TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of jihad (fighting for allah’s cause). - کتاب جہاد کا بیان - Book 57 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 57 of Sahih Bukhari, with 189 chapters and 309 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

309 Hadith · 189 Chapters
(167) CHAPTER. Saying: “Take it! I am the son of so-and-so. .
حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَارَةَ أَوَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ الْبَرَاءُ وَأَنَا أَسْمَعُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوَلِّ يَوْمَئِذٍ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذًا بِعِنَانِ بَغْلَتِهِ ، فَلَمَّا غَشِيَهُ الْمُشْرِكُونَ نَزَلَ فَجَعَلَ ، يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ قَالَ : فَمَا رُئِيَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ أَشَدُّ مِنْهُ .
Narrated Abu 'Is-haq: A man asked Al-Bara O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain? Al-Bara replied while I was listening, As for Allah's Apostle he did not flee on that day. Abu Sufyan bin Al- Harith was holding the reins of his mule and when the pagans attacked him, he dismounted and started saying, 'I am the Prophet, and there is no lie about it; I am the son of `Abdul Muttalib.' On that day nobody was seen braver than the Prophet.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا ‘ اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کی جنگ میں واقعی فرار ہو گئے تھے؟ ابواسحاق نے کہا میں سن رہا تھا ‘ براء رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹے تھے۔ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ‘ جس وقت مشرکین نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو آپ سواری سے اترے اور ( تنہا میدان میں آ کر ) فرمانے لگے میں اللہ کا نبی ہوں ‘ اس میں بالکل جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ براء نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر اس دن کوئی بھی نہیں تھا۔
3042
Sahih
(168) CHAPTER. If the enemy is ready to accept the judgement of a Muslim (his judgement will be valid if the Imam agrees to it).
اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں ؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ هُوَ ابْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ هُوَ ابْنُ مُعَاذٍ ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَهُ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ، قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ ، قَالَ : لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: When the tribe of Bani Quraiza was ready to accept Sa`d's judgment, Allah's Apostle sent for Sa`d who was near to him. Sa`d came, riding a donkey and when he came near, Allah's Apostle said (to the Ansar), Stand up for your leader. Then Sa`d came and sat beside Allah's Apostle who said to him. These people are ready to accept your judgment. Sa`d said, I give the judgment that their warriors should be killed and their children and women should be taken as prisoners. The Prophet then remarked, O Sa`d! You have judged amongst them with (or similar to) the judgment of the King Allah.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے ابوامامہ نے ‘ جو سہل بن حنیف کے لڑکے تھے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( سعد رضی اللہ عنہ کو ) بلایا۔ آپ وہیں قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ( کیونکہ زخمی تھے ) سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ‘ جب وہ آپ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ( اور ان کو سواری سے اتارو ) آخر آپ اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں ( بنو قریظہ کے یہودی ) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ ( اس لیے آپ ان کا فیصلہ کر دیں ) انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں ‘ انہیں قتل کر دیا جائے ‘ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
3043
Sahih
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ .
Narrated Anas bin Malik (ra): Allah's Messenger (saws) entered (Makkah) in the year of the Conquest (of Makkah) wearing a helmet over his head. After he took it off, a man came and said, Ibn Khatal is clinging to the curtains of the Ka'bah. The Prophet (saws) said, Kill him.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے اتار رہے تھے تو ایک شخص ( ابوبرزہ اسلمی ) نے آ کر آپ کو خبر دی کہ ابن خطل ( اسلام کا بدترین دشمن ) کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے وہیں قتل کر دو۔
3044
Sahih
(170) CHAPTER. Can a man present himself to captivity, and whosoever refuses to surrender to captivity? And the performance of a two Rak‘a Salat (prayer) before being put to death.
اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ سَرِيَّةً عَيْنًا ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَأَةِ وَهُوَ بَيْنَ عُسْفَانَ ومَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو لَحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ قَرِيبًا مِنْ مِائَتَيْ رَجُلٍ كُلُّهُمْ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ تَمْرًا تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ ، فَقَالُوا : هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ وَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا لَهُمْ : انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ وَلَا نَقْتُلُ مِنْكُمْ أَحَدًا ، قَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ السَّرِيَّةِ : أَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ الْيَوْمَ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ بِالْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وابْنُ دَثِنَةَ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَأَوْثَقُوهُمْ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي فِي هَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَى فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَأَبَى فَقَتَلُوهُ ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وابْنِ دَثِنَةَ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا . فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ ، فَأَخَذَ ابْنًا لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ حِينَ أَتَاهُ ، قَالَتْ : فَوَجَدْتُهُ مُجْلِسَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ فِي وَجْهِي ، فَقَالَ : تَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ فِي يَدِهِ ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرٍ وَكَانَتْ تَقُولُ : إِنَّهُ لَرِزْقٌ مِنَ اللَّهِ رَزَقَهُ خُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ ، قَالَ لَهُمْ : خُبَيْبٌ ذَرُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَطَوَّلْتُهَا اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ لِكُلِّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا فَاسْتَجَابَ اللَّهُ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ وَمَا أُصِيبُوا وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ ، وَكَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبُعِثَ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلُ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَحَمَتْهُ مِنْ رَسُولِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعَ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle sent a Sariya of ten men as spies under the leadership of `Asim bin Thabit al-Ansari, the grandfather of `Asim bin `Umar Al-Khattab. They proceeded till they reached Hadaa, a place between 'Usfan, and Mecca, and their news reached a branch of the tribe of Hudhail called Bani Lihyan. About two-hundred men, who were all archers, hurried to follow their tracks till they found the place where they had eaten dates they had brought with them from Medina. They said, These are the dates of Yathrib (i.e. Medina), and continued following their tracks When `Asim and his companions saw their pursuers, they went up a high place and the infidels circled them. The infidels said to them, Come down and surrender, and we promise and guarantee you that we will not kill any one of you `Asim bin Thabit; the leader of the Sariya said, By Allah! I will not come down to be under the protection of infidels. O Allah! Convey our news to Your Prophet. Then the infidels threw arrows at them till they martyred `Asim along with six other men, and three men came down accepting their promise and convention, and