TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْوُقُوف بِعَرَفَة وقوف عرفات کا بیان

Chapter 4 of افعال حج کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 14 · 12 Hadith
عَن محمدِ بن أبي بكرٍ الثَقَفيُّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ
محمد بن ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، جبکہ وہ دونوں منی سے عرفات جا رہے تھے ، آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس روز کیسے (تکبیر و تہلیل) کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۶۵۹) و مسلم (۲۷۴ / ۱۲۸۵) ۔ 3097
2592
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نحرتُ هَهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هَهُنَا وعرفةُ كلُّها موقفٌ. ووقفتُ هَهُنَا وجَمْعٌ كلُّها موقفٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے (منی میں) اس جگہ قربانی ذبح کی ہے جبکہ منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ میدانِ عرفات سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا ہے جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۹ / ۱۲۱۸) ۔ 2952
2593
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ باقی ایام کی نسبت عرفہ کے دن ، سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔ اور وہ قریب ہوتا ہے ، پھر ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۳۶ / ۱۳۴۸) ۔ 3288
2594
Sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ خَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ لَكُمْ: «قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثِ من إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
عمرو بن عبداللہ بن صفوان اپنے ماموں یزید بن شیبان سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نے میدان عرفات میں ایسی جگہ وقوف کیا جو کہ بقول ان کے امام کے وقوف کی جگہ سے بہت دور تھا ، ابن مربع انصاری ؓ ہمارے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہاری طرف قاصد بنا کر بھیجا ہے ، وہ تمہیں فرماتے ہیں :’’ تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ، کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم ؑ کی میراث پر ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۸۸۳ و قال : حسن) و ابوداؤد (۱۹۱۹) و النسائی (۵ / ۲۵۵ ح ۳۰۱۷) و ابن ماجہ (۳۰۱۱) ۔
2595
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میدان عرفات پورے کا پورا وقوف کی جگہ ہے ، پورا منی قربان گاہ ہے ، پورا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے ، اور مکہ کے تمام راستے ، راستے اور قربان گاہ ہیں ۔‘‘ (یعنی مکہ آنے والے کے لیے کسی بھی راستے سے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداو۷د (۱۹۳۷) و الدارمی (۲ / ۵۷ ح ۱۸۸۶) ۔
2596
Sahih
وَعَن خالدِ بنَ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الركابين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
خالد بن ہوذہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو عرفہ کے دن اونٹ کی دونوں رکابوں میں پاؤں رکھ کر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۹۱۷) ۔
2597
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْء قدير . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کی دعا بہترین دعا ہے اور میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء ؑ نے جو بہترین دعا کی ہے وہ یہ ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کے لیے بادشاہت ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۸۵ و قال : حسن غریب) * حماد بن ابی حمید ضعیف و للحدیث شاھد ضعیف (انظر الحدیث الاتی : ۲۵۹۹) ۔
2598
Zaeef
وروى مالكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: «لَا شريك لَهُ»
امام مالک ؒ نے طلحہ بن عبیداللہ سے ((لا شریک لہ)) تک روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۲۱۴ ۔ ۲۱۵ ح ۵۰۱ ، ۱ / ۴۲۲ ۔ ۴۲۳ ح ۹۷۴) من حدیث طلحۃ بن عبید اللہ بن کریز رحمہ اللہ فالسند مرسل ۔
2599
Zaeef
لإرساله وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شیطان عرفہ کے دن سب سے زیادہ حقیر ، سب سے زیادہ راندہ ہوا ، سب سے زیادہ ذلیل اور سب سے زیادہ غصے میں ہوتا ہے اور وہ ایسی حالت میں اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نزولِ رحمت اور کبیرہ گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا ہے ، البتہ غزوہ بدر کے موقع پر بھی اسے اس کیفیت میں دیکھا گیا ۔‘‘ کہا گیا بدر کے دن اس نے کیا دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ اس نے جبریل ؑ کو فرشتوں کی صف بندی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔‘‘ امام مالک نے مرسل روایت کیا ہے ، اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ میں مروی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک و شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۴۲۲ ح ۹۷۳) و البغوی فی شرح السنۃ (۷ / ۱۵۸ ح ۱۹۳۰) من حدیث طلحۃ بن عبید اللہ بن کریز رحمہ اللہ فالسند مرسل ۔
2600
Zaeef
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو اللہ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اِن (عرفات میں وقوف کرنے والوں) کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندوں کو دیکھو کس طرح بکھرے بالوں ، غبار آلود پاؤں اور بلند آواز سے پکارتے ہوئے دور دراز سے آئے ہیں ۔ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ۔ تو فرشتے عرض کرتے ہیں ، رب جی ! فلاں بندہ تو برے کام کیا کرتا تھا ، اور فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ میں نے انہیں بخش دیا ہے ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عرفہ کے دن کے سوا کوئی ایسا دن نہیں جس میں عرفہ کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزادی ملتی ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۷ / ۱۵۹ ح ۱۹۳۱) [و ابن خزیمۃ (۲۸۴۰ و قال : انا ابرا من عھدۃ مرزوق) و ابن حبان (۱۰۰۶)] * ابو الزبیر مدلس و عنعن و حدیث مسلم (۱۳۴۸) یغنی عنہ ۔
2601
Zaeef
عَن عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بالمزْدَلفَةِ وَكَانُوا يُسمَّوْنَ الحُمْسَ فكانَ سَائِرَ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفُ بِهَا ثُمَّ يَفِيضُ مِنْهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: (ثُمَّ أفِيضُوا من حَيْثُ أَفَاضَ النَّاس)
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، قریش اور ان کے ہم دین لوگ مزدلفہ میں قیام کیا کرتے تھے ، اور انہیں حمس کہا جاتا تھا ، جبکہ باقی سب عرب عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے ، جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ وہ عرفات آئیں اور وہاں وقوف کریں اور پھر وہاں سے واپس آئیں ۔ اسی طرح اللہ عزوجل کا فرمان ہے :’’ پھر تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۵۲۰) و مسلم (۱۵۱ / ۱۲۱۹) ۔ 2954
2602
Sahih
وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَى رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه
عباس بن مرداس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وقوفِ عرفات میں اپنی امت کی مغفرت کے لیے دعا فرمائی تو قبولیت کا جواب آیا کہ ’’ میں نے حقوق العباد کے سوا باقی سب گناہ معاف کر دیے ، کیونکہ میں اس سے مظلوم کا حق لوں گا ۔‘‘ آپ ﷺ نے عرض کیا :’’ رب جی ! اگر آپ چاہیں تو مظلوم کو جنت عطا کر دیں اور ظالم کو بخش دیں ۔‘‘ لیکن اس قیام میں آپ کی دعا قبول نہ ہوئی ، تو جب مزدلفہ میں صبح کی تو آپ ﷺ نے دعا دہرائی تو آپ کی دعا قبول کر لی گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ہنسے یا تبسم فرمایا تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ نے عرض کیا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں یہ تو ایسا وقت ہے کہ اس وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے ، آپ کو کس چیز نے ہنسایا ، اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے دشمن ابلیس کو جب پتہ چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعا قبول فرما کر میری امت کو بخش دیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا اور تباہی و ہلاکت کو پکارنے لگا ، جب میں نے اس کی بے صبری دیکھی تو مجھے ہنسی آ گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۰۱۳) و البیھقی فی البعث النشور (لم اجدہ ، و فی شعب الایمان : ۳۴۶) * عبداللہ بن کنانۃ و ابوہ مجھولان و قال البخاری فی ھذا الحدیث :’’ لم یصح حدیثہ ۔‘‘
2603
Zaeef

