TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of asking permission. - کتاب اجازت لینے کے بیان میں - Book 80 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 80 of Sahih Bukhari, with 55 chapters and 77 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

77 Hadith · 55 Chapters
(1) CHAPTER. How the Salam began (greeting) began.
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ، طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّى الآنَ».
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah created Adam in His picture, sixty cubits (about 30 meters) in height. When He created him, He said (to him), Go and greet that group of angels sitting there, and listen what they will say in reply to you, for that will be your greeting and the greeting of your offspring. Adam (went and) said, 'As-Salamu alaikum (Peace be upon you).' They replied, 'AsSalamu-'Alaika wa Rahmatullah (Peace and Allah's Mercy be on you) So they increased 'Wa Rahmatullah' The Prophet added 'So whoever will enter Paradise, will be of the shape and picture of Adam Since then the creation of Adam's (offspring) (i.e. stature of human beings is being diminished continuously) to the present time.
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کر چکا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم! فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ، انہوں نے آدم کے سلام پر ”ورحمۃ اللہ“ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گا۔“ اس کے بعد سے پھر خلقت کا قد و قامت کم ہوتا گیا، اب تک ایسا ہی ہوتا رہا۔
6227
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
سلام کے شروع ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ النَّحْرِ خَلْفَهُ عَلَى عَجُزِ رَاحِلَتِهِ ، وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلًا وَضِيئًا ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، فَأَخْلَفَ بِيَدِهِ ، فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ ، فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
Narrated `Abdullah bin `Abbas: Al-Fadl bin `Abbas rode behind the Prophet as his companion rider on the back portion of his she camel on the Day of Nahr (slaughtering of sacrifice, 10th Dhul-Hijja) and Al-Fadl was a handsome man. The Prophet stopped to give the people verdicts. In the meantime, a beautiful woman From the tribe of Khath'am came, asking the verdict of Allah's Apostle. Al-Fadl started looking at her as her beauty attracted him. The Prophet looked behind while Al-Fadl was looking at her; so the Prophet held out his hand backwards and caught the chin of Al-Fadl and turned his face (to the owner sides in order that he should not gaze at her. She said, O Allah's Apostle! The obligation of Performing Hajj enjoined by Allah on His worshipers, has become due (compulsory) on my father who is an old man and who cannot sit firmly on the riding animal. Will it be sufficient that I perform Hajj on his behalf? He said, Yes.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگو ہوتا ہے، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔
6228
Sahih
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، فَقَالَ : إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, 'Beware! Avoid sitting on the roads. They (the people) said, O Allah s Apostle! We can't help sitting (on the roads) as these are (our places) here we have talks. The Prophet said, ' l f you refuse but to sit, then pay the road its right ' They said, What is the right of the road, O Allah's Apostle? He said, 'Lowering your gaze, refraining from harming others, returning greeting, and enjoining what is good, and forbidding what is evil.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوعامر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری یہ مجالس تو بہت ضروری ہیں، ہم وہیں روزمرہ گفتگو کیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا ( غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے ) نظر نیچی رکھنا، راہ گیروں کو نہ ستانا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
6229
Sahih
(3) CHAPTER. As-Salam is one of the Names of Allah: (Allah's Statement): When you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or (at least) return it equally... (V.4:86)
سلام کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَقُلِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ ، أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ .
Narrated `Abdullah: When we prayed with the Prophet we used to say: As-Salam be on Allah from His worshipers, As- Salam be on Gabriel, As-Salam be on Michael, As-Salam be on so-and-so. When the Prophet finished his prayer, he faced us and said, Allah Himself is As-Salam (Peace), so when one sits in the prayer, one should say, 'at-Tahiyatu-li l-lahi Was-Salawatu, Wat-Taiyibatu, As-Salamu 'Alaika aiyuhan- Nabiyyu wa Rah-matul-iahi wa Barakatuhu, As-Salamu 'Alaina wa 'ala 'Ibadillahi assalihin, for if he says so, then it will be for all the pious slave of Allah in the Heavens and the Earth. (Then he should say), 'Ash-hadu an la ilaha illalllahu wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa rasulu-hu,' and then he can choose whatever speech (i.e. invocation) he wishes (See Hadith No. 797, Vol. 1).