they were Khubaib-al-Ansari and Ibn Dathina and another man So, when the infidels captured them, they undid the strings of their bows and tied them. Then the third (of the captives) said, This is the first betrayal. By Allah! I will not go with you. No doubt these, namely the martyred, have set a good example to us. So, they dragged him and tried to compel him to accompany them, but as he refused, they killed him. They took Khubaid and Ibn Dathina with them and sold them (as slaves) in Mecca (and all that took place) after the battle of Badr. Khubaib was bought by the sons of Al-Harith bin 'Amir bin Naufal bin `Abd Manaf. It was Khubaib who had killed Al-Harith bin 'Amir on the day (of the battle of) Badr. So, Khubaib remained a prisoner with those people. Narrated Az-Zuhri: 'Ubaidullah bin 'Iyyad said that the daughter of Al-Harith had told him, When those people gathered (to kill Khubaib) he borrowed a razor from me to shave his pubes and I gave it to him. Then he took a son of mine while I was unaware when he came upon him. I saw him placing my son on his thigh and the razor was in his hand. I got scared so much that Khubaib noticed the agitation on my face and said, 'Are you afraid that I will kill him? No, I will never do so.' By Allah, I never saw a prisoner better than Khubaib. By Allah, one day I saw him eating of a bunch of grapes in his hand while he was chained in irons, and there was no fruit at that time in Mecca. The daughter of Al-Harith used to say, It was a boon Allah bestowed upon Khubaib. When they took him out of the Sanctuary (of Mecca) to kill him outside its boundaries, Khubaib requested them to let him offer two rak`at (prayer). They allowed him and he offered Two rak`at and then said, Hadn't I been afraid that you would think that I was afraid (of being killed), I would have prolonged the prayer. O Allah, kill them all with no exception. (He then recited the poetic verse):-- I being martyred as a Muslim, Do not mind how I am killed in Allah's Cause, For my killing is for Allah's Sake, And if Allah wishes, He will bless the amputated parts of a torn body Then the son of Al Harith killed him. So, it was Khubaib who set the tradition for any Muslim sentenced to death in captivity, to offer a two-rak`at prayer (before being killed). Allah fulfilled the invocation of `Asim bin Thabit on that very day on which he was martyred. The Prophet informed his companions of their news and what had happened to them. Later on when some infidels from Quraish were informed that `Asim had been killed, they sent some people to fetch a part of his body (i.e. his head) by which he would be recognized. (That was because) `Asim had killed one of their chiefs on the day (of the battle) of Badr. So, a swarm of wasps, resembling a shady cloud, were sent to hover over `Asim and protect him from their messenger and thus they could not cut off anything from his flesh.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ اس سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عمرو بن سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی ‘ وہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دوست ‘ انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کی ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے بھیجی ‘ اس جماعت کا امیر عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا اور جماعت روانہ ہو گئی۔ جب یہ لوگ مقام ھداۃ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان میں ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کو کسی نے خبر دے دی اور اس قبیلہ کے دو سو تیر اندازوں کی جماعت ان کی تلاش میں نکلی ‘ یہ سب صحابہ کے نشانات قدم سے اندازہ لگاتے ہوئے چلتے چلتے آخر ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں ‘ جو وہ مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔ پیچھا کرنے والوں نے کہا کہ یہ ( گٹھلیاں ) تو یثرب ( مدینہ ) کی ( کھجوروں کی ) ہیں اور پھر قدم کے نشانوں سے اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ آخر عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب انہیں دیکھا تو ان سب نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی ‘ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آؤ ‘ تم سے ہمارا عہد و پیمان ہے۔ ہم کسی شخص کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ مہم کے امیر نے کہا کہ میں تو آج کسی صورت میں بھی ایک کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہماری حالت سے اپنے نبی کو مطلع کر دے۔ اس پر ان کافروں نے تیر برسانے شروع کر دئیے اور عاصم رضی اللہ عنہ اور سات دوسرے صحابہ کو شہید کر ڈالا باقی تین صحابی ان کے عہد و پیمان پر اتر آئے، یہ خبیب انصاری رضی اللہ عنہ ابن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرے صحابی ( عبداللہ بن طارق بلوی رضی اللہ عنہ ) تھے۔ جب یہ صحابی ان کے قابو میں آ گئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کے تانت اتار کر ان کو ان سے باندھ لیا ‘ عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا ‘ بلکہ میں تو انہیں کا اسوہ اختیار کروں گا ‘ ان کی مراد شہداء سے تھی۔ مگر مشرکین انہیں کھنچنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا جب وہ کسی طرح نہ گئے تو ان کو بھی شہید کر دیا۔ اب یہ خبیب اور ابن دثنہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر چلے اور ان کو مکہ میں لے جا کر بیچ دیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خرید لیا، خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ آپ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی بن کر رہے، ( زہری نے بیان کیا ) کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی اور انہیں حارث کی بیٹی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے خبر دی کہ جب ( ان کو قتل کرنے کے لیے ) لوگ آئے تو زینب سے انہوں نے موئے زیر ناف مونڈنے کے لیے استرا مانگا۔ انہوں نے استرا دے دیا، ( زینب نے بیان کیا ) پھر انہوں نے میرے ایک بچے کو اپنے پاس بلا لیا ‘ جب وہ ان کے پاس گیا تو میں غافل تھی ‘ زینب نے بیان کیا کہ پھر جب میں نے اپنے بچے کو ان کی ران پر بیٹھا ہوا دیکھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا ‘ تو میں اس بری طرح گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ بھی میرے چہرے سے سمجھ گئے انہوں نے کہا ‘ تمہیں اس کا خوف ہو گا کہ میں اسے قتل کر ڈالوں گا ‘ یقین کرو میں کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اللہ کی قسم! کوئی قیدی میں نے خبیب سے بہتر کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی روزی تھی جو اللہ نے خبیب رضی اللہ عنہ کو بھیجی تھی۔ پھر جب مشرکین انہیں حرم سے باہر لائے ‘ تاکہ حرم کے حدود سے نکل کر انہیں شہید کر دیں تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا ‘ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں ( قتل سے ) گھبرا رہا ہوں تو میں ان رکعتوں کو اور لمبا کرتا۔ اے اللہ! ان ظالموں سے ایک ایک کو ختم کر دے، ( پھر یہ اشعار پڑھے ) ”جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں ‘ تو مجھے کسی قسم کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ خواہ اللہ کے راستے میں مجھے کسی پہلو پر بھی پچھاڑا جائے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس جسم کے ٹکڑوں میں بھی برکت دے سکتا ہے جس کی بوٹی بوٹی کر دی گئی ہو۔ آخر حارث کے بیٹے ( عقبہ ) نے ان کو شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ سے ہی ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے ( قتل سے پہلے ) دو رکعتیں مشروع ہوئی ہیں۔ ادھر حادثہ کے شروع ہی میں عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ ( مہم کے امیر ) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی تھی کہ اے اللہ! ہماری حالت کی خبر اپنے نبی کو دیدے ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو وہ سب حالات بتا دیئے تھے جن سے یہ مہم دو چار ہوئی تھی۔ کفار قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم شہید کر دیئے گئے تو انہوں نے نے ان کی لاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کی جسم کا کوئی ایسا حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ہو سکتی ہو۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں کفار قریش کے ایک سردار ( عقبہ بن ابی معیط ) کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا ایک چھتہ عاصم کی نعش پر قائم کر دیا انہوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کی لاش کو بچا لیا اور وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔
3045
Sahih
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فُكُّوا الْعَانِيَ يَعْنِي الْأَسِيرَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ .
Narrated Abu Musa: The Prophet said, Free the captives, feed the hungry and pay a visit to the sick.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا۔ ان سے منصور نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «عاني» یعنی قیدی کو چھڑایا کرو ‘ بھوکے کو کھلایا کرو ‘ بیمار کی عیادت کرو۔“
3046
Sahih
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ : وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا أَعْلَمُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ ، وأن لا يقتل مسلم بكافر .
Narrated Abu Juhaifa: I asked `Ali, Do you have the knowledge of any Divine Inspiration besides what is in Allah's Book? `Ali replied, No, by Him Who splits the grain of corn and creates the soul. I don't think we have such knowledge, but we have the ability of understanding which Allah may endow a person with, so that he may understand the Qur'an, and we have what is written in this paper as well. I asked, What is written in this paper? He replied, (The regulations of) blood-money, the freeing of captives, and the judgment that no Muslim should be killed for killing an infidel.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ ان سے مطرف نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا ‘ آپ حضرات ( اہل بیت ) کے پاس کتاب اللہ کے سوا اور بھی کوئی وحی ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو ( زمین ) چیر کر ( نکالا ) اور جس نے روح کو پیدا کیا ‘ مجھے تو کوئی ایسی وحی معلوم نہیں ( جو قرآن میں نہ ہو ) البتہ سمجھ ایک دوسری چیز ہے ‘ جو اللہ کسی بندے کو قرآن میں عطا فرمائے ( قرآن سے طرح طرح کے مطالب نکالے ) یا جو اس ورق میں ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس ورق میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ دیت کے احکام اور قیدی کا چھڑانا اور مسلمان کا کافر کے بدلے میں نہ مارا جانا ( یہ مسائل اس ورق میں لکھے ہوئے ہیں اور بس ) ۔
3047
Sahih
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ائْذَنْ فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ ، فَقَالَ : لَا تَدَعُونَ مِنْهَا دِرْهَمًا .
Narrated Anas bin Malik: Some Ansari men asked permission from Allah's Apostle saying, O Allah's Apostle! Allow us not to take the ransom of our nephew Al `Abbas. The Prophet replied, Do not leave a single Dirham thereof.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں کہ ہم اپنے بھانجے عباس بن عبدالمطلب کا فدیہ معاف کر دیں ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے فدیہ میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔
3048
Sahih
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
وَقَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَجَاءَهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا ، فَقَالَ : خُذْ فَأَعْطَاهُ فِي ثَوْبِهِ .
(In another narration) Anas said: Some wealth was brought to the Prophet from Bahrain. Al `Abbas came to him and said, 'O Allah's Apostle! Give me (some of it), as I have paid my and `Aqil's ransom.' The Prophet said, 'Take,' and gave him in his garment.
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بحرین کا خراج آیا تو عباس رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مال سے مجھے بھی دیجئیے کیونکہ ( بدر کے موقع پر ) میں نے اپنا اور عقیل دونوں کا فدیہ ادا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر آپ لے لیں“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے کپڑے میں نقدی کو بندھوا دیا۔
3049
Sahih
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ جَاءَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ .
وہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھی۔
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں محمد بن جبیر نے ‘ انہیں ان کے باپ (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے وہ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے ) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھی۔
3050
Sahih
(173) CHAPTER. If an infidel warrior comes in an Islamic territory without having the assurance of protection (is it permissible to kill him?)
اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے ) تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلَهُ ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ .
Narrated Salama bin Al-Akwa`: An infidel spy came to the Prophet while he was on a journey. The spy sat with the companions of the Prophet and started talking and then went away. The Prophet said (to his companions), 'Chase and kill him.' So, I killed him. The Prophet then gave him the belongings of the killed spy (in addition to his share of the war booty).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے ان کے باپ (سلمہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ) وہ جاسوس صحابہ کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو۔ چنانچہ اسے ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) قتل کر دیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے۔
3051
Sahih
(174) CHAPTER. One should fight for the protection of the Dhimmi (i.e., free non-Muslim subjects living in a Muslim country) and they should not be enslaved.
ذمی کافروں کو بچانے کے لئے لڑنا ‘ ان کا غلام لونڈی نہ بنانا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوا إِلَّا طَاقَتَهُمْ .
Narrated `Amr bin Maimun: `Umar (after he was stabbed), instructed (his would-be-successor) saying, I urge him (i.e. the new Caliph) to take care of those non-Muslims who are under the protection of Allah and His Apostle in that he should observe the convention agreed upon with them, and fight on their behalf (to secure their safety) and he should not over-tax them beyond their capability.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عمرو بن میمون نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( وفات سے تھوڑی دیر پہلے ) فرمایا کہ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اس کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ذمیوں سے ) جو عہد ہے اس کو وہ پورا کرے اور یہ کہ ان کی حمایت میں ان کے دشمنوں سے جنگ کرے اور ان کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے۔
3052
Sahih
(176) CHAPTER. Can one intercede for the Dhimmi or deal with them?
ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى خَضَبَ دَمْعُهُ الْحَصْبَاءَ ، فَقَالَ : اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ ، فَقَالُوا : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ وَقَالَ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ : سَأَلْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، فَقَالَ : مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُ وَالْيَمَنُ ، وَقَالَ يَعْقُوبُ : وَالْعَرْجُ أَوَّلُ تِهَامَةَ .
