TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of sales (bargains). - کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان - Book 35 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 35 of Sahih Bukhari, with 112 chapters and 192 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

192 Hadith · 112 Chapters
(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)
بیع مزابنہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet forbade Muzabana and Muhaqala.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔
2187
Sahih
(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)
بیع مزابنہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا .
Narrated Zaid bin Thabit: Allah's Apostle al lowed the owner of 'Araya to sell the fruits on the trees by means of estimation.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
2188
Sahih
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ، وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهُ إِلَّا بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا .
Narrated Jabir: The Prophet forbade the selling of fruits unless they get ripe, and none of them should be sold except for Dinar or Dirham (i.e. money), except the 'Araya trees (the dates of which could be sold for dates).
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز ( سوکھے پھل ) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔
2189
Sahih
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا ، وَسَأَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَحَدَّثَكَ دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet allowed the sale of the dates of 'Araya provided they were about five Awsuq (singular: Wasaq which means sixty Sa's) or less (in amount).
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں!
2190
Sahih
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا ، قَالَ : هُوَ سَوَاءٌ ؟ قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِيَحْيَى : وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ ، فَسَكَتَ ، قَالَ سُفْيَانُ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : لَا .
Narrated Sahl bin Abu Hathma: Allah's Apostle forbade the selling of fruits (fresh dates) for dried dates but allowed the sale of fruits on the 'Araya by estimation and their new owners might eat their dates fresh. Sufyan (in another narration) said, I told Yahya (a sub-narrator) when I was a mere boy, 'Meccans say that the Prophet allowed them the sale of the fruits on 'Araya by estimation.' Yahya asked, 'How do the Meccans know about it?' I replied, 'They narrated it (from the Prophet ) through Jabir.' On that, Yahya kept quiet. Sufyan said, I meant that Jabir belonged to Medina. Sufyan was asked whether in Jabir's narration there was any prohibition of selling fruits before their benefit is evident (i.e. no dangers of being spoilt or blighted). He replied that there was none.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔
2191
Sahih
(84) CHAPTER. The explanation of Araya.
عریہ کی تفسیر کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا ، قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : وَالْعَرَايَا نَخَلَاتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا .
Narrated Ibn `Umar from Zaid bin Thabit: Allah's Apostle allowed the sale of 'Araya by estimating the dates on them for measured amounts of dried dates. Musa bin `Uqba said, Al- 'Araya were distinguished date palms; one could come and buy them (i.e. their fruits).
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔
2192
Sahih
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
وَقَالَ اللَّيْثُ : عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ ، قَالَ الْمُبْتَاعُ : إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ ، أَصَابَهُ مُرَاضٌ ، أَصَابَهُ قُشَامٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ ، فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ ، وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا حَكَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنْ زَيْدٍ .
Zaid bin Thabit (ra) said, In the lifetime of Allah's Messenger (saws), the people used to trade with fruits. When they cut their date-fruits and the purchasers came to recieve their rights, the seller would say, 'My dates have got rotten, they are blighted with disease, they are afflicted with Qusham (a disease which causes the fruit to fall before ripening).' They would go on complaining of defects in their purchases. Allah's Messenger (saws) said, Do not sell the fruits before their benefit is evident (i.e. free from all the dangers of being spoiled or blighted), by way of advice for they quarrelled too much. Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit (ra) used not to sell the fruits of his land till Pleiades appeared and one could distinguish the yellow fruits from the red (ripe) ones.
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔
2193
Sahih
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔
2194
Sahih
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْتُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ .
Narrated Anas: Allah's Apostle forbade the sale of date fruits till they were ripe. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said, That means till they were red (can be eaten).
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( «حتى تزهو‏.‏» سے ) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
2195
Sahih
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ ، فَقِيلَ : وَمَا تُشَقِّحُ ؟ قَالَ : تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet forbade the s of (date) fruits till they were red or yellow and fit for eating.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سلیم بن حیان نے، ان سے سعید بن مینا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا «تشقح‏.‏» سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا۔ پوچھا گیا کہ «تشقح‏.‏» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے ( پھل کا پختہ ہونا مراد ہے ) ۔
2196
Sahih
(86) CHAPTER. The sale of date-palms (date trees) before their benefit is evident. (i.e., their dates are ripe).
جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَعَنِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، قِيلَ : وَمَا يَزْهُو ؟ قَالَ : يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet forbade the sale of fruits till their benefit is evident; and the sale of date palms till the dates are almost ripe. He was asked what 'are almost ripe' meant. He replied, Got red and yellow.
مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔
2197
Sahih
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا تُزْهِي ؟ قَالَ : حَتَّى تَحْمَرَّ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ .
p> Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle forbade the sale of fruits till they are almost ripe. He was asked what is meant by 'are almost ripe.' He replied, Till they become red. Allah's Apostle further said, If Allah spoiled the fruits, what right would one have to take the money of one's brother (i.e. other people)?
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے؟
2198
Sahih
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
قَالَ اللَّيْثُ :حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ ؟ كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ .
Narrated Ibn Shihab: If somebody bought fruits before their benefit is evident and then the fruits were spoiled with blights, the loss would be suffered by the owner (not the buyer). Narrated Salim bin 'Abdullah from Ibn Umar: Allah's Apostle said, Do not sell or buy fruits before their benefit was evident and do not sell fresh fruits (dates) for dried dates.
لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی ( درخت پر ) پھل خریدے، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو۔
2199
Sahih
(88) CHAPTER. To buy foodstuff on credit.
اناج ادھار ( ایک مدت مقرر کر کے ) خریدنا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، ثُمَّ حَدَّثَنَا ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ ، فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ .
Narrated `Aisha: The Prophet bought some foodstuff from a Jew on credit and mortgaged his armor to him.
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے ابراہیم کے سامنے قرض میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ہم سے اسود کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی۔
2200
Sahih
(89) CHAPTER. If one wishes to buy (a better quality of) dates for (a low quality of) dates [that is a kind of Riba (usury) and is called Riba-Al-Fadl].
اگر کوئی شخص خراب کھجور کے بدلہ میں اچھی کھجور لینا چاہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira: Allah's Apostle appointed somebody as a governor of Khaibar. That governor brought to him an excellent kind of dates (from Khaibar). The Prophet asked, Are all the dates of Khaibar like this? He replied, By Allah, no, O Allah's Apostle! But we barter one Sa of this (type of dates) for two Sas of dates of ours and two Sas of it for three of ours. Allah's Apostle said, Do not do so (as that is a kind of usury) but sell the mixed dates (of inferior quality) for money, and then buy good dates with that money.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ایک شخص کو تحصیل دار بنایا۔ وہ صاحب ایک عمدہ قسم کی کھجور لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم تو اسی طرح ایک صاع کھجور ( اس سے گھٹیا کھجوروں کے ) دو صاع دے کر خریدتے ہیں۔ اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ البتہ گھٹیا کھجور کو پہلے بیچ کر ان پیسوں سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔
2201
Sahih
(89) CHAPTER. If one wishes to buy (a better quality of) dates for (a low quality of) dates [that is a kind of Riba (usury) and is called Riba-Al-Fadl].
اگر کوئی شخص خراب کھجور کے بدلہ میں اچھی کھجور لینا چاہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ قَالَ : لَا ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira: Allah's Apostle appointed somebody as a governor of Khaibar. That governor brought to him an excellent kind of dates (from Khaibar). The Prophet asked, Are all the dates of Khaibar like this? He replied, By Allah, no, O Allah's Apostle! But we barter one Sa of this (type of dates) for two Sas of dates of ours and two Sas of it for three of ours. Allah's Apostle said, Do not do so (as that is a kind of usury) but sell the mixed dates (of inferior quality) for money, and then buy good dates with that money.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ایک شخص کو تحصیل دار بنایا۔ وہ صاحب ایک عمدہ قسم کی کھجور لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم تو اسی طرح ایک صاع کھجور ( اس سے گھٹیا کھجوروں کے ) دو صاع دے کر خریدتے ہیں۔ اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ البتہ گھٹیا کھجور کو پہلے بیچ کر ان پیسوں سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو۔
2202
Sahih
(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).
جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : أَيُّمَا نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَ .
Narrated Nafi', the freed slave of Ibn 'Umar: If pollinated date-palms are sold and nothing is mentioned (in the contract) about their fruits, the fruits will go to the person who has pollinated them, and so will be the case with the slave and the cultivator. Nafi' mentioned those three things.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے کہا، انہیں ہشام نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع سے خبر دیتے تھے کہ جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیجا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا۔
2203
Sahih
(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).
جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔
2204
Sahih
(91) CHAPTER. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff.
کھیتی کا اناج جو ابھی درختوں پر ہو ماپ کے رو سے غلہ کے عوض بیچنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا ، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
2205
Sahih
(92) CHAPTER. The sale of date-palms completely (with roots and stems).
کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا ، ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا ، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, Whoever pollinates date palms and then sells them, the fruits will belong to him unless the buyer stipulates that the fruits should belong to him (and the seller agrees).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کسی کھجور کے درخت کو پیوندی بنایا۔ پھر اس درخت ہی کو بیچ دیا تو ( اس موسم کا پھل ) اسی کا ہو گا جس نے پیوندی کیا ہے، لیکن اگر خریدار نے پھلوں کی بھی شرط لگا دی ہے ( تو یہ امر دیگر ہے ) ۔
2206
Sahih

Chapters

112
01
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
4 Hadith
02
(2) CHAPTER. Legal, illegal things are clearly defined, and in between them are some doubtful (unclear) things.
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ شک و شبہ والی چیزیں بھی ہیں
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. Explanation of doubtful (unclear) things.
ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں ؟
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. What doubtful (unclear) things should be avoided?
مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful (unclear) things.
دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The one who does not care from where he earns his money (i.e., whether through legal or illegal ways).
جو روپیہ کمانے میں حلال یا حرام کی پرواہ نہ کرے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Going out for trading.
تجارت کے لیے گھر سے باہر نکلنا
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. Trading in sea.
سمندر میں تجارت کرنے کا بیان
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”(V.62:11)
۔ ( سورۃ الجمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں “
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Whoever liked to expand in his sustenance.
جو روزی میں کشادگی چاہتا ہو وہ کیا کرے ؟
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The Prophet purchased (foodgrains) on credit.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھار خریدنا
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. The earnings of a person and his manual labour.
انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا
6 Hadith
16
(16) CHAPTER. One should be lenient and generous in bargaining, and whoever demands his debts back should do so in a modest lenient manner.
خریدوفروخت کے وقت نرمی ، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whoever gave time to a rich person to pay at his convenience.
جو شخص مالدار کو مہلت دے
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. Whoever waited for a person in hard circumstances to pay debt (i.e., when he is able to repay).
جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کا ثواب
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. If both the seller and buyer explain the good and bad points of the transaction and hide nothing and give sincere advice (then they are blessed in their bargain).
جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Selling of mixed dates.
مختلف قسم کی کھجور ملا کر بیچنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. What is said about the meat seller and the butcher.
گوشت بیچنے والے اور قصاب کا بیان
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is said regarding the loss (of blessing) if one tells lies or hides the facts in a deal.
بیچنے میں جھوٹ بولنے اور عیب کو چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Eat not Riba (usury) doubled and multiplied.”(V.3:130)
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. (The sin of) one who eats Riba (usury), its witness and its writer.
سود کھانے والا اور اس پر گواہ ہونے والا اور سودی معاملات کا لکھنے والا ، ان سب کی سزا کا بیان
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. (The sin of) the Riba-giver.
سود کھلانے والے کا گناہ
1 Hadith
26
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. What is disapproved of as regards giving oaths (swearing) while selling.
خریدوفروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. What is said about the goldsmiths.
سناروں کا بیان
2 Hadith
29
(29) CHAPTER. The mentioning of blacksmiths.
کاریگروں اور لوہاروں کا بیان
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mentioning of the tailor.
درزی کا بیان
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. The weaver.
کپڑا بننے والے کا بیان
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. The carpenter.
بڑھئی کا بیان
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. The purchase by ruler of his necessities by himself.
اپنی ضرورت کی چیزیں ہر آدمی خود بھی خرید سکتا ہے
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. The purchase of animals and donkeys.
چوپایہ جانوروں اور گھوڑوں ، گدھوں کی خریداری کابیان
1 Hadith
35
(35) CHAPTER. The markets of the Pre-Islamic Period of Ignorance where the people continued to trade after embracing Islam.
جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خریدوفروخت کی
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. Purchasing of camel suffering from skin disease or disease causing severe thirts.
۔ ( ہیم ) بیمار یا خارشی اونٹ خریدنا ، ہیم ہائم کی جمعہ ہے ہائم اعتدال ( میانہ روی ) سے گزرنے والا
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Selling of arms during the period of Al-Fitnah (trial, affliction) and otherwise.
جب مسلمانوں میں آپس میں فساد نہ ہو یا ہو رہا تو ہتھیار بیچنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. (What is said) about the perfume seller and the selling of musk.
عطر بیچنے والے اور مشک بیچنے کا بیان
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. The mentioning of Al-Hajjam (i.e., the one who practises cupping).
پچھنا لگانے والے کا بیان
2 Hadith
40
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. The owner of a thing has to suggest a price.
سامان کے مالک کو قیمت کہنے کا زیادہ حق ہے
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. For what period has one to confirm or cancel the bargain?
کب تک بیع توڑنے کا اختیار رہتا ہے اس کا بیان
2 Hadith
43
(43) CHAPTER. If the time for the option is not fixed, will the deal be considered as legal?
اگر بائع یا مشتری اختیار کی مدت معین نہ کرے تو بیع جائز ہو گی یا نہیں ؟
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. Both the buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain, unless they separate.
جب تک خریدنے اور بیچنے والے جدا نہ ہوں انہیں اختیار باقی رہتا ہے
2 Hadith
45
(45) CHAPTER. If the buyer and the seller give each other the option of cancelling the bargain immediately after the bargain is made (while they are still together), the bargain is rendered final (even if they did not separate).
اگر بیع کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے لیے مختار بنایا تو بیع لازم ہوگئی
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. Is selling permissible if the seller has the option of cancelling the bargain?
اگر بائع اپنے لیے اختیار کی شرط کر لے تو بھی بیع جائز ہے
2 Hadith
47
(47) CHAPTER. What is said if somebody buys a thing and gives it as a present to someone else at that very moment before separating from the seller, and the seller has had no objection to buyer's action; or if someone buys a slave and then manumits him?
۔ ۔ ۔
2 Hadith
48
(48) CHAPTER. What is disliked as regards cheating in business.
خریدوفروخت میں دھوکہ دینا مکروہ ہے
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. What is said about markets.
بازاروں کا بیان
7 Hadith
50
(50) CHAPTER. The dislike of raising voices in the market.
بازار میں شور و غل مچانا مکروہ ہے
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. Weighing or measuring goods is to be done by the seller or the giver.
ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے ( خریدار پر نہیں )
2 Hadith
52
(52) CHAPTER. What is considered preferable regarding measuring.
اناج کا ناپ تول کرنا مستحب ہے
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. Allah's Blessing in the Sa and Mudd of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد کی برکت کا بیان
2 Hadith
54
(54) CHAPTER. What is said about the selling of the foodstuff and its storage.
اناج کا بیچنا اور احتکار کرنا کیسا ہے ؟
4 Hadith
55
(55) CHAPTER. The selling of foodstuff before receiving it, and the selling of a thing which you don't have.
غلے کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا اور ایسی چیز کو بیچنا جو تیرے پاس موجود نہیں
2 Hadith
56
(56) CHAPTER. Whoever had the opinion that whoever bought foodstuff without measuring or weighing (blindly) should not sell it before bringing into his house; and the punishment for whoever disobeys this order.
جو شخص غلہ کا ڈھیر بن ناپے تولے خریدے وہ جب تک اس کو اپنے ٹھکانے نہ لائے ، کسی کے ہاتھ نہ بیچے اور اس کے خلاف کرنے والے کی سزا کا بیان
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. If somebody buys some goods or (an) animal and let it with the seller, or it dies before he takes it into his possession.
اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. A seller should not urge somebody (in case of optional sale) to cancle a bargain the latter has already agreed upon with another seller so as to sell him his own goods; and a buyer should not urge the seller to cencle a barbain already agreed upon with another buyer so as to buy the goods himself, unless they are given permission in both cases, or the bargains are cancelled with the willingness of both the seller and the buyer.
کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
2 Hadith
59
(59) CHAPTER. Selling by auction.
نیلام کرنے کے بیان میں
1 Hadith
60
(60) CHAPTER. An-Najsh and whoever said: A bargain carried out in such a way (Najsh) is not valid.
نجش یعنی دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانا کیسا ہے ؟ اور بعض نے کہا یہ بیع ہی جائز نہیں
1 Hadith
61
(61) CHAPTER. Al-Gharar (the sale of what is not present) and Habal-il-Habala (i.e., the sale of what is in the womb of an animal).
دھوکے کی بیع اور حمل کی بیع کا بیان
1 Hadith
62
(62) CHAPTER. Al-Limas or Mulamasa sale, i.e., by touching the thing only and not looking at it.
بیع ملامسۃ کا بیان اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
2 Hadith
63
(63) CHAPTER. Selling by Munabadha.
بیع منابذہ کا بیان اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
2 Hadith
64
(64) CHAPTER. The seller is not allowed to keep camels, cows, sheep or any other animal unmilked for a long time (so as to get more price by cheating).
اونٹ یا بکری یا گائے کے تھن میں دودھ جمع کر رکھنا بائع کو منع ہے
3 Hadith
65
(65) CHAPTER. The option of returning an animal after milking it, along with a Sa of dates (as the price of the milk), if it has been kept unmilked for a long period by the seller (to deceive others).
خریدار اگر چاہے تو مصراۃ کو واپس کر سکتا ہے لیکن اس کے دودھ کے بدلہ میں ( جو خریدار نے استعمال کیا ہے ) ایک صاع کھجور دے دے
1 Hadith
66
(66) CHAPTER. The selling of an adulterer slave.
زانی غلام کی بیع کا بیان
3 Hadith
67
(67) CHAPTER. Dealing with women in selling and buying.
عورتوں سے خریدوفروخت کرنا
2 Hadith
68
(68) CHAPTER. Is it permissible for a person from the town to sell the goods of a desert dweller without taking commission? Should he he help him or try to advise him?
کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے ؟
2 Hadith
69
(69) CHAPTER. Whoever hated that an urban person should sell the goods of a desert dweller and charge him for that.
جنہوں نے اسے مکروہ رکھا کہ کوئی شہری آدمی کسی بھی دیہاتی کا مال اجرت لے کر بیچے
1 Hadith
70
(70) CHAPTER. A town dweller should not buy goods for a desert dweller and charge commission as a broker.
اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کر کے مول نہ لے
2 Hadith
71
(71) CHAPTER. It is forbidden to meet the caravans on the way (to buy the goods away from the market).
پہلے سے آگے جا کر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے
4 Hadith
72
(72) CHAPTER. The limits to which one can go ahead to meet the caravan.
قافلے سے کتنی دور آگے جا کر ملنا منع ہے
2 Hadith
73
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
2 Hadith
74
(74) CHAPTER. Selling of dates for dates.
کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا
1 Hadith
75
(75) CHAPTER. The selling of dried grapes for dried grapes and meals for meals.
منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا
3 Hadith
76
(76) CHAPTER. Selling of barley for barley.
جوکے بدلے جو کی بیع کرنا
1 Hadith
77
(77) CHAPTER. Selling of gold for gold.
سونے کو سونے کے بدلہ میں بیچنا
1 Hadith
78
(78) CHAPTER. Selling of silver for silver.
چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا
2 Hadith
79
(79) CHAPTER. Selling of Dinar for Dinar on credit.
اشرفی اشرفی کے بدلے ادھار بیچنا
2 Hadith
80
(80) CHAPTER. Selling of silver for gold on delayed payment.
چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنا
2 Hadith
81
(81) CHAPTER. Selling of gold for silver from hand to hand (i.e., cash down).
سونا ، چاندی کے بدلے نقد ، ہاتھوں ہاتھ بیچنا درست ہے
1 Hadith
82
(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)
بیع مزابنہ کے بیان میں
6 Hadith
83
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
3 Hadith
84
(84) CHAPTER. The explanation of Araya.
عریہ کی تفسیر کا بیان
1 Hadith
85
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
4 Hadith
86
(86) CHAPTER. The sale of date-palms (date trees) before their benefit is evident. (i.e., their dates are ripe).
جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے
1 Hadith
87
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
2 Hadith
88
(88) CHAPTER. To buy foodstuff on credit.
اناج ادھار ( ایک مدت مقرر کر کے ) خریدنا
1 Hadith
89
(89) CHAPTER. If one wishes to buy (a better quality of) dates for (a low quality of) dates [that is a kind of Riba (usury) and is called Riba-Al-Fadl].
اگر کوئی شخص خراب کھجور کے بدلہ میں اچھی کھجور لینا چاہے
2 Hadith
90
(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).
جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا
2 Hadith
91
(91) CHAPTER. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff.
کھیتی کا اناج جو ابھی درختوں پر ہو ماپ کے رو سے غلہ کے عوض بیچنا
1 Hadith
92
(92) CHAPTER. The sale of date-palms completely (with roots and stems).
کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا
1 Hadith
93
(93) CHAPTER. Bai Al-Mukhadara (the sale of grains or vegetables before their benefit is evident).
بیع مخاضرہ کا بیان
2 Hadith
94
(94) CHAPTER. The sale and eating of spadix (edible pith growing at the upper part of the trunk of a palm tree).
کھجور کا گابھا بیچنا یا کھانا ( جو سفید سفید اندر سے نکلتا ہے )
1 Hadith
95
(95) CHAPTER. In cases where there is no fixed judgement, the traditions and conventions of each community are to be referred to, to deduce a judgement in such matters as sales, renting, measuring and weighing.
خریدوفروخت اور اجارے میں ہر ملک کے دستور کے موافق حکم دیا جائے گا
3 Hadith
96
(96) CHAPTER. Selling of a joint property by one partner to the other.
ایک ساجھی اپنا حصہ دوسرے ساجھی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے
1 Hadith
97
(97) CHAPTER. The sale of undivided common land, buildings and belongings.
زمین ، مکان ، اسباب کا حصہ اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو اس کا بچینا درست ہے
1 Hadith
98
(98) CHAPTER. If somebody buys something for another without his permission and the latter accepts it.
کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر خرید لی پھر وہ راضی ہو گیا تو یہ معاملہ جائز ہے
1 Hadith
99
(99) CHAPTER. Buying and selling with Mushrikun (pegans) and with the enemy at war.
مشرکوں اور حربی کافروں کے ساتھ خریدوفروخت کرنا
1 Hadith
100
(100) CHAPTER. The purchase of a slave from the enemy at war and giving him (to somebody) as a gift and manumitting him.
حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا
4 Hadith
101
(101) CHAPTER. The hides of dead animals before tanning.
دباغت سے پہلے مردار کی کھال ( کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ )
1 Hadith
102
(102) CHAPTER. The killing of pigs.
سور کا مار ڈالنا
1 Hadith
103
(103) CHAPTER. The fat of the dead animal should not be melted, nor should it be sold.
مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں
2 Hadith
104
(104) CHAPTER. The selling of the pictures of inanimated objects having no souls and what is hated from that.
غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے
1 Hadith
105
(105) CHAPTER. Trade of alcoholic drinks is illegal.
شراب کی تجارت کرنا حرام ہے
1 Hadith
106
(106) CHAPTER. The sin of a person who sells a free man (knowingly and intentionally).
آزاد شخص کو بیچنا کیسا گناہ ہے ؟
1 Hadith
107
(108) CHAPTER. The sale of a slave (for a slave) and an animal for an animal on credit.
غلام کو غلام کے بدلے اورکسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا
1 Hadith
108
(109) CHAPTER. The sale of slaves.
لونڈی غلام بیچنا
1 Hadith
109
(110) CHAPTER. The sale of Mudabbar (i.e., a slave who is promised by his master to be manumitted after the latter's death).
مدبر کا بیچنا کیسا ہے ؟
5 Hadith
110
(111) CHAPTER. One can travel with a slave-girl without knowing whether she is pregnant or not?
اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں ؟
1 Hadith
111
(112) CHAPTER. The sale of dead animals and idols.
مردار اور بتوں کا بیچنا
1 Hadith
112
(113) CHAPTER. The price of a dog.
کتے کی قیمت کے بارے میں
2 Hadith
No chapter matched that.