TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter 0

Chapter 0 of افعال حج کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 0 of 14 · 35 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا» فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ: لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْء فدَعُوه . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :’’ لوگو ! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہذا تم حج کرو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے ، حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ کہا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (پھر ہر سال) واجب ہو جاتا ، اور تم استطاعت نہ رکھتے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جب تک میں تمہیں کوئی مسئلہ نہ بتاؤں تو مجھے چھوڑے رکھو ، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، جب میں کسی چیز کے بارے میں تمہیں حکم دوں تو مقدور بھر اس پر عمل کرو اور جب میں کسی چیز سے تمہیں منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۷۱ / ۱۳۳۷) ۔ 3257
2505
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مبرورٌ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حج مقبول ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶) و مسلم (۱۳۵ / ۸۳) ۔ 248
2506
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أمه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے ، پھر وہ گناہ کا کام کرے نہ فحش گوئی کرے تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس روز کی طرح لوٹتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵۲۱) و مسلم (۴۳۸ / ۱۳۵۰) ۔ 3291
2507
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاءٌ إِلا الجنَّةُ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی وقفہ میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے ، اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۷۷۳) و مسلم (۴۳۷ / ۱۳۴۹) ۔ 3289
2508
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن عمْرَة فِي رَمَضَان تعدل حجَّة»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رمضان میں عمرہ کرنا (ثواب کے لحاظ سے) حج کے برابر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۷۸۲) و مسلم (۲۲۱ / ۱۲۵۶) ۔ 3038
2509
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَلَكِ أَجَرٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ روحاء کے مقام پر ایک قافلے سے ملے تو آپ نے پوچھا :’’ کون ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، مسلمان ۔ پھر انہوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا رسول ۔‘‘ ایک عورت نے ایک بچہ اٹھا کر عرض کیا : کیا اس کا حج ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اور تمہارے لئے اس کا اجر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۰۹ / ۱۳۳۶) ۔ 3253
2510
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُول الله إِن فَرِيضَة الله عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نعم» ذَلِك حجَّة الْوَدَاع
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر جو حج کا فریضہ ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو اس حال میں پایا کہ وہ سواری پر صحیح طرح بیٹھ نہیں سکتے ، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اور یہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵۱۳) و مسلم ۴۰۷ / ۱۳۳۴) ۔ 3251
2511
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكَنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَاقْضِ دَيْنَ اللَّهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میری بہن نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ فوت ہو چکی ہیں ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو ، وہ تو ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۹۹) و مسلم (۱۵۵ / ۱۱۴۸) ۔ 2693
2512
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَخَرَجَتِ امْرَأَتِي حَاجَّةً قَالَ: «اذهبْ فاحجُجْ مَعَ امرأتِكَ»
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرے نہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر کرے ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فلاں فلاں غزوہ میں میرا نام لکھ لیا گیا ہے جبکہ میری اہلیہ حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جاؤ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۰۰۶) و مسلم (۴۲۴ / ۱۳۴۱) ۔ 3272
2513
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ. فَقَالَ: «جهادكن الْحَج»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا جہاد حج ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۷۵) و مسلم (لم اجدہ) ۔
2514
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو محرم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی عورت محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کا سفر نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۰۸۸) و مسلم (۴۲۱ / ۱۳۳۹) ۔ 3258
2515
