بخار اور اس کے علاج کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھٹی سے ہے، مومن کو جتنا بخار ہو گا، یہ اتنا ہی اس کے لیے آگ کا حصہ ہوگا،یعنی اتنی اسے دوزخ کی آگ میں کمی ہو گی۔
Takhreej
(۷۶۴۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۴۶۸، والبیھقیی فی الشعب : ۹۸۴۳(انظر: ۲۲۱۶۵)
Explanation
فوائد:… ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماری اور تکلیف مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ لیکن اس پر صبر کرنا شرط ہے، جیسا کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ((بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَاعِدٌ مَعَ اَصْحَابِہِ، اِذْ ضَحِکَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُوْنِيْ مِمَّ اَضْحَکُ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: ((عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُوْمِنِ، اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ، حَمِدَ اللّٰہَ وَکَانَ لَہُ خَیْرًا، وَإِنْ اَصَابَہٗ مَا یَکْرَہٗ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُوْمِنَ۔)) (مسلم، صحیحہ:۱۴۷) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرتے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر بڑا تعجب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے کوئی پسندیدہ چیز نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور یہ تعریف کرنا اس کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ کسی مکروہ چیز کا سامنا کرتاہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے، مؤمن کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کے ہر کام میں خیر ہو ۔
7641
Sahih