حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلًا إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ لَهَا: فَضَحْتِ النِّسَاءَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَخَوْلَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ.
Umm Salamah narrated:
Umm Sulaim bint Milhan came to the Prophet and she said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah is not embarrassed of the truth. So is it required of a woman - meaning Ghusl - when she sees in her sleep similar to what a man sees?' He replied: 'Yes. When she finds water (wetness), then she is perform Ghusl.' Umm Salamah said: I said to her: 'O Umm SuIaim! You have disgraced the women!'
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے“ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم ۵۰ (۱۳۰)، والغسل ۲۲ (۲۸۲)، والأنبیاء ۱ (۳۳۲۸)، والأدب ۶۸ (۶۰۹۱)، و۷۹ (۶۱۲۱)، صحیح مسلم/الحیض ۷ (۳۱۳)، سنن النسائی/الطہارة ۱۳۱ (۱۹۷)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۱۰۷ (۶۱۰)، (تحفة الأشراف : ۱۸۲۶۴)، مسند احمد (۶/۲۹۲، ۳۰۲، ۳۰۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرم و حیاء کی وجہ سے حق کے بیان کرنے سے نہیں رکتا، تو میں بھی ان مسائل کے پوچھنے سے باز نہیں رہ سکتی جن کی مجھے احتیاج اور ضرورت ہے۔ ۲؎ : ” جو مرد دیکھتا ہے “ سے مراد احتلام ہے۔ ۳؎ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منی کے نکلنے سے عورت پر بھی غسل واجب ہو جاتا ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔
122
Sahih