TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of sales (bargains). - کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان - Book 35 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 35 of Sahih Bukhari, with 112 chapters and 192 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

192 Hadith · 112 Chapters
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقُولُونَ : مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ ، لَا يُحَدِّثُونَ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، كَانَ يَشْغَلُهُمْ صَفْقٌ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا ، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا ، وَكَانَ يَشْغَلُ إِخْوَتِي مِنْ الْأَنْصَارِ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا مِنْ مَسَاكِينِ الصُّفَّةِ ، أَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ يُحَدِّثُهُ : إِنَّهُ لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ ، ثُمَّ يَجْمَعَ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ إِلَّا وَعَى مَا أَقُولُ ، فَبَسَطْتُ نَمِرَةً عَلَيَّ ، حَتَّى إِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ ، جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي ، فَمَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ مِنْ شَيْءٍ .
Narrated Abu Huraira: You people say that Abu Huraira tells many narrations from Allah's Apostle and you also wonder why the emigrants and Ansar do not narrate from Allah's Apostle as Abu Huraira does. My emigrant brothers were busy in the market while I used to stick to Allah's Apostle content with what fills my stomach; so I used to be present when they were absent and I used to remember when they used to forget, and my Ansari brothers used to be busy with their properties and I was one of the poor men of Suffa. I used to remember the narrations when they used to forget. No doubt, Allah's Apostle once said, Whoever spreads his garment till I have finished my present speech and then gathers it to himself, will remember whatever I will say. So, I spread my colored garment which I was wearing till Allah's Apostle had finished his saying, and then I gathered it to my chest. So, I did not forget any of that narrations.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ان سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بہت زیادہ بیان کرتا ہے، اور یہ بھی کہتے ہو کہ مہاجرین و انصار ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ ) کی طرح کیوں حدیث نہیں بیان کرتے؟ اصل وجہ یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازار کی خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور میں اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا، اس لیے جب یہ بھائی غیر حاضر ہوتے تو میں اس وقت بھی حاضر رہتا اور میں ( وہ باتیں آپ سے سن کر ) یاد کر لیتا جسے ان حضرات کو ( اپنے کاروبار کی مشغولیت کی وجہ سے یا تو سننے کا موقعہ نہیں ملتا تھا یا ) وہ بھول جایا کرتے تھے۔ اسی طرح میرے بھائی انصار اپنے اموال ( کھیتوں اور باغوں ) میں مشغول رہتے، لیکن میں صفہ میں مقیم مسکینوں میں سے ایک مسکین آدمی تھا۔ جب یہ حضرات انصار بھولتے تو میں اسے یاد رکھتا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو کوئی اپنا کپڑا پھیلائے اور اس وقت تک پھیلائے رکھے جب تک اپنی یہ گفتگو نہ پوری کر لوں، پھر ( جب میری گفتگو پوری ہو جائے تو ) اس کپڑے کو سمیٹ لے تو وہ میری باتوں کو ( اپنے دل و دماغ میں ہمیشہ ) یاد رکھے گا، چنانچہ میں نے اپنا کمبل اپنے سامنے پھیلا دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مقالہ مبارک ختم فرمایا، تو میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بعد پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
2047
Sahih
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ : إِنِّي أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا ، فَأَقْسِمُ لَكَ نِصْفَ مَالِي ، وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيتَ ، نَزَلْتُ لَكَ عَنْهَا ، فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ، هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ ؟ قَالَ : سُوقُ قَيْنُقَاعٍ ، قَالَ : فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَتَى بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَزَوَّجْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَنْ قَالَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ؟ قَالَ : كَمْ سُقْتَ ؟ قَالَ : زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ .
Narrated Ibrahim bin Sa`d from his father from his grandfather: `Abdur Rahman bin `Auf said, When we came to Medina as emigrants, Allah's Apostle established a bond of brotherhood between me and Sa`d bin Ar-Rabi`. Sa`d bin Ar-Rabi` said (to me), 'I am the richest among the Ansar, so I will give you half of my wealth and you may look at my two wives and whichever of the two you may choose I will divorce her, and when she has completed the prescribed period (before marriage) you may marry her.' `Abdur-Rahman replied, I am not in need of all that. Is there any marketplace where trade is practiced?' He replied, The market of Qainuqa. `Abdur- Rahman went to that market the following day and brought some dried buttermilk (yogurt) and butter, and then he continued going there regularly. Few days later, `Abdur-Rahman came having traces of yellow (scent) on his body. Allah's Apostle asked him whether he had got married. He replied in the affirmative. The Prophet said, 'Whom have you married?' He replied, 'A woman from the Ansar.' Then the Prophet asked, 'How much did you pay her?' He replied, '(I gave her) a gold piece equal in weigh to a date stone (or a date stone of gold)! The Prophet said, 'Give a Walima (wedding banquet) even if with one sheep .'
