TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of (the wedlock). - کتاب نکاح کے مسائل کا بیان - Book 68 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 68 of Sahih Bukhari, with 118 chapters and 188 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

188 Hadith · 118 Chapters
(79) CHAPTER. An-Naqi (juice obtained from dried dates soaked in water) and other drinks that are non intoxicant, served at a wedding party.
کھجور کا شربت یا اور کوئی شربت جس میں نشہ نہ ہو شادی میں پلانا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خَادِمَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الْعَرُوسُ ، فَقَالَتْ : أَوْ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا أَنْقَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ .
Narrated Sahl bin Sa`d: Abu Usaid As-Sa`idi invited the Prophet to his wedding party and his wife served him on that day, and she was the bride. She said (or Sahl said), Do you know what she soaked for Allah's Apostle? She soaked some dates for him (in water) in a drinking bowl overnight.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے بیان کیا، ان سے ابوالحازم نے، کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابواسید ساعدی نے اپنی شادی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ اس دن ان کی بیوی ہی سب کی خدمت کر رہی تھیں، حالانکہ وہ دلہن تھیں بیوی نے کہا یا سہل نے ( راوی کو شک تھا ) کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا تیار کیا تھا؟ میں نے آپ کے لیے ایک بڑے پیالے میں رات کے وقت سے کھجور کا شربت تیار کیا تھا۔
5183
Sahih
(80) CHAPTER. To be polite and kind to the women.
عورتوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The woman is like a rib; if you try to straighten her, she will break. So if you want to get benefit from her, do so while she still has some crookedness.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت مثل پسلی کے ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہو گے تو اس کی ٹیڑھ کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔
5184
Sahih
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever believes in Allah and the Last Day should not hurt (trouble) his neighbor. And I advise you to take care of the women, for they are created from a rib and the most crooked portion of the rib is its upper part; if you try to straighten it, it will break, and if you leave it, it will remain crooked, so I urge you to take care of the women.
ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے زائدہ نے، ان سے میسرہ نے ان سے ابوالحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور میں تمہیں۔ ( بقیہ اگلی حدیث دیکھیں ) ۔
5185
Sahih
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا .
عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
5186
Sahih
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْبَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا .
Narrated Ibn `Umar: During the lifetime of the Prophet we used to avoid chatting leisurely and freely with our wives lest some Divine inspiration might be revealed concerning us. But when the Prophet had died, we started chatting leisurely and freely (with them).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بےتکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بےاعتدالی ہو جائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بےتکلفی کرنے لگے۔
5187
Sahih
(82) CHAPTER. “(O you who believe)! Ward off from yourself and your families a Fire (Hell) whose fuel is men and stones...” (V.66:6)
اللہ کا سورۃ التحریم میں یہ فرمانا کہ لوگو ! خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ سے بچاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Prophet said, Everyone of you is a guardian and everyone of you is responsible (for his wards). A ruler is a guardian and is responsible(for his subjects); a man is a guardian of his family and responsible (for them); a wife is a guardian of her husband's house and she is responsible (for it), a slave is a guardian of his master's property and is responsible (for that). Beware! All of you are guardians and are responsible (for your wards).
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے ( اس کی رعیت کے بارے میں ) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔
5188
Sahih
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا ، قَالَتِ الْأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٍ فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا قُرٌّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ، قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ، قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، وَقَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ ، قَالَتْ : فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ : عَنْ هِشَامٍ ، وَلَا تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ وَهَذَا أَصَحُّ .
Narrated `Aisha: Eleven women sat (at a place) and promised and contracted that they would not conceal anything of the news of their husbands. The first one said, My husband is like the meat of a slim weak camel which is kept on the top of a mountain which is neither easy to climb, nor is the meat fat, so that one might put up with the trouble of fetching it. The second one said, I shall not relate my husband's news, for I fear that I may not be able to finish his story, for if I describe him, I will mention all his defects and bad traits. The third one said, My husband, the too-tall ! if I describe him (and he hears of that) he will divorce me, and if I keep quiet, he will keep me hanging (neither divorcing me nor treating me as a wife). The fourth one said, My husband is (moderate in temper) like the night of Tihama: neither hot nor cold; I am neither afraid of him, nor am I discontented with him. The fifth one said, My husband, when entering (the house) is a leopard (sleeps a lot), and when going out, is a lion (boasts a lot). He does not ask about whatever is in the house. The sixth one said, If my husband eats, he eats too much (leaving the dishes empty), and if he drinks he leaves nothing; if he sleeps he sleeps he rolls himself (alone in our blankets); and he does not insert his palm to inquire about my feelings. The seventh one said, My husband is a wrong-doer or weak and foolish. All the defects are present in him. He may injure your head or your body or may do both. The eighth one said, My husband is soft to touch like a rabbit and smells like a Zarnab (a kind of good smelling grass). The ninth one said, My husband is a tall generous man wearing a long strap for carrying his sword. His ashes are abundant (i.e. generous to his guests) and his house is near to the people (who would easily consult him). The tenth one said, My husband is Malik (possessor), and what is Malik? Malik is greater than whatever I say about him. (He is beyond and above all praises which can come to my mind). Most of his camels are kept at home (ready to be slaughtered for the guests) and only a few are taken to the pastures. When the camels hear the sound of the lute (or the tambourine) they realize that they are going to be slaughtered for the guests. The eleventh one said, My husband is Abu Zar` and what is Abu Zar` (i.e., what should I say about him)? He has given me many ornaments and my ears are heavily loaded with them and my arms have become fat (i.e., I have become fat). And he has pleased me, and I have become so happy that I feel proud of myself. He found me with my family who were mere owners of sheep and living in poverty, and brought me to a respected family having horses and camels and threshing and purifying grain. Whatever I say, he does not rebuke or insult me. When I sleep, I sleep till late in the morning, and when I drink water (or milk), I drink my fill. The mother of Abu Zar and what may one say in praise of the mother of Abu Zar? Her saddle bags were always full of provision and her house was spacious. As for the son of Abu Zar, what may one say of the son of Abu Zar? His bed is as narrow as an unsheathed sword and an arm of a kid (of four months) satisfies his hunger. As for the daughter of Abu Zar, she is obedient to her father and to her mother. She has a fat well-built body and that arouses the jealousy of her husband's other wife. As for the (maid) slave girl of Abu Zar, what may one say of the (maid) slavegirl of Abu Zar? She does not uncover our secrets but keeps them, and does not waste our provisions and does not leave the rubbish scattered everywhere in our house. The eleventh lady added, One day it so happened that Abu Zar went out at the time when the milk was being milked from the animals, and he saw a woman who had two sons like two leopards playing with her two breasts. (On seeing her) he divorced me and married her. Thereafter I married a noble man who used to ride a fast tireless horse and keep a spear in his hand. He gave me many things, and also a pair of every kind of livestock and said, Eat (of this), O Um Zar, and give provision to your relatives. She added, Yet, all those things which my second husband gave me could not fill the smallest utensil of Abu Zar's. `Aisha then said: Allah's Apostle said to me, I am to you as Abu Zar was to his wife Um Zar.
