TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of divorce. - کتاب طلاق کے مسائل کا بیان - Book 69 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 69 of Sahih Bukhari, with 43 chapters and 100 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

100 Hadith · 43 Chapters
(32) CHAPTER. The Mahr in the case of Lian.
اس بارے میں کہ لعان کرنے والی کا مہر ملے گا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : فَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، وَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، فَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ فَأَبَيَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا . قَالَ أَيُّوبُ : فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : إِنَّ فِي الْحَدِيثِ شَيْئًا لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ ، قَالَ : قَالَ الرَّجُلُ : مَالِي ، قَالَ : قِيلَ : لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ .
Narrated Sa`id bin Jubair: I asked Ibn `Umar, (What is the verdict if) a man accuses his wife of illegal sexual intercourse? Ibn `Umar said, The Prophet separated (by divorce) the couple of Bani Al-Ajlan, and said, (to them), 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. He again said, 'Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent?' But both of them refused. So he separated them by divorce. (Aiyub, a sub-narrator said: `Amr bin Dinar said to me, There is something else in this Hadith which you have not mentioned. It goes thus: The man said, 'What about my money (i.e. the Mahr that I have given to my wife)?' It was said, 'You have no right to restore any money, for if you have spoken the truth (as regards the accusation), you have also consummated your marriage with her; and if you have told a lie, you are less rightful to have your money back.' )
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل نے خبر دی، انہیں ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے ایک ( جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو ) رجوع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں۔ فرمایا کہ ان صاحب نے ( جنہوں نے لعان کیا تھا ) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا ( جو میں نے مہر میں دیا تھا ) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال ( جو عورت کو مہر میں دیا تھا ) اب تمہارا نہیں رہا۔ اگر تم سچے ہو ( اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے۔
5311
Sahih
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ حَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ : حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ، قَالَ : مَالِي ؟ قَالَ : لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ ، قَالَ سُفْيَانُ : حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو . وَقَالَ أَيُّوبُ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ ، وَفَرَّقَ سُفْيَانُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، فَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ ، وَقَالَ : اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ سُفْيَانُ : حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرٍو وأَيُّوبَ كَمَا أَخْبَرْتُكَ .
Narrated Sa`id bin Jubair: I asked Ibn `Umar about those who were involved in a case of Lien. He said, The Prophet said to those who were involved in a case of Lien, 'Your accounts are with Allah. One of you two is a liar, and you (the husband) have no right over her (she is divorced). The man said, 'What about my property (Mahr) ?' The Prophet said, 'You have no right to get back your property. If you have told the truth about her then your property was for the consummation of your marriage with her; and if you told a lie about her, then you are less rightful to get your property back.' Sufyan, a sub-narrator said: I learned the Hadith from `Amr. Narrated Aiyub: I heard Sa`id bin Jubair saying, I asked Ibn `Umar, 'If a man (accuses his wife for an illegal sexual intercourse and) carries out the process of Lian (what will happen)?' Ibn `Umar set two of his fingers apart. (Sufyan set his index finger and middle finger apart.) Ibn `Umar said, 'The Prophet separated the couple of Bani Al-Ajlan by divorce and said thrice, Allah knows that one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?'
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے ( جو مہر میں دیا گیا تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یاد کی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دو شہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کر لے گا؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی۔
5312
Sahih
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ قَذَفَهَا وَأَحْلَفَهُمَا .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle separated (divorced) the wife from her husband who accused her for an illegal sexual intercourse, and made them take the oath of Lian .
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی۔
5313
Sahih
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet made an Ansari man and his wife carry out Lian, and then separated them by divorce.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا مجھے نافع نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔
5314
Sahih
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet made a man and his wife carry out Lian, and the husband repudiated her child. So the Prophet got them separated (by divorce) and decided that the child belonged to the mother only.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہ ہم سے مالک نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔
5315
Sahih
(36) CHAPTER. The statement of the Imam: “O Allah! Reveal the truth.”
امام یا حاکم لعان کے وقت یوں دعا کرے یا اللہ ! جواصل حقیقت ہے وہ کھول دے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، فَقَالَ عَاصِمٌ : مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا لِقَوْلِي ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا ، قَلِيلَ اللَّحْمِ ، سَبْطَ الشَّعَرِ ، وَكَانَ الَّذِي وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ ، جَعْدًا ، قَطَطًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَهَا ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ : هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا ، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ .
Narrated Ibn `Abbas: Those involved in a case of Lian were mentioned before Allah's Apostle `Asim bin Adi said something about that and then left. Later on a man from his tribe came to him and told him that he had found another man with his wife. On that `Asim said, I have not been put to task except for what I have said (about Lian). `Asim took the man to Allah's Apostle and he told him of the state in which he found his wife. The man was pale, thin and lank-haired, while the other man whom he had found with his wife was brown, fat with thick calves and curly hair. Allah's Apostle said, O Allah! Reveal the truth. Then the lady delivered a child resembling the man whom her husband had mentioned he had found with her. So Allah's Apostle ordered them to carry out Lien. A man from that gathering said to Ibn `Abbas, Was she the same lady regarding whom Allah's Apostle said, 'If I were to stone to death someone without witnesses, I would have stoned this lady'? Ibn `Abbas said, No, that was another lady who, though being a Muslim, used to arouse suspicion because of her outright misbehavior.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی ( کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں ) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جس کے کہنے کی جرات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی رنگ، گھٹے جسم کا زرد، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی۔
5316
Sahih
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، ثُمَّ طَلَّقَهَا ، فَتَزَوَّجَتْ آخَرَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهُ لَا يَأْتِيهَا وَأَنَّهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةٍ ، فَقَالَ : لَا ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ .
Narrated `Aisha: Rifa`a Al-Qurazi married a lady and then divorced her whereupon she married another man. She came to the Prophet and said that her new husband did not approach her, and that he was completely impotent. The Prophet said (to her), No (you cannot remarry your first husband) till you taste the second husband and he tastes you (i.e. till he consummates his marriage with you).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے ( انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم اس ( دوسرے شوہر ) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔
5317
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهَا : سُبَيْعَةُ كَانَتْ تَحْتَ زَوْجِهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ حُبْلَى ، فَخَطَبَهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ ، فَأَبَتْ أَنْ تَنْكِحَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا يَصْلُحُ أَنْ تَنْكِحِيهِ حَتَّى تَعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ ، فَمَكُثَتْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ لَيَالٍ ، ثُمَّ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : انْكِحِي .
Narrated Um Salama: (the wife of the Prophet) A lady from Bani Aslam, called Subai'a, become a widow while she was pregnant. Abu As-Sanabil bin Ba'kak demanded her hand in marriage, but she refused to marry him and said, By Allah, I cannot marry him unless I have completed one of the two prescribed periods. About ten days later (after having delivered her child), she went to the Prophet and he said (to her), You can marry now.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے ( جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں ) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ ( وضع حمل کے بعد ) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔
5318
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ الْأَرْقَمِ أَنْ يَسْأَلَ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ ، كَيْفَ أَفْتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : أَفْتَانِي إِذَا وَضَعْتُ أَنْ أَنْكِحَ .
Narrated `Abdullah bin `Abdullah: that his father had written to Ibn Al-Arqam a letter asking him to ask Subai'a Al-Aslamiya how the Prophet had given her the verdict. She said, The Prophet, gave me his verdict that after I gave birth, I could marry.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔
5319
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَنَكَحَتْ .
Narrated Al-Miswer bin Makhrama: Subai'a Al-Aslamiya gave birth to a child a few days after the death of her husband. She came to the Prophet and asked permission to remarry, and the Prophet gave her permission, and she got married.
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔
5320
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .
Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar: that Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house. Marwan (in Sulaiman's version) said, Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument). (In Al-Qasim's versions Marwan said, Have you not heard of the case of Fatima bint Qais? Aisha said, The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha, The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) ۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی۔
5321
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ : اتَّقِ اللَّهَ وَارْدُدْهَا إِلَى بَيْتِهَا ، قَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ غَلَبَنِي ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ مَرْوَانُ بْنُ الحَكَمِ : إِنْ كَانَ بِكِ شَرٌّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ .
Narrated Qasim bin Muhammad and Sulaiman bin Yasar: that Yahya bin Sa`id bin Al-`As divorced the daughter of `Abdur-Rahman bin Al-Hakarn. `Abdur- Rahman took her to his house. On that `Aisha sent a message to Marwan bin Al-Hakam who was the ruler of Medina, saying, Fear Allah, and urge your brother) to return her to her house. Marwan (in Sulaiman's version) said, Abdur-Rahman bin Al-Hakam did not obey me (or had a convincing argument). (In Al-Qasim's versions Marwan said, Have you not heard of the case of Fatima bint Qais? Aisha said, The case of Fatima bint Qais is not in your favor.' Marwan bin Al-Hakam said to `Aisha, The reason that made Fatima bint Qais go to her father's house is just applicable to the daughter of `Abdur-Rahman.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار نے، وہ دونوں بیان کرتے تھے کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی صاحبزادی ( عمرہ ) کو طلاق دے دی تھی اور ان کے باپ عبدالرحمٰن انہیں ان کے ( شوہر کے ) گھر سے لے آئے ( عدت کے ایام گزرنے سے پہلے ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے مروان بن حکم کے یہاں، جو اس وقت مدینہ کا امیر تھا، کہلوایا کہ اللہ سے ڈرو اور لڑکی کو اس کے گھر ( جہاں اسے طلاق ہوئی ہے ) پہنچا دو۔ جیسا کہ سلیمان بن یسار کی حدیث میں ہے۔ مروان نے اس کو جواب یہ دیا کہ لڑکی کے والد عبدالرحمٰن بن حکم نے میری بات نہیں مانی اور قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ( مروان نے ام المؤمنین کو یہ جواب دیا کہ ) کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟ ( انہوں نے بھی اپنے شوہر کے گھر عدت نہیں گزاری تھی ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ اگر تم فاطمہ کے واقعہ کا حوالہ نہ دیتے تب بھی تمہارا کچھ نہ بگڑتا ( کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں بن سکتا ) ۔ مروان بن حکم نے اس پر کہا کہ اگر آپ کے نزدیک ( فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ان کے شوہر کے گھر سے منتقل کرنا ) ان کے اور ان کے شوہر کے رشتہ داری کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تھا تو یہاں بھی یہی وجہ کافی ہے کہ دونوں ( میاں بیوی ) کے درمیان کشیدگی تھی۔
5322
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا : لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ .
Narrated Al-Qasim: Aisha said, What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah? by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا ( کہ مطلقہ بائنہ کو ) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔
5323
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا لِفَاطِمَةَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ يَعْنِي فِي قَوْلِهَا : لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ .
Narrated Al-Qasim: Aisha said, What is wrong with Fatima? Why doesn't she fear Allah? by saying that a divorced lady is not entitled to be provided with residence and sustenance (by her husband).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا فاطمہ بنت قیس، اللہ سے ڈرتی نہیں! ان کا اشارہ ان کے اس قول کی طرف تھا ( کہ مطلقہ بائنہ کو ) «نفقة وسكنى» دینا ضروری نہیں جو کہتی ہے کہ طلاق بائن جس عورت پر پڑے اسے مسکن اور خرچہ نہیں ملے گا۔
5324
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Qasim: Urwa said to Aisha, Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house). `Aisha said, What a bad thing she has done! 'Urwa said (to `Aisha), Haven't you heard the statement of Fatima? `Aisha replied, It is not in her favor to mention. 'Urwa added, `Aisha reproached (Fatima) severely and said, Fatima was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet allowed her (to go out of her husband's house).
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ ( عمرہ بنت حکم ) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں ( عدت گزارے بغیر ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر ) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں سے منتقل ہونے کی ) انہیں اجازت دے دی تھی۔
5325
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ : أَلَمْ تَرَيْ إِلَى فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَخَرَجَتْ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا صَنَعَتْ ، قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ ، قَالَتْ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَابَتْ عَائِشَةُ أَشَدَّ الْعَيْبِ ، وَقَالَتْ : إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا ، فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Qasim: Urwa said to Aisha, Do you know so-and-so, the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left (her husband's house). `Aisha said, What a bad thing she has done! 'Urwa said (to `Aisha), Haven't you heard the statement of Fatima? `Aisha replied, It is not in her favor to mention. 'Urwa added, `Aisha reproached (Fatima) severely and said, Fatima was in a lonely place, and she was prone to danger, so the Prophet allowed her (to go out of her husband's house).
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے کہ عروہ بن زبیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ فلانہ ( عمرہ بنت حکم ) بنت حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں۔ ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں ( عدت گزارے بغیر ) ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے کیا بہت برا کیا۔ عروہ نے کہا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا۔ بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور ابن ابی زناد نے ہشام سے یہ اضافہ کیا ہے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( عمرہ بنت حکم کے معاملہ پر ) اپنی شدید ناگواری کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تو ایک اجاڑ جگہ میں تھیں اور اس کے چاروں طرف خوف اور وحشت برستی تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہاں سے منتقل ہونے کی ) انہیں اجازت دے دی تھی۔
5326
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ .
Narrated 'Urwa: Aisha disapproved of what Fatima used to say.'