Narrated Sa`id bin Jubair: Ibn `Abbas said, Thursday! What (great thing) took place on Thursday! Then he started weeping till his tears wetted the gravels of the ground . Then he said, On Thursday the illness of Allah's Apostle was aggravated and he said, Fetch me writing materials so that I may have something written to you after which you will never go astray. The people (present there) differed in this matter and people should not differ before a prophet. They said, Allah's Apostle is seriously sick.' The Prophet said, Let me alone, as the state in which I am now, is better than what you are calling me for. The Prophet on his death-bed, gave three orders saying, Expel the pagans from the Arabian Peninsula, respect and give gifts to the foreign delegates as you have seen me dealing with them. I forgot the third (order) (Ya'qub bin Muhammad said, I asked Al-Mughira bin `Abdur-Rahman about the Arabian Peninsula and he said, 'It comprises Mecca, Medina, Al-Yama-ma and Yemen. Ya'qub added, And Al-Arj, the beginning of Tihama. )
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان احول نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جمعرات کے دن ‘ اور معلوم ہے جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر آپ اتنا روئے کہ کنکریاں تک بھیگ گئیں۔ آخر آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں شدت اسی جمعرات کے دن ہوئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ قلم دوات لاؤ ‘ تاکہ میں تمہارے لیے ایک ایسی کتاب لکھوا جاؤں کہ تم ( میرے بعد اس پر چلتے رہو تو ) کبھی گمراہ نہ ہو سکو اس پر صحابہ میں اختلاف ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بیماری کی شدت سے ) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ‘ اب مجھے میری حالت پر چھوڑ دو ‘ میں جس حال میں اس وقت ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم کرانا چاہتے ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تین وصیتیں فرمائی تھیں۔ یہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے باہر کر دینا۔ دوسرے یہ کہ وفود سے ایسا ہی سلوک کرتے رہنا ‘ جیسے میں کرتا رہا ( ان کی خاطرداری ضیافت وغیرہ ) اور تیسری ہدایت میں بھول گیا۔ اور یعقوب بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے جزیرہ عرب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہا مکہ ‘ مدینہ ‘ یمامہ اور یمن ( کا نام جزیرہ عرب ) ہے۔ اور یعقوب نے کہا کہ عرج سے تہامہ شروع ہوتا ہے ( عرج مکہ اور مدینہ کے راستے میں ایک منزل کا نام ہے ) ۔
3053
Sahih
(177) CHAPTER. Sprucing oneself up before receiving a delegation.
وفود سے ملاقات کے لئے اپنے کو آراستہ کرنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ : إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ ، فَقَالَ : تَبِيعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا بَعْضَ حَاجَتِكَ .
Narrated Ibn `Umar: `Umar saw a silken cloak being sold in the market and he brought it to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! Buy this cloak and adorn yourself with it on the `Id festivals and on meeting the delegations. Allah's Apostle replied, This is the dress for the one who will have no share in the Hereafter (or, this is worn by one who will have no share in the Hereafter). After sometime had passed, Allah's Apostle sent a silken cloak to `Umar. `Umar took it and brought it to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! You have said that this is the dress of that who will have no share in the Hereafter (or, this is worn by one who will have no share in the Hereafter), yet you have sent me this! The Prophet said, I have sent it) so that you may sell it or fulfill with it some of your needs.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بازار میں ایک ریشمی جوڑا فروخت ہو رہا ہے۔ پھر اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ جوڑا آپ خرید لیں اور عید اور وفود کی ملاقات پر اس سے اپنی زیبائش فرمایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ان لوگوں کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں یا ( آپ نے یہ جملہ فرمایا ) اسے تو وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ پھر اللہ نے جتنے دنوں چاہا عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا تو عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ‘ یا ( عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی بات اس طرح دہرائی کہ ) اسے وہی لوگ پہن سکتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ اور پھر آپ نے یہی میرے پاس ارسال فرما دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میرے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ ) تم اسے بیچ لو ‘ یا ( فرمایا کہ ) اس سے اپنی کوئی ضرورت پوری کر سکو۔
3054
Sahih
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ ، فَلَمْ يَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ، فَقَالَ : ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَاذَا تَرَى ؟ ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ .
Narrated Ibn 'Umar: Umar and a group of the companions of the Prophet set out with the Prophet to Ibn Saiyad. He found him playing with some boys near the hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad at that time was nearing his puberty. He did not notice (the Prophet's presence) till the Prophet stroked him on the back with his hand and said, Ibn Saiyad! Do you testify that I am Allah's Apostle? Ibn Saiyad looked at him and said, I testify that you are the Apostle of the illiterates. Then Ibn Saiyad asked the Prophet. Do you testify that I am the apostle of Allah? The Prophet said to him, I believe in Allah and His Apostles. Then the Prophet said (to Ibn Saiyad). What do you see? Ibn Saiyad replied, True people and false ones visit me. The Prophet said, Your mind is confused as to this matter. The Prophet added, I have kept something (in my mind) for you. Ibn Saiyad said, It is Ad-Dukh. The Prophet said (to him), Shame be on you! You cannot cross your limits. On that 'Umar said, O Allah's Apostle! Allow me to chop his head off. The Prophet said, If he should be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot overpower him, and should he not be him, then you are not going to benefit by murdering him.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ‘ ابن صیاد ( یہودی لڑکا ) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ ( ایک انصاری قبیلے ) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے ان لوگوں نے پا لیا ‘ ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ) پتہ نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے قریب پہنچ کر ) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا ‘ اور فرمایا کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا ‘ پھر کہنے لگا۔ ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔ اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ نے اس کا جواب ( صرف اتنا ) دیا کہ میں اللہ اور اس کے ( سچے ) انبیاء پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ‘ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ حقیقت حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”اچھا میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے ( بتا وہ کیا ہے؟ ) “ ابن صیاد بولا کہ دھواں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذلیل ہو ‘ کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“
3055
Sahih
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
قَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ ، طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ ، فَقَالَتْ : لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ .
Narrated Ibn Umar: (Later on) Allah's Apostle (once again) went along with Ubai bin Ka'b to the garden of date-palms where Ibn Saiyad was staying. When the Prophet entered the garden, he started hiding himself behind the trunks of the date-palms as he wanted to hear something from the Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was lying in his bed, covered with a velvet sheet from where his murmurs were heard. Ibn Saiyad's mother saw the Prophet while he was hiding himself behind the trunks of the date-palms. She addressed Ibn Saiyad, O Saf! (And this was his name). Ibn Saiyad got up. The Prophet said, Had this woman let him to himself, he would have revealed the reality of his case.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ایک مرتبہ ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ اے صاف! یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔
3056
Sahih
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
وَقَالَ سَالِمٌ : قَالَ : ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ .
Then the Prophet got up amongst the people, glorifying Allah as He deserves, he mentioned Ad-Dajjal, saying, I warn you about him (i.e. Ad-Dajjal) and there is no prophet who did not warn his nation about him, and Noah warned his nation about him, but I tell you a statement which no prophet informed his nation of. You should understand that he is a one-eyed man and Allah is not one-eyed.
