TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3359 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
(دعوت میں) خلاف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ صَنَعْتُ طَعَامًا،‏‏‏‏ فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَجَاءَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ فَرَجَعَ .
It was narrated that ‘Ali said: “I made some food and called the Messenger of Allah (ﷺ) (to come and eat). He came and saw some images in the house, so he went back.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے ۱؎۔
3359
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 29, Hadith 3359 Arabic reference : Book 29, Hadith 3484
Conclusion
تخریج
«سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ۵۷ (۵۳۵۳)،(تحفة الأشراف:۱۰۱۱۷)
Explanation
شرح و تفصیل
اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بے حیائی بے پردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی،یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اورکھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کر سکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بے حرمتی اور اہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلے ان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔

Related Chapters

292
1
(77) CHAPTER. Should a person return if he sees something disapproved of (from the standpoint of religion) in the party?
اگر دعوت میں جا کر وہاں کوئی کام خلاف شرع دیکھے تو لوٹ آئے یا کیا کرے ۔
Sahih Bukhari
2
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
Musnad Ahmad
3
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
Sahih Bukhari
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
5
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
7
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
8
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وصیت کر گئے تھے یا نہیں اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعد کسی کے حق میں خلافت کا فیصلہ کیا تھا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
9
(28) CHAPTER. To be furious while preaching or teaching if one sees what one hates.
استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے
Sahih Bukhari
10
(4) CHAPTER. If a shepherd or a deputy saw dying sheep or something which is going to be spoiled, he is allowed to slaughter the sheep and save the thing liable to be spoiled.
چرانے والے نے یا کسی وکیل نے کسی بکری کو مرتے ہوئے یا کسی چیز کو خراب ہوتے دیکھ کر ( بکری کو ) ذبح کر دیا یا جس چیز کے خراب ہو جانے کے ڈر تھا اسے ٹھیک کر دیا ، اس بارے میں کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
11
(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.
یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے
Sahih Bukhari
12
(199) CHAPTER. Taking meals on arrival (from a journey).
مسافر جب سفر سے لوٹ کر آے تو لوگوں کو کھانا کھلاء ے ( دعوت کرے )
Sahih Bukhari
13
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
Sahih Bukhari
14
(75) CHAPTER. What is allowed to say when one is angry or harsh for Allah's sake.
خلاف شرع کام پر غصہ اور سختی کرنا
Sahih Bukhari
15
(23) CHAPTER. (The legal aspect of) the one who looks at a letter in order to know its written contents and the meanings of its subject which is not allowed for the Muslims to look at.
جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ایسے شخص کامکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
16
Chapter: Calling people to the twin declaration of faith and the laws of Islam
توحید و رسالت کی شہادت اور اسلام کے شرعی احکام کی دعوت دینا
Sahih Muslim
17
Chapter: Encouragement to honor one's neighbor and guest, and the obligation to remain silent unless one has something good to say, and the fact that all of that is part of faith
ہمسائے اور مہمان کی تکریم اور خیر کی بات کہنے یا خاموش رہنے کی ترغیب ، یہ سب امور ایمان کا حصہ ہیں
Sahih Muslim
18
Chapter: The obligation to denounce rulers for that in which they go against Shari'ah, but they should not be fought so long as they pray regularly, etc
خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور
Sahih Muslim
19
CHAPTER: If a man is invited and sees something objectionable.
باب: غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھا تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
21
دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
22
باب: کسی بات کی قسم کھانے کے بعد آدمی اس سے بہتر چیز دیکھے تو کیا کرے؟
Sunnan Nisai
23
(82)Chapter: [What Has Been Related] About One Who Awakens To Find Wetness, But He Does Not Recall Having A Wet Dream
باب: جاگنے پر تری دیکھنے اور احتلام کے یاد نہ آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
(90)Chapter: What Has Been Related About A Woman Who Sees In A Dream, Similar To What A Man Sees
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About Looking Around During Salat
باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About: For The People OF Every Land There Is A Sighting
باب: ہر شہر والوں کے لیے انہیں کے چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Accepting The Invitation (To A Meal)
باب: روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About It's Being Disliked To Raise The Hand When One Sees the House (Ka'bah)
باب: بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Looking at The Proposed Woman
باب: جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Accepting The Invitation
باب: دعوت قبول کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Accepting The Gift and Accepting The Invitation
باب: ہدیہ تحفہ اور دعوت قبول کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About One Who Brandishes A Weapon
باب: مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Hospitality And What Is The Limit Of Hospitality
باب: مہمان نوازی کا ذکر اور اس کی مدت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Al-Khilafah
باب: خلافت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
40
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں دودھ اور قمیص دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: The Hadith: A Man Is Upon The Religion Of His Friend.
باب: ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
44
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Seeing An Afflicted Person
باب: جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What One Says Upon Seeing The Crescent Moon
باب: نیا چاند (ہلال) دیکھے تو کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What One Says Upon Seeing A Dream He Dislikes
باب: برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What One Says When Seeing The Early Fruits
باب: جب موسم کا پہلا پھل دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
49
Chapter: About The Supplication Of The Guest
باب: مہمان میزبان کے لیے کیا دعا کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