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور سعد بن ربیع انصاری کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں انصار کے سب سے زیادہ مالدار لوگوں میں سے ہوں۔ اس لیے اپنا آدھا مال میں آپ کو دیتا ہوں اور آپ خود دیکھ لیں کہ میری دو بیویوں میں سے آپ کو کون زیادہ پسند ہے۔ میں آپ کے لیے انہیں اپنے سے الگ کر دوں گا ( یعنی طلاق دے دوں گا ) جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو آپ ان سے نکاح کر لیں۔ بیان کیا کہ اس پر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ کیا یہاں کوئی بازار ہے جہاں کاروبار ہوتا ہو؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ”سوق قینقاع“ کا نام لیا۔ بیان کیا کہ جب صبح ہوئی تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ پنیر اور گھی لائے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ تجارت کے لیے بازار آنے جانے لگے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زرد رنگ کا نشان ( کپڑے یا جسم پر ) تھا۔ رسول اللہ نے دریافت فرمایا کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس سے؟ بولے کہ ایک انصاری خاتون سے۔ دریافت فرمایا اور مہر کتنا دیا ہے؟ عرض کیا کہ ایک گٹھلی برابر سونا دیا ہے یا ( یہ کہا کہ ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تو ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔
2048
Sahih
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ ، فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًى ، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ : أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَأُزَوِّجُكَ ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ ، فَمَا رَجَعَ حَتَّى اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا ، فَأَتَى بِهِ أَهْلَ مَنْزِلِهِ فَمَكَثْنَا يَسِيرًا ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَجَاءَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْيَمْ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : مَا سُقْتَ إِلَيْهَا ، قَالَ : نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ .
Narrated Anas: When `Abdur-Rahman bin `Auf came to Medina, the Prophet established a bond of brotherhood between him and Sa`d bin Ar-Rabi al-Ansari. Sa`d was a rich man, so he said to `Abdur-Rahman, I will give you half of my property and will help you marry. `Abdur-Rahman said (to him), May Allah bless you in your family and property. Show me the market. So `Abdur-Rahman did not return from the market) till he gained some dried buttermilk (yogurt) and butter (through trading). He brought that to his house-hold. We stayed for sometime (or as long as Allah wished), and then `Abdur-Rahman came, scented with yellowish perfume. The Prophet said (to him) What is this? He replied, I got married to an Ansari woman. The Prophet asked, What did you pay her? He replied, A gold stone or gold equal to the weight of a date stone. The Prophet said (to him), Give a wedding banquet even if with one sheep.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے زہیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ مالدار آدمی تھے۔ انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا میں اور آپ میرے مال سے آدھا آدھا لے لیں۔ اور میں ( اپنی ایک بیوی سے ) آپ کی شادی کرا دوں۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے تو آپ بازار کا راستہ بتا دیجئیے، پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہ ہوئے جب تک نفع میں کافی پنیر اور گھی نہ بچا لیا۔ اب وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے کچھ دن گزرے ہوں گے یا اللہ نے جتنا چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے کہ ان پر زردی کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ زردی کیسی ہے؟ عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ انہیں مہر میں کیا دیا ہے؟ عرض کیا ”سونے کی ایک گٹھلی“ یا ( یہ کہا کہ ) ”ایک گٹھلی برابر سونا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔
2049
Sahih
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ عُكَاظٌ ، وَمَجَنَّةُ ، وَذُو الْمَجَازِ أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ ، فَكَأَنَّهُمْ تَأَثَّمُوا فِيهِ ، فَنَزَلَتْ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ .
Narrated Ibn `Abbas: `Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were marketplaces in the Pre-Islamic period of ignorance. When Islam came, Muslims felt that marketing there might be a sin. So, the Divine Inspiration came: There is no harm for you to seek the bounty of your Lord (in the seasons of Hajj). (2.198) Ibn `Abbas recited the Verse in this way.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عکاظ مجنہ، اور ذوالمجاز عہد جاہلیت کے بازار تھے۔ جب اسلام آیا تو ایسا ہوا کہ مسلمان لوگ ( خرید و فروخت کے لیے ان بازاروں میں جانا ) گناہ سمجھنے لگے۔ اس لیے یہ آیت نازل ہوئی ”تمہارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں اگر تم اپنے رب کے فضل ( یعنی رزق حلال ) کی تلاش کرو حج کے موسم میں“ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرآت ہے۔
2050
Sahih
(2) CHAPTER. Legal, illegal things are clearly defined, and in between them are some doubtful (unclear) things.
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ شک و شبہ والی چیزیں بھی ہیں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ ، فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ ، كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ ، أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ .
Narrated An-Nu`man bin Bashir: The Prophet said Both legal and illegal things are obvious, and in between them are (suspicious) doubtful matters. So whoever forsakes those doubtful things lest he may commit a sin, will definitely avoid what is clearly illegal; and whoever indulges in these (suspicious) doubtful things bravely, is likely to commit what is clearly illegal. Sins are Allah's Hima (i.e. private pasture) and whoever pastures (his sheep) near it, is likely to get in it at any moment.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے، ان سے شعبی نے، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، ان سے شعبی نے، کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوفروہ نے، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (چوتھی سند) اور ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوفروہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال بھی کھلا ہوا ہے اور حرام بھی ظاہر ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ پس جو شخص ان چیزوں کو چھوڑے جن کے گناہ ہونے یا نہ ہونے میں شبہ ہے وہ ان چیزوں کو تو ضروری ہی چھوڑ دے گا جن کا گناہ ہونا ظاہر ہے لیکن جو شخص شبہ کی چیزوں کے کرنے کی جرات کرے گا تو قریب ہے کہ وہ ان گناہوں میں مبتلا ہو جائے جو بالکل واضح طور پر گناہ ہیں ( لوگو یاد رکھو ) گناہ اللہ تعالیٰ کی چراگاہ ہے جو ( جانور بھی ) چراگاہ کے اردگرد چرے گا اس کا چراگاہ کے اندر چلا جانا غیر ممکن نہیں۔
2051
Sahih
(3) CHAPTER. Explanation of doubtful (unclear) things.
ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ؟ ، جَاءَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْهُمَا ، فَذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، وَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَيْفَ ؟ وَقَدْ قِيلَ : وَقَدْ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ التَّمِيمِيِّ .
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika: `Uqba bin Al-Harith said that a black woman came and claimed that she had suckled both of them (i.e. `Uqba and his wife). So, he mentioned that to the Prophet who turned his face from him and smiled and said, How (can you keep your wife), and it was said (that both of you were suckled by the same woman)? His wife was the daughter of Abu Ihab-al-Tamimi.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ایک سیاہ فام خاتون آئیں اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان دونوں ( عقبہ اور ان کی بیوی ) کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ نے اس امر کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا اور مسکرا کر فرمایا۔ اب جب کہ ایک بات کہہ دی گئی تو تم دونوں ایک ساتھ کس طرح رہ سکتے ہو۔ ان کے نکاح میں ابواہاب تمیمی کی صاحب زادی تھیں۔
2052
Sahih
(3) CHAPTER. Explanation of doubtful (unclear) things.
ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي ، فَاقْبِضْهُ ، قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عَامَ الْفَتْحِ ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَالَ ابْنُ أَخِي : قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَامَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَتَسَاوَقَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخِي كَانَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ : أَخِي ، وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
Narrated Aisha: `Utba bin Abu Waqqas took a firm promise from his brother Sa`d bin Abu Waqqas to take the son of the slave-girl of Zam`a into his custody as he was his (i.e. `Utba's) son. In the year of the Conquest (of Mecca) Sa`d bin Abu Waqqas took him, and said that he was his brother's son, and his brother took a promise from him to that effect. 'Abu bin Zam`a got up and said, He is my brother and the son of the slave-girl of my father and was born on my father's bed. Then they both went to the Prophet Sa`d said, O Allah's Apostle! He is the son of my brother and he has taken a promise from me that I will take him. 'Abu bin Zam`a said, (He is) my brother and the son of my father's slave-girl and was born on my father's bed. Allah's Apostle said, The boy is for you. O 'Abu bin Zam`a. Then the Prophet said, The son is for the bed (i.e. the man on whose bed he was born) and stones (disappointment and deprivation) for the one who has done illegal sexual intercourse. The Prophet told his wife Sauda bint Zam`a to screen herself from that boy as he noticed a similarity between the boy and `Utba. So, the boy did not see her till he died.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص ( کافر ) نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص ( مسلمان ) کو ( مرتے وقت ) وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کا لڑکا میرا ہے۔ اس لیے اسے تم اپنے قبضہ میں لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے اسے لے لیا، اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور وہ اس کے متعلق مجھے وصیت کر گئے ہیں، لیکن عبد بن زمعہ نے اٹھ کر کہا کہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر دونوں یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کی انہوں نے وصیت کی تھی۔ اور عبد بن زمعہ نے عرض کیا، یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے۔ انہیں کے بستر پر اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہارے ہی ساتھ رہے گا۔ اس کے بعد فرمایا، بچہ اسی کا ہوتا ہے جو جائز شوہر یا مالک ہو جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا ہو۔ اور حرام کار کے حصہ میں پتھروں کی سزا ہے۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، فرمایا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کی شباہت اس لڑکے میں محسوس کر لی تھی۔ اس کے بعد اس لڑکے نے سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔
2053
Sahih
(3) CHAPTER. Explanation of doubtful (unclear) things.
ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں ؟
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ؟ فَقَالَ : إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ ، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي ، فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ ، لَمْ أُسَمِّ عَلَيْهِ وَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ ، قَالَ : لَا تَأْكُلْ ، إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ .
