TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2074 - (15) CHAPTER. The earnings of a person and his manual labour. - The book of sales (bargains). - Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
(15) CHAPTER. The earnings of a person and his manual labour.
انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, No doubt, it isbetter for any one of you to cut a bundle ofwood and carry it over his back rather than toask someone who may or may not givehim.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔
2074
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

861
1
اس چیز کا بیان کہ سب سے بہترین کمائی تجارت اور آدمی کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہے، نیز اس امر کا بیان کہ بندے کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے
Musnad Ahmad
2
(9) CHAPTER. Can a Junub (a person who has yet to take a bath after the sexual act or wet dream) put his hands in a pot (containing water) before washing them if they are not polluted with a dirty thing except Janaba?
کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے ؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو ۔
Sahih Bukhari
3
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(22b) CHAPTER. How a guardian is to deal with an orphan's wealth and what he can eat thereof according to his labour.
وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھالینا درست ہے
Sahih Bukhari
5
Chapter: If a fasting person is invited to eat and he does not want to break his fast, or someone insults him or argues with him, it is recommended for him to say: I am Fasting , and he should protect his fast from obscene speech, ignorance and the like
جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تور وہ (اپنے نفلی روزے کو)افطار نہ کرنا چاہے ‘یا اسے گالی دی جائے اور اس سے جگھڑا کیا جائے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور وہ اپنے روزے کو فحش گوئی اور جاہلانہ رویے سے پاک رکھے
Sahih Muslim
6
Chapter: The Mischief Of The Shaitan And How He Sends His Troops To Tempt People, And With Every Person There Is A Qarin (Companion From Among The Jinn)
لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Selling Over The Sale Of One's Brother
باب: اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Rich Person's Procrastination (Paying Debt) Is Oppression
باب: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Bidding Farewell To A Person
باب: کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
11
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
Musnad Ahmad
12
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
Musnad Ahmad
15
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
16
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
17
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
18
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
19
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
20
عبیداللہ بن زیاد کا پہلے حوض کو تسلیم نہ کرنا، لیکن بعد میں اس کا اپنے اس موقف سے رجوع کر لینا اور حوض کے وجود کی تصدیق کرنا
Musnad Ahmad
21
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
22
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
23
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
24
(44) CHAPTER. The sprinkling of remaining water after performing ablution on an unconscious person by the Prophet .
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بیہوش آدمی پر اپنے وضو کا پانی چھڑکنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
25
(61) CHAPTER. To urinate beside one's companion while screened by a wall.
اپنے ( کسی ) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا
Sahih Bukhari
26
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
27
(4) CHAPTER. Can a person blow off the dust from his hands in performing Tayammum (before passing them over his face).
اس بارے میں کہ کیا مٹی پر تیمم کے لیے ہاتھ مارنے کے بعد ہاتھوں کو پھونک کر ان کو چہرے اور دونوں ہتھیلوں پر مل لینا کافی ہے ؟
Sahih Bukhari
28
(100) CHAPTER. The person offering Salat (prayer) should repulse that person who tries to pass in front of him.
چاہیے کہ نماز پڑھنے والا اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روک دے
Sahih Bukhari
29
(8) CHAPTER. A person in Salat (prayer) is speaking in private to his Lord (Allah).
اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے
Sahih Bukhari
30
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
31
(9) CHAPTER. Beckoning during the Salat (prayer) [by a person in Salat].
نماز میں اشارہ کرنا
Sahih Bukhari
32
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
33
(15) CHAPTER. If a person gives something in charity to his own son unknowingly.
اگر باپ ناواقفی سے اپنے بیٹے کو خیرات دیدے کہ اس کو معلوم نہ ہو ؟
Sahih Bukhari
34
(117) CHAPTER. Nahr (Slaughtering with one's Hady) with one's own hands.
اپنے ہاتھ سے نحر کرنا
Sahih Bukhari
35
(13) CHAPTER. Reception of the returning pilgrims; and the riding of three persons on one animal.
مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا
Sahih Bukhari
36
(22) CHAPTER. To perform Hajj on behalf of a dead person and to fulfil his vows. A man can perform Hajj on behalf of a woman.
میت کی طرف سے حج اور نذر ادا کرنا اور مرد کسی عورت کے بدلہ میں حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
37
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
38
(32) CHAPTER. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے
Sahih Bukhari
39
(51) CHAPTER. If someone forces his Muslim brother to break his (Nawafil) fast, by giving him oath, the person observing Saum (fast) has not to observe Saum (fast) in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.
کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی
Sahih Bukhari
40
(3) CHAPTER. As-Salam to a person who has got nothing (to pay for the prices he receives in advance).
اس شخص سے سلم کرنا جس کے پاس اصل مال ہی موجود نہ ہو
Sahih Bukhari
41
(1) CHAPTER. Al-Hawala, (the transference of a dedt from one person to another. It is an agreement whereby a bebtor is released from a debt by another becoming responsible for it). Can Hawala be rejected by the creditors after accepting it?
حوالہ یعنی قرض کو کسی دوسرے پر اتارنے کا بیان اور اس کا بیان کہ حوالہ میں رجوع کرنا درست ہے یا نہیں
Sahih Bukhari
42
(6) CHAPTER. To depute a person to repay debts.
قرض ادا کرنے کے لیے کسی کو وکیل کرنا
Sahih Bukhari
43
(13) CHAPTER. To depute a person to carry out a (legal) Allah's ordained punishment.
