TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of jihad (fighting for allah’s cause). - کتاب جہاد کا بیان - Book 57 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 57 of Sahih Bukhari, with 189 chapters and 309 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

309 Hadith · 189 Chapters
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ لِيَقْتُلُوهُ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَدَخَلَ حِصْنَهُمْ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ فِي مَرْبِطِ دَوَابَّ لَهُمْ ، قَالَ : وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَهُ ، فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ أُرِيهِمْ أَنَّنِي أَطْلُبُهُ مَعَهُمْ ، فَوَجَدُوا الْحِمَارَ فَدَخَلُوا وَدَخَلْتُ وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ لَيْلًا ، فَوَضَعُوا الْمَفَاتِيحَ فِي كَوَّةٍ حَيْثُ أَرَاهَا فَلَمَّا نَامُوا أَخَذْتُ الْمَفَاتِيحَ فَفَتَحْتُ بَابَ الْحِصْنِ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ فَأَجَابَنِي فَتَعَمَّدْتُ الصَّوْتَ فَضَرَبْتُهُ ، فَصَاحَ ، فَخَرَجْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ كَأَنِّي مُغِيثٌ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي ، فَقَالَ : مَا لَكَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ ، قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي مَنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَضَرَبَنِي ، قَالَ : فَوَضَعْتُ سَيْفِي فِي بَطْنِهِ ، ثُمَّ تَحَامَلْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَرَعَ الْعَظْمَ ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَنَا دَهِشٌ فَأَتَيْتُ سُلَّمًا لَهُمْ لِأَنْزِلَ مِنْهُ فَوَقَعْتُ ، فَوُثِئَتْ رِجْلِي ، فَخَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِبَارِحٍ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى سَمِعْتُ نَعَايَا أَبِي رَافِعٍ تَاجِرِ أَهْلِ الْحِجَازِ ، قَالَ : فَقُمْتُ وَمَا بِي قَلَبَةٌ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ .
Narrated Al-Bara bin Azib: Allah's Apostle sent a group of Ansari men to kill Abu-Rafi`. One of them set out and entered their (i.e. the enemies) fort. That man said, I hid myself in a stable for their animals. They closed the fort gate. Later they lost a donkey of theirs, so they went out in its search. I, too, went out along with them, pretending to look for it. They found the donkey and entered their fort. And I, too, entered along with them. They closed the gate of the fort at night, and kept its keys in a small window where I could see them. When those people slept, I took the keys and opened the gate of the fort and came upon Abu Rafi` and said, 'O Abu Rafi`. When he replied me, I proceeded towards the voice and hit him. He shouted and I came out to come back, pretending to be a helper. I said, 'O Abu Rafi`, changing the tone of my voice. He asked me, 'What do you want; woe to your mother?' I asked him, 'What has happened to you?' He said, 'I don't know who came to me and hit me.' Then I drove my sword into his belly and pushed it forcibly till it touched the bone. Then I came out, filled with puzzlement and went towards a ladder of theirs in order to get down but I fell down and sprained my foot. I came to my companions and said, 'I will not leave till I hear the wailing of the women.' So, I did not leave till I heard the women bewailing Abu Rafi`, the merchant pf Hijaz. Then I got up, feeling no ailment, (and we proceeded) till we came upon the Prophet and informed him.
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع ( یہودی ) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب ( عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔ ( اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں ) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آ گیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آ گیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گر گیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آ گئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی۔
3022
Sahih
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلًا ، فَقَتَلَهُ وَهُوَ نَائِمٌ .
Narrated Al-Bara bin Azib: Allah's Apostle sent a group of the Ansar to Abu Rafi`. `Abdullah bin Atik entered his house at night and killed him while he was sleeping.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے اس کے والد نے ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس ( اسے قتل کرنے کے لیے ) بھیجا تھا۔ چنانچہ رات میں عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور اسے سوتے ہوئے قتل کیا۔
3023
Sahih
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ ، فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ .
Narrated Salim Abu An-Nadr: (the freed slave of 'Umar bin 'Ubaidullah) I was Umar's clerk. Once Abdullah bin Abi Aufa wrote a letter to 'Umar when he proceeded to Al-Haruriya. I read in it that Allah's Apostle in one of his military expeditions against the enemy, waited till the sun declined.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربوعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ سالم نے بیان کیا کہ جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط ملا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا ‘ پھر جب سورج ڈھل گیا۔
3024
Sahih
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ . وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ كُنْت كَاتِبًا لِعُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ .
And then he got up amongst the people saying, O people! Do not wish to meet the enemy, and ask Allah for safety, but when you face the enemy, be patient, and remember that Paradise is under the shades of swords. Then he said, O Allah, the Revealer of the Holy Book, and the Mover of the clouds and the Defeater of the clans, defeat them, and grant us victory over them.
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”اے لوگو! دشمن سے لڑائی بھڑائی کی تمنا نہ کرو ‘ بلکہ اللہ سے سلامتی مانگو۔ ہاں! جب جنگ چھڑ جائے تو پھر صبر کئے رہو اور ڈٹ کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی «اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم» ”اے اللہ! کتاب ( قرآن ) کے نازل فرمانے والے ‘ اے بادلوں کے چلانے والے! اے احزاب ( یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوہ خندق کے موقع پر ) شکست دینے والے! ہمارے دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔“ اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ ان کے پاس عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”دشمن سے لڑائی لڑنے کی تمنا نہ کرو۔“
3025
Sahih
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
وَقَالَ : أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said: Do not wish to meet the enemy, but when you meet face) the enemy, be patient.
