TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میانہ روی کے مسائل - میانہ روی کے مسائل - Book 152 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 152 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 4 Chapters
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
۔ (۸۹۲۵)۔ وَعَنْہَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ خُوَیْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمِ بْنِ اُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْاَوْقَصِ السُّلَمِیِّۃُ، وَکَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، قَالَتْ: فَرَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَذَاذَۃَ ھَیْئَتِھَا، فَقَالَ لِیْ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا اَبَذَّ ھَیْئَۃَ خُوَیْلَۃَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِمْرَاَۃٌ لا زَوْجَ لَھَا، یَصُوْمُ النَّھَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، فَہِیَ کَمَنْ لَا زَوْجَ لَھَا، فَتَرَکَتْ نَفْسَھَا وَاَضَاعَتْھَا، قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، فَجَائَ ہُ فَقَالَ: ((یَاعُثْمَانُ، اَرَغْبَۃً عَنْ سُنَّتِیْ؟)) قَالَ: فَقَالَ: لا، وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ سُنَّتَکَ اَطْلُبُ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ اَنَامُ وَاُصَلِّیْ، وَاَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاَنْکِحُ النِّسَائَ، فَاتَّقِ اللّٰہَ یَاعُثْمَانُ! فَاِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَصُمْ وَاَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیلیہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔
Takhreej
(۸۹۲۵) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۱۳۶۹ (انظر: ۲۶۳۰۸)
Explanation
فوائد:… ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تمام عبادات اور معاملات کو سامنے رکھا جائے، ایک طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جہادی لشکر ترتیب دیتے وقت جہاد میں شرکت کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں، دوسری طرف اس لشکر میںشرکت کے خواہشمند کو یہ حکم دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ جہاد میں شرکت کرنے کے بجائے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرے۔ یقین مانیں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی مہم یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی میں دینِ کامل پر عمل کیسے کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادات کا حق، حج و عمرہ کے تقاضے، جہاد میں شرکت، والدین کا حق، بیوی بچوں کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق، حصولِ رزق کے لیے محنت،مہمان کی میزبانی کے لیے وقت اور خرچ، فوتگیوں اور شادیوں کے معاملات… ۔ ایک دن ایک اچھا خاصا دین دار اور با شرع آدمی اپنے بھائی کے ولیمے میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ نمازِ عصر فوت ہو گئی، ایک دن ایک مستقل نمازی ایک نماز میں غائب تھا، جب اس سے سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ مہمان آئے ہوئے تھے۔ در حقیقتیہ لوگ افراط و تفریطمیں مبتلا ہیں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے سے عاری ہیں، ہماری زندگیاں بیت گئیں اورہم اپنے اسلامی نظام الاوقات مقرر نہ کر سکے، وہ ولیمہ کرنے کی توفیق ہی ہوئی، جو کئی لوگوں کی نمازِ عصر سے محرومی کا سبب بنی، جن مہمانوں کی وجہ سے نمازیں متاثر ہو جائیں، وہ مہمان ہوتے ہیںیا شیطان۔ کیا ولیمہ اور میزبانی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز سے غفلت برت کر اللہ تعالیٰ کی بغاوت کر دی جائے۔
8925
Sahih
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
۔ (۸۹۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا ھَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند احمد: ۳۶۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں۔ تین بار فرمایا۔
Takhreej
(۸۹۲۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۷۰(انظر: ۳۶۵۵)
8926
Sahih
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
۔ (۸۹۲۷)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنْ نَفَرًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْضُھُمْ: لَا اَتَزَوَّجُ ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: اُصَلِّیْ وَلَا اَنَامُ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: اَصُوْمُ وَلَا اُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ:((مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا کَذَا وَکَذَا، لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَتَزَوَّجُ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۶۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ آیا، ان میں سے کسی نے کہا: میں شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں نماز پڑھوں گا اور سوؤں گا نہیں، کسی نے کہا: میں روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۸۹۲۷) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۴۰۱(انظر: ۱۳۵۳۴)
8927
Sahih
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