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت ( نام نامعلوم ) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت ( عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی ) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں ( اس میں اتنے عیب ہیں ) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت ( حیی بنت کعب یمانی ) کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ ( لمبا تڑنگا ) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت ( مہدو بنت ابی ہرومہ ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچوں عورت ( کبشہ نامی ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر ( بہادر ) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں ( کہ وہ کہاں گئی؟ ) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت ( ہند نامی ) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت ( حیی بنت علقمہ ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں ( کم بخت سے بات کروں تو ) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت ( یاسر بنت اوس ) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت ( نام نامعلوم ) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ ( غریبوں کو خوب کھلاتا ہے ) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں ( یعنی پنچائت گھر ) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت ( کبشہ بنت رافع ) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت ( ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ ) کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں ( میری ساس ) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت ( نازک بدن دبلا پتلا ) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری ( تابع فرمان اطاعت گزار ) کپڑا بھر پور پہننے والی ( موٹی تازی ) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی ( گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے ) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ ( صبح ہی صبح ) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ( مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں ) ۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔
5189
Sahih
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ .
Narrated 'Urwa: Aisha said, While the Ethiopians were playing with their small spears, Allah's Apostle screened me behind him and I watched (that display) and kept on watching till I left on my own. So you may estimate of what age a little girl may listen to amusement.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے جسم مبارک سے ) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔
5190
Sahih
(84) CHAPTER. The advice of a man to his daughter regarding her husband.
آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 حَتَّى حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ ، فَتَبَرَّزَ ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 ؟ قَالَ : وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا ، فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ ، وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ ، فَصَخِبْتُ عَلَى امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، قَالَتْ : وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ ، فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ ، وَقُلْتُ لَهَا : قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكِ مِنْهُنَّ ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، فَنَزَلْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ : أَتُغَاضِبُ إِحْدَاكُنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِي ، لَا تَسْتَكْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْءٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، قَالَ عُمَرُ : وَكُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا ، فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ ، فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا ، وَقَالَ : أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، قُلْتُ : مَا هُوَ ؟ أَجَاءَ غَسَّانُ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَهْوَلُ ، طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ : سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، فَقَالَ : اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ ، فَقُلْتُ : خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ ، فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ ، فَاعْتَزَلَ فِيهَا وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : مَا يُبْكِيكِ ؟ أَلَمْ أَكُنْ حَذَّرْتُكِ هَذَا ؟ أَطَلَّقَكُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : لَا أَدْرِي ، هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ ، فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ ، فَكَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : كَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا ، قَالَ : إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي ، فَقَالَ : قَدْ أَذِنَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ ؟ فَرَفَعَ إِلَيَّ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : لَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ : أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا : لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ أَوْضَأَ مِنْكِ وَأَحَبَّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَى ، فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا ، فَقَالَ : أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّأُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي ، فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، وَكَانَ قَالَ : مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَبَدَأَ بِهَا ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا ، فَقَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، فَكَانَ ذَلِكَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرونَ لَيْلَةً ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى آيَةَ التَّخَيُّرِ ، فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيَّرَ نِسَاءَهُ كُلَّهُنَّ ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ .
Narrated Ibn `Abbas: I had been eager to ask `Umar bin Al-Khattab about the two ladies from among the wives of the Prophet regarding whom Allah said 'If you two (wives of the Prophet namely Aisha and Hafsa) turn in repentance to Allah, your hearts are indeed so inclined (to oppose what the Prophet likes). (66.4) till `Umar performed the Hajj and I too, performed the Hajj along with him. (On the way) `Umar went aside to answer the call of nature, and I also went aside along with him carrying a tumbler full of water, and when `Umar had finished answering the call of nature, I poured water over his hands and he performed the ablution. Then I said to him, O chief of the Believers! Who were the two ladies from among the wives of the Prophet regarding whom Allah said: 'If you two (wives of the Prophet) turn in repentance to Allah your hearts are indeed so inclined (to oppose what the Prophet likes)? (66.4) He said, I am astonished at your question, O Ibn `Abbas. They were `Aisha and Hafsa. Then `Umar went on narrating the Hadith and said, I and an Ansari neighbor of mine from Bani Umaiyya bin Zaid who used to live in `Awali-al-Medina, used to visit the Prophet in turn. He used to go one day and I another day. When I went, I would bring him the news of what had happened that day regarding the Divine Inspiration and other things, and when he went, he used to do the same for me. We, the people of Quraish used to have the upper hand over our wives, but when we came to the Ansar, we found that their women had the upper hand over their men, so our women also started learning the ways of the Ansari women. I shouted at my wife and she retorted against me and I disliked that she should answer me back. She said to me, 'Why are you so surprised at my answering you back? By Allah, the wives of the Prophet answer him back and some of them may leave (does not speak to) him throughout the day till the night.' The (talk) scared me and I said to her, 'Whoever has done so will be ruined!' Then I proceeded after dressing myself, and entered upon Hafsa and said to her, 'Does anyone of you keep the Prophet angry till night?' She said, 'Yes.' I said, 'You are a ruined losing person! Don't you fear that Allah may get angry for the anger of Allah's Apostle and thus you will be ruined? So do not ask more from the Prophet and do not answer him