TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2261 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
سونے کو چاندی کے بدلے بیچنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، ‏‏‏‏‏‏لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ .
It was narrated from Umar bin Muhammad bin 'Ali bin abi Talib, from his father, that his grandfather said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, with no increase between them. Whoever has need of silver, let him trade gold for it, and whoever has need of gold, let him trade silver for it, and let the transaction be done on the spot. '
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے ۔
2261
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 12, Hadith 2261 Arabic reference : Book 12, Hadith 2346
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۲۷۱، ومصباح الزجاجة:۷۹۶)

Related Chapters

248
1
بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
2
باب: سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
(80) CHAPTER. Selling of silver for gold on delayed payment.
چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنا
Sahih Bukhari
4
(83) CHAPTER. The selling of dates still on trees for gold or silver.
درخت پر پھل ، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا
Sahih Bukhari
5
چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
باب: سونا اور نگینے جڑے ہار کو سونے کے بدلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
باب: چاندی سونے سے اور سونا چاندی سے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا لینے کا بیان اور اس سلسلے میں ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
10
باب: سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
Chapter: What Has Been Related About The Zakat On Gold And Silver
باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Drink From Gold And Silver Vessels
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
سونے اور چاندی کی زکوۃ
Musnad Ahmad
14
بیع صرف کا بیان،یعنی چاندی کو سونے کے عوض ادھار پر فروخت کرنا
Musnad Ahmad
15
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
16
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
17
سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
Musnad Ahmad
18
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
19
سونے اور چاندی کے برتنوں کا مردو زن پر حرام ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
خواتین کو سونے کے زیورات سے منع کرنے اور ان کے لیے چاندی کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
21
(33) CHAPTER. Zakat may be paid in kind (and not in cash).
زکوٰۃ میں ( چاندی سونے کے سوا اور ) اسباب کا لینا
Sahih Bukhari
22
(78) CHAPTER. Selling of silver for silver.
چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا
Sahih Bukhari
23
(81) CHAPTER. Selling of gold for silver from hand to hand (i.e., cash down).
سونا ، چاندی کے بدلے نقد ، ہاتھوں ہاتھ بیچنا درست ہے
Sahih Bukhari
24
(10) CHAPTER. Sharing gold, silver and other articles used in money exchange.
سونے ، چاندی اور ان تمام چیزوں میں شرکت جن میں بیع صرف ہوتی ہے
Sahih Bukhari
25
سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینا
Sahih Muslim
26
Chapter: Exchange and Selling Gold for Silver on the spot
رقمکا تبادلہ اور سونے کی چاندی کے عوض نقد بیع
Sahih Muslim
27
Chapter: The Prohibition of selling silver for gold to be paid at a later date
سونے کے عوض چاندی کی ادھار بیع منع ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
29
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Men And Women, And Gold Rings And Silk For Men, But They Are Permissible For Women. Permissibility Of Silken Borders On Garments For Men, But It Should Not Be More Than Four Fingers Wide
مردوں اور عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال حرام ہے۔ سونے کی انگوٹھی اور ریشم مردوں پر حرام ہے اور عوتوں کے لیے جائز ہے اگر چارانگشت سے زیادہ نہ ہو تو مرد کے لیے (لباس پر کسی نما یا ں جگہ لگی ہو ئی ) علامت کے طور پر جا ئز ہے
Sahih Muslim
30
CHAPTER: Regarding The Nafl Of Gold And Silver, And From The Spoils Gained In The Beginning (Of The Battle).
باب: سونے ، چاندی اور مال غنیمت سے نفل ( انعام ) دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Regarding Paying With Gold For A Price In Silver.
باب: چاندی کے بدلے سونا لینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Concession Allowing That.
باب: جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Regarding Fresh Dates For Dried Dates.
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Regarding drinking from vessels of gold and silver.