حد لگانے کے لیے کسی کو وکیل کرنا
Sahih Bukhari
44
(15) CHAPTER. If a person tells his deputy, Spend it as Allah directs you, and the deputy says, I have heard what you have said.
اگر کسی نے اپنے وکیل سے کہا کہ جہاں مناسب جانو اسے خرچ کرو ، اور وکیل نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے میں نے سن لیا
Sahih Bukhari
45
(12) CHAPTER. Procrastination (delay) in repaying debts by a wealthy person is injustice.
ادائیگی میں مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Sahih Bukhari
46
(18) CHAPTER. The retaliation of the oppressed person if he finds the property of his oppressor.
مظلوم کو اگر ظالم کا مال مل جائے تو وہ اپنے مال کے موافق اس میں سے لے سکتا ہے
Sahih Bukhari
47
(12) CHAPTER. Giving gifts to one's sons.
باپ کا اپنے لڑکے کو کچھ ہبہ کرنا
Sahih Bukhari
48
(19) CHAPTER. It is recommended that something should be given in charity on behalf of a person who dies suddenly. And the execution of the vows of the deceased.
اگر کسی کو اچانک موت آ جائے تو اس کی طرف سے خیرات کرنا مستحب ہے اور میت کی نذروں کو پوری کرنا
Sahih Bukhari
49
(42) CHAPTER. The travelling of two persons together.
دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا
Sahih Bukhari
50
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

5,384
Sahih Bukhari
2374
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, No doubt, you had better gather a bundle of wood and carry it on your back (and earn your living thereby) rather than ask somebody who may give you or not.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبید نے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر ( بیچنے کے لیے ) لیے پھرے تو وہ اس سے اچھا ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر خواہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔
Jam e Tirmazi
661
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً تَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: None gives charity from Tayyib - and Allah does not accept but Tayyib - but that Ar-Rahman accepts it with His Right (Hand). Even if it is a date, it is nurtured in the Hand of Ar-Rahman until it is greater than a mountain, just as one of you nurtures his foal or young camel.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2277
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Qatadah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Dreams are from Allah and Hulum are from Shaitan. So when one of you sees something that bothers him, then let him spit on his left three times, and let him seek refuge in Allah from its evil. Then it will not harm him.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور برے خواب شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین بار اپنے بائیں طرف تھوکے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، ایسا کرنے پر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوسعید، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Bukhari
410
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى .
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id: Allah's Apostle saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
Sahih Bukhari
411
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى .
Narrated Abu Huraira and Abu Sa`id: Allah's Apostle saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
Sahih Bukhari
1222
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ , قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ فَلَا يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَسَمِعَهُ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When the Adhan for the prayer is pronounced, then Satan takes to his heels passing wind so that he may not hear the Adhan and when the Mu'adh-dhin finishes, he comes back; and when the Iqama is pronounced he again takes to his heels and when it is finished, he again comes back and continues reminding the praying person of things that he used not to remember when not in prayer till he forgets how much he has prayed. Abu Salama bin `Abdur-Rahman said, If anyone of you has such a thing (forgetting the number of rak`at he has prayed) he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness) while sitting. Abu Salama narrates this from Abu Huraira.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے، ان سے جعفر بن ربیعہ نے اور ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔ جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو مردود پھر آ جاتا ہے اور جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے ( اور تکبیر کہی جاتی ہے ) تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ لیکن جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ اور آدمی کے دل میں وسواس پیدا کرتا رہتا ہے۔ کہتا ہے کہ ( فلاں فلاں بات ) یاد کر۔ کم بخت وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں بھی نہ تھیں۔ اس طرح نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جب کوئی یہ بھول جائے ( کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ) تو بیٹھے بیٹھے ( سہو کے ) دو سجدے کر لے۔ ابوسلمہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا۔
Sahih Bukhari
1410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ , وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ ، عَنْ ابْنِ دِينَارٍ ، وَقَالَ وَرْقَاءُ : عَنِ ابْنِ دِينَار ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , وَسُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, If one give in charity what equals one date-fruit from the honestly earned money and Allah accepts only the honestly earned money --Allah takes it in His right (hand) and then enlarges its reward for that person (who has given it), as anyone of you brings up his baby horse, so much s that it becomes as big as a mountain
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوالنضر سالم بن ابی امیہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ عبدالرحمٰن کے ساتھ اس روایت کی متابعت سلیمان نے عبداللہ بن دینار کی روایت سے کی ہے اور ورقاء نے ابن دینار سے کہا ‘ ان سے سعید بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت مسلم بن ابی مریم ‘ زید بن اسلم اور سہیل نے ابوصالح سے کی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Sunnan Abu Dawood
1030
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّيْثُ.
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying; When one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him so that he does not know how much he has prayed. If any of you has such an experience, he should perform two prostrations while he is sitting. Abu Dawud said; This tradition has been narrated in a similar manner by Ibn ‘Uyainab, Mamar and al-Laith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
1842
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ فَصِيلَهُ .
Sa'eed bin Yasar narrated that: he heard Abu Hurairah say: “The Messenger of Allah said: 'No one gives charity from good sources - for Allah does not accept anything but that which is good - but the Most Merciful takes it in His right hand, even if it is a date, and it flourishes in the Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than a mountain and he tends it as anyone of you would tend to his colt (i.e., young pony) or his young (weaned) camel.'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے ۱؎۔