back and do not give up talking to him. Ask me whatever you need and do not be tempted to imitate your neighbor (i.e., `Aisha) in her manners for she is more charming than you and more beloved to the Prophet . `Umar added, At that time a talk was circulating among us that (the tribe of) Ghassan were preparing their horses to invade us. My Ansari companion, on the day of his turn, went (to the town) and returned to us at night and knocked at my door violently and asked if I was there. I became horrified and came out to him. He said, 'Today a great thing has happened.' I asked, 'What is it? Have (the people of) Ghassan come?' He said, 'No, but (What has happened) is greater and more horrifying than that: Allah's Apostle; has divorced his wives. `Umar added, The Prophet kept away from his wives and I said Hafsa is a ruined loser.' I had already thought that most probably this (divorce) would happen in the near future. So I dressed myself and offered the morning prayer with the Prophet and then the Prophet; entered an upper room and stayed there in seclusion. I entered upon Hafsa and saw her weeping. I asked, 'What makes you weep? Did I not warn you about that? Did the Prophet divorce you all?' She said, 'I do not know. There he is retired alone in the upper room.' I came out and sat near the pulpit and saw a group of people sitting around it and some of them were weeping. I sat with them for a while but could not endure the situation, so I went to the upper room where the Prophet; was and said to a black slave of his, 'Will you get the permission (of the Prophet ) for `Umar (to enter)?' The slave went in, talked to the Prophet about it and then returned saying, 'I have spoken to the Prophet and mentioned you but he kept quiet.' Then I returned and sat with the group of people sitting near the pulpit. but I could not bear the situation and once again I said to the slave, 'Will you get the permission for `Umar?' He went in and returned saying, 'I mentioned you to him but he kept quiet.' So I returned again and sat with the group of people sitting near the pulpit, but I could not bear the situation, and so I went to the slave and said, 'Will you get the permission for `Umar?' He went in and returned to me saying, 'I mentioned you to him but he kept quiet.' When I was leaving, behold! The slave called me, saying, 'The Prophet has given you permission.' Then I entered upon Allah's Apostle and saw him Lying on a bed made of stalks of date palm leaves and there was no bedding between it and him. The stalks left marks on his side and he was leaning on a leather pillow stuffed with date-palm fires. I greeted him and while still standing I said, 'O Allah's Apostle! Have you divorced your wives?' He looked at me and said, 'No.' I said, 'Allah Akbar!' And then, while still standing, I said chatting, 'Will you heed what I say, O Allah's Apostle? We, the people of Quraish used to have power over our women, but when we arrived at Medina we found that the men (here) were overpowered by their women.' The Prophet smiled and then I said to him, 'Will you heed what I say, O Allah's Apostle? I entered upon Hafsa and said to her, Do not be tempted to imitate your companion (`Aisha), for she is more charming than you and more beloved to the Prophet.' The Prophet smiled for a second time. When I saw him smiling, I sat down. Then I looked around his house, and by Allah, I could not see anything of importance in his house except three hides, so I said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah to make your followers rich, for the Persians and the Romans have been made prosperous and they have been given (the pleasures of the world), although they do not worship Allah.' Thereupon the Prophet sat up as he was reclining. and said, 'Are you of such an opinion, O the son of Al-Khattab? These are the people who have received the rewards for their good deeds in this world.' I said, 'O Allah's Apostle! Ask Allah to forgive me.' Then the Prophet kept away from his wives for twenty-nine days because of the story which Hafsa had disclosed to `Aisha. The Prophet had said, 'I will not enter upon them (my wives) for one month,' because of his anger towards them, when Allah had admonished him. So, when twenty nine days had passed, the Prophet first entered upon `Aisha. `Aisha said to him, 'O Allah's Apostle! You had sworn that you would not enter upon us for one month, but now only twenty-nine days have passed, for I have been counting them one by one.' The Prophet said, 'The (present) month is of twenty nine days.' `Aisha added, 'Then Allah revealed the Verses of the option. (2) And out of all his-wives he asked me first, and I chose him.' Then he gave option to his other wives and they said what `Aisha had said . (1) The Prophet, ' had decided to abstain from eating a certain kind of food because of a certain event, so Allah blamed him for doing so. Some of his wives were the cause of him taking that decision, therefore he deserted them for one month. See Qur'an: (66.4)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بہت دنوں تک میرے دل میں خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے متعلق پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی تھی۔ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» الخ۔ ایک مرتبہ انہوں نے حج کیا اور ان کے ساتھ میں نے بھی حج کیا۔ ایک جگہ جب وہ راستہ سے ہٹ کر ( قضائے حاجت کے لیے ) گئے تو میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر ان کے ساتھ راستہ سے ہٹ گیا۔ پھر انہوں نے قضائے حاجت کی اور واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ پھر انہوں نے وضو کیا تو میں نے اس وقت ان سے پوچھا کہ یا امیرالمؤمنین! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں وہ کون ہیں جن کے متعلق اللہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما‏» عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اے ابن عباس! تم پر حیرت ہے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک انصاری پڑوسی جو بنو امیہ بن زید سے تھے اور عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ہم نے ( عوالی سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ ایک دن وہ حاضری دیتے اور ایک دن میں حاضری دیتا، جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی تمام خبریں جو وحی وغیرہ سے متعلق ہوتیں لاتا ( اور اپنے پڑوسی سے بیان کرتا ) اور جس دن وہ حاضر ہوتے تو وہ بھی ایسے کرتے۔ ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب ہم مدینہ تشریف لائے تو یہ لوگ ایسے تھے کہ عورتوں سے مغلوب تھے، ہماری عورتوں نے بھی انصار کی عورتوں کا طریقہ سیکھنا شروع کر دیا۔ ایک دن میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی میرا ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ میں نے اس کے اس طرح جواب دینے پر ناگواری کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرا جواب دینا تمہیں برا کیوں لگتا ہے، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی ان کو جوابات دے دیتی ہیں اور بعض تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن رات تک الگ رہتی ہیں۔ میں اس بات پر کانپ اٹھا اور کہا کہ ان میں سے جس نے بھی یہ معاملہ کیا یقیناً وہ نامراد ہو گئی۔ پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور ( مدینہ کے لیے ) روانہ ہوا پھر میں حفصہ کے گھر گیا اور میں نے اس سے کہا: اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایک دن رات تک غصہ رہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں کبھی ( ایسا ہو جاتا ہے ) میں نے اس پر کہا کہ پھر تم نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال لیا اور نامراد ہوئی۔ کیا تمہیں اس کا کوئی ڈر نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ تم پر غصہ ہو جائے اور پھر تم تنہا ہی ہو جاؤ گی۔ خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات نہ کیا کرو نہ کسی معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کرو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا کرو۔ اگر تمہیں کوئی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو۔ تمہاری سوکن جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ پیاری ہے، ان کی وجہ سے تم کسی غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو جانا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہوا تھا کہ ملک غسان ہم پر حملہ کے لیے فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ میرے انصاری ساتھی اپنی باری پر مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ وہ رات گئے واپس آئے اور میرے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک دی اور کہا کہ کیا عمر رضی اللہ عنہ گھر میں ہیں۔ میں گھبرا کر باہر نکلا تو انہوں نے کہا کہ آج تو بڑا حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی، کیا غسانی چڑھ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، حادثہ اس سے بھی بڑا اور اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا کہ حفصہ تو خاسر و نامراد ہوئی۔ مجھے تو اس کا خطرہ لگا ہی رہتا تھا کہ اس طرح کا کوئی حادثہ جلد ہی ہو گا پھر میں نے اپنے تمام کپڑے پہنے ( اور مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا ) میں نے فجر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ( نماز کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بالا خانہ میں چلے گئے اور وہاں تنہائی اختیار کر لی۔ میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب روتی کیا ہو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بالا خانہ میں تنہا تشریف رکھتے ہیں۔ میں وہاں سے نکلا اور منبر کے پاس آیا۔ اس کے گرد کچھ صحابہ کرام موجود تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس کے بعد میرا غم مجھ پر غالب آ گیا اور میں اس بالا خانہ کے پاس آیا۔ جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حبشی غلام سے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اندر آنے کی اجازت لے لو۔ غلام اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر کے واپس آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن آپ خاموش رہے۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے۔ میرا غم مجھ پر غالب آیا اور دوبارہ آ کر میں نے غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت لے لو۔ اس غلام نے واپس آ کر پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں پھر واپس آ گیا اور منبر کے پاس جو لوگ موجود تھے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ لیکن میرا غم مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر آ کر غلام سے کہا کہ عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام اندر گیا اور واپس آ کر جواب دیا کہ میں نے آپ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں وہاں سے واپس آ رہا تھا کہ غلام نے مجھ کو پکارا اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس بان کی چارپائی پر جس سے چٹائی بنی جاتی ہے لیٹے ہوئے تھے۔ اس پر کوئی بستر نہیں تھا۔ بان کے نشانات آپ کے پہلو مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ جس تکیہ پر آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے اس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کھڑے ہی کھڑے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا نہیں۔ میں ( خوشی کی وجہ سے ) کہہ اٹھا۔ اللہ اکبر۔ پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے ہم قریش کے لوگ عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے۔ پھر جب ہم مدینہ آئے تو یہاں کے لوگوں پر ان کی عورتیں غالب تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو معلوم ہے میں حفصہ کے پاس ایک مرتبہ گیا تھا اور اس سے کہہ آیا تھا کہ اپنی سوکن کی وجہ سے جو تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزیز ہے، دھوکا میں مت رہنا۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرا دیئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو بیٹھ گیا پھر نظر اٹھا کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا جائزہ لیا۔ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر نظر رکتی۔ سوا تین چمڑوں کے ( جو وہاں موجود تھے ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت کو فراخی عطا فرمائے۔ فارس و روم کو فراخی اور وسعت حاصل ہے اور انہیں دنیا دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: ابن خطاب! تمہاری نظر میں بھی یہ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں جو کچھ بھلائی ملنے والی تھی سب اسی دنیا میں دے دی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کر دیجئیے ( کہ میں نے دنیاوی شان و شوکت کے متعلق یہ غلط خیال دل میں رکھا ) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو اسی وجہ سے انتیس دن تک الگ رکھا کہ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز عائشہ سے کہہ دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک مہینہ تک میں اپنی ازواج کے پاس نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بہت رنج ہوا ( اور آپ نے ازواج سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ) پھر جب انتیسویں رات گزر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور آپ سے ابتداء کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے یہاں ایک مہینہ تک تشریف نہیں لائیں گے اور ابھی تو انتیس ہی دن گزرے ہیں میں تو ایک ایک دن گن رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس کا ہے۔ وہ مہینہ انتیس ہی کا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «تخير» نازل کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج میں سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے ( اور مجھ سے اللہ کی وحی کا ذکر کیا ) تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پسند کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام دوسری ازواج کو اختیار دیا اور سب نے وہی کہا جو عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ چکی تھیں۔
5191
Sahih
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A woman should not fast (optional fasts) except with her husband's permission if he is at home (staying with her).
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شوہر گھر پر موجود ہے تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ نہ رکھے۔
5192
Sahih
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If a man Invites his wife to sleep with him and she refuses to come to him, then the angels send their curses on her till morning.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے ( ناراضگی کی وجہ سے ) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
5193
Sahih
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, If a woman spends the night deserting her husband's bed (does not sleep with him), then the angels send their curses on her till she comes back (to her husband).
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے زرارہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عورت اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے اس کے بستر سے الگ تھلگ رات گزارنے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آ جائے۔
5194
Sahih
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ نَفَقَةٍ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ يُؤَدَّى إِلَيْهِ شَطْرُهُ . وَرَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ أَيْضًا ، عَنْ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّوْمِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, It is not lawful for a lady to fast (Nawafil) without the permission of her husband when he is at home; and she should not allow anyone to enter his house except with his permission; and if she spends of his wealth (on charitable purposes) without being ordered by him, he will get half of the reward.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر ( نفلی ) روزہ رکھے اور عورت کسی کو اس کے گھر میں اس کی مرضی کے بغیر آنے کی اجازت نہ دے اور عورت جو کچھ بھی اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی صریح اجازت کے بغیر خرچ کر دے تو اسے بھی اس کا آدھا ثواب ملے گا۔ اس حدیث کو ابوالزناد نے موسیٰ بن ابی عثمان سے بھی اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اور اس میں صرف روزہ کا ہی ذکر ہے۔
5195
Sahih
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَكَانَ عَامَّةَ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَأَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ غَيْرَ أَنَّ أَصْحَابَ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ ، وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ .
Narrated Usama: The Prophet said, I stood at the gate of Paradise and saw that the majority of the people who entered it were the poor, while the wealthy were stopped at the gate (for the accounts). But the companions of the Fire were ordered to be taken to the Fire. Then I stood at the gate of the Fire and saw that the majority of those who entered it were women.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو تیمی نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نے، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت غریبوں کی تھی۔ مالدار ( جنت کے دروازے پر حساب کے لیے ) روک لیے گئے تھے البتہ جہنم والوں کو جہنم میں جانے کا حکم دے دیا گیا تھا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والی زیادہ عورتیں تھیں۔
5196
Sahih
(89) CHAPTER. To be unthankful to Al-Ashir, i.e., the husband. Al-Ashir also means the companion.
عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ ، قَالُوا : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : بِكُفْرِهِنَّ ، قِيلَ : يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ ، قَالَ : يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: During the lifetime of Allah's Apostle, the sun eclipsed. Allah's Apostle offered the prayer of (the) eclipse) and so did the people along with him. He performed a long Qiyam (standing posture) during which Surat-al-Baqara could have been recited; then he performed a pro-longed bowing, then raised his head and stood for a long time which was slightly less than that of the first Qiyam (and recited Qur'an). Then he performed a prolonged bowing again but the period was shorter than the period of the first bowing, then he stood up and then prostrated. Again he stood up, but this time the period of standing was less than the first standing. Then he performed a prolonged bowing but of a lesser duration than the first, then he stood up again for a long time but for a lesser duration than the first. Then he performed a prolonged bowing but of lesser duration than the first, and then he again stood up, and then prostrated and then finished his prayer. By then the sun eclipse had cleared. The Prophet then said, The sun and the moon are two signs among the signs of Allah, and they do not eclipse because of the death or birth of someone, so when you observe the eclipse, remember Allah (offer the eclipse prayer). They (the people) said, O Allah's Apostle! We saw you stretching your hand to take something at this place of yours, then we saw you stepping backward. He said, I saw Paradise (or Paradise was shown to me), and I stretched my hand to pluck a bunch (of grapes), and had I plucked it, you would have eaten of it as long as this world exists. Then I saw the (Hell) Fire, and I have never before, seen such a horrible sight as that, and I saw that the majority of its dwellers were women. The people asked, O Allah's Apostle! What is the reason for that? He replied, Because of their ungratefulness. It was said. Do they disbelieve in Allah (are they ungrateful to Allah)? He replied, They are not thankful to their husbands and are ungrateful for the favors done to them. Even if you do good to one of them all your life, when she seems some harshness from you, she will say, I have never seen any good from you.'
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں عطاء بن یسار نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ اس کی نماز پڑھی۔ آپ نے بہت لمبا قیام کی اتنا طویل کہ سورۃ البقرہ پڑھی جا سکے پھر طویل رکوع کیا۔ رکوع سے سر اٹھا کر بہت دیر تک قیام کیا۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر آپ نے دوسرا طویل رکوع کیا۔ یہ رکوع طوالت میں پہلے رکوع سے کچھ کم تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوبارہ قیام کیا اور بہت دیر تک حالت قیام میں رہے۔ یہ قیام پہلی رکعت کے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر طویل رکوع کیا، یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا۔ پھر سر اٹھایا اور طویل قیام کیا۔ یہ قیام پہلے قیام سے کچھ کم تھا۔ پھر رکوع کیا، طویل رکوع۔ اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کچھ کم طویل تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو گرہن ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت یا کسی کی حیات کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ سے کوئی چیز بڑھ کر لی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ ہم سے ہٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی تھی یا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راوی کو شک تھا ) مجھے جنت دکھائی گئی تھی۔ میں نے اس کا خوشہ توڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا اور اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے اور میں نے دوزخ دیکھی آج کا اس سے زیادہ ہیبت ناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ اس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور ان کے احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ زندگی بھر بھی حسن سلوک کا معاملہ کرو پھر بھی تمہاری طرف سے کوئی چیز اس کے لیے ناگواری خاطر ہوئی تو کہہ دے گی کہ میں نے تو تم سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
5197
Sahih
(89) CHAPTER. To be unthankful to Al-Ashir, i.e., the husband. Al-Ashir also means the companion.
عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ . تَابَعَهُ أَيُّوبُ ، وَسَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ .
Narrated `Imran: The Prophet said, I looked at Paradise and saw that the majority of its residents were the poor; and I looked at the (Hell) Fire and saw that the majority of its residents were women.
ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے عمران نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اکثر رہنے والے غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں۔ اس روایت کی متابعت ابوایوب اور سلم بن زریر نے کی ہے۔
5198
Sahih
(90) CHAPTER. Your wife has a right over you.
تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ ، صُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As: Allah's Apostle said, O `Abdullah! Have I not been formed that you fast all the day and stand in prayer all night? I said, Yes, O Allah's Apostle! He said, Do not do that! Observe the fast sometimes and also leave them (the fast) at other times; stand up for the prayer at night and also sleep at night. Your body has a right over you, your eyes have a right over you and your wife has a right over you.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ! کیا میری یہ اطلاع صحیح ہے کہ تم ( روزانہ ) دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور بغیر روزے بھی رہو۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔
5199
Sahih
(91) CHAPTER. The woman is a guardian in her husband's house.
بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْأَمِيرُ رَاعٍ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, All of you are guardians and are responsible for your wards. The ruler is a guardian and the man is a guardian of his family; the lady is a guardian and is responsible for her husband's house and his offspring; and so all of you are guardians and are responsible for your wards.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ امیر ( حاکم ) ہے، مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔
5200
Sahih
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا وَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ ، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ ، قَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ .
Narrated Anas: Allah's Apostle took an oath that he would not visit his wives for one month, and he sat in an upper room belonging to him. Then, on the twenty ninth day he came down. It was said, O Allah's Apostle! You had taken an oath not to visit your wives for one month. He said, The (present) month is of twenty-nine days.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک الگ رہے اور اپنے ایک بالاخانہ میں قیام کیا۔ پھر آپ انتیس دن کے بعد گھر میں تشریف لائے تو کہا گیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے عہد کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس ( 29 ) کا ہے۔
5201
Sahih
(93) CHAPTER. The decision of the Prophet not to share the beds with his wives and to stay away from their houses.
عورتوں کو مارنا مکروہ ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ لَا يَدْخُلُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِنَّ أَوْ رَاحَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا ، قَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا .
Narrated Um Salama: The Prophet took an oath that he would not enter upon some of his wives for one month. But when twenty nine days had elapsed, he went to them in the morning or evening. It was said to him, O Allah's Prophet! You had taken an oath that you would not enter upon them for one month. He replied, The month can be of twenty nine days.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے خبر دی، انہیں عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک واقعہ کی وجہ سے ) قسم کھائی کہ اپنی بعض ازواج کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ پھر جب انتیس دن گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح کے وقت گئے یا شام کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک نہیں آئیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
5202
Sahih

Chapters

118
01
(1) CHAPTER. Awakening the desire for marriage.
باب
8 Hadith
02
(6) CHAPTER. The marrying of a poor man who has the knowledge of the Quran and is a Muslim.
ایسے تنگدست کی شادی کرانا جس کے پاس صرف قرآنمجید اور اسلام ہے ۔
1 Hadith
03
(7) CHAPTER. The saying of a man to his brother (in Islam): Have a look at either of my wives (and if you wish), I will divorce her for you.
کسی شخص کا اپنے بھا ئی سے یہ کہنا کہ تم میری جس بیوی کو بھی پسند کر لو میں اسے تمہارے لئے طلاق دے دوں گا ۔ اس کو عبد الر حمٰن بن عوف نے بھی روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
04
(8) CHAPTER. What is disliked of not marrying and of getting castrated.
