درمیان کے برابر ہے اور اس کی چوڑائی مشرق و مغرب کے برابر ہے ، اس کے دونوں کنارے موتی اور یاقوت کے ہیں اس کے دونوں پٹھے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور ہے اس کا کلام عرش کے ساتھ وابستہ ہے اس کی اصل فرشتہ کی گود میں ہے فرماتے ہیں یہ اللہ کے عرش کے دائیں طرف ہے طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے صفحے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا قلم نور کا ہے اس کی کتابت نور کی ہے اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے وہ پیدا کرتا ہے روزی دیتا ہے مارتا ہے زندگی دیتا ہے عزت دیتا ہے ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے الحمد اللہ سورہ سروج کی تفسیر ختم ہوئی ۔
[٧] ساتھ ہی مومن مردوں اور عورتوں کو تسلی دی گئی کہ وہ کفار کی ایذا رسانیوں سے گھبرائیں نہیں۔ ان سے پہلے بھی مومنوں پر بڑے بڑے مصائب ڈھائے جاچکے ہیں۔ ان مصائب کو برداشت کرنے کے عوض انہیں اللہ کے ہاں سے جو باغات اور نعمتیں ملنے والی ہیں۔ جن کے مقابلہ میں اس دنیا کی سب تکلیفیں اور مصیبتیں ہیچ ہیں۔
ان الذین امنوا وعملوا الصلحت …: یہاں ایمان و عمل صالح والے لوگوں کے لئے جنت کی بشارت کے ذکر کی دو مناسبتیں ہیں، ایک تو یہ کہ اگر مسلمانوں کو ستانے والے لوگ بھی ایمان لا کر صالح عمل والے بن جائیں تو ان کے لئے بھی وہ باغتا ہیں جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ دوسری یہ کہ ایمان اور عمل صالح کے حالم جن مسلمانوں کو آزمائش کی بھٹیوں میں جھونکا جا رہا ہے وہ غم نہ کریں، یہ وقت گزر جانے والا ہے، آخرت میں ان کے لئے وہ عظیم الشان باغات تیار ہیں جن کے تلے نہیں بہ رہی ہیں اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ثبت قدم رکھنے والی چیز اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں جنت دے گا۔ کس قدر ظالم ہیں وہ لوگ جو روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر جنت کا مذاق اڑاتے اور اسے بےوقعت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (١٦) کی تفسیر۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ ٠ۥۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُ ١١ ۭ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ فوز الْفَوْزُ : الظّفر بالخیر مع حصول السّلامة . قال تعالی: ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] ، فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] ، ( ف و ز ) الفوز کے معنی سلامتی کے ساتھ خیر حاصل کرلینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ذلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ [ البروج/ 11] یہی بڑی کامیابی ہے ۔ فازَ فَوْزاً عَظِيماً [ الأحزاب/ 71] تو بیشک بڑی مراد پایئکا ۔ یہی صریح کامیابی ہے ۔ كبير الْكَبِيرُ والصّغير من الأسماء المتضایفة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صغیرا في جنب شيء، وكبيرا في جنب غيره، ويستعملان في الكمّيّة المتّصلة كالأجسام، وذلک کالکثير والقلیل، وفي الكمّيّة المنفصلة کالعدد، وربما يتعاقب الکثير والکبير علی شيء واحد بنظرین مختلفین نحو : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] و : كثير «1» قرئ بهما . وأصل ذلک أن يستعمل في الأعيان، ثم استعیر للمعاني نحو قوله : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] ، وقوله : وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] ، وقوله : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] إنما وصفه بالأكبر تنبيها أنّ العمرة هي الحجّة الصّغری كما قال صلّى اللہ عليه وسلم : «العمرة هي الحجّ الأصغر» فمن ذلک ما اعتبر فيه الزمان، ( ک ب ر ) کبیر اور صغیر اسمائے اضافیہ سے ہیں ۔ جن کے معانی ایک دوسرے کے لحاظ سے متعین ہوتے ہیں ۔ چناچہ ایک ہی چیز دوسری کے مقابلہ میں صغیر ہوتی ہے لیکن وہ شئے ایک اور کے مقابلہ میں کبیر کہلاتی ہے ۔ اور قلیل وکثٰیر کی طرح کبھی تو ان کا استعمال کمیت متصلہ یعنی اجسام میں ہوتا ہے ۔ اور کبھی کمیۃ منفصلہ یعنی عدد ہیں ۔ اور بعض اوقات کثیر اور کبیر دو مختلف جہتوں کے لحاظ سے ایک ہی چیز پر بولے جاتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں ۔ کہ اس میں ایک قرآت کثیر بھی ہے ۔ یہ اصل وضع کے لحاظ سے تو اعیان میں ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن استعارہ کے طور پر معانی پر بھی بولے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے ۔ اور نہ بڑی کو ( کوئی بات بھی نہیں ) مگر اسے گن رکھا ہے ۔ وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] اور حج اکبر کے دن ۔۔۔ میں حج کو اکبر کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ عمرۃ حج اصغر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ؛العمرۃ ھہ الحج الاصغر ۔ کہ عمرہ حج اصغر ہے ۔ اور کبھی بڑائی بلحاظ زمانہ مراد ہوتی ہے چناچہ محاورہ ہے ۔
