حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟ .
It was narrated that Abu Hurairah said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah! One of us performs prayer in a single garment.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Does everyone have two garments?’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۳۱۴۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا ۴۹ (۲۵۸)، صحیح مسلم/الصلاة ۵۲ (۵۱۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۸ ۷ (۶۲۵)، سنن النسائی/القبلة ۱۴ (۷۶۴)، موطا امام مالک/الجماعة ۹ (۳۰)، مسند احمد (۶/۲۳۰، ۲۳۹، ۲۸۵، ۳۴۵، ۴۹۵، ۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۹۹ (۱۴۱۰)
Explanation
اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے
1047
Sahih