TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of divorce. - کتاب طلاق کے مسائل کا بیان - Book 69 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 69 of Sahih Bukhari, with 43 chapters and 100 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

100 Hadith · 43 Chapters
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَنَادَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى يَعْنِي نَفْسَهُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْأَخِرَ قَدْ زَنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ ، فَقَالَ : هَلْ بِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ .
Narrated Abu Huraira: A man from Bani Aslam came to Allah's Apostle while he was in the mosque and called (the Prophet ) saying, O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse. On that the Prophet turned his face from him to the other side, whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and said, O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse. The Prophet turned his face (from him) to the other side whereupon the man moved to the side towards which the Prophet had turned his face, and repeated his statement. The Prophet turned his face (from him) to the other side again. The man moved again (and repeated his statement) for the fourth time. So when the man had given witness four times against himself, the Prophet called him and said, Are you insane? He replied, No. The Prophet then said (to his companions), Go and stone him to death. The man was a married one.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا ہے لیکن وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف مڑ گیا، جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دوسرے ( یعنی خود ) نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف آ گیا جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑ لیا تھا اور یہی عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے منہ موڑ لیا، پھر جب چوتھی مرتبہ وہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور اپنے اوپر اس نے چار مرتبہ ( زنا کی ) شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور سنگسار کرو کیونکہ وہ شادی شدہ تھے۔
5271
Sahih
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ جَمَزَ حَتَّى أَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ .
Jabir bin `Abdullah Al-Ansari said: I was one of those who stoned him. We stoned him at the Musalla (`Id praying place) in Medina. When the stones hit him with their sharp edges, he fled, but we caught him at Al-Harra and stoned him till he died.
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جنہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان صحابی کو سنگسار کیا تھا۔ ہم نے مدینہ منورہ کی عیدگاہ پر سنگسار کیا تھا۔ جب ان پر پتھر پڑا تو وہ بھاگنے لگے لیکن ہم نے انہیں حرہ میں پھر پکڑ لیا اور انہیں سنگسار کیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
5272
Sahih
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَا يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Ibn `Abbas: The wife of Thabit bin Qais came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for defects in his character or his religion, but I, being a Muslim, dislike to behave in un-Islamic manner (if I remain with him). On that Allah's Apostle said (to her), Will you give back the garden which your husband has given you (as Mahr)? She said, Yes. Then the Prophet said to Thabit, O Thabit! Accept your garden, and divorce her once.
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ ( کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی ) ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ثابت رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔
5273
Sahih
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا ، وَقَالَ : تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، فَرَدَّتْهَا ، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَطَلِّقْهَا .
Narrated `Ikrima: The sister of `Abdullah bin Ubai narrated (the above narration, 197) with the addition that the Prophet said to Thabit's wife, Will you return his garden? She said, Yes, and returned it, and (then) the Prophet ordered Thabit to divorce her.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان ( ثابت رضی اللہ عنہ ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ( اس روایت میں بیان کیا کہ ) ان کے شوہر ( ثابت رضی اللہ عنہ ) نے انہیں طلاق دے دی۔
5274
Sahih
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ .
Narrated Ibn `Abbas: The wife of Thabit bin Qais came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I cannot endure to live with him. On that Allah's Apostle said, Will you return his garden to him? She said, Yes.
اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
5275
Sahih
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الْكُفْرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا .
Narrated Ibn `Abbas: The wife of Thabit bin Qais bin Shammas came to the Prophet and said, O Allah's Apostle! I do not blame Thabit for any defects in his character or his religion, but I am afraid that I (being a Muslim) may become unthankful for Allah's Blessings. On that, Allah's Apostle said (to her), 'Will you return his garden to him? She said, Yes. So she returned his garden to him and the Prophet told him to divorce her.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے ( کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
5276
Sahih
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
میاں بیوی میں نااتفاقی کا بیان ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ جَمِيلَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
Narrated `Ikrima: that Jamila... Then he related the whole ,Hadith, (i.e. 199).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ ( مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔
5277
Sahih
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ بَنِي الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يَنْكِحَ عَلِيٌّ ابْنَتَهُمْ ، فَلَا آذَنُ .