اب اللہ تعالیٰ ان مومنین کا ذکر فرماتے ہیں جو اس قدر سخت عذاب کے بعد ہی ایمان پر قائم رہے کہ ان ایمانداروں کے لیے بہشت کے باغ ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی یہ بڑی کامیابی ہے۔
١١۔ ٢٢۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنیا سے اٹھ گئے تو جس اللہ نے ان سب کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہ وقت مقررہ پر دوبارہ ان سب کو پیدا کرکے ان کو ان کے کرتوت کا پورا مزہ چکھا دئے گا کیونکہ وہ جو چاہے سو کرسکتا ہے اس کے ارادہ کو کوئی روک نہیں سکتا یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کے دل میں جم جانے کے لئے ثمود و فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور ہیں وہ اہل مکہ کو یاد دلائے تاکہ ان دو قصوں سے وہ عبرت پکڑیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو جو جھٹلاتے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ اللہ کی قدرت ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے وہ جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے پھر فرمایا کہ ان کا کلام الٰہی کو جھٹلانا اگر اس خیال سے ہے کہ وہ کلام الٰہی نہیں ہے تو یہ خیال انکا غلط ہے بلاشک یہ اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے لوح محفوظ سے اپنے رسول پر اتارا ہے اور اس کی دلیل ان لوگوں کو پہلے ہی سمجھا دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ اس کے کلام الٰہی ہونے میں کچھ شبہ رکھتے ہو تو تم بھی کوئی ٹکڑا اس جیسا بنا لو جب یہ بات ان لوگوں سے نہیں ہوسکتی تو پھر اس کے کلام الٰہی ہونے میں شک و شبہ کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔
(58:11) ان الذین امنوا وعملوا الصلحت لہم جنت تجری من تحھا الانھر : ان حرف تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ الذین امنوا وعلموا الصلحت اسم ان۔ لہم جنت خبر ان۔ تجری من تحتھا الانھر۔ صفت جنت کی ھا ضمیر کا مرجع جنت ہے۔ ذلک الفوز الکبیر : ذلک یعنی باغات اور ان کے نیچے جاری نہروں کا حصول یہ بڑی کامیابی ہے۔ الفوز الکبیر موصوف و صفت مل کر صفت ذلک کی۔
ان الذین ................................ انھر (11:85) ”” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “۔ یہ ہے حقیقی نجات اور کامیابی۔ ذلک الفوزالکبیر (11:85) ” یہ ہے بڑی کامیابی “۔ فوز کے معنی نجات اور کامیابی کے ہیں۔ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہی بڑی کامیابی ہے اور باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ تو کامیابی پر کامیابی ہے۔ آخرت کے اس انجام پر اب یہ واقعہ مکمل ہوتا ہے اور یہی ہے حقیقی خاتمہ اور انجام دونوں فریقوں کے موقف کا۔ زمین میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ حقیقی واقعات کا ایک حصہ ہوتے ہیں ، یہ تمام واقعہ نہیں ہوتے ، اس واقعہ پر آگے جو تبصرے آتے ہیں ان میں سے پہلا تبصرہ اسی غرض کے لئے ہے کہ اہل ایمان کے دلوں میں یہ حقیقت بٹھا دی جائے کہ واقعات دنیا ہی میں ختم نہیں ہوتے۔ اس دور میں ، جب یہ سورت نازل ہوئی مکہ مکرمہ میں مٹھی بھر مسلمان اس قسم کی مصیبتیں جھیل رہے تھے اسی طرح دنیا کے کسی زمان ومکان ہیں جو لوگ اسلام کے لئے کام کرتے ہیں اور ان پر تشدد ہوتا ہے تو ان کو بھی یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان فتنہ سامانیوں کا انجام قیامت میں سامنے آئے گا۔
دوسری آیت میں ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کو بشارت دی ہے کہ ان لوگوں کو باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، آیت کو ﴿ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُؕ٠٠١١﴾ پر ختم فرمایا ہے جس میں یہ بتادیا کہ مذکورہ باغات کامل جانا بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں جیسی بھی کوئی تکلیف پہنچے وہ اس کامیابی کے سامنے ہیچ ہے اگر ایمان کی وجہ سے کوئی شخص آگ میں ڈالا گیا تو وہ ایک دو منٹ کی تکلیف ہوگی ﴿ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ١ۣؕ۬﴾ دائمی اور ابدی نعمت ہے۔
7:۔ ” ان الذین امنوا “ یہ بشارت اخرویہ ہے جو لوگ ایمان لائے نیک کام کیے اور اپنے دین کی خاطر ایذائیں برداشت کیں ان کے لیے نعمتوں کے باغ ہیں جن میں تمام انواع و مشروبات کی نہریں جاری ہوں گی دوزخ سے بچ جانا اور ایسی نعمتوں کے باغوں میں داخل ہوجانا بہت بڑی کامیابی ہے جو قیامت کے دن مومنوں کے لیے مخصوص ہوگی۔
(11) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کے پابند رہے تو ان کے لئے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی یہ بڑی کامیابی اور بڑی مراد ملنی ہے ۔ یعنی بہشت کے باغ عنایت ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہونگی۔