TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of zakat. - کتاب زکوۃ کے مسائل کا بیان - Book 25 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 25 of Sahih Bukhari, with 73 chapters and 118 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

118 Hadith · 73 Chapters
(52) CHAPTER. Whoever asks the people (for something) so as to increase his wealth.
اگر کوئی شخص اپنی دولت بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرے ؟
وَقَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اسْتَغَاثُوا بِآدَمَ ، ثُمَّ بِمُوسَى ، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَزَادَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، فَيَشْفَعُ لِيُقْضَى بَيْنَ الْخَلْقِ فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ الْبَابِ ، فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ ، وَقَالَ مُعَلًّى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْأَلَةِ .
The Prophet added, On the Day of Resurrection, the Sun will come near (to, the people) to such an extent that the sweat will reach up to the middle of the ears, so, when all the people are in that state, they will ask Adam for help, and then Moses, and then Muhammad (p.b.u.h) . The sub-narrator added Muhammad will intercede with Allah to judge amongst the people. He will proceed on till he will hold the ring of the door (of Paradise) and then Allah will exalt him to Maqam Mahmud (the privilege of intercession, etc.). And all the people of the gathering will send their praises to Allah.
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج اتنا قریب ہو جائے گا کہ پسینہ آدھے کان تک پہنچ جائے گا۔ لوگ اسی حال میں اپنی مخلصی کے لیے آدم علیہ السلام سے فریاد کریں گے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے۔ اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا ‘ کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے کہ مخلوق کا فیصلہ کیا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھیں گے اور جنت کے دروازے کا حلقہ تھام لیں گے۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ آپ کو ”مقام محمود“ عطا فرمائے گا۔ جس کی تمام اہل محشر تعریف کریں گے۔ اور معلی بن اسد نے کہا کہ ہم سے وہیب نے نعمان بن راشد سے بیان کیا ‘ ان سے زہری کے بھائی عبداللہ بن مسلم نے ‘ ان سے حمزہ بن عبداللہ نے ‘ اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اتنی ہی حدیث بیان کی جو سوال کے باب میں ہے۔
1475
Sahih
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةَ وَالْأُكْلَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى وَيَسْتَحْيِي أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The poor person is not the one who asks a morsel or two (of meals) from the others, but the poor is the one who has nothing and is ashamed to beg from others.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرائیں۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں۔ لیکن اسے سوال سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا ( مسکین وہ جو کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے ) ۔
1476
Sahih
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا ، قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ .
Narrated Ash-Shu`bi: The clerk of Al-Mughira bin Shu`ba narrated, Muawiya wrote to Al-Mughira bin Shu`ba: Write to me something which you have heard from the Prophet (p.b.u.h) . So Al-Mughira wrote: I heard the Prophet saying, Allah has hated for you three things: -1. Vain talks, (useless talk) that you talk too much or about others. -2. Wasting of wealth (by extravagance) -3. And asking too many questions (in disputed religious matters) or asking others for something (except in great need). (See Hadith No. 591, Vol. Ill)
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے ابن اشوع نے ‘ ان سے عامر شعبی نے۔ کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد نے بیان کیا۔ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ انہیں کوئی ایسی حدیث لکھئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، فضول خرچی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔
1477
Sahih
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا ؟ , قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا ؟ , قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ، وَعَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ، ثُمَّ قَالَ : أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : فَكُبْكِبُوا قُلِبُوا فَكُبُّوا مُكِبًّا ، أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ ، فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ ، قُلْتَ : كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَكَبَبْتُهُ أَنَا .