183
Jam e Tirmazi
906
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّدَ نَعْلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي الشِّقِّ الْأَيْمَنِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَسَّانَ الْأَعْرَجُ اسْمُهُ مُسْلِمٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْإِشْعَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت يُوسُفَ بْنَ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ وَكِيعًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْيِ فِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْإِشْعَارَ سُنَّةٌ وَقَوْلُهُمْ بِدْعَةٌ. قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَبَا السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ:‏‏‏‏ أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِشْعَارُ مُثْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَقُولُ لَكَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ:‏‏‏‏ مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا.
Ibn Abbas narrated: The Prophet garlanded two sandals and marked the Hadi on the right side at Dhul-Hulaifah, and removed the blood from it.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں ( ہدی کے جانور کو ) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ۱؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۳- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ۴- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں: تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ ( اس کی اس بات سے ) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا: میں تم سے کہتا ہوں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے“ اور تم کہتے ہو: ابراہیم نے کہا: تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ۲؎۔
Sunnan Ibn e Maja
3684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَقْيُ الْمَاءِ .
It was narrated that Sad bin Ubadah said: I said: 'O Messenger of Allah, what charity is best?' He said: 'Giving water to drink.'
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
758
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَسْعُودِ بْنِ وَاصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النَّهَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلَ هَذَا. وقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ رُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا شَيْءٌ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: There are no days more beloved to Allah that He be worshipped in them than the ten days of Dhul-Hijjah, fasting every day of them is the equivalent of fasting a year, and standing every night of them (in prayer) is the equivalent of standing on the Night of Qadr.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مسعود بن واصل کی حدیث سے اس طریق کے علاوہ جانتے ہیں اور مسعود نے نہّاس سے روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے کسی اور طریق سے نہیں جان سکے، ۴- اس میں سے کچھ جسے قتادہ نے بسند «قتادة عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلا روایت کی ہے، ۴- یحییٰ بن سعید نے نہاس بن قہم پر ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1037
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى قَبْرًا مُنْتَبِذًا، ‏‏‏‏‏‏فَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ مَنْ أَخْبَرَكَهُ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَبَّاسٍ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَا يُصَلَّى عَلَى الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ إِذَا دُفِنَ الْمَيِّتُ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏صُلِّيَ عَلَى الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ الصَّلَاةَ عَلَى الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى الْقَبْرِ إِلَى شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَا:‏‏‏‏ أَكْثَرُ مَا سَمِعْنَا عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ أُمِّ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بَعْدَ شَهْرٍ .
Ash-Shaibani narrated that: Ash-Sha'bi said: I was informed by one who saw the Prophet: He (pbuh) saw a solitary grave, s he lined his Companions (behind him) to pray over it. It was said to him (Ash-Sha'bi): Who informed you? He said: Ibn Abbas.
شعبی کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک قبر الگ تھلگ دیکھی تو اپنے پیچھے صحابہ کی صف بندی کی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ شعبی سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، بریدہ، یزید بن ثابت، ابوہریرہ، عامر بن ربیعہ، ابوقتادہ اور سہل بن حنیف سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قبر پر نماز پڑھی جائے گی ۱؎ یہ مالک بن انس کا قول ہے، ۵ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب میت کو دفن کر دیا جائے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو اس کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی جائے گی، ۶- ابن مبارک قبر پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے کے قائل ہیں، ۷- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: قبر پر نماز ایک ماہ تک پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر سنا ہے سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ کی والدہ کی نماز جنازہ ایک ماہ کے بعد قبر پر پڑھی۔
Jam e Tirmazi
1215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ. ح قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ مَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ رُهِنَ لَهُ دِرْعٌ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخَذَهُ لِأَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا أَمْسَى فِي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعُ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صَاعُ حَبٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ عِنْدَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: I walked to the Prophet (ﷺ) with some barley bread that has some rancid oil poured over it. The Prophet (ﷺ) had pawned his armour with a Jew for twenty Sa' of food that he got for his family. That day (he pawned it), I heard him saying: 'Not for one evening has the household of Muhammad had a Sa' of dates or a Sa' of grain.' And on that day he had nine wives. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی جس میں کچھ تبدیلی آ چکی تھی لے کر چلا، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع غلے کے عوض جسے آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے لے رکھا تھا گروی رکھی ہوئی تھی ۱؎ قتادہ کہتے ہیں میں نے ایک دن انس رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس ایک صاع کھجور یا ایک صاع غلہ شام کو نہیں ہوتا تھا جب کہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1473
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ:‏‏‏‏ وَهِيَ الَّتِي تُصْبَرُ بِالنَّبْلِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Narrated Abu Ad-Darda': The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the Mujath-thamah, and it is what is trapped and killed by arrows.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1504
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ النَّهْدِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ،‏‏‏‏ وَالْأُذُنِ ،‏‏‏‏ قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ الْعَضْبُ:‏‏‏‏ مَا بَلَغَ النِّصْفَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Ali: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited that an animal with a A'dab (stump) horn or ear should be slaughtered as a sacrifice. Qatadah (one of the narrators) said: So I mentioned this to Sa'eed bin Al-Musayyab and he said: 'The A'dab is that which equals or more than that.'
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: «عضب» ( سینگ ٹوٹنے ) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُحِبُّ الْفَأْلَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no 'Adwa and no Tiyarah, and I like Fa'l. They said: O Messenger of Allah! What is Fa'l? He said: A good statement. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچھی بات“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Muslim
647
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ يَقُولُ حَتَّى يَغْسِلَهَا، وَلَمْ يَقُلْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ ثَلَاثًا إِلَّا مَا قَدَّمْنَا مِنْ رِوَايَةِ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي رَزِينٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ذِكْرَ الثَّلَاثِ
This hadith has been transmitted through other chains of transmitters on the authority of Abu Huraira in which it is reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a mention of washing the hand, and did not instruct to wash it three times. But the hadith narrated from Jabir and Ibn Musayyab. Abu Salama, and Abdullah b. Shaqiq, Abu Salih, Abla Razin, there is a mention of three times .
اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