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتَّى أهل مَكَّة يهلون مِنْهَا
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ ، اہل نجد کے لئے قرن منازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا ، وہ ان کے لئے ہیں اور ان کے علاوہ ان راستوں سے آنے والوں کے لئے ہیں جبکہ وہ حج اور عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ، اور جو ان مواقیت کے اندر کی جانب رہتا ہے تو وہ اپنے گھر سے احرام باندھے گا ، اور اس طرح اور اس طرح حتیٰ کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۵۲۶) ومسلم (۱۱ / ۱۱۸۱) ۔ 2803
2516
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اور اہل مدینہ ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھیں گے ، جبکہ دوسرے راستوں والے جحفہ سے ، اہل عراق ذات عرق سے ، اہل نجد قرن سے اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۸ / ۱۸۳) ۔ 2810
2517
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے ہیں وہ سب ذوالقعدہ میں کیے ، بجز اس عمرہ کے جو آپ نے حج کے ساتھ کیا ، آپ ﷺ نے ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ اگلے سال ذوالقعدہ میں کیا ، ایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۱۴۸) و مسلم (۲۱۷ / ۱۲۵۳) ۔ 3033
2518
Sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ مَرَّتَيْنِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حج کرنے سے پہلے ذوالقعدہ میں دو عمرے کیے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۷۸۱) ۔
2519
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» . فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لَوْ قُلْتُهَا: نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا وَالْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! اللہ نے تم پر حج کرنا فرض قرار دیا ہے ۔‘‘ تو اقرع بن حابس ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جاتا ، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم عمل کرتے نہ تم استطاعت رکھتے ، اور حج کرنا ایک مرتبہ فرض ہے ، اور جو شخص زیادہ مرتبہ کرے تو وہ نفلی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ احمد (۱ / ۲۵۵ ح ۲۳۰۴) و النسائی (۵ / ۱۱۱ ح ۲۶۲۱) و الدارمی (۲ / ۲۹ ح ۱۷۹۵) ۔
2520
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليهِ سَبِيلا) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچنے کے لئے زادراہ اور سواری ہو وہ پھر بھی حج نہ کرے تو پھر اس پر کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر فوت ہو یا نصرانی ، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اور جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد پر کلام کیا گیا ہے ، جبکہ ہلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۸۱۲) * الحارث الاعور ضعیف جدًا و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند البیھقی (۴ / ۳۳۴) و غیرہ ۔
2521
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَرُورَةَ فِي الإِسلامِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام میں ’’ صرورہ ‘‘ (گوشہ نشینی اختیار کرنا ، شادی نہ کرنا ، استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا وغیرہ) نہیں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۷۲۹) * و حقق الامام احمد و ابن معین و غیرھما بان فی السند عمر بن عطاء بن وراز ھو ضعیف ۔
2522
Zaeef
وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ جلدی کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۷۳۲) و الدارمی (۲ / ۲۸ ح ۱۷۹۱) ۔
2523
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ پے در پے (ایک کے بعد دوسرا) کرو ، کیونکہ وہ فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے ، سونے اور چاندی کی میل دور کر دیتی ہے ۔ اور حج مقبول کی جزا صرف جنت ہی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذئی (۸۱۰ و قال : حسن صحیح غریب) و النسائی (۵ / ۱۱۵ ۔ ۱۱۶ ح ۲۶۳۲) ۔
2524
Sahih

Chapters

14
01
بَاب الْإِحْرَام والتلبية
احرام و تلبیہ کا بیان
15 Hadith
02
بَاب قصَّة حجَّة الْوَدَاع
قصہ حجۃ الوداع
6 Hadith
03
بَاب دُخُول مَكَّة وَالطّواف
مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کے آداب کا بیان
31 Hadith
04
بَاب الْوُقُوف بِعَرَفَة
وقوف عرفات کا بیان
12 Hadith
05
بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ
عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان
14 Hadith
06
بَاب رمي الْجمار
کنکریاں مارنے کا بیان
28 Hadith
07
بَاب الْحلق
سر منڈانے کا بیان
9 Hadith
08
بَاب فِي التَّحَلُّل
گزشتہ باب کے متعلقات کا بیان
4 Hadith
09
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
19 Hadith
10
بَاب مَا يجتنبه الْمحرم
احرام والا کن چیزوں سے اجتناب کرے
18 Hadith
11
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
11 Hadith
12
بَاب الْإِحْصَار وفوت الْحَج
حج سے منع کیے جانے اور حج کے فوت ہو جانے کا بیان
8 Hadith
13
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
13 Hadith
14
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
31 Hadith
No chapter matched that.