ابوعامر نے کہا ‘ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دشمن سے لڑنے بھڑنے کی تمنا نہ کرو ‘ ہاں! اگر جنگ شروع ہو جائے تو پھر صبر سے کام لو۔“
3026
Sahih
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَلَكَ كِسْرَى ، ثُمَّ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَقَيْصَرٌ لَيَهْلِكَنَّ ، ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرٌ بَعْدَهُ وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Khosrau will be ruined, and there will be no Khosrau after him, and Caesar will surely be ruined and there will be no Caesar after him, and you will spend their treasures in Allah's Cause.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسریٰ ( ایران کا بادشاہ ) برباد و ہلاک ہو گیا ‘ اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا۔ اور قیصر ( روم کا بادشاہ ) بھی ہلاک و برباد ہو گیا ‘ اور اس کے بعد ( شام میں ) کوئی قیصر باقی نہیں رہ جائے گا۔ اور ان کے خزانے اللہ کے راستے میں تقسیم ہوں گے۔“
3027
Sahih
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بُورُ بْنُ أَصْرَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبَ خَدْعَةً .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle called,: War is deceit .
ہم سے ابوبکر بن اصرم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑائی کیا ہے؟ ایک چال ہے۔“
3029
Sahih
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَرْبُ خَدْعَةٌ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet said, War is deceit.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں عمرو نے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”جنگ تو ایک چالبازی کا نام ہے۔“
3030
Sahih
(158) CHAPTER. Telling lies in war.
جنگ میں جھوٹ بولنا ( مصلحت کیلئے ) درست ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَنَّانَا وَسَأَلَنَا الصَّدَقَةَ ، قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ ، قَالَ : فَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنَ مِنْهُ فَقَتَلَهُ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet said, Who is ready to kill Ka`b bin Al-Ashraf who has really hurt Allah and His Apostle? Muhammad bin Maslama said, O Allah's Apostle! Do you like me to kill him? He replied in the affirmative. So, Muhammad bin Maslama went to him (i.e. Ka`b) and said, This person (i.e. the Prophet) has put us to task and asked us for charity. Ka`b replied, By Allah, you will get tired of him. Muhammad said to him, We have followed him, so we dislike to leave him till we see the end of his affair. Muhammad bin Maslama went on talking to him in this way till he got the chance to kill him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیتیں پہنچا چکا ہے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت بخش دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر محمد بن مسلمہ کعب یہودی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں تھکا دیا ‘ اور ہم سے آپ زکوٰۃ مانگتے ہیں۔ کعب نے کہا کہ قسم اللہ کی! ابھی کیا ہے ابھی اور مصیبت میں پڑو گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کی پیروی کر لی ہے۔ اس لیے اس وقت تک اس کا ساتھ چھوڑنا ہم مناسب بھی نہیں سمجھتے جب تک ان کی دعوت کا کوئی انجام ہمارے سامنے نہ آ جائے۔ غرض محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ آخر موقع پا کر اسے قتل کر دیا۔
3031
Sahih
(159) CHAPTER. Killing non-Muslim warriors secretly.
جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ، فَقَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأْذَنْ لِي فَأَقُولَ ، قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ .
Narrated Jabir: The Prophet said, Who is ready to kill Ka`b bin Ashraf (i.e. a Jew). Muhammad bin Maslama replied, Do you like me to kill him? The Prophet replied in the affirmative. Muhammad bin Maslama said, Then allow me to say what I like. The Prophet replied, I do (i.e. allow you).
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کے لیے کون ہمت کرتا ہے؟“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیا میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں!“ انہوں نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے اجازت دیں ( کہ میں جو چاہوں جھوٹ سچ کہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری طرف سے اس کی اجازت ہے۔“
3032
Sahih
(160) CHAPTER. What tricks and means of security may be adopted to protect oneself against someone who is excepted to be vicious and mischievous.
اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکروفریب کر سکتے ہیں
قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ فَحُدِّثَ بِهِ فِي نَخْلٍ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَابْنُ صَيَّادٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا صَافِ هَذَا مُحَمَّدٌ فَوَثَبَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ .
Narrated 'Abdullah bin Umar (ra): Once, Allah's Messenger (saws) accompanied by Ubai bin Ka'b set out to Ibn Saiyyad. He was informed that Ibn Saiyyad was in a garden of date palms. When Allah's Messenger (saws) entered the garden of date-palms, he started hiding himself behind the trunks of the palms while Ibn Saiyyad was covered with a velvet sheet with murmurs emanating from under it. Ibn Saiyyah's mother saw Allah's Messenger (saws) and said, O Saf! This is Muhammad. So Ibn Saiyyad got up. Allah's Messenger (saws) said, If she had left him (in his state), the truth would have been clear.
لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد ( یہودی بچے ) کی طرف جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے ( ابن صیاد کے عجیب و غریب احوال کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تحقیق کرنا چاہتے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی کہ ابن صیاد اس وقت کھجوروں کی آڑ میں موجود ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو شاخوں کی آڑ میں چلنے لگے۔ ( تاکہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکے ) ابن صیاد اس وقت ایک چادر اوڑھے ہوئے چپکے چپکے کچھ گنگنا رہا تھا ‘ اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور پکار اٹھی کہ اے ابن صیاد! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آ پہنچے ‘ وہ چونک اٹھا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ اس کی خبر نہ کرتی تو وہ کھولتا ( یعنی اس کی باتوں سے اس کا حال کھل جاتا ) ۔
3033
Sahih
(161) CHAPTER. The recitation of poetic verses in the war and raising the voices while digging the trench.
جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ ، وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا .
Narrated Al-Bara: I saw Allah's Apostle on the day (of the battle) of the Trench carrying earth till the hair of his chest were covered with dust and he was a hairy man. He was reciting the following verses of `Abdullah (bin Rawaha): O Allah, were it not for You, We would not have been guided, Nor would we have given in charity, nor prayed. So, bestow on us calmness, and when we meet the enemy. Then make our feet firm, for indeed, Yet if they want to put us in affliction, (i.e. want to fight against us) we would not (flee but withstand them). The Prophet used to raise his voice while reciting these verses. (See Hadith No. 432, Vol. 5).
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں ( خندق کھودتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( جسم مبارک پر ) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر ( دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو فتنہ فساد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ آپ یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔
3034
Sahih
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي .
Narrated Jarir: Allah's Apostle did not screen himself from me since my embracing Islam, and whenever he saw me he would receive me with a smile.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پردہ کے ساتھ ) مجھے ( اپنے گھر میں داخل ہونے سے ) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ مجھ کو دیکھتے ‘ خوشی سے آپ مسکرانے لگتے۔
3035
Sahih
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ إِنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا .
Once I told him that I could not sit firm on horses. He stroke me on the chest with his hand and said, O Allah! Make him firm and make him a guiding and a rightly guided man.
ایک دفعہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا ‘ اور دعا کی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا» ”اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھ۔“
3036
Sahih
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ ، وَكَانَتْ يَعْنِي فَاطِمَةَ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ ، ثُمَّ حُشِيَ بِهِ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Hazim: The people asked Sahl bin Sa`d As-Sa' idi With what thing (medicine) was the wound of Allah's Apostle treated? He replied, There is none left (living) amongst the people who knows it better than. `Ali used to bring water in his shield and Fatima (i.e. the Prophet's daughter) used to wash the blood off his face. Then a mat (of palm leaves) was burnt and its ash was inserted in the wound of Allah's Apostle.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے شاگردوں نے پوچھا کہ ( جنگ احد میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا؟ سہل نے اس پر کہا کہ اب صحابہ میں کوئی شخص بھی ایسا زندہ موجود نہیں ہے جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو۔ علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی بھربھر کر لا رہے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون کو دھو رہی تھیں۔ اور ایک بوریا جلایا گیا تھا اور آپ کے زخموں میں اسی کی راکھ کو بھر دیا گیا تھا۔
3037
Sahih
(164) CHAPTER. What quarrels and mutual differences are hated in the war, and the punishment of the one who disobeys his Imam.
جنگ میں جھگڑ اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے‘اس کی سزا کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا وأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ ، قَالَ : يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا .
Narrated Abu Burda: That his father said, The Prophet sent Mu`adh and Abu Musa to Yemen telling them. 'Treat the people with ease and don't be hard on them; give them glad tidings and don't fill them with aversion; and love each other, and don't differ.
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعید بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ان کے دادا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ کو یمن بھیجا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ‘ ان کو خوش رکھنا ‘ نفرت نہ دلانا ‘ اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا۔
3038
Sahih
(164) CHAPTER. What quarrels and mutual differences are hated in the war, and the punishment of the one who disobeys his Imam.
جنگ میں جھگڑ اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے‘اس کی سزا کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، قَالَ : جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ فَهَزَمُوهُمْ ، قَالَ : فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ وَأَسْوُقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ ، فَقَالَ : أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ ، فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيتُمْ مَا ، قَالَ : لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ ، فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا وَسَبْعِينَ قَتِيلًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَدْ قُتِلُوا فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ ، قَالَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي ، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ أُعْلُ هُبَلْ أُعْلُ هُبَلْ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُجِيبُوا لَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ ، قَالَ : قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، قَالَ : إِنَّ لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُجِيبُوا لَهُ ، قَالَ : قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ ، قَالَ : قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا ، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ .
Narrated Al-Bara bin Azib: The Prophet appointed `Abdullah bin Jubair as the commander of the infantry men (archers) who were fifty on the day (of the battle) of Uhud. He instructed them, Stick to your place, and don't leave it even if you see birds snatching us, till I send for you; and if you see that we have defeated the infidels and made them flee, even then you should not leave your place till I send for you. Then the infidels were defeated. By Allah, I saw the women fleeing lifting up their clothes revealing their leg-bangles and their legs. So, the companions of `Abdullah bin Jubair said, The booty! O people, the booty ! Your companions have become victorious, what are you waiting for now? `Abdullah bin Jubair said, Have you forgotten what Allah's Apostle said to you? They replied, By Allah! We will go to the people (i.e. the enemy) and collect our share from the war booty. But when they went to them, they were forced to turn back defeated. At that time Allah's Apostle in their rear was calling them back. Only twelve men remained with the Prophet and the infidels martyred seventy men from us. On the day (of the battle) of Badr, the Prophet and his companions had caused the 'Pagans to lose 140 men, seventy of whom were captured and seventy were killed. Then Abu Sufyan asked thrice, Is Muhammad present amongst these people? The Prophet ordered his companions not to answer him. Then he asked thrice, Is the son of Abu Quhafa present amongst these people? He asked again thrice, Is the son of Al-Khattab present amongst these people? He then returned to his companions and said, As for these (men), they have been killed. `Umar could not control himself and said (to Abu Sufyan), You told a lie, by Allah! O enemy of Allah! All those you have mentioned are alive, and the thing which will make you unhappy is still there. Abu Sufyan said, Our victory today is a counterbalance to yours in the battle of Badr, and in war (the victory) is always undecided and is shared in turns by the belligerents, and you will find some of your (killed) men mutilated, but I did not urge my men to do so, yet I do not feel sorry for their deed After that he started reciting cheerfully, O Hubal, be high! (1) On that the Prophet said (to his companions), Why don't you answer him back? They said, O Allah's Apostle What shall we say? He said, Say, Allah is Higher and more Sublime. (Then) Abu Sufyan said, We have the (idol) Al `Uzza, and you have no `Uzza. The Prophet said (to his companions), Why don't you answer him back? They asked, O Allah's Apostle! What shall we say? He said, Says Allah is our Helper and you have no helper.