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا ( کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا ) انکار کیا۔
5327
Sahih
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
حَدَّثَنِي حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ .
Narrated 'Urwa: Aisha disapproved of what Fatima used to say.'
مجھ سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی اس بات کا ( کہ مطلقہ بائنہ کو «نفقة وسكنى» نہیں ملے گا ) انکار کیا۔
5328
Sahih
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً ، فَقَالَ لَهَا : عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي إِذًا .
Narrated `Aisha: When Allah's Apostle decided to leave Mecca after the Hajj, he saw Safiyya, sad and standing at the entrance of her tent. He said to her, Aqr (or) Halq! You will detain us. Did you perform Tawaf-al- Ifada on the day of Nahr? She said, Yes. He said, Then you can depart.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
5329
Sahih
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : زَوَّجَ مَعْقِلٌ أُخْتَهُ ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً .
Narrated Al-Hasan: Ma'qil gave his sister in marriage and later her husband divorced her once.
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا، پھر ( ان کے شوہر نے ) انہیں ایک طلاق دی۔
5330
Sahih

Chapters

43
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Prophet ! When you divorce women, divorce them at their Idda (prescribed periods) and count (accurately) their Idda (prescribed periods).” (V.65:1)
طلاق کے بیان میں ۔
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. If a woman is divorced during her menses, then that divorce is counted as one legal divorce.
اگر حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو یہ طلاق شمار ہو گی یا نہیں ؟
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
8 Hadith
04
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جس نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا ۔
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever gave option to his wives.
جب کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں جدا کیا ۔
3 Hadith
06
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
7 Hadith
07
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
خلع کے بیان میں ۔
4 Hadith
08
(12) CHAPTER. Al-Khul and how a divorce is given according to it.
میاں بیوی میں نااتفاقی کا بیان ۔
1 Hadith
09
(13) CHAPTER. Ash-Shiqaq (the breach between the man and his wife).
اگر لونڈی کسی کے نکاح میں ہو اس کے بعد بیچی جائے تو بیع سے طلاق نہ پڑے گی ۔
1 Hadith
10
(14) CHAPTER. Selling a female slave does not necessarily lead to her divorce.
اگر لونڈی غلام کے نکاح میں ہو پھر وہ لونڈی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہو گا خواہ وہ نکاح باقی رکھے یا فسخ کر ڈالے ۔
4 Hadith
11
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
1 Hadith
12
(17) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
13
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “Do not marry Al-Mushrikat (idolatresses) till they believe (i.e., worship Allah Alone). And indeed a slave woman who believes is better than a (free) Mushrikah (idolatress) even though she pleases you. (V.2:221)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور یقیناً مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے گو مشرک عورت تم کو بھلی لگے ۔
1 Hadith
14
(19) CHAPTER. Marrying Al-Mushrikat (pagan ladies) who had embraced Islam; and their Idda.
اسلام قبول کرنے والی مشرک عورتوں سے نکاح اور ان کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
15
(20) CHAPTER. (What) if an idolatress (Al-Mushrikah) or a Christian woman becomes a Muslim while she is the wife of a Dhimmi (i.e., a non-Muslim under the protection of a Muslim government), or Mushrik at war with the Muslims?
اس بیان میں کہ جب مشرک یا نصرانی عورت جو معاہد مشرک یا حربی مشرک کے نکاح میں ہواسلام لائے ۔
1 Hadith
16
(21) CHAPTER. The Statement of Allah: “Those who take an oath, not to have sexual relations with their wives, must wait four months.” (V.2:226)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں فرمانا کہ ) ۔
2 Hadith
17
(22) CHAPTER. What are the regulations concerning the property and family of a lost person?
جو شخص گم ہو جائے اس کے گھر والوں اور جائیداد میں کیا عمل ہو گا ۔
2 Hadith
18
(24) CHAPTER. Using gestures to express the decision of divorcing and other matters.
اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے ؟
7 Hadith
19
(25) CHAPTER. Al-Lian. The Statement of Allah: And for those who accuse their wives... (up to)... if he (her husband) speaks the truth. (V.24:6-9)
لعان کا بیان ۔
5 Hadith
20
(26) CHAPTER. If a husband hints that he suspects his paternity to a child.
جب اشاروں سے اپنی بیوی کے بچے کا انکار کرے اورصاف نہ کہہ سکے کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے تو کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. Commanding those who are involved in a case of Lian to take the oath (of Lian).