Chapters

14
01
بَاب الْإِحْرَام والتلبية
احرام و تلبیہ کا بیان
15 Hadith
02
بَاب قصَّة حجَّة الْوَدَاع
قصہ حجۃ الوداع
6 Hadith
03
بَاب دُخُول مَكَّة وَالطّواف
مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کے آداب کا بیان
31 Hadith
04
بَاب الْوُقُوف بِعَرَفَة
وقوف عرفات کا بیان
12 Hadith
05
بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ
عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان
14 Hadith
06
بَاب رمي الْجمار
کنکریاں مارنے کا بیان
28 Hadith
07
بَاب الْحلق
سر منڈانے کا بیان
9 Hadith
08
بَاب فِي التَّحَلُّل
گزشتہ باب کے متعلقات کا بیان
4 Hadith
09
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
19 Hadith
10
بَاب مَا يجتنبه الْمحرم
احرام والا کن چیزوں سے اجتناب کرے
18 Hadith
11
بَاب الْحرم يجْتَنب الصَّيْد
محرم شکار کرنے سے اجتناب کرے
11 Hadith
12
بَاب الْإِحْصَار وفوت الْحَج
حج سے منع کیے جانے اور حج کے فوت ہو جانے کا بیان
8 Hadith
13
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
13 Hadith
14
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
31 Hadith
No chapter matched that.