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر ( تیر اندازوں کے ) پچاس آدمیوں کا افسر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تاکید کر دی تھی کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ پرندے ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پھر بھی اپنی جگہ سے مت ہٹنا ‘ جب تک میں تم لوگوں کو کہلا نہ بھیجوں۔ اسی طرح اگر تم یہ دیکھو کہ کفار کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں پامال کر دیا ہے پھر بھی یہاں سے نہ ٹلنا ‘ جب میں تمہیں خود بلا نہ بھیجوں۔ پھر اسلامی لشکر نے کفار کو شکست دے دی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ اللہ کی قسم! میں نے مشرک عورتوں کو دیکھا کہ تیزی کے ساتھ بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب اور پنڈلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اور وہ اپنے کپڑوں کو اٹھائے ہوئے تھیں۔ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا ‘ کہ غنیمت لوٹو ‘ اے قوم! غنیمت تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں۔ اب ڈر کس بات کا ہے۔ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ کیا جو ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ‘ تم اسے بھول گئے؟ لیکن وہ لوگ اسی پر اڑے رہے کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ غنیمت جمع کرنے میں شریک رہیں گے۔ جب یہ لوگ ( اکثریت ) اپنی جگہ چھوڑ کر چلے آئے تو ان کے منہ کافروں نے پھیر دیئے ‘ اور ( مسلمانوں کو ) شکست زدہ پا کر بھاگتے ہوئے آئے ‘ یہی وہ گھڑی تھی ( جس کا ذکر سورۃ آل عمران میں ہے کہ ) ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو پیچھے کھڑے ہوئے بلا رہے تھے“۔ اس سے یہی مراد ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ صحابہ کے سوا اور کوئی بھی باقی نہ رہ گیا تھا۔ آخر ہمارے ستر آدمی شہید ہو گئے۔ بدر کی لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ مشرکین کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا ‘ ستر ان میں سے قیدی تھے اور ستر مقتول ‘ ( جب جنگ ختم ہو گئی تو ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر ) ابوسفیان نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے ساتھ موجود ہیں؟ تین مرتبہ انہوں نے یہی پوچھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے منع فرما دیا تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا ‘ کیا ابن ابی قحافہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ سوال بھی تین مرتبہ کیا ‘ پھر پوچھا ابن خطاب ( عمر رضی اللہ عنہ ) اپنی قوم میں موجود ہیں؟ یہ بھی تین مرتبہ پوچھا ‘ پھر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑ کر کہنے لگے کہ یہ تینوں قتل ہو چکے ہیں اس پر عمر رضی اللہ عنہ سے نہ رہا گیا اور آپ بول پڑے کہ اے اللہ کے دشمن! اللہ گواہ ہے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے جن کے تو نے ابھی نام لیے تھے وہ سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ ابوسفیان نے کہا اچھا! آج کا دن بدر کا بدلہ ہے۔ اور لڑائی بھی ایک ڈول کی طرح ہے ( کبھی ادھر کبھی ادھر ) تم لوگوں کو اپنی قوم کے بعض لوگ مثلہ کئے ہوئے ملیں گے۔ میں نے اس طرح کا کوئی حکم ( اپنے آدمیوں کو ) نہیں دیا تھا ‘ لیکن مجھے ان کا یہ عمل برا بھی نہیں معلوم ہوا۔ اس کے بعد وہ فخر یہ رجز پڑھنے لگا ‘ ہبل ( بت کا نام ) بلند رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا ہم اس کے جواب میں کیا کہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو کہ اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہمارا مددگار عزیٰ ( بت ) ہے اور تمہارا کوئی بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جواب کیوں نہیں دیتے، صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اس کا جواب کیا دیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہو کہ اللہ ہمارا حامی ہے اور تمہارا حامی کوئی نہیں۔
3039
Sahih
(165) CHAPTER. If the people get frightened at night.
اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو ( تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے )
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ ، قَالَ : وَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً سَمِعُوا صَوْتًا ، قَالَ : فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ ، فَقَالَ : لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَدْتُهُ بَحْرًا يَعْنِي الْفَرَسَ .
Narrated Anas: Allah's Apostle was the (most handsome), most generous and the bravest of all the people. Once the people of Medina got frightened having heard an uproar at night. So, the Prophet met the people while he was riding an unsaddled horse belonging to Abu Talha and carrying his sword (slung over his shoulder). He said (to them), Don't get scared, don't get scared. Then he added, I found it (i.e the horse) very fast.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حسین ‘ سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ گھبرا گئے تھے ‘ کیونکہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جس کی پیٹھ ننگی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے تنہا اطراف مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ کر صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملے تو تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اسے دریا کی طرح پایا۔ ( تیز دوڑنے میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ گھوڑے کی طرف تھا۔
3040
Sahih
(166) CHAPTER. Shouting, “Ya Sabahah!” as loudly as possible on seeing the enemy to let the people hear it.
دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں ۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ ، بِثَنِيَّةِ الْغَابَةِ لَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قُلْتُ : وَيْحَكَ مَا بِكَ ، قَالَ : أُخِذَتْ لِقَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : مَنْ أَخَذَهَا ، قَالَ : غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَا صَبَاحَاهْ يَا صَبَاحَاهْ ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ أَخَذُوهَا فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ ، وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوقُهَا ، فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّي أَعْجَلْتُهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا سِقْيَهُمْ فَابْعَثْ فِي إِثْرِهِمْ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ فِي قَوْمِهِمْ .