سالم نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا ‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کی ‘ جو اس کی شان کے لائق تھی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا ‘ اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں اس کے ( فتنوں سے ) ڈراتا ہوں ‘ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو ‘ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی ‘ اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔
3057
Sahih
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ، ثُمَّ قَالَ : نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ الْمُحَصَّبِ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ ، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
Narrated Usama bin Zaid: I asked the Prophet during his Hajj, O Allah's Apostle! Where will you stay tomorrow? He said, Has `Aqil left for us any house? He then added, Tomorrow we will stay at Khaif Bani Kinana, i.e. Al-Muhassab, where (the Pagans of) Quraish took an oath of Kufr (i.e. to be loyal to heathenism) in that Bani Kinana got allied with Quraish against Bani Hashim on the terms that they would not deal with the members of the is tribe or give them shelter. (Az-Zuhri said, Khaif means valley. ) (See Hadith No. 659, Vol. 2)
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے ‘ انہیں علی بن حسین نے ‘ انہیں عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر فرمایا کہ کل ہمارا قیام حنیف بن کنانہ کے مقام محصب میں ہو گا ‘ جہاں پر قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بنی کنانہ اور قریش نے ( یہیں پر ) بنی ہاشم کے خلاف اس بات کی قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے خرید و فروخت کی جائے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں۔ زہری نے کہا کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔
3058
Sahih
(180) CHAPTER. If some people in a hostile non-Muslim country embrace Islam and they have possessions and land, then what they have will remain for them.
اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال وجائداد منقولہ وغیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى ، فَقَالَ : يَا هُنَيُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ ، وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ ، وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيهِ ، فَيَقُولُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا لَا أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ فَقَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا .
Narrated Aslam: `Umar bin Al-Khattab appointed a freed slave of his, called Hunai, manager of the Hima (i.e. a pasture devoted for grazing the animals of the Zakat or other specified animals). He said to him, O Hunai! Don't oppress the Muslims and ward off their curse (invocations against you) for the invocation of the oppressed is responded to (by Allah); and allow the shepherd having a few camels and those having a few sheep (to graze their animals), and take care not to allow the livestock of `Abdur-Rahman bin `Auf and the livestock of (`Uthman) bin `Affan, for if their livestock should perish, then they have their farms and gardens, while those who own a few camels and those who own a few sheep, if their livestock should perish, would bring their dependents to me and appeal for help saying, 'O chief of the believers! O chief of the believers!' Would I then neglect them? (No, of course). So, I find it easier to let them have water and grass rather than to give them gold and silver (from the Muslims' treasury). By Allah, these people think that I have been unjust to them. This is their land, and during the prelslamic period, they fought for it and they embraced Islam (willingly) while it was in their possession. By Him in Whose Hand my life is! Were it not for the animals (in my custody) which I give to be ridden for striving in Allah's Cause, I would not have turned even a span of their land into a Hima.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو ( سرکاری ) چراگاہ کا حاکم بنایا ‘ تو انہیں یہ ہدایت کی ‘ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا ( ان پر ظلم نہ کرنا ) اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا ‘ کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے ( امیر صحابہ ) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہئے۔ ( یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا ) کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا مالک ( غریب ) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے ‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا ‘ اور فریاد کرے گا: یا امیرالمؤمنین! یا امیرالمؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا ( یعنی ان کو پالنا ) تمہارا باپ نہ ہو؟ اس لیے ( پہلے ہی سے ) ان کیلئے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کیلئے سونے چاندی کا انتظام کروں اور اللہ کی قسم! وہ ( اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ یہ زمینیں انہیں کی ہیں۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال ( گھوڑے وغیرہ ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی میں چراگاہ نہ بناتا۔
3059
Sahih
(181) CHAPTER. To write down the names of (i.e., listing) the people by the Imam.
خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَ مِائَةٍ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : مَا بَيْنَ سِتِّ مِائَةٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ .
Narrated Hudhaifa: The Prophet said (to us), List the names of those people who have announced that they are Muslims. So, we listed one thousand and five hundred men. Then we wondered, Should we be afraid (of infidels) although we are one thousand and five hundred in number? No doubt, we witnessed ourselves being afflicted with such bad trials that one would have to offer the prayer alone in fear. Narrated Al-A`mash: We (listed the Muslims and) found them five hundred. And Abu Muawiya said, Between sixhundred to seven-hundred.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے ( مذکورہ بالا سند کے ساتھ ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی ( ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا ) اور ابومعاویہ نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔
3060
Sahih
(181) CHAPTER. To write down the names of (i.e., listing) the people by the Imam.
خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ ، قَالَ : ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ .
Narrated Ibn `Abbas: A man came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! I have enlisted in the army for such-andsuch Ghazwa, and my wife is leaving for Hajj. Allah's Apostle said, Go back and perform Hajj with your wife.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا نام فلاں جہاد میں جانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ادھر میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر آ۔
3061
Sahih

Chapters

189
01
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
4 Hadith
02
(2) CHAPTER. The best among the people is that believer who strives his utmost in Allah's Cause with both his life and property.
سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The invocation of men and women that Allah may let them participate in Jihad and adorn them with martyrdom.
جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. The grades of the Mujadhidun (Muslim fighters) in Allah's Cause.
مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. AI-Hur-ul-Ein (houris fair females) and their qualities.
بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان ‘ ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہوگی
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The wish for martyrdom.
شہادت کی آرزو کرنا
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. The superiority of him who goes in Allah's Cause and dies on the way, for he will be regarded as one of the martyrs.
اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا ، اس کی فضیلت
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. (The reward of) him who is injured or stabbed in Allah's Cause.
جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے ( یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو )
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. (The superiority of) him who is wounded in Allah's Cause.
جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوا ؟ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: Do you wait for us (anything) except one of the two best things (martyrdom or victory)? ...” (V.9:52)
فرمان الہیٰ کہ اے پیغمبر ! ان کافروں سے کہہ دو
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah (i.e., that they have gone out for Jihad (holy fighting) and showed not their backs to the disbelievers), of them some have fulfilled their obligations (i.e., have been martyred), and some of them are still waiting, but they have never changed in the least. (V.33:23)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Practising good deeds before taking part in a (holy) battle.
جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whoever is struck and killed by an arrow thrown by an unidentified person.
کسی کو اچا نک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے ماردیا ‘ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Whoever fights so that Allah's Word (i.e., Allah's religion of Islamic Monotheism) be superior.
جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ اس کی فضیلت
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. (The superiority of him) Whose feet get covered with dust in Allah's Cause.
جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبارآلود ہوئے اس کا ثواب
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. To remove the dust which falls on one's head (whilst striving) in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. To take a bath after fighting and (after being soild with) dust.
جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The superiority of (those people for whom) the following Statement of Allah (was revealed): “Think not of those who are killed in the Way of Allah as dead. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision. They rejoice in what Allah has betowed upon them of His Bounty, and rejoice for the sake of those who have not yet joined them, but are left behind (not yet martyred) that on them no fear shall come, nor shall they grieve. They rejoice in aGrace and a Bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers. (V.3:169-171)
ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا
2 Hadith
20
(20) CHAPTER. The shade of angels on the martyr.
شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The wish of the (martyred) Mujahid to return to the world.
شہید کا دوباوہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. Paradise is under the blades of swords (Jihad in Allah's Cause).
جنت کا تلواروں کی چمک کے نیچے ہونا
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Bravery and cowardice in the battle.
جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کابیان
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Seeking refuge with Allah from cowardice.
بزدلی سے خدا کی پناہ مانگنا
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. Whoever described what he has witnessed in the war.
جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے ‘ اس کا بیان
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. The obligation of going out for Jilhad when there is a general call to arms, and what sort of Jihad and intentions are compulsory.
جہا د کے لئے نکل کھڑا ہونا واجب ہے اور جہادکی نیت رکھنے کا واجب ہونا
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
29
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
جہاد کو ( نفلی روزوں پر ) مقدم رکھنا
2 Hadith
30
(30) CHAPTER. There are seven martyrs other than those who are killed in Jihad (i.e., eight).
اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سواشہادت کی اور بھی سات قسمیں ہیں
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled (by injury or are blind or lame) ..(up to).. Ever Oft-Forgiving, Most Merciful. (V.4:95,96).
باب
3 Hadith
32
(32) CHAPTER. Patience during fighting.
کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. Rousing and exhorting people to fight.
مسلمانوں کو ( محارب ) کافروں سے لڑنے کی رغبت دلانا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. The digging of the Khandaq (trench).
خندق کھودنے کا بیان
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. (The rewad of) whoever is held back from Jihad by a legal cause.
جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکا
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The superiority of observing Saum (fast) in Allah's Cause (to seek His good pleasure).
جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. The superiority of spending in Allah's Cause (i.e., for Jihad).
اللہ کی راہ ( جہاد میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. To apply Hanut (i.e., a kind os scent) during the battle.
جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The superiority of the reconnoiterer.
دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Can the reconnoitrer be sent alone?
کیا جاسوسی کے لئے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. The travelling of two persons together.
دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
3 Hadith
44
(44) CHAPTER. Jihad is to be carried on whether the Muslim ruler who calls for it is good or bad.
مسلمانوں کا امیر عادل ہو یا ظالم اس کی قیادت میں جہاد ہمیشہ ہوتا رہے گا
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. (The superiority of) the one keeps a horse (for the purpose of Jihad in Allah's Cause), as is indicated by the Statement of Allah: [And make ready against them all you can of power,] including steeds of war (tanks, planes, missiles, artillery etc,)... (V.8:60)
جو شخص جہاد کی نیت سے ( گھوڑا پالے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( و من رباط الخیل ) ) کی تعمیل میں
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. To name a horse and a donkey.
گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا
4 Hadith
47
(47) CHAPTER. What has been said about the evil omen of a horse.
اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں
2 Hadith
48
(48) CHAPTER. Horses (are kept) for three (purposes).
گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. Whoever beats somebody else's animal during the battle (intending to help its rider).
جہاد میں دوسرے کے جانورکو مارنا
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. Riding on an unmanageable animal or a stallion horse.
سخت سرکش جانور اورنر گھوڑے کی سواری کرنا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. Leading somebody else's animal during the battle.
اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. The saddle and the stirrup of an animal.
جانور پر رکاب یا غرز لگانا
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. The riding of an unsaddled horse.
گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا
1 Hadith
55
(55) CHAPTER. A slow horse.
سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا
1 Hadith
56
(56) CHAPTER. Horse races.
گھوڑ دوڑ کا بیان
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Idmar (the preparation) of horses for racing.
گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. The extreme limit of the distance of the race of horses that have been made lean.
تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو
1 Hadith
59
(59) CHAPTER. The she-camel of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان
2 Hadith
60
(61) CHAPTER. The white mule of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان
2 Hadith
61
(62) CHAPTER. The Jihad of women.
عورتوں کا جہاد کیا ہے
2 Hadith
62
(63) CHAPTER. The participation of a woman in a sea battle.
دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا
2 Hadith
63
(64) CHAPTER. The man's selection of one wive to accompany in holy battles.
آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے ( یہ درست ہے )
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. The Jihad of women and their fighting along with men.
عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا
1 Hadith
65
(66) CHAPTER. The carrying of water-skins by the women to the people (and giving them water to drink) during holy battles.
جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا
1 Hadith
66
(67) CHAPTER. The treatment of the wounded by the women during holy battles.
جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں
1 Hadith
67
(68) CHAPTER. The bringing back of the wounded and the killed by the women.
زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں
1 Hadith
68
(69) CHAPTER. Removing the arrow from the body.
۔ ( مجاہدین کے ) جسم سے تیر کا کھینچ کر نکالنا
1 Hadith
69
(70) CHAPTER. Vigilance during holy battles in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے ؟
3 Hadith
70
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا
3 Hadith
72
(73) CHAPTER. The superiority of guarding (Muslims from infidels) for a day in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے
1 Hadith
73
(74) CHAPTER. Whoever sets off for a holy battle accompanied by a boy-servant.
اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے
1 Hadith
74
(75) CHAPTER. To go on a sea- voyage.
جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا
2 Hadith
75
(76) CHAPTER. Whoever sought the help of poor and pious men in war.
لڑائی میں کمزور ناتواں ( جیسے عورتیں ، بچے ، اندھے ، معذور اور مساکین ) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا
2 Hadith
76
(77) CHAPTER. Do not say that so-and-so is a martyr.
قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے
1 Hadith
77
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
2 Hadith
78
(79) CHAPTER. To play with spears and other similar arms.
برچھے سے ( مشق کرنے کے لیے ) کھیلنا
1 Hadith
79
(80) CHAPTER. The shield, and shielding oneself with the shield of his companion.
ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان
4 Hadith
80
(81) CHAPTER. The (leather) shield.
ڈھال کے بیان میں
2 Hadith
81
(82) CHAPTER. The straps for suspending swords and the hanging of the sword by the neck.
تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا
1 Hadith
82
(83) CHAPTER. (What has been said regarding) the decoration of swords (with gold and silver etc.).
تلوار کی آرائش کرنا
1 Hadith
83
(84) CHAPTER. Whoever hung his sword on a tree at midday nap.
جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی
1 Hadith
84
(85) CHAPTER. The wearing of a helmet.
خود پہننا ( لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاو کیا جاتا تھا )
1 Hadith
85
(86) CHAPTER. Whoever dose not consider it logical to break the weapons and to slaughter the animals of the deceased.
کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں
1 Hadith
86
(87) CHAPTER. The dispersing of the people away from the lmam at midday to rest in the shade of trees.
دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر ( متفرق درختوں کے سائے تلے ) پھیل سکتے ہیں
1 Hadith
87
(88) CHAPTER. What is said regarding spears.