Narrated `Adi bin Hatim: I asked Allah's Apostle about Al Mirad (i.e. a sharp-edged piece of wood or a piece of wood provided with a piece of iron used for hunting). He replied, If the game is hit by its sharp edge, eat it, and if it is hit by its broad side, do not eat it, for it has been beaten to death. I asked, O Allah's Apostle! I release my dog by the name of Allah and find with it at the game, another dog on which I have not mentioned the name of Allah, and I do not know which one of them caught the game. Allah's Apostle said (to him), 'Don't eat it as you have mentioned the name of Allah on your dog and not on the other dog.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ابی سفر نے خبر دی، انہیں شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» ( تیر کے شکار ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے دھار کی طرف سے لگے تو کھا۔ اگر چوڑائی سے لگے تو مت کھا۔ کیونکہ وہ مردار ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنا کتا ( شکار کے لیے ) چھوڑتا ہوں اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں، پھر اس کے ساتھ مجھے ایک ایسا کتا اور ملتا ہے جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ دونوں میں کون سے کتے نے شکار پکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسے شکار کا گوشت نہ کھا۔ کیونکہ تو نے بسم اللہ تو اپنے کتے کے لیے پڑھی ہے۔ دوسرے کے لیے تو نہیں پڑھی۔
2054
Sahih
(4) CHAPTER. What doubtful (unclear) things should be avoided?
مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ لَأَكَلْتُهَا ، وَقَالَ هَمَّامٌ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي .
Narrated Anas: The Prophet passed by a fallen date and said, Were it not for my doubt that this might have been given in charity, I would have eaten it. And narrated Abu Huraira the Prophet said, I found a datefruit fallen on my bed.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ اور ہمام بن منبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے بستر پر پڑی ہوئی ایک کھجور پاتا ہوں۔
2055
Sahih
(5) CHAPTER. Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful (unclear) things.
دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الرَّجُلُ يَجِدُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا ، أَيَقْطَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : لَا ، حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ : عَنِ الزُّهْرِيِّ : لَا وُضُوءَ إِلَّا فِيمَا وَجَدْتَ الرِّيحَ ، أَوْ سَمِعْتَ الصَّوْتَ .
Narrated `Abbas bin Tamim: that his uncle said: The Prophet was asked: If a person feels something during his prayer; should one interrupt his prayer? The Prophet said: No! You should not give it up unless you hear a sound or smell something. Narrated Ibn Abi Hafsa: Az-Zuhri said, There is no need of repeating ablution unless you detect a smell or hear a sound.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جسے نماز میں کچھ شبہ ہوا نکلنے کا ہو جاتا ہے۔ آیا اسے نماز توڑ دینی چاہئے؟ فرمایا کہ نہیں۔ جب تک وہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے ( اس وقت تک نماز نہ توڑے ) ابن ابی حفصہ نے زہری سے بیان کیا ( ایسے شخص پر ) وضو واجب نہیں جب تک حدث کی بدبو نہ محسوس کرے یا آواز نہ سن لے۔
2056
Sahih
(5) CHAPTER. Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful (unclear) things.
دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ قَوْمًا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَنَا بِاللَّحْمِ ، لَا نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمُّوا اللَّهَ عَلَيْهِ وَكُلُوهُ .
Narrated `Aisha: Some people said, O Allah's Apostle! Meat is brought to us by some people and we are not sure whether the name of Allah has been mentioned on it or not (at the time of slaughtering the animals). Allah's Apostle said (to them), Mention the name of Allah and eat it.
ہم سے احمد بن مقدام عجلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بہت سے لوگ ہمارے یہاں گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ کا نام انہوں نے ذبح کے وقت لیا تھا یا نہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بسم اللہ پڑھ کے اسے کھا لیا کرو۔
2057
Sahih
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتْ مِنْ الشَّأْمِ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا ، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ :وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 .
Narrated Jabir: While we were offering the prayer with the Prophet a caravan carrying food came from Sham. The people looked towards the caravan (and went to it) and only twelve persons remained with the Prophet. So, the Divine Inspiration came; But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it. (62.11)
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ( یعنی خطبہ سن رہے تھے ) کہ ملک شام سے کچھ اونٹ کھانے کا سامان تجارت لے کر آئے۔ ( سب نمازی ) لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی باقی نہ رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها‏» ”جب وہ مال تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔“
2058
Sahih
(7) CHAPTER. The one who does not care from where he earns his money (i.e., whether through legal or illegal ways).
جو روپیہ کمانے میں حلال یا حرام کی پرواہ نہ کرے
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ ، أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ؟ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A time will come when one will not care how one gains one's money, legally or illegally.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔
2059
Sahih
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ .
Narrated Abu Al-Minhal: I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, I asked Al-Bara' bin `Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Apostle and I asked Allah's Apostle about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا کہ میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ ( لین دین ) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے۔
2060
Sahih
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ .
Narrated Abu Al-Minhal: I used to practice money exchange, and I asked Zaid bin 'Arqam about it, and he narrated what the Prophet said in the following: Abu Al-Minhal said, I asked Al-Bara' bin `Azib and Zaid bin Arqam about practicing money exchange. They replied, 'We were traders in the time of Allah's Apostle and I asked Allah's Apostle about money exchange. He replied, 'If it is from hand to hand, there is no harm in it; otherwise it is not permissible.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا کہ میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ ( لین دین ) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے۔
2061
Sahih
(9) CHAPTER. Going out for trading.
تجارت کے لیے گھر سے باہر نکلنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا ، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى فَفَرَغَ عُمَرُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ ؟ قِيلَ : قَدْ رَجَعَ فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : تَأْتِينِي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَذَهَبَ بِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَخَفِيَ هَذَا عَلَيَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ يَعْنِي الْخُرُوجَ إِلَى تِجَارَةٍ .
Narrated 'Ubaid bin `Umair: Abu Musa asked `Umar to admit him but he was not admitted as `Umar was busy, so Abu Musa went back. When `Umar finished his job he said, Didn't I hear the voice of `Abdullah bin Qais? Let him come in. `Umar was told that he had left. So, he sent for him and on his arrival, he (Abu Musa) said, We were ordered to do so (i.e. to leave if not admitted after asking permission thrice). `Umar told him, Bring witness in proof of your statement. Abu Musa went to the Ansar's meeting places and asked them. They said, None amongst us will give this witness except the youngest of us, Abu Sa`id Al-Khudri. Abu Musa then took Abu Sa`id Al-Khudri (to `Umar) and `Umar said, surprisingly, Has this order of Allah's Apostle been hidden from me? (Then he added), I used to be busy trading in markets.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں عبید بن عمیر نے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) تھا ( کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا ( کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔
2062
Sahih
(10) CHAPTER. Trading in sea.
سمندر میں تجارت کرنے کا بیان
وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ إِلَى الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ . حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، بِهَذَا .
Abu Hurairah (ra) said, Allah's Messenger (saws) mentioned a person from Bani Israel who travelled by sea and carried out his needs. Then he narrated the whole story. (See Hadith no. 2291)
لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔
2063
Sahih
(11) CHAPTER. “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”(V.62:11)
۔ ( سورۃ الجمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں “
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَقْبَلَتْ عِيرٌ ، وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 .
Narrated Jabir: A caravan arrived (at Medina) while we were offering the Jumua prayer with the Prophet. The people left out for the caravan, with the exception of twelve persons. Then this Verse was revealed: 'But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it and leave you standing. (62.11)
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( تجارتی ) اونٹوں ( کا قافلہ ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ( کے خطبہ ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“
2064
Sahih
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا .
Narrated `Aisha: The Prophet said, If a woman gives in charity from her house meals without wasting (i.e. being extravagant), she will get the reward for her giving, and her husband will also get the reward for his earning and the storekeeper will also get a similar reward. The acquisition of the reward of none of them will reduce the reward of the others.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( غلہ وغیرہ ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔
2065
Sahih
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If a woman gives something (i.e. in charity) from her husband's earnings without his permission, she will get half his reward.
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی ( اللہ کے راستے میں ) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔
2066
Sahih

Chapters

112
01
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
4 Hadith
02
(2) CHAPTER. Legal, illegal things are clearly defined, and in between them are some doubtful (unclear) things.
حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کچھ شک و شبہ والی چیزیں بھی ہیں
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. Explanation of doubtful (unclear) things.
ملتی جلتی چیزیں یعنی شبہ والے امور کیا ہیں ؟
3 Hadith
04
(4) CHAPTER. What doubtful (unclear) things should be avoided?
مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرنا
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever does not consider dark suggestions by one's ownself or similar things as doubtful (unclear) things.
دل میں وسوسہ آنے سے شبہ نہ کرنا چاہئیے
2 Hadith
06
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The one who does not care from where he earns his money (i.e., whether through legal or illegal ways).
جو روپیہ کمانے میں حلال یا حرام کی پرواہ نہ کرے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Trade of cloth and other things.
خشکی میں تجارت کرنے کا بیان
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Going out for trading.
تجارت کے لیے گھر سے باہر نکلنا
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. Trading in sea.
سمندر میں تجارت کرنے کا بیان
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”(V.62:11)
۔ ( سورۃ الجمعہ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں “
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. Whoever liked to expand in his sustenance.
جو روزی میں کشادگی چاہتا ہو وہ کیا کرے ؟
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. The Prophet purchased (foodgrains) on credit.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھار خریدنا
2 Hadith
15
(15) CHAPTER. The earnings of a person and his manual labour.
انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا
6 Hadith
16
(16) CHAPTER. One should be lenient and generous in bargaining, and whoever demands his debts back should do so in a modest lenient manner.
خریدوفروخت کے وقت نرمی ، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whoever gave time to a rich person to pay at his convenience.
جو شخص مالدار کو مہلت دے
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. Whoever waited for a person in hard circumstances to pay debt (i.e., when he is able to repay).
جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کا ثواب
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. If both the seller and buyer explain the good and bad points of the transaction and hide nothing and give sincere advice (then they are blessed in their bargain).
جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. Selling of mixed dates.
مختلف قسم کی کھجور ملا کر بیچنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. What is said about the meat seller and the butcher.
گوشت بیچنے والے اور قصاب کا بیان
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. What is said regarding the loss (of blessing) if one tells lies or hides the facts in a deal.
بیچنے میں جھوٹ بولنے اور عیب کو چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Eat not Riba (usury) doubled and multiplied.”(V.3:130)
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. (The sin of) one who eats Riba (usury), its witness and its writer.
سود کھانے والا اور اس پر گواہ ہونے والا اور سودی معاملات کا لکھنے والا ، ان سب کی سزا کا بیان
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. (The sin of) the Riba-giver.
سود کھلانے والے کا گناہ
1 Hadith
26
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. What is disapproved of as regards giving oaths (swearing) while selling.
خریدوفروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. What is said about the goldsmiths.
سناروں کا بیان
2 Hadith
29
(29) CHAPTER. The mentioning of blacksmiths.
کاریگروں اور لوہاروں کا بیان
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mentioning of the tailor.
درزی کا بیان
1 Hadith
31
(31) CHAPTER. The weaver.
کپڑا بننے والے کا بیان
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. The carpenter.
بڑھئی کا بیان
2 Hadith
33
(33) CHAPTER. The purchase by ruler of his necessities by himself.
اپنی ضرورت کی چیزیں ہر آدمی خود بھی خرید سکتا ہے
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. The purchase of animals and donkeys.
چوپایہ جانوروں اور گھوڑوں ، گدھوں کی خریداری کابیان
1 Hadith
35
(35) CHAPTER. The markets of the Pre-Islamic Period of Ignorance where the people continued to trade after embracing Islam.
جاہلیت کے بازاروں کا بیان جن میں اسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے خریدوفروخت کی
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. Purchasing of camel suffering from skin disease or disease causing severe thirts.
۔ ( ہیم ) بیمار یا خارشی اونٹ خریدنا ، ہیم ہائم کی جمعہ ہے ہائم اعتدال ( میانہ روی ) سے گزرنے والا
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Selling of arms during the period of Al-Fitnah (trial, affliction) and otherwise.
جب مسلمانوں میں آپس میں فساد نہ ہو یا ہو رہا تو ہتھیار بیچنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. (What is said) about the perfume seller and the selling of musk.
عطر بیچنے والے اور مشک بیچنے کا بیان
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. The mentioning of Al-Hajjam (i.e., the one who practises cupping).
پچھنا لگانے والے کا بیان
2 Hadith
40
(40) CHAPTER. The trade of cloth, the wearing of which is considered undesireable both for men and women.
ان چیزوں کی سوداگری جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لیے مکروہ ہے
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. The owner of a thing has to suggest a price.
سامان کے مالک کو قیمت کہنے کا زیادہ حق ہے
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. For what period has one to confirm or cancel the bargain?
کب تک بیع توڑنے کا اختیار رہتا ہے اس کا بیان
2 Hadith
43
(43) CHAPTER. If the time for the option is not fixed, will the deal be considered as legal?
اگر بائع یا مشتری اختیار کی مدت معین نہ کرے تو بیع جائز ہو گی یا نہیں ؟
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. Both the buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain, unless they separate.
جب تک خریدنے اور بیچنے والے جدا نہ ہوں انہیں اختیار باقی رہتا ہے
2 Hadith
45
(45) CHAPTER. If the buyer and the seller give each other the option of cancelling the bargain immediately after the bargain is made (while they are still together), the bargain is rendered final (even if they did not separate).
اگر بیع کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے لیے مختار بنایا تو بیع لازم ہوگئی
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. Is selling permissible if the seller has the option of cancelling the bargain?
اگر بائع اپنے لیے اختیار کی شرط کر لے تو بھی بیع جائز ہے
2 Hadith
47
(47) CHAPTER. What is said if somebody buys a thing and gives it as a present to someone else at that very moment before separating from the seller, and the seller has had no objection to buyer's action; or if someone buys a slave and then manumits him?
۔ ۔ ۔
2 Hadith
48
(48) CHAPTER. What is disliked as regards cheating in business.
خریدوفروخت میں دھوکہ دینا مکروہ ہے
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. What is said about markets.
بازاروں کا بیان
7 Hadith
50
(50) CHAPTER. The dislike of raising voices in the market.
بازار میں شور و غل مچانا مکروہ ہے
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. Weighing or measuring goods is to be done by the seller or the giver.
ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے ( خریدار پر نہیں )
2 Hadith
52
(52) CHAPTER. What is considered preferable regarding measuring.
اناج کا ناپ تول کرنا مستحب ہے
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. Allah's Blessing in the Sa and Mudd of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد کی برکت کا بیان
2 Hadith
54
(54) CHAPTER. What is said about the selling of the foodstuff and its storage.
اناج کا بیچنا اور احتکار کرنا کیسا ہے ؟
4 Hadith
55
(55) CHAPTER. The selling of foodstuff before receiving it, and the selling of a thing which you don't have.