Narrated Sa`d (bin Abi Waqqas): Allah's Apostle distributed something (from the resources of Zakat) amongst a group of people while I was sitting amongst them, but he left a man whom I considered the best of the lot. So, I went up to Allah's Apostle and asked him secretly, Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim (Who surrender to Allah). I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim. I remained quiet for a while but could not help repeating my question because of what I knew about him. I said, O Allah's Apostle! Why have you left that person? By Allah! I consider him a believer. The Prophet said, Or merely a Muslim. Then Allah's Apostle (p.b.u.h) said, I give to a person while another is dearer to me, for fear that he may be thrown in the Hell-fire on his face (by reneging from Islam).
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں ) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ ( جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں ) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور ( یعقوب بن ابراہیم ) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا۔ اور فرمایا۔ سعد! ادھر سنو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( قرآن مجید میں لفظ ) «كبكبوا‏» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا‏» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں۔
1478
Sahih
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The poor person is not the one who goes round the people and ask them for a mouthful or two (of meals) or a date or two but the poor is that who has not enough (money) to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
1479
Sahih
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ ثُمَّ يَغْدُوَ , أَحْسِبُهُ قَالَ : إِلَى الْجَبَلِ ، فَيَحْتَطِبَ فَيَبِيعَ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ : أَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, No doubt, it is better for a person to take a rope and proceed in the morning to the mountains and cut the wood and then sell it, and eat from this income and give alms from it than to ask others for something.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر ( میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) پہاڑوں میں چلا جائے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں فروخت کرے۔ اس سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
1480
Sahih
(54) CHAPTER. (The lawfulness of) estimating the amount of the date-fruit while they are still on the palms for the sake of taking the Zakat.
کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، فَلَمَّا جَاءَ وَادِيَ الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : اخْرُصُوا ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، فَقَالَ لَهَا : أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ ، فَعَقَلْنَاهَا ، وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّءٍ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ ، فَلَمَّا أَتَى وَادِيَ الْقُرَى ، قَالَ لِلْمَرْأَةِ : كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ ؟ , قَالَتْ : عَشَرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ ، فَلَمَّا قَالَ ابْنُ بَكَّارٍ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : هَذِهِ طَابَةُ ، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا , قَالَ : هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : دُورُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ أَوْ دُورُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ , يَعْنِي خَيْرًا ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : كُلُّ بُسْتَانٍ عَلَيْهِ حَائِطٌ فَهُوَ حَدِيقَةٌ ، وَمَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ حَائِطٌ لَمْ يُقَلْ حَدِيقَةٌ .
Narrated Abu Humaid As-Sa`idi: We took part in the holy battle of Tabuk in the company of the Prophet and when we arrived at the Wadi-al-Qura, there was a woman in her garden. The Prophet asked his companions to estimate the amount of the fruits in the garden, and Allah's Apostle estimated it at ten Awsuq (One Wasaq = 60 Sa's) and 1 Sa'= 3 kg. approximately). The Prophet said to that lady, Check what your garden will yield. When we reached Tabuk, the Prophet said, There will be a strong wind tonight and so no one should stand and whoever has a camel, should fasten it. So we fastened our camels. A strong wind blew at night and a man stood up and he was blown away to a mountain called Taiy, The King of Aila sent a white mule and a sheet for wearing to the Prophet as a present, and wrote to the Prophet that his people would stay in their place (and will pay Jizya taxation.) (1) When the Prophet reached Wadi-al- Qura he asked that woman how much her garden had yielded. She said, Ten Awsuq, and that was what Allah's Apostle had estimated. Then the Prophet said, I want to reach Medina quickly, and whoever among you wants to accompany me, should hurry up. The sub-narrator Ibn Bakkar said something which meant: When the Prophet (p.b.u.h) saw Medina he said, This is Taba. And when he saw the mountain of Uhud, he said, This mountain loves us and we love it. Shall I tell you of the best amongst the Ansar? They replied in the affirmative. He said, The family of Bani-n-Najjar, and then the family of Bani Sa`ida or Bani Al-Harith bin Al-Khazraj. (The above-mentioned are the best) but there is goodness in all the families of Ansar.