Narrated Al-Miswar bin Makhrama Az-Zuhri: I heard the Prophet saying, Banu Al-Mughira have asked my leave to let `Ali marry their daughter, but I give no leave to this effect.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
5278
Sahih
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ ، إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ فِيهَا لَحْمٌ ؟ قَالُوا : بَلَى ، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، قَالَ : عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Three traditions were established concerning situations in which Barra was involved: When she was manumitted, she was given the option to keep her husband or leave him; Allah's Apostle said, The wala is for the one who manumits, Once Allah's Apostle entered the house while some meat was being cooked in a pot, but only bread and some soup of the house were placed before, him. He said, Don't I see the pot containing meat? They said, Yes, but that meat was given to Barira in charity (by someone), and you do not eat what it given in charity. The Prophet said That meat is alms for her, but for us it is a present.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
5279
Sahih
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَهَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُهُ عَبْدًا يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ .
Narrated Ibn `Abbas: I saw him as a slave, (namely, Barira's husband).
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ( مغیث ) سے تھی۔
5280
Sahih
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذَاكَ مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ يَعْنِي زَوْجَ بَرِيرَةَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي عَلَيْهَا .
Narrated Ibn `Abbas: That was Mughith, the slave of Bani so-and-so, i.e., Barira's husband as if I am now looking at him following her (Barira) along the streets of Medina.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔
5281
Sahih
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ عَبْدًا لِبَنِي فُلَانٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ وَرَاءَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ .
Narrated Ibn `Abbas: Barira's husband was a black slave called Mughith, the slave of Bani so-and-so-- as if I am seeing him now, walking behind her along the streets of Medina.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔
5282
Sahih
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ : يَا عَبَّاسُ ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَاجَعْتِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ .
Narrated Ibn `Abbas: Barira's husband was a slave called Mughith, as if I am seeing him now, going behind Barira and weeping with his tears flowing down his beard. The Prophet said to `Abbas, O `Abbas ! are you not astonished at the love of Mughith for Barira and the hatred of Barira for Mughith? The Prophet then said to Barira, Why don't you return to him? She said, O Allah's Apostle! Do you order me to do so? He said, No, I only intercede for him. She said, I am not in need of him.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
5283
Sahih
(17) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ ، فَقِيلَ : إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ . حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَزَادَ : فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا .
Narrated Al-Aswad: Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet who said (to `Aisha), Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits. Once some me; was brought to the Prophet and was said, This meat was given in charity to Barira. The Prophet said, It an object of charity for Barira and present for us. Narrated Adam: Shu`ba relate the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ( آزادی کے بعد ) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں ) ۔
5284
Sahih
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ نِكَاحِ النَّصْرَانِيَّةِ ، وَالْيَهُودِيَّةِ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْمُشْرِكَاتِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا أَعْلَمُ مِنَ الْإِشْرَاكِ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنْ أَنْ تَقُولَ الْمَرْأَةُ : رَبُّهَا عِيسَى وَهُوَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ .
Narrated Nafi`: Whenever Ibn `Umar was asked about marrying a Christian lady or a Jewess, he would say: Allah has made it unlawful for the believers to marry ladies who ascribe partners in worship to Allah, and I do not know of a greater thing, as regards to ascribing partners in worship, etc. to Allah, than that a lady should say that Jesus is her Lord although he is just one of Allah's slaves.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔
5285
Sahih
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَقَالَ عَطَاءٌ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، كَانَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى مَنْزِلَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ ، كَانُوا مُشْرِكِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ وَمُشْرِكِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُونَهُ ، وَكَانَ إِذَا هَاجَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّى تَحِيضَ وَتَطْهُرَ ، فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّكَاحُ ، فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْكِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ : وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ .
Narrated Ibn 'Abbas: The pagans were of two kinds as regards their relationship to the Prophet and the Believers. Some of them were those with whom the Prophet was at war and used to fight against, and they used to fight him; the others were those with whom the Prophet made a treaty, and neither did the Prophet fight them, nor did they fight him. If a lady from the first group of pagans emigrated towards the Muslims, her hand would not be asked in marriage unless she got the menses and then became clean. When she became clean, it would be lawful for her to get married, and if her husband emigrated too before she got married, then she would be returned to him. If any slave or female slave emigrated from them to the Muslims, then they would be considered free persons (not slaves) and they would have the same rights as given to other emigrants. The narrator then mentioned about the pagans involved with the Muslims in a treaty, the same as occurs in Mujahid's narration. If a male slave or a female slave emigrated from such pagans as had made a treaty with the Muslims, they would not be returned, but their prices would be paid (to the pagans).
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔
5286
Sahih
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
وَقَالَ عَطَاءٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : كَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَكَانَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ ، فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمانَ الثَّقَفِيُّ .
Narrated Ibn 'Abbas: Qariba, The daughter of Abi Umaiyya, was the wife of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar divorced her and then Mu'awiyya bin Abi Sufyan married her. Similarly, Um Al-Hakam, the daughter of Abi Sufyan was the wife of 'Iyad bin Ghanm Al-Fihri. He divorced her and then 'Abdullah bin 'Uthman Al-Thaqafi married her.
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
5287
Sahih
(20) CHAPTER. (What) if an idolatress (Al-Mushrikah) or a Christian woman becomes a Muslim while she is the wife of a Dhimmi (i.e., a non-Muslim under the protection of a Muslim government), or Mushrik at war with the Muslims?
اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہواسلام لائے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ سورة الممتحنة آية 10 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ ، قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ ، لَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ ، غَيْرَ أَنَّهُ بَايَعَهُنَّ بِالْكَلَامِ ، وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ : يَقُولُ لَهُنَّ : إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) When believing women came to the Prophet as emigrants, he used to test them in accordance with the order of Allah. 'O you who believe! When believing women come to you as emigrants, examine them . . .' (60.10) So if anyone of those believing women accepted the above mentioned conditions, she accepted the conditions of faith. When they agreed on those conditions and confessed that with their tongues, Allah's Apostle would say to them, Go, I have accepted your oath of allegiance (for Islam). By Allah, and hand of Allah's Apostle never touched the hand of any woman, but he only used to take their pledge of allegiance orally. By Allah, Allah's Apostle did not take the pledge of allegiance of the women except in accordance with what Allah had ordered him. When he accepted their pledge of allegiance he would say to them, I have accepted your oath of allegiance.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن‏» کہ ”اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان ( ہجرت کرنے والی ) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی ( جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“ ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے ( بیعت لیتے وقت ) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے ( بیعت لیتے تھے ) ۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔
5288
Sahih
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلَيْتَ شَهْرًا ، فَقَالَ : الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle took an oath that he would abstain from his wives, and at that time his leg had been sprained (dislocated). So he stayed in the Mashruba (an attic room) of his for 29 days. Then he came down, and they (the people) said, O Allah's Apostle! You took an oath to abstain from your wives for one month. He said, The month is of twenty nine days.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
5289
Sahih
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ فِي الْإِيلَاءِ الَّذِي سَمَّى اللَّهُ : لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَ الْأَجَلِ إِلَّا أَنْ يُمْسِكَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَعْزِمَ بِالطَّلَاقِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . وقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يُوقَفُ حَتَّى يُطَلِّقَ وَلَا يَقَعُ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ حَتَّى يُطَلِّقَ ، وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ ، وعَلِيٍّ ، وأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وعَائِشَةَ ، واثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Nafi`: Ibn `Umar used to say about the Ila (which Allah defined (in the Holy Book), If the period of Ila expires, then the husband has either to retain his wife in a handsome manner or to divorce her as Allah has ordered.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ایلاء کے بارے میں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، فرماتے تھے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں، سوا اس کے کہ قاعدہ کے مطابق ( اپنی بیوی کو ) اپنے پاس ہی روک لے یا پھر طلاق دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا کہ ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ چار مہینے گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے پیش کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ طلاق دیدے اور طلاق اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک طلاق دی نہ جائے اور عثمان، علی، ابودرداء اور عائشہ اور بارہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
5290
Sahih

Chapters

43
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Prophet ! When you divorce women, divorce them at their Idda (prescribed periods) and count (accurately) their Idda (prescribed periods).” (V.65:1)
طلاق کے بیان میں ۔
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. If a woman is divorced during her menses, then that divorce is counted as one legal divorce.