غلے کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا اور ایسی چیز کو بیچنا جو تیرے پاس موجود نہیں
2 Hadith
56
(56) CHAPTER. Whoever had the opinion that whoever bought foodstuff without measuring or weighing (blindly) should not sell it before bringing into his house; and the punishment for whoever disobeys this order.
جو شخص غلہ کا ڈھیر بن ناپے تولے خریدے وہ جب تک اس کو اپنے ٹھکانے نہ لائے ، کسی کے ہاتھ نہ بیچے اور اس کے خلاف کرنے والے کی سزا کا بیان
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. If somebody buys some goods or (an) animal and let it with the seller, or it dies before he takes it into his possession.
اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. A seller should not urge somebody (in case of optional sale) to cancle a bargain the latter has already agreed upon with another seller so as to sell him his own goods; and a buyer should not urge the seller to cencle a barbain already agreed upon with another buyer so as to buy the goods himself, unless they are given permission in both cases, or the bargains are cancelled with the willingness of both the seller and the buyer.
کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
2 Hadith
59
(59) CHAPTER. Selling by auction.
نیلام کرنے کے بیان میں
1 Hadith
60
(60) CHAPTER. An-Najsh and whoever said: A bargain carried out in such a way (Najsh) is not valid.
نجش یعنی دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانا کیسا ہے ؟ اور بعض نے کہا یہ بیع ہی جائز نہیں
1 Hadith
61
(61) CHAPTER. Al-Gharar (the sale of what is not present) and Habal-il-Habala (i.e., the sale of what is in the womb of an animal).
دھوکے کی بیع اور حمل کی بیع کا بیان
1 Hadith
62
(62) CHAPTER. Al-Limas or Mulamasa sale, i.e., by touching the thing only and not looking at it.
بیع ملامسۃ کا بیان اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
2 Hadith
63
(63) CHAPTER. Selling by Munabadha.
بیع منابذہ کا بیان اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
2 Hadith
64
(64) CHAPTER. The seller is not allowed to keep camels, cows, sheep or any other animal unmilked for a long time (so as to get more price by cheating).
اونٹ یا بکری یا گائے کے تھن میں دودھ جمع کر رکھنا بائع کو منع ہے
3 Hadith
65
(65) CHAPTER. The option of returning an animal after milking it, along with a Sa of dates (as the price of the milk), if it has been kept unmilked for a long period by the seller (to deceive others).
خریدار اگر چاہے تو مصراۃ کو واپس کر سکتا ہے لیکن اس کے دودھ کے بدلہ میں ( جو خریدار نے استعمال کیا ہے ) ایک صاع کھجور دے دے
1 Hadith
66
(66) CHAPTER. The selling of an adulterer slave.
زانی غلام کی بیع کا بیان
3 Hadith
67
(67) CHAPTER. Dealing with women in selling and buying.
عورتوں سے خریدوفروخت کرنا
2 Hadith
68
(68) CHAPTER. Is it permissible for a person from the town to sell the goods of a desert dweller without taking commission? Should he he help him or try to advise him?
کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے ؟
2 Hadith
69
(69) CHAPTER. Whoever hated that an urban person should sell the goods of a desert dweller and charge him for that.
جنہوں نے اسے مکروہ رکھا کہ کوئی شہری آدمی کسی بھی دیہاتی کا مال اجرت لے کر بیچے
1 Hadith
70
(70) CHAPTER. A town dweller should not buy goods for a desert dweller and charge commission as a broker.
اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کر کے مول نہ لے
2 Hadith
71
(71) CHAPTER. It is forbidden to meet the caravans on the way (to buy the goods away from the market).
پہلے سے آگے جا کر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے
4 Hadith
72
(72) CHAPTER. The limits to which one can go ahead to meet the caravan.
قافلے سے کتنی دور آگے جا کر ملنا منع ہے
2 Hadith
73
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
2 Hadith
74
(74) CHAPTER. Selling of dates for dates.
کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا
1 Hadith
75
(75) CHAPTER. The selling of dried grapes for dried grapes and meals for meals.
منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا
3 Hadith
76
(76) CHAPTER. Selling of barley for barley.
جوکے بدلے جو کی بیع کرنا
1 Hadith
77
(77) CHAPTER. Selling of gold for gold.
سونے کو سونے کے بدلہ میں بیچنا
1 Hadith
78
(78) CHAPTER. Selling of silver for silver.
چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا
2 Hadith
79
(79) CHAPTER. Selling of Dinar for Dinar on credit.
اشرفی اشرفی کے بدلے ادھار بیچنا
2 Hadith
80
(80) CHAPTER. Selling of silver for gold on delayed payment.
چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنا
2 Hadith
81
(81) CHAPTER. Selling of gold for silver from hand to hand (i.e., cash down).