Narrated Salama: I went out of Medina towards Al-Ghaba. When I reached the mountain path of Al-Ghaba, a slave of `Abdur-Rahman bin `Auf met me. I said to him, Woe to you! What brought you here? He replied, The she-camels of the Prophet have been taken away. I said, Who took them? He said, Ghatafan and Fazara. So, I sent three cries, O Sabaha-h ! O Sabahah ! so loudly that made the people in between its (i.e. Medina's) two mountains hear me. Then I rushed till I met them after they had taken the camels away. I started throwing arrows at them saying, I am the son of Al-Akwa` ; and today perish the mean people! So, I saved the she-camels from them before they (i.e. the robbers) could drink water. When I returned driving the camels, the Prophet met me, I said, O Allah's Apostle Those people are thirsty and I have prevented them from drinking water, so send some people to chase them. The Prophet said, O son of Al-Akwa`, you have gained power (over your enemy), so forgive (them). (Besides) those people are now being entertained by their folk.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یزید بن ابی عبید نے خبر دی ‘ انہیں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ سے غابہ ( شام کے راستے میں ایک مقام ) جا رہا تھا ‘ غابہ کی پہاڑی پر ابھی میں پہنچا تھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک غلام ( رباح ) مجھے ملا۔ میں نے کہا ‘ کیا بات پیش آئی؟ کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودہیل اونٹنیاں ( دودھ دینے والیاں ) چھین لی گئیں ہیں۔ میں نے پوچھا کس نے چھینا ہے؟ بتایا کہ قبیلہ غطفان اور قبیلہ فزارہ کے لوگوں نے۔ پھر میں نے تین مرتبہ بہت زور سے چیخ کر ”یا صباحاہ ‘ یا صباحاہ“ کہا۔ اتنی زور سے کہ مدینہ کے چاروں طرف میری آواز پہنچ گئی۔ اس کے بعد میں بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھا ‘ اور ڈاکوؤں کو جا لیا ‘ اونٹنیاں ان کے ساتھ تھیں ‘ میں نے ان پر تیر برسانا شروع کر دیا ‘ اور کہنے لگا ‘ میں اکوع کا بیٹا سلمہ ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ آخر اونٹنیاں میں نے ان سے چھڑا لیں ‘ ابھی وہ لوگ پانی نہ پینے پائے تھے اور انہیں ہانک کر واپس لا رہا تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ کو مل گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ڈاکو پیاسے ہیں اور میں نے مارے تیروں کے پانی بھی نہیں پینے دیا۔ اس لیے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اے ابن الاکوع! تو ان پر غالب ہو چکا اب جانے دے ‘ درگزر کر وہ تو اپنی قوم میں پہنچ گئے جہاں ان کی مہمانی ہو رہی ہے۔
3041
Sahih

Chapters

189
01
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
4 Hadith
02
(2) CHAPTER. The best among the people is that believer who strives his utmost in Allah's Cause with both his life and property.
سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The invocation of men and women that Allah may let them participate in Jihad and adorn them with martyrdom.
جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. The grades of the Mujadhidun (Muslim fighters) in Allah's Cause.
مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. AI-Hur-ul-Ein (houris fair females) and their qualities.
بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان ‘ ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہوگی
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The wish for martyrdom.
شہادت کی آرزو کرنا
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. The superiority of him who goes in Allah's Cause and dies on the way, for he will be regarded as one of the martyrs.
اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا ، اس کی فضیلت
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. (The reward of) him who is injured or stabbed in Allah's Cause.
جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے ( یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو )
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. (The superiority of) him who is wounded in Allah's Cause.
جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوا ؟ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: Do you wait for us (anything) except one of the two best things (martyrdom or victory)? ...” (V.9:52)
فرمان الہیٰ کہ اے پیغمبر ! ان کافروں سے کہہ دو
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah (i.e., that they have gone out for Jihad (holy fighting) and showed not their backs to the disbelievers), of them some have fulfilled their obligations (i.e., have been martyred), and some of them are still waiting, but they have never changed in the least. (V.33:23)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Practising good deeds before taking part in a (holy) battle.
جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whoever is struck and killed by an arrow thrown by an unidentified person.
کسی کو اچا نک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے ماردیا ‘ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Whoever fights so that Allah's Word (i.e., Allah's religion of Islamic Monotheism) be superior.
جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ اس کی فضیلت
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. (The superiority of him) Whose feet get covered with dust in Allah's Cause.
جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبارآلود ہوئے اس کا ثواب
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. To remove the dust which falls on one's head (whilst striving) in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. To take a bath after fighting and (after being soild with) dust.
جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The superiority of (those people for whom) the following Statement of Allah (was revealed): “Think not of those who are killed in the Way of Allah as dead. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision. They rejoice in what Allah has betowed upon them of His Bounty, and rejoice for the sake of those who have not yet joined them, but are left behind (not yet martyred) that on them no fear shall come, nor shall they grieve. They rejoice in aGrace and a Bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers. (V.3:169-171)
ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا
2 Hadith
20
(20) CHAPTER. The shade of angels on the martyr.
شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The wish of the (martyred) Mujahid to return to the world.
شہید کا دوباوہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. Paradise is under the blades of swords (Jihad in Allah's Cause).
جنت کا تلواروں کی چمک کے نیچے ہونا
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Bravery and cowardice in the battle.
جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کابیان
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Seeking refuge with Allah from cowardice.
بزدلی سے خدا کی پناہ مانگنا
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. Whoever described what he has witnessed in the war.
جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے ‘ اس کا بیان
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. The obligation of going out for Jilhad when there is a general call to arms, and what sort of Jihad and intentions are compulsory.
جہا د کے لئے نکل کھڑا ہونا واجب ہے اور جہادکی نیت رکھنے کا واجب ہونا
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
29
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
جہاد کو ( نفلی روزوں پر ) مقدم رکھنا
2 Hadith
30
(30) CHAPTER. There are seven martyrs other than those who are killed in Jihad (i.e., eight).
اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سواشہادت کی اور بھی سات قسمیں ہیں
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled (by injury or are blind or lame) ..(up to).. Ever Oft-Forgiving, Most Merciful. (V.4:95,96).
باب
3 Hadith
32
(32) CHAPTER. Patience during fighting.
کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. Rousing and exhorting people to fight.
مسلمانوں کو ( محارب ) کافروں سے لڑنے کی رغبت دلانا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. The digging of the Khandaq (trench).
خندق کھودنے کا بیان
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. (The rewad of) whoever is held back from Jihad by a legal cause.
جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکا
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The superiority of observing Saum (fast) in Allah's Cause (to seek His good pleasure).
جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. The superiority of spending in Allah's Cause (i.e., for Jihad).
اللہ کی راہ ( جہاد میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. To apply Hanut (i.e., a kind os scent) during the battle.
جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The superiority of the reconnoiterer.
دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Can the reconnoitrer be sent alone?
کیا جاسوسی کے لئے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. The travelling of two persons together.
دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
3 Hadith
44
(44) CHAPTER. Jihad is to be carried on whether the Muslim ruler who calls for it is good or bad.