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله،‏‏‏‏ والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته،‏‏‏‏ السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين‏.‏» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله‏.‏» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔
6230
Sahih
(4) CHAPTER. The small number (of persons) should greet the large number (of persons).
تھوڑی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The young should greet the old, the passer by should greet the sitting one, and the small group of persons should greet the large group of persons.
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے اور چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے۔“
6231
Sahih
(5) CHAPTER. The riding person should greet the walking person.
سوار پہلے پیدل کو سلام کرے
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The riding one should greet the walking one, and the walking one should greet the sitting one, and the small number of persons should greet the large number of persons.
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت سے سنا، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“
6232
Sahih
(6) CHAPTER. The walking person should greet the sitting one.
چلنے والا پہلے بیٹھے ہوئے شخص کوسلام کرے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا أَخْبَرَهُ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The riding person should greet the walking one, and the walking one should greet the sitting one, and the small number of persons should greet the large number of persons.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہیں ثابت نے خبر دی جو عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ہیں۔ اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو اور چھوٹی جماعت پہلے بڑی جماعت کو سلام کرے۔“
6233
Sahih
(7) CHAPTER. The younger person should greet the older one.
کمعمر والا پہلے بڑی عمر والے کو سلام کرے
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ : عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ، وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The younger person should greet the older one, and the walking person should greet the sitting one, and the small number of persons should greet the large number of persons.
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“
6234
Sahih
(8) CHAPTER. To propagate As-Salam (greeting) (among people).
سلام کو زیادہ رواج دینا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ : بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَنَصْرِ الضَّعِيفِ ، وَعَوْنِ الْمَظْلُومِ ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، وَنَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ ، وَنَهَانَا عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ .
Narrated Al-Bara' bin 'Azib: Allah's Apostle ordered us to do seven (things): to visit the sick, to follow the funeral processions, to say Tashmit to a sneezer, to help the weak, to help the oppressed ones, to propagate As-Salam (greeting), and to help others to fulfill their oaths (if it is not sinful). He forbade us to drink from silver utensils, to wear gold rings, to ride on silken saddles, to wear silk clothes, Dibaj (thick silk cloth), Qassiy and Istabraq (two kinds of silk). (See Hadith No. 539, Vol. 7)
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، افشاء سلام ( سلام کا جواب دینے اور بکثرت سلام کرنے ) کا، قسم ( حق ) کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر ( ریشم کی زین ) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی ( ریشمی کپڑا ) اور استبرق پہننے سے ( منع فرمایا تھا ) ۔
6235
Sahih
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ ، وَعَلَى مَنْ لَمْ تَعْرِفْ .
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: A man asked the Prophet, What Islamic traits are the best? The Prophet said, Feed the people, and greet those whom you know and those whom you do not know.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
6236
Sahih
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، يَلْتَقِيَانِ ، فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا ، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ، وَذَكَرَ سُفْيَانُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
Narrated Abu Aiyub: The Prophet said, It is not lawful for a Muslim to desert (not to speak to) his brother Muslim for more than three days while meeting, one turns his face to one side and the other turns his face to the other side. Lo! The better of the two is the one who starts greeting the other.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی ( مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق کاٹے کہ جب وہ ملیں تو یہ ایک طرف منہ پھیر لے اور دوسرا دوسری طرف اور دونوں میں اچھا وہ ہے جو سلام پہلے کرے۔“ اور سفیان نے کہا کہ انہوں نے یہ حدیث زہری سے تین مرتبہ سنی ہے۔
6237
Sahih
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ ، وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ ، وَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا ، فَدَعَا الْقَوْمَ ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ، ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ كَيْ يَخْرُجُوا ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَتَفَرَّقُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَظَنَّ أَنْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَأُنْزِلَ آيَةُ الْحِجَابِ ، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا .
Narrated Anas bin Malik: that he was a boy of ten at the time when the Prophet emigrated to Medina. He added: I served Allah's Apostle for ten years (the last part of his life time) and I know more than the people about the occasion whereupon the order of Al-Hijab was revealed (to the Prophet). Ubai b n Ka`b used to ask me about it. It was revealed (for the first time) during the marriage of Allah's Apostle with Zainab bint Jahsh. In the morning, the Prophet was a bride-groom of her and he Invited the people, who took their meals and went away, but a group of them remained with Allah's Apostle and they prolonged their stay. Allah's Apostle got up and went out, and I too, went out along with him till he came to the lintel of `Aisha's dwelling place. Allah's Apostle thought that those people had left by then, so he returned, and I too, returned with him till he entered upon Zainab and found that they were still sitting there and had not yet gone. The Prophet went out again, and so did I with him till he reached the lintel of `Aisha's dwelling place, and then he thought that those people must have left by then, so he returned, and so did I with him, and found those people had gone. At that time the Divine Verse of Al-Hijab was revealed, and the Prophet set a screen between me and him (his family).
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ پہلی خلوت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔
6238
Sahih
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ، دَخَلَ الْقَوْمُ فَطَعِمُوا ، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ، فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ ، فَلَمْ يَقُومُوا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ وَقَعَدَ بَقِيَّةُ الْقَوْمِ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ سورة الأحزاب آية 53 الْآيَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : فِيهِ مِنَ الْفِقْهِ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَأْذِنْهُمْ حِينَ قَامَ ، وَخَرَجَ وَفِيهِ أَنَّهُ تَهَيَّأَ لِلْقِيَامِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومُوا .
Narrated Anas: When the Prophet married Zainab, the people came and were offered a meal, and then they sat down (after finishing their meals) and started chatting. The Prophet showed as if he wanted to get up, but they did not get up. When he noticed that, he got up, and some of the people also got up and went away, while some others kept on sitting. When the Prophet returned to enter, he found the people still sitting, but then they got up and left. So I told the Prophet of their departure and he came and went in. I intended to go in but the Prophet put a screen between me and him, for Allah revealed:-- 'O you who believe! Enter not the Prophet's houses..' (33.53)
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ ان سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ( آپ واپس ہو گئے ) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏» ”اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ داخل ہو۔“ آخر تک۔
6239
Sahih
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْجُبْ نِسَاءَكَ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَفْعَلْ ، وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً ، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقَالَ : عَرَفْتُكِ يَا سَوْدَةُ ، حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ ، قَالَتْ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ الْحِجَابِ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) `Umar bin Al-Khattab used to say to Allah's Apostle Let your wives be veiled But he did not do so. The wives of the Prophet used to go out to answer the call of nature at night only at Al-Manasi.' Once Sauda, the daughter of Zam`a went out and she was a tall woman. `Umar bin Al-Khattab saw her while he was in a gathering, and said, I have recognized you, O Sauda! He (`Umar) said so as he was anxious for some Divine orders regarding the veil (the veiling of women.) So Allah revealed the Verse of veiling. (Al-Hijab; a complete body cover excluding the eyes). (See Hadith No. 148, Vol. 1)
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب نے خبر دی، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کا پردہ کرائیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور ازواج مطہرات رفع حاجت کے لیے صرف رات ہی کے وقت نکلتی تھیں ( اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے ) ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر گئی ہوئی تھیں۔ ان کا قد لمبا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ اس وقت وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سودہ میں نے آپ کو پہچان لیا یہ انہوں نے اس لیے کہا کیونکہ وہ پردہ کے حکم نازل ہونے کے بڑے متمنی تھے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل کی۔
6240
Sahih
(11) CHAPTER. Asking permission because of looking.
اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَفِظْتُهُ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ .
Narrated Sahl bin Sa`d: A man peeped through a round hole into the dwelling place of the Prophet, while the Prophet had a Midray (an iron comb) with which he was scratching his head. the Prophet said, Had known you were looking (through the hole), I would have pierced your eye with it (i.e., the comb). Verily! The order of taking permission to enter has been enjoined because of that sight, (that one should not look unlawfully at the state of others). (See Hadith No. 807, Vol. 7)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زہری نے بیان کیا (سفیان نے کہا کہ) میں نے یہ حدیث زہری سے سن کر اس طرح یاد کی ہے کہ جیسے تو اس وقت یہاں موجود ہو اور ان سے سہل بن سعد نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا تو ہے ہی اس لیے کہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دیکھی جائے۔
6241
Sahih
(11) CHAPTER. Asking permission because of looking.
اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ بِمَشَاقِصَ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطْعُنَهُ .
Narrated Anas bin Malik: A man peeped into a room of the Prophet. The Prophet stood up, holding an arrow head. It is as if I am just looking at him, trying to stab the man.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تیر کا پھل یا بہت سے پھل لے کر بڑھے، گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں ان صاحب کی طرف اس طرح چپکے چپکے تشریف لائے۔
6242
Sahih
(12) CHAPTER. (What is said regarding) the adultery of the body parts other than the private parts.
شرمگاہ کے علاوہ دوسرے اعضاء کے زنا کابیان
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمْ أَرَ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ، فَزِنَا الْعَيْنِ : النَّظَرُ ، وَزِنَا اللِّسَانِ : الْمَنْطِقُ ، وَالنَّفْسُ : تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ، وَالْفَرْجُ : يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ .
Narrated Ibn `Abbas: I have not seen a thing resembling 'lamam' (minor sins) than what Abu Huraira 'narrated from the Prophet who said Allah has written for Adam's son his share of adultery which he commits inevitably. The adultery of the eyes is the sight (to gaze at a forbidden thing), the adultery of the tongue is the talk, and the inner self wishes and desires and the private parts testify all this or deny it.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ صغیرہ گناہوں سے مشابہ میں نے اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو باتیں بیان کی ہیں وہ مراد ہیں ) ۔ مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے کوئی چیز صغیرہ گناہوں سے مشابہ اس حدیث کے مقابلہ میں نہیں دیکھی جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لامحالہ دوچار ہو گا پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔
6243
Sahih
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ ثَلَاثًا ، وَإِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا .
Narrated Anas: Whenever Allah's Apostle greeted somebody, he used to greet him three times, and if he spoke a sentence, he used to repeat it thrice.
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن مثنی نے خبر دی ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو سلام کرتے ( اور جواب نہ ملتا ) تو تین مرتبہ سلام کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرماتے تو ( زیادہ سے زیادہ ) تین مرتبہ اسے دہراتے۔
6244
Sahih
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ ، إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسَى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ ، فَقَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ ؟ قُلْتُ : اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، فَرَجَعْتُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، فَلْيَرْجِعْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : وَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ ، إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ ، فَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَقُمْتُ مَعَهُ ، فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ ، وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، بِهَذَا .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: While I was present in one of the gatherings of the Ansar, Abu Musa came as if he was scared, and said, I asked permission to enter upon `Umar three times, but I was not given the permission, so I returned. (When `Umar came to know about it) he said to Abu Musa, Why did you not enter?'. Abu Musa replied, I asked permission three times, and I was not given it, so I returned, for Allah's Apostle said, If anyone of you asks the permission to enter thrice, and the permission is not given, then he should return.' `Umar said, By Allah! We will ask Abu Musa to bring witnesses for it. (Abu Musa went to a gathering of the Ansar and said). Did anyone of you hear this from the Prophet ? Ubai bin Ka`b said, By Allah, none will go with you but the youngest of the people (as a witness). (Abu Sa`id) was the youngest of them, so I went with Abu Musa and informed `Umar that the Prophet had said so. (See Hadith No. 277, Vol. 3)
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ان سے بسر بن سعید اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے واپس چلا آیا ( عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا ) تو انہوں نے دریافت کیا کہ ( اندر آنے میں ) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا۔ ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا ) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ ( اس کی گواہی دینے کے سوا ) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے کوئی اور نہیں کھڑا ہو گا۔ ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انہوں نے بسر بن سعید سے، کہا میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔
6245
Sahih
(14) CHAPTER. If a man is invited, should he ask permission to enter at his arrival?
اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لئے اذن لینا چاہئے یا نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، أَخْبَرَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ ، فَقَالَ : أَبَا هِرٍّ : الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ ، فَادْعُهُمْ إِلَيَّ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَأَقْبَلُوا ، فَاسْتَأْذَنُوا ، فَأُذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا .
Narrated Abu Huraira: I entered (the house) along with Allah's Apostle . There he found milk in a basin. He said, O Abu Hirr! Go and call the people of Suffa to me. I went to them and invited them. They came and asked permission to enter, and when it was given, they entered. (See Hadith No. 459 for details)
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو مجاہد نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے گھر میں ) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ”ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور ( اندر آنے کی ) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔“
6246
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. How the Salam began (greeting) began.
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
سلام کے شروع ہونے کا بیان
1 Hadith
03
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا
1 Hadith
04
(3) CHAPTER. As-Salam is one of the Names of Allah: (Allah's Statement): When you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or (at least) return it equally... (V.4:86)
سلام کے بیان میں
1 Hadith
05
(4) CHAPTER. The small number (of persons) should greet the large number (of persons).
تھوڑی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے
1 Hadith
06
(5) CHAPTER. The riding person should greet the walking person.
سوار پہلے پیدل کو سلام کرے
1 Hadith
07
(6) CHAPTER. The walking person should greet the sitting one.
چلنے والا پہلے بیٹھے ہوئے شخص کوسلام کرے
1 Hadith
08
(7) CHAPTER. The younger person should greet the older one.
کمعمر والا پہلے بڑی عمر والے کو سلام کرے
1 Hadith
09
(8) CHAPTER. To propagate As-Salam (greeting) (among people).
سلام کو زیادہ رواج دینا
1 Hadith
10
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
2 Hadith
11
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
3 Hadith
12
(11) CHAPTER. Asking permission because of looking.
اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے
2 Hadith
13
(12) CHAPTER. (What is said regarding) the adultery of the body parts other than the private parts.
شرمگاہ کے علاوہ دوسرے اعضاء کے زنا کابیان
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
2 Hadith
15
(14) CHAPTER. If a man is invited, should he ask permission to enter at his arrival?
اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لئے اذن لینا چاہئے یا نہیں
1 Hadith
16
(15) CHAPTER. To greet the boys.
بچوں کو سلام کرنا
1 Hadith
17
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
2 Hadith
18
(17) CHAPTER. If somebody says, “Who is that?” And the other replies, I.
اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اور نام نہ لے
1 Hadith
19
(18) CHAPTER. Whoever replied to a greeting by saying, “Alaikas-Salam.” (Peace be on you) (singular).
جواب میں صرف علیک السلام کہنا
2 Hadith
20
(19) CHAPTER. If one says, “So-and-so sends Salam (greetings) to you.
اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص نے تجھ کو سلام کہاہے تو وہ کیا کہے
1 Hadith
21
(20) CHAPTER. Greeting (how to greet) a mix-up gathering in which there are Muslims and Al-Mushrikun.
ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں
1 Hadith
22
(21) CHAPTER. He who does not greet a person who has committed a sin, and the one who does not reply to his greeting till the evidence of his repentance becomes obvious. And up to what time limit (one should wait for) till the repentance of a sinner is known.
جس نےگناہ کرنے والے کو سلام نہیں کیا
1 Hadith
23
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
3 Hadith
24
(23) CHAPTER. (The legal aspect of) the one who looks at a letter in order to know its written contents and the meanings of its subject which is not allowed for the Muslims to look at.
جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ایسے شخص کامکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے ۔
1 Hadith
25
(24) CHAPTER. How to write a letter to the people of the Scripture.
اہلکتاب کو کس طرح خط لکھا جائے
1 Hadith
26
(25) CHAPTER. Whose name is to be written first in a letter, i.e., the sender or the addressee?
خط کس کے نام سے شروع کیاجائے
1 Hadith
27
(26) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Get up for your chief!”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے سردار کو لینے کے لئے اٹھو
1 Hadith
28
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
2 Hadith
29
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Al-Muanaqa (to embrace each other by putting arms round the neck on meeting). And the saying of one man to another: How are you this morning?
معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیساہے
1 Hadith
31
(30) CHAPTER. Whoever replies (on being called) saying, “Labbaik wa Sadaik” (I respond to your call, and I am obedient to your orders).
کوئی بلائے تو جواب میں لفظ لبیک ( حاضر ) اور سعدیک ( آپ کی خدمت کے لئے مستعد ) کہنا
2 Hadith
32
(31) CHAPTER. A man should not make another get up from his (the latter's) seat.
کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے
1 Hadith
33
(32) CHAPTER. (The Statement of Allah): “(O you who believe!) When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room...” (V.58:11)
اللہ پاک کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا کہ
1 Hadith
34
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
1 Hadith
35
(34) CHAPTER. Al-Ihtiba with the hand, i.e., Al-Qurfusa (a sitting posture wherein one sits with one's legs drawn up and wrapped in one's garment or surrounded with one's arms).
ہاتھ سے احتباء کرنا اور اس کو قرفصا کہتے ہیں
1 Hadith
36
(35) CHAPTER. Whoever sat in a reclining posture in the company of his companions.
اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا
2 Hadith
37
(36) CHAPTER. (Regarding) the one who walks quickly for some necessity.
جو کسی ضرورت یا کسی غرض کی وجہ سے تیز تیز چلے
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
چارپائی یا تخت کا بیان
1 Hadith
39
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
کسی کے لیے گاؤ تکیہ لگانا یا گدا بچھا نا ( جائز ہے )
1 Hadith
40
(39) CHAPTER. (Mid-day nap) after Al-Jumuah [Friday Salat (prayer)].
جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا
1 Hadith
41
(40) CHAPTER. Mid-day nap in the mosque.
مسجد میں بھی قیلولہ کرنا جائز ہے
1 Hadith
42
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
3 Hadith
43
(42) CHAPTER. Sitting in any convenient position.
آسانی کے ساتھ آدمی جس طرح بیٹھ سکے بیٹھ سکتاہے
1 Hadith
44
(43) CHAPTER. Whoever has a confidential talk with somebody in front of the people and the latter does not disclose his companion's secret, but when his companion dies, he discloses it.
جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے
2 Hadith
45
(44) CHAPTER. Al-Istilqa (lying flat on the back).
چت لیٹنے کا بیان
1 Hadith
46
(45) CHAPTER. No two persons should talk secretly excluding a third person (who is present with them). And the Statement of Allah: O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience towards the Messenger (Muhammad ), but do it for Al-Birr (righteousness) and Taqwa (virtues and piety); and fear Allah unto Whom you shall be gathered. Secret counsels (conspiracies) are only from Satan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits, and in Allah let the believers put their trust. (V.58:9,10) And also the Statement of Allah: O you who believe! When you (want to) consult the Messenger (Muhammad) in private, spend something in charity before your private consultation. That will be better and purer for you. But if you find not (the means for it), then verily, Allah is Oft-Forgivind, Most Merciful. Are you afraid of spending in charity before your private consultation (with him)? If then you do it not, and Allah has forgive you, then (at least) perform Salat (prayers) (Iqamat-as-Salat) and give Zakat and obey Allah (i.e., do all what Allah and His Prophet order you to do). And Allah is All-Aware of what you do. (V.58:12,13)
کسی جگہ صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں
1 Hadith
47
(46) CHAPTER. Keeping secrets.
راز چھپانا
1 Hadith
48
(47) CHAPTER. If in a gathering there are more than three persons, then there is no harm if two of them have a secret talk.
جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کانا پھوسی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
2 Hadith
49
(48) CHAPTER. Holding secret counsel for a long while.
دیر تک سرگوشی کرنا
1 Hadith
50
(49) CHAPTER. Fire (lanterns, etc.) should not be kept lit in the house at bedtime.
سوتے وقت گھر میں آگ نہ رہنے دی جائے ( نہ چراغ روشن کیا جائے )
3 Hadith
51
(50) CHAPTER. To close the doors at night.
رات کے وقت دروازے بند کرنا
1 Hadith
52
(51) CHAPTER. Circumcision at an old age, and pulling out one's armpit hair.
بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا
4 Hadith
53
(52) CHAPTER. Every Lahw (amusement, idle talk, etc.) or deed that diverts one from fulfilling one's obedience (duties) towards Allah, is Batil [falsehood (disbelief, etc.)].
آدمی جس کام میں مصروف ہو کر اللہ کی عبادت سے غافل ہو جائے وہ لھو میں داخل اور باطل ہے
1 Hadith
54
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
عمارت بنانا کیسا ہے
1 Hadith
55
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا مجھے پکارو ! میں تمہاری پکار قبول کروں گا
1 Hadith
No chapter matched that.