لعان کرنے والے کو قسم کھلانا ۔
1 Hadith
22
(28) CHAPTER. The man should start the process of Lian.
لعان کی ابتداء مرد کرے گا ( پھر عورت ) ۔
1 Hadith
23
(29) CHAPTER. Al-Lian, and whoever divorced (his wife) after the process of Lian.
لعان اور لعان کے بعد طلاق دینے کا بیان ۔
1 Hadith
24
(30) CHAPTER. To carry out Lian in a mosque.
مسجد میں لعان کرنے کا بیان ۔
1 Hadith
25
(31) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “If I were to stone any person to death without witnesses.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں بغیر گواہی کے کسی کو سنگسار کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔
1 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Mahr in the case of Lian.
اس بارے میں کہ لعان کرنے والی کا مہر ملے گا ۔
1 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Saying of Imam (ruler) to those who are involved in a case of Lian: “Surely one of you two is a liar; so will one of you repent (to Allah)?”
حاکم لعان کرنے والوں سے یہ کہناتم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے تو کیا وہ توبہ کرتا ہے ؟
1 Hadith
28
(34) CHAPTER. The separation (divorce) between those who are involved in a case of Lian.
لعان کرنے والوں میں جدائی کرنا ۔
2 Hadith
29
(35) CHAPTER. The child is to be given to the lady (accused by her husband for an illegal sexual intercourse).
لعان کے بعد عورت کا بچہ ( جس کو مرد کہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ) ماں سے ملادیا جائے گا ( اسی کا بچہ کہلائے گا ) ۔
1 Hadith
30
(36) CHAPTER. The statement of the Imam: “O Allah! Reveal the truth.”
امام یا حاکم لعان کے وقت یوں دعا کرے یا اللہ ! جواصل حقیقت ہے وہ کھول دے ۔
1 Hadith
31
(37) CHAPTER. If a person divorces his wife thrice and she marries another man after the completion of her Idda but the second husband does not consummate his marriage with her.
جب کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور بیوی نے عدت گزار کر دوسرے شوہر سے شادی کی لیکن دوسرے شوہر نے اس سے صحبت نہیں کی ۔
1 Hadith
32
(39) CHAPTER. “For those who are pregnant (whether they are divorced or their husbands are dead) their Idda (period) is until they laydown their burdens.” (V.65:4)
حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ بچہ جنیں ۔
11 Hadith
33
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
1 Hadith
34
(44) CHAPTER. “And their husbands have the better right to take them (divorced ladies) back,” (V.2:228) during the period of the Idda.
اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کیاندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے اور اس بات کا بیان کہ جب عورت کو ایک یاد و طلاق دی ہوں تو کیونکر رجعت کرے ۔
3 Hadith
35
(45) CHAPTER. To take hack one's wife (if she is divorced) while in her menses.
حائضہ سے رجعت کرنا ۔
1 Hadith
36
(46) CHAPTER. A widow should mourn for four months and ten days.
جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے ۔
4 Hadith
37
(47) CHAPTER. Can a mourning lady use kohl?
عورت عدت میں سرمہ کا استعمال نہ کرے ۔
3 Hadith
38
(48) CHAPTER. Qust (incense) may be used by a mourning lady after being cleaned from her menses.
زمانہ عدت میں حیض سے پاکی کے وقت عود کا استعمال کرنا جائز ہے ۔
1 Hadith
39
(49) CHAPTER. A mourning lady can wear clothes of Asb (a kind of Yemeness cloth that is very coarse).
سوگ والی عورت یمن کے دھاریدار کپڑے پہن سکتی ہے ۔
2 Hadith
40
(50) CHAPTER. “And those of you who die, and leave behind wives... (up to)... and Allah is Well-Acquainted with what you do.” (V.2:234)
اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ( اور سورۃ البقرہ ) ” بما تعملون خبیر “ تک ۔ یعنی وفات کی عدت کا بیان ۔
2 Hadith
41
(51) CHAPTER. What is said regarding the earnings of a prostitute and the illegal wedding.
بیوہ کے خرچے اور نکاح فاسد کا بیان ۔
3 Hadith
42
(52) CHAPTER. The Mahr of the lady whose husband entered upon her to consummate his marriage.
جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا ۔
1 Hadith
43
(53) CHAPTER. The gift given by a husband to a divorced lady for whom Mahr has not been fixed.
عورت کو بطور سلوک کچھ کپڑا یا زیور یا نقد دینا جب اس کا مہر نہ ٹھہرا ہو ۔
1 Hadith
No chapter matched that.