مجرد رہنا اور اپنے کو نامرد بنا دینا منع ہے ۔
4 Hadith
05
(9) CHAPTER. To marry virgins.
کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
06
(10) CHAPTER. The marrying of matrons (divorced or widowed ladies).
بیوہ عورتوں کا بیان ۔
2 Hadith
07
(11) CHAPTER. The marrying of a young lady to an elderly man.
کمعمر کی عورت سے زیادہ عمر والے مرد کے ساتھ شادی کا ہونا ۔
1 Hadith
08
(12) CHAPTER. What type of women should one seek in marriage?
کس طرح کی عورت سے نکاح کیا جائے اور کون سی عورت بہتر ہے ؟
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Having female captives.
لونڈیوں کا رکھنا کیسا ہے اور اس شخص کا ثواب جس نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور پھر اس سے شادی کر لی ۔
3 Hadith
10
(14) CHAPTER. Whoever regarded the manumission of a slave-girl as her Mahr.
جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا ۔
1 Hadith
11
(15) CHAPTER. The marrying of the poor by virtue of the Statement of Allah: “If they be poor, Allah will enrich them out of His Bounty.” (V.24:32)
مفلس کا نکاح کرانا درست ہے ۔
1 Hadith
12
(16) CHAPTER. (Both husband and wife) should have the same religion.
کفاء ت میں دیندار ی کا لحاظ ہونا اور سورۃ الفرقان میں ۔
4 Hadith
13
(17) CHAPTER. Equality in wealth (is not essential for the marriage). And the marriage of a poor man with a well-to-do lady.
کفائت میں مالدار ی کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا ۔
1 Hadith
14
(18) CHAPTER. What evil omen of a lady is to be warded off.
عورت کی نحوست سے بچنے کا بیان ۔
4 Hadith
15
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
1 Hadith
16
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
1 Hadith
17
(21) CHAPTER. (The Verse:) “...your foster-mothers who gave you suck.” (V.4:23)
آیت کریمہ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے یعنی رضاعت کا بیان ۔
3 Hadith
18
(22) CHAPTER. Whoever said: “No suckling is to be carried on after the baby is two years old, As the Statement of Allah: ...two whole years, (that is) 'for those (parents) who desire to complete the term of suckling (breast feeding)... (V.2:233)
اس شخص کی دلیل جس نے کہا کہ دو سال کے بعد پھر رضاعت سے حرمت نہ ہو گی ۔
1 Hadith
19
(23) CHAPTER. The milk belongs to the husband (if one drinks the milk of a lady then the husband of that lady is just like his father, i.e., he will be his foster suckling father).
جس مرد کا دودھ ہو وہ بھی دودھ پینے والے پر حرام ہو جاتا ہے ( کیونکہ شیر خوار کا باپ بن جاتاہے ) ۔
1 Hadith
20
(24) CHAPTER. The witness of a wet nurse.
اگر صرف دودھ پلانے والی عورت رضاعت کی گواہی دے ۔
1 Hadith
21
(25) CHAPTER. What women are lawful for one to marry and what are unlawful.
کون سی عورتیں حلال ہیں اور کون سی حرام ہیں ۔
1 Hadith
22
(26) CHAPTER. (The Statement of Allah:) '...your step-daughters under your guardianship, born of your wives. To whom you have gone in (consummated your marriage)...” (V.4:23)
اللہ کے اس فرمان کا بیان اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی لڑکیاں ۔
1 Hadith
23
(27) CHAPTER: “(It is prohibited to have) two sisters in wedlock (as wise) at the same time, except for what has already passed. (V.4:23)
آیت وان تجمعوا بین الاختین الخ کا بیان ۔
1 Hadith
24
(28) CHAPTER. A woman should not marry a man who is already married to her paternal aunt (her father's sister).
اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا ۔
4 Hadith
25
(29) CHAPTER. Ash-Shighar.
نکاح شغار کا بیان ۔
1 Hadith
26
(30) CHAPTER. Is it permissible for a woman to present herself for marriage to somebody?
کیا کوئی عورت کسی سے نکاح کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟
1 Hadith
27
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
1 Hadith
28
(32) CHAPTER. Allah's Messenger prohibited Nikah-al-Muta lately.
آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا ( اس لئے اب متعہ حرام ہے ) ۔
5 Hadith
29
(33) CHAPTER. A woman can present herself to a righteous man (for marriage).
عورت کا اپنے آپ کو کسی صالح مرد کے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
30
(34) CHAPTER. The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to a religious man.
کسی انسان کا اپنی بیٹی یا بہن کو اہل خیر سے نکاح کے لئے پیش کرنا ۔
2 Hadith
31
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “And there is no sin on you if you make a hint of betrothal or conceal it in yourself, Allah knows... (up to)... Oft-Forgiving, Most Forbearing.” (V.2:235)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔
1 Hadith
32
(36) CHAPTER. (It is permissible) to look at a woman before marrying her.
نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا ۔
2 Hadith
33
(37) CHAPTER. Whoever said, A marriage is not valid except through the Wali (i.e., her father or her brother or her relative etc.)
بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا ۔
4 Hadith
34
(38) CHAPTER. If the guardian himself is the suitor (of the lady in his charge) (can he marry her to himself or should another guardian marry her to him)?
اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے ۔
2 Hadith
35
(39) CHAPTER. Giving one's young children in marriage (is permissible).
آدمی اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے ۔
2 Hadith
36
(41) CHAPTER. The ruler is regarded as a guardian (of the lady who has no relative to be her guardian) as is inferred from the statement of the Prophet : We have married her (that lady) to you for what you know of the Quran (by heart).
باپ کا اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا بادشاہ سے کرنا ۔
1 Hadith
37
(42) CHAPTER. The father or the guardian cannot give a virgin or matron in marriage without her consent.
باپ یا کوئی دوسراولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہ کرے ۔
2 Hadith
38
(43) CHAPTER. lf a man gives his daughter in marriage while she is averse to it (in disagreement), then such marriage is invalid.
اگر کسی نے اپنی بیٹی کا نکاح ( وہ کنواری ہو یا بیوہ ) جبراً کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو گا ۔
2 Hadith
39
(44) CHAPTER. The giving of an orphan girl in marriage.
یتیم لڑکی کا نکاح کر دینا کیونکہ اللہ پاک نے سورۃ نساء ۔
1 Hadith
40
(45) CHAPTER. If the suitor says (to the guardian of a woman), “Marry me to so-and-so,” and the guardian says, “I have married her to you for such and such Mahr,” then the marriage is valid even if he does not ask the husband, Have you agreed or have you accepted (her)?