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے عباس بن سہل ساعدی نے ‘ ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ ( مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک قدیم آبادی ) سے گزرے تو ہماری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے باغ میں کھڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ اس کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ ( کہ اس میں کتنی کھجور نکلے گی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا۔ پھر اس عورت سے فرمایا کہ یاد رکھنا اس میں سے جتنی کھجور نکلے۔ جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔ چنانچہ ہم نے اونٹ باندھ لیے۔ اور آندھی بڑے زور کی آئی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ تو ہوا نے اسے ”جبل طے“ پر جا پھینکا۔ اور ایلہ کے حاکم ( یوحنا بن روبہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر اور ایک چادر کا تحفہ بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریری طور پر اسے اس کی حکومت پر برقرار رکھا پھر جب وادی قریٰ ( واپسی میں ) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی عورت سے پوچھا کہ تمہارے باغ میں کتنا پھل آیا تھا اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازہ کے مطابق دس وسق آیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ جلد جانا چاہتا ہوں۔ اس لیے جو کوئی میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے وہ میرے ساتھ جلد روانہ ہو پھر جب ( ابن بکار امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے ایک ایسا جملہ کہا جس کے معنے یہ تھے ) کہ مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے طابہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ دیکھا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں انصار کے سب سے اچھے خاندان کی نشاندہی نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کی کہ ضرور کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا خاندان۔ پھر بنو عبدالاشہل کا خاندان، پھر بنو ساعدہ کا یا ( یہ فرمایا کہ ) بنی حارث بن خزرج کا خاندان۔ اور فرمایا کہ انصار کے تمام ہی خاندانوں میں خیر ہے ‘ ابوعبداللہ ( قاسم بن سلام ) نے کہا کہ جس باغ کی چہار دیواری ہو اسے حدیقہ کہیں گے۔ اور جس کی چہار دیواری نہ ہو اسے حدیقہ نہیں کہیں گے۔
1481
Sahih
(54) CHAPTER. (The lawfulness of) estimating the amount of the date-fruit while they are still on the palms for the sake of taking the Zakat.
کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے
وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ : حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ : عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ .
اور سلیمان بن بلال نے کہا کہ مجھ سے عمرو نے اس طرح بیان کیا کہ پھر بنی حارث بن خزرج کا خاندان اور پھر بنو ساعدہ کا خاندان۔ اور سلیمان نے سعد بن سعید سے بیان کیا ‘ ان سے عمارہ بن غزنیہ نے ‘ ان سے عباس نے ‘ ان سے ان کے باپ (سہل) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
1482
Sahih
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ لِأَنَّهُ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الْأَوَّلِ , يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَبَيَّنَ فِي هَذَا وَوَقَّتَ وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ ، وَالْمُفَسَّرُ يَقْضِي عَلَى الْمُبْهَمِ إِذَا رَوَاهُ أَهْلُ الثَّبَتِ كَمَا رَوَى الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْكَعْبَةِ ، وَقَالَ بِلَالٌ : قَدْ صَلَّى ، فَأُخِذَ بِقَوْلِ بِلَالٍ وَتُرِكَ قَوْلُ الْفَضْلِ .
Narrated Salim bin `Abdullah from his father: The Prophet said, On a land irrigated by rain water or by natural water channels or if the land is wet due to a near by water channel Ushr (i.e. one-tenth) is compulsory (as Zakat); and on the land irrigated by the well, half of an Ushr (i.e. one-twentieth) is compulsory (as Zakat on the yield of the land).