سونا ، چاندی کے بدلے نقد ، ہاتھوں ہاتھ بیچنا درست ہے
1 Hadith
82
(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)
بیع مزابنہ کے بیان میں
6 Hadith
83
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
3 Hadith
84
(84) CHAPTER. The explanation of Araya.
عریہ کی تفسیر کا بیان
1 Hadith
85
(85) CHAPTER. The sale of fruits before their benefit is evident (i.e., they are free from all the dangers of being spoilt or blighted).
پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
4 Hadith
86
(86) CHAPTER. The sale of date-palms (date trees) before their benefit is evident. (i.e., their dates are ripe).
جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے
1 Hadith
87
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
2 Hadith
88
(88) CHAPTER. To buy foodstuff on credit.
اناج ادھار ( ایک مدت مقرر کر کے ) خریدنا
1 Hadith
89
(89) CHAPTER. If one wishes to buy (a better quality of) dates for (a low quality of) dates [that is a kind of Riba (usury) and is called Riba-Al-Fadl].
اگر کوئی شخص خراب کھجور کے بدلہ میں اچھی کھجور لینا چاہے
2 Hadith
90
(90) CHAPTER. Whoever sold or rented date-palms which were pollinated, or land which was sown (with wheat or barley).
جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا
2 Hadith
91
(91) CHAPTER. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff.
کھیتی کا اناج جو ابھی درختوں پر ہو ماپ کے رو سے غلہ کے عوض بیچنا
1 Hadith
92
(92) CHAPTER. The sale of date-palms completely (with roots and stems).
کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا
1 Hadith
93
(93) CHAPTER. Bai Al-Mukhadara (the sale of grains or vegetables before their benefit is evident).
بیع مخاضرہ کا بیان
2 Hadith
94
(94) CHAPTER. The sale and eating of spadix (edible pith growing at the upper part of the trunk of a palm tree).
کھجور کا گابھا بیچنا یا کھانا ( جو سفید سفید اندر سے نکلتا ہے )
1 Hadith
95
(95) CHAPTER. In cases where there is no fixed judgement, the traditions and conventions of each community are to be referred to, to deduce a judgement in such matters as sales, renting, measuring and weighing.
خریدوفروخت اور اجارے میں ہر ملک کے دستور کے موافق حکم دیا جائے گا
3 Hadith
96
(96) CHAPTER. Selling of a joint property by one partner to the other.
ایک ساجھی اپنا حصہ دوسرے ساجھی کے ہاتھ بیچ سکتا ہے
1 Hadith
97
(97) CHAPTER. The sale of undivided common land, buildings and belongings.
زمین ، مکان ، اسباب کا حصہ اگر تقسیم نہ ہوا ہو تو اس کا بچینا درست ہے
1 Hadith
98
(98) CHAPTER. If somebody buys something for another without his permission and the latter accepts it.
کسی نے کوئی چیز دوسرے کے لیے اس کی اجازت کے بغیر خرید لی پھر وہ راضی ہو گیا تو یہ معاملہ جائز ہے
1 Hadith
99
(99) CHAPTER. Buying and selling with Mushrikun (pegans) and with the enemy at war.
مشرکوں اور حربی کافروں کے ساتھ خریدوفروخت کرنا
1 Hadith
100
(100) CHAPTER. The purchase of a slave from the enemy at war and giving him (to somebody) as a gift and manumitting him.
حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا
4 Hadith
101
(101) CHAPTER. The hides of dead animals before tanning.
دباغت سے پہلے مردار کی کھال ( کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ )
1 Hadith
102
(102) CHAPTER. The killing of pigs.
سور کا مار ڈالنا
1 Hadith
103
(103) CHAPTER. The fat of the dead animal should not be melted, nor should it be sold.
مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں
2 Hadith
104
(104) CHAPTER. The selling of the pictures of inanimated objects having no souls and what is hated from that.
غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے
1 Hadith
105
(105) CHAPTER. Trade of alcoholic drinks is illegal.
شراب کی تجارت کرنا حرام ہے
1 Hadith
106
(106) CHAPTER. The sin of a person who sells a free man (knowingly and intentionally).
آزاد شخص کو بیچنا کیسا گناہ ہے ؟
1 Hadith
107
(108) CHAPTER. The sale of a slave (for a slave) and an animal for an animal on credit.
غلام کو غلام کے بدلے اورکسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا
1 Hadith
108
(109) CHAPTER. The sale of slaves.
لونڈی غلام بیچنا
1 Hadith
109
(110) CHAPTER. The sale of Mudabbar (i.e., a slave who is promised by his master to be manumitted after the latter's death).
مدبر کا بیچنا کیسا ہے ؟
5 Hadith
110
(111) CHAPTER. One can travel with a slave-girl without knowing whether she is pregnant or not?
اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں ؟
1 Hadith
111
(112) CHAPTER. The sale of dead animals and idols.
مردار اور بتوں کا بیچنا
1 Hadith
112
(113) CHAPTER. The price of a dog.
کتے کی قیمت کے بارے میں
2 Hadith
No chapter matched that.