بھالوں ( نیزوں ) کا بیان
1 Hadith
88
(89) CHAPTER. What is said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h) and the coat of mail during the battle.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا
3 Hadith
89
(90) CHAPTER. The (wearing of a) cloak on journeys and in war.
سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان
1 Hadith
90
(91) CHAPTER. The wearing of silk in war.
لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا
4 Hadith
91
(92) CHAPTER. What is said about the knife.
چھری کا استعمال کرنا درست ہے
1 Hadith
92
(93) CHAPTER. What is said about the fighting against Ar-Rum (the Byzantines).
نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
93
(94) CHAPTER. Fighting against the Jews.
یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان
2 Hadith
94
(95) CHAPTER. Fighting against the Turks.
ترکوں سے جنگ کا میدان
2 Hadith
95
(96) CHAPTER. Fighting against people wearing shoes made of hair.
ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے
1 Hadith
96
(97) CHAPTER. Whoever arranged his companions at the time of defeat, and got down from his riding animal and requested Allah for help.
ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
1 Hadith
97
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا
1 Hadith
98
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے ؟
5 Hadith
99
(100) CHAPTER. To invoke Allah to bestow guidance upon Al- Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans) in order to attract them.
مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا
1 Hadith
100
(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.
یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے
2 Hadith
101
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
7 Hadith
102
(103) CHAPTER. Concealing the true destination of a Ghazwa by using an equivocation which indicates apparently that one is going to a different destination; and the preference of Thursday for journeys (by the Prophet (p.b.u.h)).
لڑائی کا مقام چھپانا ( دوسرا مقام بیان کرنا ) اور جمعرات کے دن سفر کرنا
4 Hadith
103
(104) CHAPTER. Setting out after midday.
ظہر کی نماز کے بعد سفر کرنا
1 Hadith
104
(105) CHAPTER. Setting out in the last part of the month.
مہینہ کے آخری دنوں میں سفر کرنا
1 Hadith
105
(106) CHAPTER. Travelling in Ramadan.
رمضان کے مہینے میں سفر کرنا
1 Hadith
106
(107) CHAPTER. Bidding farewell.
سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا
1 Hadith
107
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
1 Hadith
108
(109) CHAPTER. The Imam (i.e., Muslim ruler) should be defended (by the Muslims and he is to be taken as their protector).
امام ( بادشاہ اسلام ) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا ( دشمن کے حملوں سے ) بچاو کرنا
2 Hadith
109
(110) CHAPTER. To give a Bai'a for not to flee during a battle.
لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا
6 Hadith
110
(111) CHAPTER. The Imam should order the people to do only those things that are within their ability.
بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں
1 Hadith
111
(112) CHAPTER. If the Prophet (p.b.u.h) had not started fighting during the early hours of the day, he would delay it till the sun had declined (i.e., after midday).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے
2 Hadith
112
(113) CHAPTER. Asking the permission of Imam (if one wishes not to participate in a holy battle).
اگر کوئی جہاد میں سے لوٹنا چاہے یا جہاد میں نہ جانا چاہے تو امام سے اجازت لے
1 Hadith
113
(116) CHAPTER. The setting out of the Imam, before the people at the time of fright.
خوف اور دہشت کے وقت ( حالات معلوم کرنے کے لیے ) امام کا آگے بڑھنا
1 Hadith
114
(117) CHAPTER. To be quick and to make the horse gallop at the time of fright.
خوف کے موقع پر جلدی سے گھو ڑے کو ایڑ لگانا
1 Hadith
115
(119) CHAPTER. The wages given to fight on somebody else's behalf, and the riding animals presenyed to be used in Allah's Cause.
کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا
3 Hadith
116
(120) CHAPTER. The labourer (whose services are hired for the purpose of Jihad).
جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو
1 Hadith
117
(121) CHAPTER. What has been said regarding the flag of the Prophet (p.b.u.h) .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان
3 Hadith
118
(122) CHAPTER. The Statement of the prophet (p.b.u.h) : I have been made victorious for a distance of one month journey with terror (cast in the hearts of the enemy).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب ( کافروں کے دلوں میں ) ڈال کر میری مدد کی ہے
2 Hadith
119
(123) CHAPTER. Providing oneself with food when going on a military expendition.
سفر جہاد میں توشہ ( خرچ وغیرہ ) ساتھ رکھنا
4 Hadith
120
(124) CHAPTER. To carry the journey-food on one's shoulder.
توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانا
1 Hadith
121
(125) CHAPTER. The sitting of a woman behind her brother as a compainon-rider.
عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا
2 Hadith
122
(126) CHAPTER. The sitting of two men together over a riding animal in military expeditions and in the Hajj.
جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا
1 Hadith
123
(127) CHAPTER. The sitting of two men together on a donkey.
ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا
2 Hadith
124
(128) CHAPTER. Holding the riding animal of somebody else (to help him ride).
جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھادے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے ، اس کا ثواب
1 Hadith
125
(129) CHAPTER. It is disliked for one to travel to a hostile country carrying copies of the Qur'an.
مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے
1 Hadith
126
(130) CHAPTER. The recitation of Takbir (Allahu Akbar) in the war.
جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا
1 Hadith
127
(131) CHAPTER. What is disliked as regards raising the voice when saying Takbir (i.e., Allah is the Most Great)
بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے
1 Hadith
128
(132) CHAPTER. The recitation of Subhan Allah when going down a valley.
کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا
1 Hadith
129
(133) CHAPTER. To say Takbir (Allahu Akbar Allah is the Most Great) on ascending a high place.
جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا
2 Hadith
130
(134) CHAPTER. A traveller is granted reward similar to that given for good deeds practised at home, as if he is practising the same while travelling.
مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا ( گو وہ سفر میں نہ کر سکے )
1 Hadith
131
(135) CHAPTER. Travelling alone.
اکیلے سفر کرنا
2 Hadith
132
(136) CHAPTER. Hastening in travel.
سفر میں تیز چلنا
3 Hadith
133
(137) CHAPTER. If someone gives his horse to be used for Allah's Cause and then he sees it being sold.
اگر اللہ کی راہ میں سواری کے لیے گھوڑا دے پھر اس کو بکتا پائے ؟
2 Hadith
134
(138) CHAPTER. The participation in Jihad with one's parent's permission.
ماں باپ کی اجازت لے کرجہاد میں جانا
1 Hadith
135
(139) CHAPTER. What is said regarding the hanging of bells and the like, round the necks of camels.
اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
136
(140) CHAPTER. If a man has enlisted himself in the army and then his wife goes out for Hajj, or he has a genuine excuse, can he be given a leave?
ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے
1 Hadith
137
(141) CHAPTER. The spy.
جاسوسی کا بیان
1 Hadith
138
(142) CHAPTER. Providing the prisoners of war with clothes.
قیدیوں کو کپڑے پہنانا
1 Hadith
139
(143) CHAPTER. The superiority of the one through whom a man embraces Islam.
اس شخص کی فضیلت جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے
1 Hadith
140
(144) CHAPTER. The prisoners of war in chains.
قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا
1 Hadith
141
(145) CHAPTER. The superiority of the people of the Scriptures (Jews and Christians) who embrace Islam.
یہود یا نصاری مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان
1 Hadith
142
(146) CHAPTER. (Is it permissible) to attack the enemies wilth the probability of killing the babies and children (unintentionally)?
اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں ، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے ۔
2 Hadith
143
(147) CHAPTER. Killing the children in the war.
جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
144
(148) CHAPTER. Killing the women in the war.
جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
145
(149) CHAPTER. One should not to punish (anybody) with Allah's punishment.
اللہ کے عذاب ( آگ ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا
2 Hadith
146
(152) CHAPTER. If a Mushrik (polytheist, idolater, pagan) burns a Muslim, should he be burnt (in retaliation)?
اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کو آگ سے جلا دے تو کیا اسے بھی بدلہ میں جلایا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
147
(154) CHAPTER. The burning of houses and date-palms.
( حربی کافروں کے ) گھر وں اورباغوں کو جلانا
2 Hadith
148
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
2 Hadith
149
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
3 Hadith
150
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
4 Hadith
151
(158) CHAPTER. Telling lies in war.
جنگ میں جھوٹ بولنا ( مصلحت کیلئے ) درست ہے
1 Hadith
152
(159) CHAPTER. Killing non-Muslim warriors secretly.
جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا
1 Hadith
153
(160) CHAPTER. What tricks and means of security may be adopted to protect oneself against someone who is excepted to be vicious and mischievous.
اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکروفریب کر سکتے ہیں
1 Hadith
154
(161) CHAPTER. The recitation of poetic verses in the war and raising the voices while digging the trench.
جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا
1 Hadith
155
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
2 Hadith
156
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
1 Hadith
157
(164) CHAPTER. What quarrels and mutual differences are hated in the war, and the punishment of the one who disobeys his Imam.
جنگ میں جھگڑ اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے‘اس کی سزا کا بیان
2 Hadith
158
(165) CHAPTER. If the people get frightened at night.
اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو ( تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے )
1 Hadith
159
(166) CHAPTER. Shouting, “Ya Sabahah!” as loudly as possible on seeing the enemy to let the people hear it.
دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں ۔
1 Hadith
160
(167) CHAPTER. Saying: “Take it! I am the son of so-and-so. .
حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں ۔
1 Hadith
161
(168) CHAPTER. If the enemy is ready to accept the judgement of a Muslim (his judgement will be valid if the Imam agrees to it).
اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں ؟
1 Hadith
162
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
1 Hadith
163
(170) CHAPTER. Can a man present himself to captivity, and whosoever refuses to surrender to captivity? And the performance of a two Rak‘a Salat (prayer) before being put to death.
اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم
1 Hadith
164
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
2 Hadith
165
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
3 Hadith
166
(173) CHAPTER. If an infidel warrior comes in an Islamic territory without having the assurance of protection (is it permissible to kill him?)
اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے ) تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
1 Hadith
167
(174) CHAPTER. One should fight for the protection of the Dhimmi (i.e., free non-Muslim subjects living in a Muslim country) and they should not be enslaved.
ذمی کافروں کو بچانے کے لئے لڑنا ‘ ان کا غلام لونڈی نہ بنانا
1 Hadith
168
(176) CHAPTER. Can one intercede for the Dhimmi or deal with them?
ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے
1 Hadith
169
(177) CHAPTER. Sprucing oneself up before receiving a delegation.
وفود سے ملاقات کے لئے اپنے کو آراستہ کرنا
1 Hadith
170
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
4 Hadith
171
(180) CHAPTER. If some people in a hostile non-Muslim country embrace Islam and they have possessions and land, then what they have will remain for them.
اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال وجائداد منقولہ وغیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی
1 Hadith
172
(181) CHAPTER. To write down the names of (i.e., listing) the people by the Imam.
خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا
2 Hadith
173
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
1 Hadith
174
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
1 Hadith
175
(184) CHAPTER. Supporting with reinforcements.
مدد کے لئے فوج روانہ کرنا
1 Hadith
176
(185) CHAPTER. Staying in the (enemy) town for three (days and nights) on having victory over the enemy.
جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا
1 Hadith
177
(186) CHAPTER. The distribution of the war booty after a Ghazwa and during a journey.
سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا
1 Hadith
178
(187) CHAPTER. If Al-Mushrikun take the property of a Muslim as war booty and later on the Muslim gets it back (on overcoming them), (does the owner have the right to get it back or should it be included in the war booty gained by the Muslims)?
کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر ) مسلمانوں کے غلبہ کے بعد ( وہ مال اس مسلمان کو مل گیا
3 Hadith
179
(188) CHAPTER. Speaking Persian and speaking (Arabic) with an unfamiliar accent.
فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا
3 Hadith
180
(189) CHAPTER. Al-Ghulul (stealing from the war booty before its distribution).
مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ چرا لینا
1 Hadith
181
(190) CHAPTER. A little Ghulul (i.e., a minor theft).
مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کرلینا
1 Hadith
182
(191) CHAPTER. What is hated regarding the slaughtering of the camels and sheep of the booty (before its distribution).
مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
183
(192) CHAPTER. The conveyance of the good tidings of victories.
فتح کی خوشخبری دینا
1 Hadith
184
(194) CHAPTER. There is no emigration (from Makkah) after the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی
4 Hadith
185
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
1 Hadith
186
(196) CHAPTER. The reception of Al-Ghuza (i.e., Muslim fighters returning after participating in Jihad).
غازیوں کے استقبال کو جانا ( جب وہ جہاد سے لوٹ کر اء یں )
2 Hadith
187
(197) CHAPTER. What to say on returning from Jihad.
جہاد سے واپس ہوتے ہوء ے کیا کہے
3 Hadith
188
(198) CHAPTER. The performance of Salat (prayer) on returning from a Journey.
سفر سے واپسی پر نفل نماز ( بطور نماز شکرادا کرنا )
2 Hadith
189
(199) CHAPTER. Taking meals on arrival (from a journey).
مسافر جب سفر سے لوٹ کر آے تو لوگوں کو کھانا کھلاء ے ( دعوت کرے )
2 Hadith
No chapter matched that.