اگر حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو یہ طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
8 Hadith
04
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا ۔
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جب کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں جدا کیا ۔
3 Hadith
06
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
7 Hadith
07
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
4 Hadith
08
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
میاں بیوی میں نااتفاقی کا بیان ۔
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
1 Hadith
10
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
4 Hadith
11
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
1 Hadith
12
(17) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
13
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
1 Hadith
14
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
15
(20) CHAPTER. (What) if an idolatress (Al-Mushrikah) or a Christian woman becomes a Muslim while she is the wife of a Dhimmi (i.e., a non-Muslim under the protection of a Muslim government), or Mushrik at war with the Muslims?
اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہواسلام لائے ۔
1 Hadith
16
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
2 Hadith
17
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
2 Hadith
18
(24) CHAPTER. Using gestures to express the decision of divorcing and other matters.
اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے ؟
7 Hadith
19
(25) CHAPTER. Al-Lian. The Statement of Allah: And for those who accuse their wives... (up to)... if he (her husband) speaks the truth. (V.24:6-9)
لعان کا بیان ۔
5 Hadith
20
(26) CHAPTER. If a husband hints that he suspects his paternity to a child.
جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اورصاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. Commanding those who are involved in a case of Lian to take the oath (of Lian).
لعان کرنے والے کو قسم کھلانا ۔
1 Hadith
22
(28) CHAPTER. The man should start the process of Lian.
لعان کی ابتداء مرد کرے گا ( پھر عورت ) ۔
1 Hadith
23
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
1 Hadith
24
(30) CHAPTER. To carry out Lian in a mosque.
مسجد میں لعان کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
25
(31) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “If I were to stone any person to death without witnesses.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں بغیر گواہی کے کسی کو سنگسار کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔
1 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Mahr in the case of Lian.
اس بارے میں کہ لعان کرنے والی کا مہر ملے گا ۔
1 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
1 Hadith
28
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
2 Hadith
29
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
1 Hadith
30
(36) CHAPTER. The statement of the Imam: “O Allah! Reveal the truth.”
امام یا حاکم لعان کے وقت یوں دعا کرے یا اللہ ! جواصل حقیقت ہے وہ کھول دے ۔
1 Hadith
31
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
1 Hadith
32
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
11 Hadith
33
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
1 Hadith
34
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
3 Hadith
35
(45) CHAPTER. To take hack one's wife (if she is divorced) while in her menses.
حائضہ سے رجعت کرنا ۔
1 Hadith
36
(46) CHAPTER. A widow should mourn for four months and ten days.
جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے ۔
4 Hadith
37
(47) CHAPTER. Can a mourning lady use kohl?
عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے ۔
3 Hadith
38
(48) CHAPTER. Qust (incense) may be used by a mourning lady after being cleaned from her menses.
زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے ۔
1 Hadith
39
(49) CHAPTER. A mourning lady can wear clothes of Asb (a kind of Yemeness cloth that is very coarse).
سوگ والی عورت یمن کے دھاریدار کپڑے پہن سکتی ہے ۔
2 Hadith
40
(50) CHAPTER. “And those of you who die, and leave behind wives... (up to)... and Allah is Well-Acquainted with what you do.” (V.2:234)
اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ( اور سورۃ البقرہ ) ” بما تعملون خبیر “ تک ۔ یعنی وفات کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
41
(51) CHAPTER. What is said regarding the earnings of a prostitute and the illegal wedding.
بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان ۔
3 Hadith
42
(52) CHAPTER. The Mahr of the lady whose husband entered upon her to consummate his marriage.
جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا ۔
1 Hadith
43
(53) CHAPTER. The gift given by a husband to a divorced lady for whom Mahr has not been fixed.
عورت کو بطور سلوک کچھ کپڑا یا زیور یا نقد دینا جب اس کا مہر نہ ٹھہرا ہو ۔
1 Hadith
No chapter matched that.