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ‘ انہیں شہاب نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ زمین جسے آسمان ( بارش کا پانی ) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یہ حدیث یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ جس کھیتی میں آسمان کا پانی دیا جائے ‘ دسواں حصہ ہے پہلی حدیث یعنی ابوسعید کی حدیث کی تفسیر ہے۔ اس میں زکوٰۃ کی کوئی مقدار مذکور نہیں ہے اور اس میں مذکور ہے۔ اور زیادتی قبول کی جاتی ہے۔ اور گول مول حدیث کا حکم صاف صاف حدیث کے موافق لیا جاتا ہے۔ جب اس کا راوی ثقہ ہو۔ جیسے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی۔ لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ( کعبہ میں ) پڑھی تھی۔ اس موقع پر بھی بلال رضی اللہ عنہ کی بات قبول کی گئی اور فضل رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیا گیا۔
1483
Sahih
(56) CHAPTER. There is no Zakat on less than five Awsuq.
پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ فِيمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْإِبِلِ الذَّوْدِ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ ، إِذَا قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَيُؤْخَذُ أَبَدًا فِي الْعِلْمِ بِمَا زَادَ أَهْلُ الثَّبَتِ أَوْ بَيَّنُوا .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, There is no Zakat on less than five Awsuq (of dates), or on less than five camels, or on less than five Awaq of silver. (22 Yemeni Riyals Faransa).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور پانچ مہار اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
1484
Sahih
(57) CHAPTER. Zakat of dates should be taken during their plucking season. Can a child touch the dates collectd as Zakat?
کھجور کے پھل توڑنے کے وقت زکوٰۃ لی جائے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيءُ هَذَا بِتَمْرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمْرِهِ حَتَّى يَصِيرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بِذَلِكَ التَّمْرِ فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا مِنْ فِيهِ ، فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ .
Narrated Abu Huraira: Dates used to be brought to Allah's Apostle immediately after being plucked. Different persons would bring their dates till a big heap collected (in front of the Prophet). Once Al-Hasan and Al-Husain were playing with these dates. One of them took a date and put it in his mouth. Allah's Apostle looked at him and took it out from his mouth and said, Don't you know that Muhammad's offspring do not eat what is given in charity?
ہم سے عمر بن محمد بن حسن اسدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس توڑنے کے وقت زکوٰۃ کی کھجور لائی جاتی، ہر شخص اپنی زکوٰۃ لاتا اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ کھجور کا ایک ڈھیر لگ جاتا۔ ( ایک مرتبہ ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی۔ اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد زکوٰۃ کا مال نہیں کھا سکتی۔
1485
Sahih
(58) CHAPTER. Whoever sold his fruits, his date-palm trees, his land or his crops and the Ushr or Zakat was due on them, and gave Zakat from some other property, or sold his fruits when Zakat was due.
جو شخص اپنا میوہ یاکھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاحِهَا ، قَالَ : حَتَّى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet had forbidden the sale of dates till they were good (ripe), and when it was asked what it meant, the Prophet said, Till there is no danger of blight.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو ( درخت پر ) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔
1486
Sahih
(58) CHAPTER. Whoever sold his fruits, his date-palm trees, his land or his crops and the Ushr or Zakat was due on them, and gave Zakat from some other property, or sold his fruits when Zakat was due.
جو شخص اپنا میوہ یاکھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet had forbidden the sale of fruits till they were ripe (free from blight).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی کھل نہ جائے۔
1487
Sahih
(58) CHAPTER. Whoever sold his fruits, his date-palm trees, his land or his crops and the Ushr or Zakat was due on them, and gave Zakat from some other property, or sold his fruits when Zakat was due.
جو شخص اپنا میوہ یاکھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ، قَالَ حَتَّى تَحْمَارَّ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle forbade the selling of fruits until they were ripe. The Prophet (p.b.u.h) added, It means that they become red .
ہم سے قتیبہ نے امام مالک سے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک پھل پر سرخی نہ آ جائے ‘ انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
1488
Sahih
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ ، فَقَالَ : لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ، فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً .
Narrated `Abdullah bin `Umar: `Umar bin Al-Khattab gave a horse in charity in Allah's Cause and later he saw it being sold in the market and intended to purchase it. Then he went to the Prophet and asked his permission. The Prophet said, Do not take back what you have given in charity. For this reason, Ibn `Umar never purchased the things which he had given in charity, and in case he had purchased something (unknowingly) he would give it in charity again.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستہ میں صدقہ کیا۔ پھر اسے آپ نے دیکھا کہ وہ بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس لیے ان کی خواہش ہوئی کہ اسے وہ خود ہی خرید لیں۔ اور اجازت لینے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ اسی وجہ سے اگر ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنا دیا ہوا کوئی صدقہ خرید لیتے ‘ تو پھر اسے صدقہ کر دیتے تھے۔ ( اپنے استعمال میں نہ رکھتے تھے۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ) ۔
1489
Sahih
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تَشْتَرِي وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ .
Narrated `Umar: Once I gave a horse in Allah's Cause (in charity) but that person did not take care of it. I intended to buy it, as I thought he would sell it at a low price. So, I asked the Prophet (p.b.u.h) about it. He said, Neither buy, nor take back your alms which you have given, even if the seller were willing to sell it for one Dirham, for he who takes back his alms is like the one who swallows his own vomit.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔
1490
Sahih
(60) CHAPTER. What is said regarding what is given to the Prophet and his offspring in charity.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر صدقہ کا حرام ہونا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كِخٍ كِخٍ ، لِيَطْرَحَهَا ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ .
Narrated Abu Huraira: Al-Hasan bin `Ali took a date from the dates given in charity and put it in his mouth. The Prophet said, Expel it from your mouth. Don't you know that we do not eat a thing which is given in charity?
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ کی کھجوروں کے ڈھیر سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چھی چھی! نکالو اسے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔
1491
Sahih
(61) CHAPTER. As-Sadaqa (alms) for the freed slave-girls of the wives of the Prophet (do they accept things given in charity)?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی لونڈیوں اور غلاموں کو صدقہ دینا درست ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ، قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ : إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet saw a dead sheep which had been given in charity to a freed slave-girl of Maimuna, the wife of the Prophet . The Prophet said, Why don't you get the benefit of its hide? They said, It is dead. He replied, Only to eat (its meat) is illegal.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو جو بکری صدقہ میں کسی نے دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔
1492
Sahih
(61) CHAPTER. As-Sadaqa (alms) for the freed slave-girls of the wives of the Prophet (do they accept things given in charity)?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی لونڈیوں اور غلاموں کو صدقہ دینا درست ہے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، وَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا , فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، قَالَتْ : وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ ، فَقُلْتُ : هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ .
Narrated Al-Aswad: `Aisha intended to buy Barira (a slave-girl) in order to manumit her and her masters intended to put the condition that her Al-wala would be for them. `Aisha mentioned that to the Prophet who said to her, Buy her, as the Wala is for the manumitted. Once some meat was presented to the Prophet and `Aisha said to him, This (meat) was given in charity to Barira. He said, It is an object of charity for Barira but a gift for us.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ان کا ارادہ ہوا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( جو باندی تھیں ) آزاد کر دینے کے لیے خرید لیں۔ لیکن اس کے اصل مالک یہ چاہتے تھے کہ ولاء انہیں کے لیے رہے۔ اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم خرید کر آزاد کر دو ‘ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے ‘ جو آزاد کرے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے صدقہ کے طور پر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھا۔ لیکن اب ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔
1493
Sahih
(62) CHAPTER. When alms is transferred. (It will be legal for the Prophet's folk to accept it as a gift).
جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ , فَقَالَتْ : لَا ، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثَتْ بِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا .
Narrated Um 'Atiyya Al-Ansariya: The Prophet went to `Aisha and asked her whether she had something (to eat). She replied that she had nothing except the mutton (piece) which Nusaiba (Um 'Atiyya) had sent to us (Buraira) in charity. The Prophet said, It has reached its place and now it is not a thing of charity but a gift for us.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں کوئی چیز نہیں۔ ہاں نسیبہ رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا اس بکری کا گوشت ہے جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ خیرات تو اپنے ٹھکانے پہنچ گئی۔
1494
Sahih

Chapters

73
01
(1) CHAPTER. The obligation of Zakat.