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
35
Chapter: Zakat on silver and gold
سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
درہم و دینار (سونے اور چاندی کے سکوں) کو توڑنا اور پگھلانا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
37
«رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
40
باب: اناج کے ڈھیر کو اناج کے ڈھیر کے بدلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: اناج کے بدلے کھڑی کھیتی (فصل) بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
باب: کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
باب: سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
باب: ایک شخص ایک مدت تک کے لیے ادھار اناج (غلہ) خرید لے اور بیچنے والا قیمت کے بدلے کوئی چیز گروی رکھ لے۔
Sunnan Nisai
48
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے ادھار بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے کمی زیادتی کے ساتھ نقد بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sleep Before Isha And To Talk During The Night After It
باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Sahih Muslim
4088
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، مَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ غَيْرَ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ؟ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ»
Abu Salih reported: I heard Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) said: Dinar (gold) for gold and dirham for dirham can be (exchanged) with equal for equal; but he who gives more or demands more in fact deals in interest. I sald to him: Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) says otherwise, whereupon he said: I met Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) and said: Do you see what you say; have you heard it from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), or found it in the Book of Allah, the Glorious and Majestic? He said: I did not hear it from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). and I did not find it in the Book of Allah (Glorious and Majestic), but Usama b. Zaid narrated it to me that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There can be an element of interest in credit.
ابوصالح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم مثل بمثل ہو ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا ، اس نے سود کا معاملہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو اس سے مختلف بات کہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : آپ کی کیا رائے ہے ، یہ جو آپ کہتے ہیں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ تو انہوں نے کہا : نہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی نہ کتاب اللہ میں پائی ، بلکہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سود ادھار میں ہے
Sunnan Nisai
4571
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ،‏‏‏‏ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Dinar for Dinar Dirham for Dirham, no difference between them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم ہو تو ان دونوں میں کمی زیادتی نہ ہو“۔
Sunnan Nisai
4572
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكٍ،‏‏‏‏ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَاهِدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عُمَرُ:‏‏‏‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ،‏‏‏‏ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا،‏‏‏‏ هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا .
It was narrated that Mujahid said: Umar said: Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, no difference between them, this is the obligation that our Prophet enjoined upon us.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں، یہ ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3353
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ مِنَ الذَّهَبِ بِالدِّينَارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ:‏‏‏‏ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ .
Narrated Fudalah bin Ubaid: We were with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم at the battle of Khaibar. We were selling to the Jews one uqiyah of gold for one dinar. The narrators other than Qutaibah said: for two or three dinars. Then both the versions agreed. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Do not sell gold except with equal weight.
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے ( قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں ۔
Sunnan Nisai
3929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمِّي:‏‏‏‏ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ . فَقُلْتُ لِرَافِعٍ:‏‏‏‏ فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ:‏‏‏‏ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.
It was narrated that Rafi' bin Khadij said: My paternal uncle told me that they used to lease land at the time of the Messenger of Allah in return for what grew on the banks of the streams, and a share of the crop stipulated by the owner of the land. But the Messenger of Allah forbade us that. I (Hanzalah) said to Rafi': How about leasing it in return for Dinars and Dirhams? Rafi' said: There is nothing wrong with (leasing it) for Dinars and Dirhams.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیاریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی  ( الگ )  کر لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے،  ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے جس میں  چچا  کا ذکر نہیں ہے ) ۔
Sunnan Nisai
3930
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ،‏‏‏‏ وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ،‏‏‏‏ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ . وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَلَى إِسْنَادِهِ،‏‏‏‏ وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ.
It was narrated that Hanzalah bin Qais Al-Ansari said: I asked Rafi' bin Khadij about leasing land in return for Dinars and silver. He said: 'There is nothing wrong with that. During the time of the Messenger of Allah they used to rent land to one another in return for what grew on the banks of streams and where the springs emerged - some areas of which might give good produce and some might give none at all - and the people did not lease land in any other way. So that was forbidden. But as for leases where the return is known and guaranteed, there is nothing wrong with that.'
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیاریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز  ( پر بٹائی )  جس کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں  ( چچا کے نہ ذکر کرنے میں ) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