اگر کسی مردنے لڑکی کے ولی سے کہا میرا نکاح اس لڑکی سے کر دو ، اس نے کہامیں نے اتنے مہر پر تیرا نکاح اس سے کر دیا تو نکاح ہو گیا گو وہ مرد سے یہ نہ پوچھے کہ تم اس پر رضی ہو یا تم نے قبول کیا یا نہیں ؟
1 Hadith
41
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
3 Hadith
42
(47) CHAPTER. (What is said regarding) the meaning of the cancelling of the engagement.
پیغام چھوڑ دینے کی وجہ بیان کرنا ۔
1 Hadith
43
(48) CHAPTER. Al-Khutba (for Nikah) (a speech delivered at the time of concluding the marriage contract).
( عقد سے پہلے ) نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔
1 Hadith
44
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
1 Hadith
45
(50) CHAPTER. The Statement of Allah: “And give to the women (whom you marry) their Mahr with a good heart...” (V.4:4)
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور عورتوں کو ان کا مہر خوش دلی ۔
1 Hadith
46
(51) CHAPTER. To many (a lady to) a man for what he knows of the Quran (by heart) and without paying any Mahr.
قرآن کی تعلیم مہر ہو سکتی ہے اس طرح اگر مہر کا ذکر ہی نہ کرے تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا ( اور مہر مثل لازم ہو گا ) ۔
1 Hadith
47
(52) CHAPTER. To give Mahr in the form of material things (other than money) and in the form of a ring made of iron.
کوئی جنس یا لوہے کی انگوٹھی مہر ہو سکتی ہے ۔ گونقد روپیہ نہ ہو ۔
1 Hadith
48
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
1 Hadith
49
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
1 Hadith
50
(55) CHAPTER. The Sufra (yellow coloured perfume) for a bridegroom.
شادی کرنے والے کے لئے زرد رنگ کا جواز ۔
1 Hadith
51
(56) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
52
(57) CHAPTER. How to invoke good upon a person who has married recently?
دولہا کو کس طرح دعا دی جائے ؟
1 Hadith
53
(58) CHAPTER. The invocation of those women who prepare the bride (for her and for the bridegroom).
جو عورتیں دولہن کو بناؤ سنگھار کر کے دولہا کے گھر لائیں ان کو اور دولہن کو کیونکر دعا دیں ۔
1 Hadith
54
(59) CHAPTER. Whoever preferred to consummate the marriage before going on a military campaign.
جہاد میں جانے سے پہلے نئی دولہن سے صحبت کر لینا بہتر ہے تاکہ دل اس میں لگا نہ رہے ۔
1 Hadith
55
(60) CHAPTER. Whoever consummated his marriage with a lady of nine years of age.
جس نے نو سال کی عمر کی بیوی کے ساتھ خلوت کی ( جب وہ جوان ہو گئی ہو ) ۔
1 Hadith
56
(61) CHAPTER. The consummation of marriage during a journey.
سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا ۔
1 Hadith
57
(62) CHAPTER. Consummation of marriage during the daytime without a marriage procession or lighting of fires.
دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
1 Hadith
58
(63) CHAPTER. The Anmat (curtains, beddings, etc.) and similar things designed for the women.
عورتوں کے لئے مخمل کے بچھونے وغیرہ بچھا نا جائز ہے ( یا باریک پردہ لٹکانا ) ۔
1 Hadith
59
(64) CHAPTER. The women who present the lady to her husband and their invocations for Allah's blessings upon them.
وہ عورتیں جو دلہن کا بناؤ سنگھار کر کے اسے شوہر کے پاس لے جائیں ۔
1 Hadith
60
(65) CHAPTER. The giving of a present to the bridegroom.
دلہن کو تحائف بھیجنا ۔
1 Hadith
61
(66) CHAPTER. To borrow the clothes, etc. for the bride.
دلہن کے پہننے کے لئے کپڑے اور زیور وغیرہ عاریتاً لینا ۔
1 Hadith
62
(67) CHAPTER. What a man should say on having a sexual intercourse with his wife.
جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے ۔
1 Hadith
63
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
1 Hadith
64
(69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein.
ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے ۔
4 Hadith
65
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
1 Hadith
66
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
1 Hadith
67
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
4 Hadith
68
(73) CHAPTER. If somebody refuses an invitation [to a Walima (wedding banquet)] he indeed disobeys Allah and His Messenger .
جس کسی نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
1 Hadith
69
(74) CHAPTER. Whoever accepted the invitation to a meal of trotters.
جس نے بکری کے کھر کی دعوت کی تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے ۔
1 Hadith
70
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
1 Hadith
71
(76) CHAPTER. The attendance of women and children at a wedding party.
دعوت شادی میں عورتوں اور بچوں کا بھی جانا جائز ہے ۔
1 Hadith
72
(77) CHAPTER. Should a person return if he sees something disapproved of (from the standpoint of religion) in the party?
اگر دعوت میں جا کر وہاں کوئی کام خلاف شرع دیکھے تو لوٹ آئے یا کیا کرے ۔
1 Hadith
73
(78) CHAPTER. The attendance and serving of the lady (bride) herself for the men at (her) marriage party.
شادی میں عورت مردوں کا کامکاج خوداپنی ذات سے کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
74
(79) CHAPTER. An-Naqi (juice obtained from dried dates soaked in water) and other drinks that are non intoxicant, served at a wedding party.
کھجور کا شربت یا اور کوئی شربت جس میں نشہ نہ ہو شادی میں پلانا ۔
1 Hadith
75
(80) CHAPTER. To be polite and kind to the women.
عورتوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا ۔
1 Hadith
76
(81) CHAPTER. The exhortation of taking care of the women.
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں وصیت نبوی کا بیان ۔
3 Hadith
77
(82) CHAPTER. “(O you who believe)! Ward off from yourself and your families a Fire (Hell) whose fuel is men and stones...” (V.66:6)
اللہ کا سورۃ التحریم میں یہ فرمانا کہ لوگو ! خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ سے بچاؤ ۔
1 Hadith
78
(83) CHAPTER. To treat one's family in a polite and kind manner.
اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا ۔
2 Hadith
79
(84) CHAPTER. The advice of a man to his daughter regarding her husband.
آدمی اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے مقدمہ میں نصیحت کرے تو کیسا ہے ؟
1 Hadith
80
(85) CHAPTER. A woman should not observe Saum (fast) (optional ones) except with the permission of her husband.
