TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - Book 135 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 135 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 48 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

48 Hadith · 4 Chapters
بخار اور اس کے علاج کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھٹی سے ہے، مومن کو جتنا بخار ہو گا، یہ اتنا ہی اس کے لیے آگ کا حصہ ہوگا،یعنی اتنی اسے دوزخ کی آگ میں کمی ہو گی۔
Takhreej
(۷۶۴۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۴۶۸، والبیھقیی فی الشعب : ۹۸۴۳(انظر: ۲۲۱۶۵)
Explanation
فوائد:… ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماری اور تکلیف مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ لیکن اس پر صبر کرنا شرط ہے، جیسا کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ((بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَاعِدٌ مَعَ اَصْحَابِہِ، اِذْ ضَحِکَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُوْنِيْ مِمَّ اَضْحَکُ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: ((عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُوْمِنِ، اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ، حَمِدَ اللّٰہَ وَکَانَ لَہُ خَیْرًا، وَإِنْ اَصَابَہٗ مَا یَکْرَہٗ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُوْمِنَ۔)) (مسلم، صحیحہ:۱۴۷) … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرتے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر بڑا تعجب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے کوئی پسندیدہ چیز نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور یہ تعریف کرنا اس کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ کسی مکروہ چیز کا سامنا کرتاہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے، مؤمن کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کے ہر کام میں خیر ہو ۔
7641
Sahih
بخار اور اس کے علاج کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں بخار اور دیگر جسمانی تکالیف کے لیے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ الْکَبِیْرِ، اَعَوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ۔ (اللہ تعالی کے نام سے، جو بہت بڑا ہے، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں خون بہانے والی رگ سے اور دوزخ کی گرمی کے شر سے)۔
Takhreej
(۷۶۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی حبیبۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۲۶، والترمذی: ۲۰۷۵(انظر: ۲۷۲۹)
7642
Zaeef
بخار اور اس کے علاج کا بیان
۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بجھائے، کیونکہ یہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہے اورجاری نہر میں چلا جائے اور پانی کے چلاؤ کی طرف رخ کرے اور یہ پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا دے اور اپنے رسول کی تصدیق فرما) نماز فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے اس طرح نہائے اور اس میں تین غوطے لگائے، تین دن یہی عمل دہرائے، اگر تندرست نہ ہو تو پانچ دن ایسا کر لے اور اگر پانچ دن میں صحت یاب نہ ہو تو سات دن ایسا کرے اور اگر اتنے دنوں میں بھی صحت نہ پائے تو نو دن ایسا کرے، اللہ کے حکم سے بخار نو دنوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۷۶۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن زرعۃ الشامی، أخرجہ الترمذی: ۲۰۸۴(انظر: ۲۲۴۲۵)
Explanation
فوائد:… وقت اور دنوں کے تعین کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے:
7643
Zaeef
بخار اور اس کے علاج کا بیان
۔
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ ام طارق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان سے اجازت طلب کی، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی، وہ پھرخاموش رہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لے گئے، ام طارق کہتی ہیں: مجھے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب بھیجا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کروں کہ ہم نے آپ کو اجازت صرف اس لیے نہیں دی کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں سلام کی برکات سے مزید نوازتے رہیں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر آواز سنی کہ کوئی اجازت طلب کر رہاہے، لیکن میں اسے دیکھ نہیں رہی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں ام ملدم ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کوئی مرحبا نہیں ہے، تجھے کوئی خوش آمدید نہیں ہے، کیا تو قباء والوں کے پاس نہیں چلا جاتا؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف چلا جا۔
Takhreej
(۷۶۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ جعفر بن عبد الرحمن النصاری، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۳۴۹، والبیھقی فی دلائل النبوۃ : ۶/ ۱۵۸(انظر: ۲۷۱۲۷)
7644
Zaeef
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقائوں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔
Takhreej
(۷۶۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۶، ومسلم: ۱۵۷۷(انظر: ۱۲۸۸۳)
Explanation
فوائد:… سینگی لگوانا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قولی اور فعلی سنت ہے، اس سے جسم کا خراب اور فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم کو راحت ملتی ہے اورخون صاف ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، دوبارہ اس کا احیاء ہونا چاہئے۔