زکوٰۃ دینا فرض ہے
6 Hadith
02
(2) CHAPTER. To give Baiah (pledge) for paying Zakat.
زکوٰۃ دینے پر بیعت کرنا
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The sin of a person who does not pay Zakat.
زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کا گناہ
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. A property from which the Zakat is paid is not Al-Kanz (hoarded-money).
جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز ( خزانہ ) نہیں ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے
5 Hadith
05
(5) CHAPTER. To spend money in the right way.
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
06
(8) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) must be from money earned honestly.
حلال کمائی میں سے خیرات کرنا
1 Hadith
07
(9) CHAPTER. To practise charity (as early as possible) before such time when nobody would accept it.
صدقہ اس زمانے سے پہلے کہ اس کا لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا
4 Hadith
08
(10) CHAPTER. “Protect yourself from Hell-fire even with a half date, or with the little object of charity.”
اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو
4 Hadith
09
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
1 Hadith
10
CHAPTER
۔ ۔ ۔
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. If one gives an object of charity to a wealthy person unknowingly.
اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا ( تو اس کو ثواب مل جائے گا )
1 Hadith
12
(15) CHAPTER. If a person gives something in charity to his own son unknowingly.
اگر باپ ناواقفی سے اپنے بیٹے کو خیرات دیدے کہ اس کو معلوم نہ ہو ؟
1 Hadith
13
(16) CHAPTER. To give objects of charity with the right hand.
خیرات داہنے ہاتھ سے دینی بہتر ہے
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
1 Hadith
15
(18) CHAPTER. The wealthy only are required to give in charity.
صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد بھی آدمی مالدار ہی رہ جائے ( بالکل خالی ہاتھ نہ ہو بیٹھے )
4 Hadith
16
(20) CHAPTER. Whoever loves to give something in charity on the very day (on shich he receives his earnings).
خیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہیے
1 Hadith
17
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
3 Hadith
18
(22) CHAPTER. To give in charity as much as you can afford.
جہاں تک ہو سکے خیرات کرنا
1 Hadith
19
(23) CHAPTER. As-Sadaqa (charity) expiates sins.
صدقہ خیرات سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
1 Hadith
20
(24) CHAPTER. Whoever gave things in charity while he was a Mushrik and then embraced Islam.
اس بارے میں کہ جس نے شرک کی حالت میں صدقہ دیا اور پھر اسلام لے آیا
1 Hadith
21
(25) CHAPTER. The servant gets a reward for giving charity when ordered by the owner of the property, as long as the servant has no intention of spoiling it (his master's property).
خادم نوکر کا ثواب ‘ جب وہ مالک کے حکم کے مطابق خیرات دے اور کوئی بگاڑ کی نیت نہ ہو
2 Hadith
22
(26) CHAPTER. The reward of the lady who gives in charity, or provides somebody with food from her husband
عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو
3 Hadith
23
(27) CHAPTER. The Statement of Allah.
( سورۃ واللیل میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. The examples of an alms-giver and a miser.
صدقہ دینے والے کی اور بخیل کی مثال کا بیان
2 Hadith
25
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
1 Hadith
26
(31) CHAPTER. How much is Zakat, and how much may be given in charity? And whoever gave a sheep in charity.
زکوٰۃ یا صدقہ میں کتنا مال دینا درست ہے اور اگر کسی نے ایک پوری بکری دے دی ؟
1 Hadith
27
(32) CHAPTER. The Zakat of silver.
چاندی کی زکوٰۃ کا بیان
1 Hadith
28
(33) CHAPTER. Zakat may be paid in kind (and not in cash).
زکوٰۃ میں ( چاندی سونے کے سوا اور ) اسباب کا لینا
2 Hadith
29
(34) CHAPTER. The individual property of different people should neither be gathered together nor the joint property should be divided, in assessing the Zakat.