شوہر کی اجازت سے عورت کو نفلی روزہ رکھنا جائز ہے ۔
1 Hadith
81
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
2 Hadith
82
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
2 Hadith
83
(89) CHAPTER. To be unthankful to Al-Ashir, i.e., the husband. Al-Ashir also means the companion.
عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں ۔
2 Hadith
84
(90) CHAPTER. Your wife has a right over you.
تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔
1 Hadith
85
(91) CHAPTER. The woman is a guardian in her husband's house.
بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے ۔
1 Hadith
86
(92) CHAPTER. The Statement of Allah: “Men are protectors and maintainers of women.” (V.4:34)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں کو اس طرح پر چھوڑنا کہ ان کے گھر ہی میں نہیں گئے ۔
1 Hadith
87
(93) CHAPTER. The decision of the Prophet not to share the beds with his wives and to stay away from their houses.
عورتوں کو مارنا مکروہ ہے ۔
3 Hadith
88
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
1 Hadith
89
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
1 Hadith
90
(97) CHAPTER. The coitus interruptus.
عزل کا حکم کیا ہے ؟
4 Hadith
91
(98) CHAPTER. To draw lots among one's wives when one intends to go on a journey (in order to take one of them with).
سفر کے ارادہ کے وقت اپنی کئی بیویوں میں سے انتخاب کے لئے قرعہ ڈالنا ۔
1 Hadith
92
(99) CHAPTER. (What is said regarding) the woman who gives up her turn with her husband to one of his other wives, and how to divide the turns.
عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے ؟
1 Hadith
93
(101) CHAPTER. If somebody marries a virgin and he has already a matron wife (with him).
اگر کسی کے پاس ایک بیوہ عورت اس کے نکاح میں ہو پھر ایک کنواری سے بھی نکاح کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
94
(102) CHAPTER. If somebody marryies a matron and he has already a virgin wife (with him).
کنواری بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی نے بیوہ عورت سے شادی کی تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔
1 Hadith
95
(103) CHAPTER. Whoever had sexual intercourse with all his wives and then took one bath only.
مرد اپنی سب بیویوں سے صحبت کر کے آخر میں ایک غسل کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
96
(104) CHAPTER. If a man goes to all his wives (have sexual relations with them) in one day.
مرد کا اپنی بیوی کے پاس دن میں جانا بھی جائز ہے ۔
1 Hadith
97
(105) CHAPTER. If a man takes the permission of his wives so as to stay in the house of one of them to be treated (during his ailment) and he is allowed by them (those wives will have no right to claim their lost turns).
اگر مرد اپنی بیماری کے دن کسی ایک بیوی کے گھر گزارنے کے لئے اپنی دوسری بیویوں سے اجازت لے اور اسے اس کی اجازت دی جائے ۔
1 Hadith
98
(106) CHAPTER. If a man loves some of his wives more than the others.
اگر مرد کو اپنی بیوی سے زیادہ محبت ہو تو کچھ گناہ نہ ہو گا ۔
1 Hadith
99
(107) CHAPTER. (It is not recommended for) one to claim that one has more things or better qualities than one really has. And what is forbidden as regards the pride of lady over the other wives of her husband.
جھوٹ موٹھ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی ، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لئے کرنا عورت کے واسطے منع ہے ۔
1 Hadith
100
(108) CHAPTER. Al-Ghaira (i.e. honour, prestige or self-respect).
غیرت کا بیان ۔
8 Hadith
101
(109) CHAPTER. The jealousy of women and their anger.
عورتوں کی غیرت اور ان کے غصے کا بیان ۔
2 Hadith
102
(110) CHAPTER. The man's attempt to prevent what my arouse his daughter's jealousy, and his demand that she should be treated justly.
آدمی اپنی بیٹی کو غیرت اور غصہ نہ آنے کے لئے اور اس کے حق میں انصاف کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہے ۔
1 Hadith
103
(111) CHAPTER. Men will decrease and women will increase.
( قیامت کے قریب ) عورتوں کا بہت ہو جانا مردوں کی کمی ۔
1 Hadith
104
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
2 Hadith
105
(113) CHAPTER. What is allowed (as regards) a private meeting between a man and a woman when they are not secluded from the people.
اگر لوگوں کی موجودگی میں ایک مرد دوسری ( غیر محرم ) عورت سے تنہائی میں کچھ بات کرے تو جائز ہے ۔
1 Hadith
106
(114) CHAPTER. It is forbidden that effeminate men should enter upon women.
زنانے اور ہیجڑے سفر میں عورتوں کے پاس نہ آئیں ۔
1 Hadith
107
(115) CHAPTER. The looking of a woman at the Ethiopians and the like (is permissible) if it does not lead to bad consequences.
عورت حبشیوں کو دیکھ سکتی ہے اگر کسی فتنے کا ڈر نہ ہو ۔
1 Hadith
108
(116) CHAPTER. The going out of women for their needs.
عورتوں کا کامکاج کے لئے باہر نکلنا درست ہے ۔
1 Hadith
109
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
1 Hadith
110
(118) CHAPTER. What is lawful as regards visiting or looking at those women who have foster suckling relations with you.
دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے ، بے پردہ اسے دیکھ سکتے ہیں ۔
1 Hadith
111
(119) CHAPTER. A woman should not look at or touch the body of another woman to describe her to her husband.
ایک عورت دوسری عورت سے ( بے ستر ہو کر ) نہ چمٹے اس لئے کہ اس کا حال اپنے خاوند سے بیان کرے ۔
2 Hadith
112
(120) CHAPTER. The saying of a man: “I will go round (i.e., have sexual relations with) all my wives tonight.”
کسی مرد کا یہ کہنا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آؤں گا ۔
1 Hadith
113
(121) CHAPTER. If a man is away or absent from his family for a long time, then on returning home, he should not enter his house at night, lest he should find something which might arouse his suspicion as regards his family, or lest he should discover their defects.
آدمی سفر سے رات کے وقت اپنے گھر نہ آئے ۔
2 Hadith
114
(122) CHAPTER. Seeking to beget children.
جماع سے بچہ کی خواہش رکھنے کے بیان میں
2 Hadith
115
(123) CHAPTER. The woman (whose husband is absent for a long time) should shave her pubic hair, and those whose hair is unkempt should comb their hair.
جب خاوند سفر سے آئے تو عورت استرہ لے اور بالوں میں کنگھی کرے
1 Hadith
116
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
1 Hadith
117
(125) CHAPTER. “And those among you who have not come to the age of puberty. (V.24:58)
اس آیت میں جو بیان ہے کہ اور وہ بچے جو ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
118
(126) CHAPTER. The man's poking his daughter in the flank while admonishing her.
ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے ؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا ۔
1 Hadith
No chapter matched that.