7645
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور ٹخنوں کے درمیان سینگی لگوائی۔
Takhreej
(۷۶۴۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی فی الشمائل : ۳۵۵، والطبرانی: ۱۲۵۸۴ (انظر: ۲۰۹۱)
7646
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا سترہ انیس اکیس مہینہ کی جوتاریخ ہے یہ ایام سینگی لگوانے کے لیے نہایت موزوں اور بہتر ہیں اور فرمایا معراج کی رات جب مجھے لے جایا گیا تو میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا ہوں انہوں نے یہی کہا کہ اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! سینگی کو لازم پکڑو۔
Takhreej
(۷۶۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عباد بن منصور الناجی ضعیف، وقد دلّس ھذا الخبر فأسقط من اسنادہ اثنین من الرواۃ، أخرجہ الترمذی: ۲۰۵۳، وأخرج القطعۃ الثانیۃ ابن ماجہ: ۳۴۷۷ (انظر: ۳۳۱۶)
Explanation
فوائد:… لیکن سینگی لگواتے وقت چاند کی ان تاریخوں کا خیال رکھنا درست ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے:
7647
Zaeef
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم علاج کرتے ہو، اس میں سے بہترین ذریعۂ علاج وہ ہے جو تم سینگی لگوا کر اورعود ہندی استعمال کرکے کرتے ہو اور اپنے بچوں کو گلے میں انگلی مار کر تکلیف نہ پہنچائو۔
Takhreej
(۷۶۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۲۰۴۵)
Explanation
فوائد:… اگر بچے کے حلق کا کوا اتر جائے تو اسے انگلی سے چوکا دے کر اپنی جگہ پر نہ لایا جائے، کیونکہ اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی دوا دے کر اس کا علاج کر لیا جائے۔
7648
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان یعنی کمر کے اوپر والے حصے پر سینگی لگوائی۔
Takhreej
(۷۶۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۰، وابن ماجہ: ۳۴۸۳، والترمذی: ۲۰۵۱(انظر: ۱۲۱۹۱)
7649
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین جگہ پر سینگی لگواتے تھے، کندھو کے درمیان اور گردن کے دونوں جانبوں والی دور رگوں پر۔
Takhreej
(۷۶۵۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
7650
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم علاج کرتے ہو، اس میں سے اگر کوئی بہترین طریقۂ علاج ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۷، وابن ماجہ: ۳۴۷۶ (انظر: ۸۵۱۳)
7651
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۱۲۱۶، والطبرانی فی الکبیر : ۶۷۸۵، والحاکم: ۴/ ۲۰۸، والنسائی فی الکبری : ۷۵۹۶ (انظر: ۲۰۰۹۶)
7652
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مقنع کی تیمار داری کی اور اس سے کہا: میں اس وقت تک نہیں جائوں گا، جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا،کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سینگی لگوانے سے شفا حاصل ہوتی ہے۔
Takhreej
(۷۶۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۹۷، ومسلم: ۲۲۰۵(انظر: ۱۴۵۹۸)
7653
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدہ سلمیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جس نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سردرد کی شکایت کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا کہ سینگی لگائو۔ اور جس نے بھی پائوں میں درد کی شکایت کی ہے، آپ نے اسے مہندی کا لیپ کرنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۷۶۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۸ (انظر: ۲۷۶۱۷)
7654
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائے، یہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رضاعی بھائی تھا یا یہ ابھی نابالغ بچے تھا۔
Takhreej
(۷۶۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۰۶(انظر: ۱۴۷۷۵)
Explanation
فوائد:… درج بالا اور دیگر کئی احادیث میں سینگی لگانے کا حکم اور ترغیب دلائی گئی ہے۔
7655
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے علاج کے طریقوں میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں ہے یا آگ سے داغ دینے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو، البتہ میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۷۶۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۸۳، ۵۷۰۲، ومسلم: ۲۲۰۵ (انظر: ۱۴۷۰۱)
7656
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔
Takhreej
(۷۶۵۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۷۶۵، والطبران فی الاوسط : ۹۳۳۵ (انظر: ۱۷۳۱۵)
7657
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔
Takhreej
(۷۶۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۸۰، ۵۶۸۱ (انظر: ۲۲۰۸)
Explanation
فوائد:… ظاہری طور پر یہ روایت موقوف ہے، لیکن آخری جملہ دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع روایت ہے، بہرحال صحیح بخاری اور سنن ابن ماجہ میں یہ پوری روایت مرفوع ثابت ہے۔
7658
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ کے پائوں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں تھے۔
Takhreej
(۷۶۵۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۴/ ۳۲۰، والحاکم: ۴/ ۴۱۶، وابن حبان: ۶۰۸۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۲۷۵ (انظر: ۴۰۵۴)
7659
Sahih
سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔
Takhreej
(۷۶۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۱۹ (انظر: ۱۲۴۱۶)
7660
Sahih