زکوٰۃ لیتے وقت جو مال جدا جدا ہوں وہ اکٹھے نہ کئے جائیں اور جو اکٹھے ہوں وہ جدا جدا نہ کیے جائیں اور سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی روایت کیا ہے
1 Hadith
30
(35) CHAPTER. If a property is equally owned by two partners, its Zakat is to be paid as a whole, and each partner is to pay the same amount.
اگر دو آدمی ساجھی ہوں تو زکوٰۃ کا خرچہ حساب سے برابر برابر ایک دوسرے سے مجرا کر لیں
1 Hadith
31
(36) CHAPTER. The Zakat of camels.
اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان
1 Hadith
32
(37) CHAPTER. Whoever has to pay a Bint Makhad (one year old she-camel) as Zakat and has not got it.
جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ میں ایک برس کی اونٹنی دینا ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو
1 Hadith
33
(38) CHAPTER. The Zakat of sheep.
بکریوں کی زکوٰۃ کا بیان
1 Hadith
34
(39) CHAPTER. Neither an old, nor a defective animal, nor a male-goat may be taken as Zakat except if the Zakat collector wishes (to take it).
زکوٰۃ میں بوڑھا یا عیب دار یا نر جانور نہ لیا جائے گا مگر جب زکوٰۃ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو لے سکتا ہے
1 Hadith
35
(40) CHAPTER. To accept a she-kid as Zakat.
بکری کا بچہ زکوٰۃ میں لینا
2 Hadith
36
(41) CHAPTER. “Do not take the best from the property of the people of Zakat.”
زکوٰۃ میں لوگوں کے عمدہ اور چھٹے ہوئے مال نہ لیے جائیں گے
1 Hadith
37
(42) CHAPTER. There is no Zakat for less than five camels.
پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں
1 Hadith
38
(43) CHAPTER. The Zakat of cows.
گائے بیل کی زکوٰۃ کا بیان
1 Hadith
39
(44) CHAPTER. The giving of Zakat to relatives.
اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا
2 Hadith
40
(45) CHAPTER. No Zakat is imposed on the horse of a Muslim.
مسلمان پر اس کے گھوڑوں کی زکوٰۃ دینا ضروری نہیں ہے
1 Hadith
41
(46) CHAPTER. No Zakat is imposed on the slave belonging to a Muslim.
مسلمان کو اپنے غلام ( لونڈی ) کی زکوٰۃ دینی ضروری نہیں ہے
1 Hadith
42
(47) CHAPTER. Giving in charity to orphans.
یتیموں پر صدقہ کرنا بڑا ثواب ہے
1 Hadith
43
(48) CHAPTER. The giving of Zakat to one
عورت کا خود اپنے شوہر کو یا اپنی زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینا
2 Hadith
44
(49) CHAPTER. The Statement of Allah;
اللہ تعالیٰ کے فرمان
1 Hadith
45
(50) CHAPTER. To abstain from begging.
سوال سے بچنے کا بیان
4 Hadith
46
(51) CHAPTER. The one whom Allah gives something without his asking for it, or without avarice for it.
اگر اللہ پاک کسی کو بن مانگے اور بن دل لگائے اور امیدوار رہے کوئی چیز دلا دے ( تو اس کو لے لے )
1 Hadith
47
(52) CHAPTER. Whoever asks the people (for something) so as to increase his wealth.
اگر کوئی شخص اپنی دولت بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرے ؟
2 Hadith
48
(53) CHAPTER. The Statement of Allah:
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد
5 Hadith
49
(54) CHAPTER. (The lawfulness of) estimating the amount of the date-fruit while they are still on the palms for the sake of taking the Zakat.
کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے
2 Hadith
50
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
1 Hadith
51
(56) CHAPTER. There is no Zakat on less than five Awsuq.
پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے
1 Hadith
52
(57) CHAPTER. Zakat of dates should be taken during their plucking season. Can a child touch the dates collectd as Zakat?
کھجور کے پھل توڑنے کے وقت زکوٰۃ لی جائے
1 Hadith
53
(58) CHAPTER. Whoever sold his fruits, his date-palm trees, his land or his crops and the Ushr or Zakat was due on them, and gave Zakat from some other property, or sold his fruits when Zakat was due.
جو شخص اپنا میوہ یاکھجور کا درخت یا کھیت بیچ ڈالے
3 Hadith
54
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
2 Hadith
55
(60) CHAPTER. What is said regarding what is given to the Prophet and his offspring in charity.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر صدقہ کا حرام ہونا
1 Hadith
56
(61) CHAPTER. As-Sadaqa (alms) for the freed slave-girls of the wives of the Prophet (do they accept things given in charity)?
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی لونڈیوں اور غلاموں کو صدقہ دینا درست ہے
2 Hadith
57
(62) CHAPTER. When alms is transferred. (It will be legal for the Prophet's folk to accept it as a gift).
جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے
2 Hadith
58
(63) CHAPTER. Zakat should be taken from the rich (Muslims) and given to the poor (Muslims) wherever they are.
مالداروں سے زکوٰۃ وصول کی جائے ۔ اور فقراء پر خرچ کر دی جائے خواہ وہ کہیں بھی ہوں
1 Hadith
59
(64) CHAPTER. The invoking and supplicating Allah of the Imam for the one who gives in charity.
امام ( حاکم ) کی طرف سے زکوٰۃ دینے والے کے حق میں دعائے خیر و برکت کرنا
1 Hadith
60
(65) CHAPTER. (Is Zakat imposed on) what is taken out of the sea (or not)?
جو مال سمندر سے نکالا جائے
1 Hadith
61
(66) CHAPTER. There is Khumus on Rikaz.
رکاز میں پانچواں حصہ واجب ہے
1 Hadith
62
(67) CHAPTER. The Statement of Allah: … And those employed to collect (the funds) … (V. 9:60)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں فرمایا زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو بھی زکوٰۃ سے دیا جائے گا
1 Hadith
63
(68) CHAPTER. The use of the camels given as Zakat and their milk for travellers.
زکوٰۃ کے اونٹوں سے مسافر لوگ کام لے سکتے ہیں اور ان کا دودھ پی سکتے ہیں
1 Hadith
64
(69) CHAPTER. Branding the camels given in As-Sadaqa (Zakat) by the Imam with his own hands.
زکوٰۃ کے اونٹوں پر حاکم کا اپنے ہاتھ سے داغ دینا
1 Hadith
65
(70) CHAPTER. Obligation of Sadaqat-ul-Fitr.
صدقہ فطر کا فرض ہونا
1 Hadith
66
(71) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is compulsory on the free or the slave Muslims.
صدقہ فطر کا مسلمانوں پر یہاں تک کہ غلام لونڈی پر بھی فرض ہونا
1 Hadith
67
(72) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of barley.
صدقہ فطر میں اگر جو دے تو ایک صاع ادا کرے
1 Hadith
68
(73) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of meal (per head).
گیہوں یا دوسرا اناج بھی صدقہ فطر میں ایک صاع ہونا چاہیے
1 Hadith
69
(74) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of dates (per head).
صدقہ فطر میں کھجور بھی ایک صاع نکالی جائے
1 Hadith
70
(75) CHAPTER. (Sadaqat-ul-Fitr is) one Sa of raisins (dried grapes) (per head).
صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیے
1 Hadith
71
(76) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is to be given before the Eid prayers.
صدقہ فطر نمازعید سے پہلے ادا کرنا
2 Hadith
72
(77) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr (is compulsory) on a slave as well as on a free Muslim.
صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا
1 Hadith
73
(78) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is obligatory on the young and the old.
صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے
1 Hadith
No chapter matched that.