مسلمانوں کا امیر عادل ہو یا ظالم اس کی قیادت میں جہاد ہمیشہ ہوتا رہے گا
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. (The superiority of) the one keeps a horse (for the purpose of Jihad in Allah's Cause), as is indicated by the Statement of Allah: [And make ready against them all you can of power,] including steeds of war (tanks, planes, missiles, artillery etc,)... (V.8:60)
جو شخص جہاد کی نیت سے ( گھوڑا پالے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( و من رباط الخیل ) ) کی تعمیل میں
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. To name a horse and a donkey.
گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا
4 Hadith
47
(47) CHAPTER. What has been said about the evil omen of a horse.
اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں
2 Hadith
48
(48) CHAPTER. Horses (are kept) for three (purposes).
گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. Whoever beats somebody else's animal during the battle (intending to help its rider).
جہاد میں دوسرے کے جانورکو مارنا
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. Riding on an unmanageable animal or a stallion horse.
سخت سرکش جانور اورنر گھوڑے کی سواری کرنا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. Leading somebody else's animal during the battle.
اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. The saddle and the stirrup of an animal.
جانور پر رکاب یا غرز لگانا
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. The riding of an unsaddled horse.
گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا
1 Hadith
55
(55) CHAPTER. A slow horse.
سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا
1 Hadith
56
(56) CHAPTER. Horse races.
گھوڑ دوڑ کا بیان
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Idmar (the preparation) of horses for racing.
گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. The extreme limit of the distance of the race of horses that have been made lean.
تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو
1 Hadith
59
(59) CHAPTER. The she-camel of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان
2 Hadith
60
(61) CHAPTER. The white mule of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان
2 Hadith
61
(62) CHAPTER. The Jihad of women.
عورتوں کا جہاد کیا ہے
2 Hadith
62
(63) CHAPTER. The participation of a woman in a sea battle.
دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا
2 Hadith
63
(64) CHAPTER. The man's selection of one wive to accompany in holy battles.
آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے ( یہ درست ہے )
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. The Jihad of women and their fighting along with men.
عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا
1 Hadith
65
(66) CHAPTER. The carrying of water-skins by the women to the people (and giving them water to drink) during holy battles.
جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا
1 Hadith
66
(67) CHAPTER. The treatment of the wounded by the women during holy battles.
جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں
1 Hadith
67
(68) CHAPTER. The bringing back of the wounded and the killed by the women.
زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں
1 Hadith
68
(69) CHAPTER. Removing the arrow from the body.
۔ ( مجاہدین کے ) جسم سے تیر کا کھینچ کر نکالنا
1 Hadith
69
(70) CHAPTER. Vigilance during holy battles in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے ؟
3 Hadith
70
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا
3 Hadith
72
(73) CHAPTER. The superiority of guarding (Muslims from infidels) for a day in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے
1 Hadith
73
(74) CHAPTER. Whoever sets off for a holy battle accompanied by a boy-servant.
اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے
1 Hadith
74
(75) CHAPTER. To go on a sea- voyage.
جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا
2 Hadith
75
(76) CHAPTER. Whoever sought the help of poor and pious men in war.
لڑائی میں کمزور ناتواں ( جیسے عورتیں ، بچے ، اندھے ، معذور اور مساکین ) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا
2 Hadith
76
(77) CHAPTER. Do not say that so-and-so is a martyr.
قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے
1 Hadith
77
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
2 Hadith
78
(79) CHAPTER. To play with spears and other similar arms.
برچھے سے ( مشق کرنے کے لیے ) کھیلنا
1 Hadith
79
(80) CHAPTER. The shield, and shielding oneself with the shield of his companion.
ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان
4 Hadith
80
(81) CHAPTER. The (leather) shield.
ڈھال کے بیان میں
2 Hadith
81
(82) CHAPTER. The straps for suspending swords and the hanging of the sword by the neck.
تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا
1 Hadith
82
(83) CHAPTER. (What has been said regarding) the decoration of swords (with gold and silver etc.).
تلوار کی آرائش کرنا
1 Hadith
83
(84) CHAPTER. Whoever hung his sword on a tree at midday nap.
جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی
1 Hadith
84
(85) CHAPTER. The wearing of a helmet.
خود پہننا ( لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاو کیا جاتا تھا )
1 Hadith
85
(86) CHAPTER. Whoever dose not consider it logical to break the weapons and to slaughter the animals of the deceased.
کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں
1 Hadith
86
(87) CHAPTER. The dispersing of the people away from the lmam at midday to rest in the shade of trees.
دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر ( متفرق درختوں کے سائے تلے ) پھیل سکتے ہیں
1 Hadith
87
(88) CHAPTER. What is said regarding spears.
بھالوں ( نیزوں ) کا بیان
1 Hadith
88
(89) CHAPTER. What is said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h) and the coat of mail during the battle.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا
3 Hadith
89
(90) CHAPTER. The (wearing of a) cloak on journeys and in war.
سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان
1 Hadith
90
(91) CHAPTER. The wearing of silk in war.
لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا
4 Hadith
91
(92) CHAPTER. What is said about the knife.
چھری کا استعمال کرنا درست ہے
1 Hadith
92
(93) CHAPTER. What is said about the fighting against Ar-Rum (the Byzantines).
نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
93
(94) CHAPTER. Fighting against the Jews.
یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان
2 Hadith
94
(95) CHAPTER. Fighting against the Turks.
ترکوں سے جنگ کا میدان
2 Hadith
95
(96) CHAPTER. Fighting against people wearing shoes made of hair.
ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے
1 Hadith
96
(97) CHAPTER. Whoever arranged his companions at the time of defeat, and got down from his riding animal and requested Allah for help.
ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
1 Hadith
97
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا
1 Hadith
98
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے ؟
5 Hadith
99
(100) CHAPTER. To invoke Allah to bestow guidance upon Al- Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans) in order to attract them.
مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا
1 Hadith
100
(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.
یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے
2 Hadith
101
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
7 Hadith
102
(103) CHAPTER. Concealing the true destination of a Ghazwa by using an equivocation which indicates apparently that one is going to a different destination; and the preference of Thursday for journeys (by the Prophet (p.b.u.h)).
لڑائی کا مقام چھپانا ( دوسرا مقام بیان کرنا ) اور جمعرات کے دن سفر کرنا
4 Hadith
103
(104) CHAPTER. Setting out after midday.
ظہر کی نماز کے بعد سفر کرنا
1 Hadith
104
(105) CHAPTER. Setting out in the last part of the month.
مہینہ کے آخری دنوں میں سفر کرنا
1 Hadith
105
(106) CHAPTER. Travelling in Ramadan.
رمضان کے مہینے میں سفر کرنا
1 Hadith
106
(107) CHAPTER. Bidding farewell.
سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا
1 Hadith
107
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
1 Hadith
108
(109) CHAPTER. The Imam (i.e., Muslim ruler) should be defended (by the Muslims and he is to be taken as their protector).
امام ( بادشاہ اسلام ) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا ( دشمن کے حملوں سے ) بچاو کرنا
2 Hadith
109
(110) CHAPTER. To give a Bai'a for not to flee during a battle.
لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا
6 Hadith
110
(111) CHAPTER. The Imam should order the people to do only those things that are within their ability.
بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں
1 Hadith
111
(112) CHAPTER. If the Prophet (p.b.u.h) had not started fighting during the early hours of the day, he would delay it till the sun had declined (i.e., after midday).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے
2 Hadith
112
(113) CHAPTER. Asking the permission of Imam (if one wishes not to participate in a holy battle).
اگر کوئی جہاد میں سے لوٹنا چاہے یا جہاد میں نہ جانا چاہے تو امام سے اجازت لے
1 Hadith
113
(116) CHAPTER. The setting out of the Imam, before the people at the time of fright.
خوف اور دہشت کے وقت ( حالات معلوم کرنے کے لیے ) امام کا آگے بڑھنا
1 Hadith
114
(117) CHAPTER. To be quick and to make the horse gallop at the time of fright.
خوف کے موقع پر جلدی سے گھو ڑے کو ایڑ لگانا
1 Hadith
115
(119) CHAPTER. The wages given to fight on somebody else's behalf, and the riding animals presenyed to be used in Allah's Cause.
کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا
3 Hadith
116
(120) CHAPTER. The labourer (whose services are hired for the purpose of Jihad).
جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو
1 Hadith
117
(121) CHAPTER. What has been said regarding the flag of the Prophet (p.b.u.h) .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان
3 Hadith
118
(122) CHAPTER. The Statement of the prophet (p.b.u.h) : I have been made victorious for a distance of one month journey with terror (cast in the hearts of the enemy).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب ( کافروں کے دلوں میں ) ڈال کر میری مدد کی ہے
2 Hadith
119
(123) CHAPTER. Providing oneself with food when going on a military expendition.
سفر جہاد میں توشہ ( خرچ وغیرہ ) ساتھ رکھنا
4 Hadith
120
(124) CHAPTER. To carry the journey-food on one's shoulder.
توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانا
1 Hadith
121
(125) CHAPTER. The sitting of a woman behind her brother as a compainon-rider.
عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا
2 Hadith
122
(126) CHAPTER. The sitting of two men together over a riding animal in military expeditions and in the Hajj.
جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا
1 Hadith
123
(127) CHAPTER. The sitting of two men together on a donkey.
ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا
2 Hadith
124
(128) CHAPTER. Holding the riding animal of somebody else (to help him ride).
جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھادے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے ، اس کا ثواب
1 Hadith
125
(129) CHAPTER. It is disliked for one to travel to a hostile country carrying copies of the Qur'an.
مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے
1 Hadith
126
(130) CHAPTER. The recitation of Takbir (Allahu Akbar) in the war.
جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا
1 Hadith
127
(131) CHAPTER. What is disliked as regards raising the voice when saying Takbir (i.e., Allah is the Most Great)
بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے
1 Hadith
128
(132) CHAPTER. The recitation of Subhan Allah when going down a valley.
کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا
1 Hadith
129
(133) CHAPTER. To say Takbir (Allahu Akbar Allah is the Most Great) on ascending a high place.
جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا
2 Hadith
130
(134) CHAPTER. A traveller is granted reward similar to that given for good deeds practised at home, as if he is practising the same while travelling.
مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا ( گو وہ سفر میں نہ کر سکے )
1 Hadith
131
(135) CHAPTER. Travelling alone.
اکیلے سفر کرنا
2 Hadith
132
(136) CHAPTER. Hastening in travel.
سفر میں تیز چلنا
3 Hadith
133
(137) CHAPTER. If someone gives his horse to be used for Allah's Cause and then he sees it being sold.
اگر اللہ کی راہ میں سواری کے لیے گھوڑا دے پھر اس کو بکتا پائے ؟
2 Hadith
134
(138) CHAPTER. The participation in Jihad with one's parent's permission.
ماں باپ کی اجازت لے کرجہاد میں جانا
1 Hadith
135
(139) CHAPTER. What is said regarding the hanging of bells and the like, round the necks of camels.
اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
136
(140) CHAPTER. If a man has enlisted himself in the army and then his wife goes out for Hajj, or he has a genuine excuse, can he be given a leave?
ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے
1 Hadith
137
(141) CHAPTER. The spy.
جاسوسی کا بیان
1 Hadith
138
(142) CHAPTER. Providing the prisoners of war with clothes.
قیدیوں کو کپڑے پہنانا
1 Hadith
139
(143) CHAPTER. The superiority of the one through whom a man embraces Islam.
اس شخص کی فضیلت جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے
1 Hadith
140
(144) CHAPTER. The prisoners of war in chains.
قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا
1 Hadith
141
(145) CHAPTER. The superiority of the people of the Scriptures (Jews and Christians) who embrace Islam.
یہود یا نصاری مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان
1 Hadith
142
(146) CHAPTER. (Is it permissible) to attack the enemies wilth the probability of killing the babies and children (unintentionally)?
اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں ، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے ۔
2 Hadith
143
(147) CHAPTER. Killing the children in the war.
جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
144
(148) CHAPTER. Killing the women in the war.
جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
145
(149) CHAPTER. One should not to punish (anybody) with Allah's punishment.
اللہ کے عذاب ( آگ ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا
2 Hadith
146
(152) CHAPTER. If a Mushrik (polytheist, idolater, pagan) burns a Muslim, should he be burnt (in retaliation)?
اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کو آگ سے جلا دے تو کیا اسے بھی بدلہ میں جلایا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
147
(154) CHAPTER. The burning of houses and date-palms.
( حربی کافروں کے ) گھر وں اورباغوں کو جلانا
2 Hadith
148
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
2 Hadith
149
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
3 Hadith
150
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
4 Hadith
151
(158) CHAPTER. Telling lies in war.
جنگ میں جھوٹ بولنا ( مصلحت کیلئے ) درست ہے
1 Hadith
152
(159) CHAPTER. Killing non-Muslim warriors secretly.
جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا
1 Hadith
153
(160) CHAPTER. What tricks and means of security may be adopted to protect oneself against someone who is excepted to be vicious and mischievous.
اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکروفریب کر سکتے ہیں
1 Hadith
154
(161) CHAPTER. The recitation of poetic verses in the war and raising the voices while digging the trench.
جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا
1 Hadith
155
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
2 Hadith
156
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
1 Hadith
157
(164) CHAPTER. What quarrels and mutual differences are hated in the war, and the punishment of the one who disobeys his Imam.
جنگ میں جھگڑ اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے‘اس کی سزا کا بیان
2 Hadith
158
(165) CHAPTER. If the people get frightened at night.
اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو ( تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے )
1 Hadith
159
(166) CHAPTER. Shouting, “Ya Sabahah!” as loudly as possible on seeing the enemy to let the people hear it.
دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں ۔
1 Hadith
160
(167) CHAPTER. Saying: “Take it! I am the son of so-and-so. .
حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں ۔
1 Hadith
161
(168) CHAPTER. If the enemy is ready to accept the judgement of a Muslim (his judgement will be valid if the Imam agrees to it).
اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں ؟
1 Hadith
162
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
1 Hadith
163
(170) CHAPTER. Can a man present himself to captivity, and whosoever refuses to surrender to captivity? And the performance of a two Rak‘a Salat (prayer) before being put to death.
اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم
1 Hadith
164
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
2 Hadith
165
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
3 Hadith
166
(173) CHAPTER. If an infidel warrior comes in an Islamic territory without having the assurance of protection (is it permissible to kill him?)
اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے ) تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
1 Hadith
167
(174) CHAPTER. One should fight for the protection of the Dhimmi (i.e., free non-Muslim subjects living in a Muslim country) and they should not be enslaved.
ذمی کافروں کو بچانے کے لئے لڑنا ‘ ان کا غلام لونڈی نہ بنانا
1 Hadith
168
(176) CHAPTER. Can one intercede for the Dhimmi or deal with them?
ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے
1 Hadith
169
(177) CHAPTER. Sprucing oneself up before receiving a delegation.
وفود سے ملاقات کے لئے اپنے کو آراستہ کرنا
1 Hadith
170
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
4 Hadith
171
(180) CHAPTER. If some people in a hostile non-Muslim country embrace Islam and they have possessions and land, then what they have will remain for them.
اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال وجائداد منقولہ وغیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی
1 Hadith
172
(181) CHAPTER. To write down the names of (i.e., listing) the people by the Imam.
خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا
2 Hadith
173
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
1 Hadith
174
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
1 Hadith
175
(184) CHAPTER. Supporting with reinforcements.
مدد کے لئے فوج روانہ کرنا
1 Hadith
176
(185) CHAPTER. Staying in the (enemy) town for three (days and nights) on having victory over the enemy.
جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا
1 Hadith
177
(186) CHAPTER. The distribution of the war booty after a Ghazwa and during a journey.
سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا
1 Hadith
178
(187) CHAPTER. If Al-Mushrikun take the property of a Muslim as war booty and later on the Muslim gets it back (on overcoming them), (does the owner have the right to get it back or should it be included in the war booty gained by the Muslims)?
کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر ) مسلمانوں کے غلبہ کے بعد ( وہ مال اس مسلمان کو مل گیا
3 Hadith
179
(188) CHAPTER. Speaking Persian and speaking (Arabic) with an unfamiliar accent.
فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا
3 Hadith
180
(189) CHAPTER. Al-Ghulul (stealing from the war booty before its distribution).
مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ چرا لینا
1 Hadith
181
(190) CHAPTER. A little Ghulul (i.e., a minor theft).
مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کرلینا
1 Hadith
182
(191) CHAPTER. What is hated regarding the slaughtering of the camels and sheep of the booty (before its distribution).
مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
183
(192) CHAPTER. The conveyance of the good tidings of victories.
فتح کی خوشخبری دینا
1 Hadith
184
(194) CHAPTER. There is no emigration (from Makkah) after the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی
4 Hadith
185
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
1 Hadith
186
(196) CHAPTER. The reception of Al-Ghuza (i.e., Muslim fighters returning after participating in Jihad).
غازیوں کے استقبال کو جانا ( جب وہ جہاد سے لوٹ کر اء یں )
2 Hadith
187
(197) CHAPTER. What to say on returning from Jihad.
جہاد سے واپس ہوتے ہوء ے کیا کہے
3 Hadith
188
(198) CHAPTER. The performance of Salat (prayer) on returning from a Journey.
سفر سے واپسی پر نفل نماز ( بطور نماز شکرادا کرنا )
2 Hadith
189
(199) CHAPTER. Taking meals on arrival (from a journey).
مسافر جب سفر سے لوٹ کر آے تو لوگوں کو کھانا کھلاء ے ( دعوت کرے )
2 Hadith
No chapter matched that.