۔ (۸۹۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ نَاسًا سَاَلُوْا اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عِبَادَتِہِ فِی السِّرِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَابَالُ اَقْوَامٍ یَسْاَلُوْنَ عَمَّا اَصْنَعُ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۶۳)
۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، …۔ الحدیث
Takhreej
(۸۹۲۸) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… دراصل یہ حدیث اوپر والی حدیث کا حصہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مخفی امورِ عبادت کے بارے میں سوال کرنا قابل تعریف بات ہے، لیکن اگر نظریہیہ ہو کہ سوال کرنے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر عمل کرے گا تو پھر معاملہ غلط ہو جائے گا۔
8928
Sahih
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
۔ (۸۹۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُوْتٰی رُخَصُہُ، کَمَا یَکْرَہُ اَنْ تُؤْتٰی مَعْصِیَتُہٗ۔)) (مسند احمد: ۵۸۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ رخصتوں پر عمل کرنے کو اس طرح پسند کرتا ہے، جیسے وہ نافرمانیوں کو ناپسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۹۲۹) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۹۸۸، وابن حبان: ۳۵۶۸، والبیھقی: ۳/ ۱۴۰(انظر: ۵۸۷۳)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۳۸۴۰)، اس مقام پر روزہ کی رخصت کے بارے سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، اس سے مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم سمجھ آ جائے گا۔ مزید ایک مثال درج ذیل ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف نکلے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور لوگوں نے بھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کراع غمیم کے مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ روزے کی وجہ سے بڑی مشقت میں ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اتنا بلند کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پانی پی لیا،یہ عصر کے بعد کا وقت تھا، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ بعض لوگوں نے ابھی تک روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ۔)) … یہ لوگ نافرمان ہیں،یہ لوگ نافرمان ہیں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۷۸) اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بالا حدیث کا معنی واضح کر دیا گیا ہے کہ جب رخصت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بندہ خواہ مخواہ کی مشقت میں پڑ رہا ہو، بلکہ اس کا نقصان ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں رخصت پر عمل کرنا ضروری ہو گا اور یہی عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہو گا، اگر کوئی اشد ضرورت کے وقت بھی رخصت کے معاملے میں تردّد میں پڑا رہے تو وہ نافرمان ہو گا۔ بطورِ مثال چند ایک رخصتیں درج ذیل ہیں : تیمم کی رخصت،موزوں یا جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت، اشارے سے نماز پڑھنے کی رخصت،فرض نماز بیٹھ کر ادا کرنے کی رخصت، بارش اور سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت، بارش کے دوران مسجد میں نہ جانے کی رخصت، مالی استطاعت رکھنے والے بیمارکے لیےیہ رخصت کہ وہ خود حج کے لیے نہ جائے، کسی بندے کو بھیج دے، سفر اور بیماری کی وجہ سے روزے اور نماز کی مخصوص رخصتیں، انتہائی مجبوری میں حرام کھانے کی رخصت وغیرہ، دراصل رخصتیں اسلام کا حسن ہیں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ رخصتوں پر عمل کرنے والوں کو بڑی عجیب نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ اُن کی نظر میں ایسے لگ رہا ہوتا ہے، جیسے وہ جرم کر رہے ہیں،یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، شریعت کسی کے فہم کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کا نام ہے، اگر حضر میں نمازِ ظہر کی دس رکعتیں ہیں تو سفر میں صرف دو، حالانکہ سفر میں دس رکعتوں کی ادائیگی کوئی وبالِ جان تو نہیں ہے، لیکنیہ شریعت کا فیصلہ ہے، ہمارا کوئی اختیار نہیں، کتنی خوبصورت بات کہی امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے، وہ کہتے ہیں: عَلَی اللّٰہِ الْبَیَانُ وَعَلَی الرَّسُوْلِ اَلْبَلاَغُ وَعَلَیْنَا اَلتَّسْلِیْمُ۔ … اللہ تعالیٰ پر واضح کرنا ہے، رسول پر پہنچانا ہے اور ہم پر تسلیم کرنا ہے۔ رخصت کی اقسام: أ: بوقتِ ضرورت حرام چیز کو جائز قرار دینا‘ جیسے زندگی بچانے کے لئے مجبورًا مردارکھانا‘ خون پینا۔ ب: واجب کو وقتی طور پر ترک کرنے کی رخصت دینا‘ جیسے مسافر اور مریض کے لئے رمضان کے روزے۔ ج: عام اصول و قواعد سے ہٹ کر بعض تجارتی معاملات کی اجازت دینا‘ جیسے بیع سلم‘ جس میں اصل چیز موجود نہیں ہوتی۔ رخصت کا حکم: رخصت کا اصل حکم تو مباح کا ہے‘ کیونکہ اس کا اصل مقصود لوگوں سے مشقت کو دور کرنا ہے‘ جیسے مسافر یا مریض کے لئے رمضان میں روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے۔ بعض اوقات رخصت کی بہ نسبت عزیمت پر عمل کرنا افضل ہوتا ہے‘ جیسے قتل جیسی مجبوری کے وقت زبان سے کلمۂ کفر کہنا جائز تو ہے‘ لیکن حق پر ڈٹے رہنا زیادہ بہتر ہے۔ کبھی کبھی رخصت پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے‘ جیسے بھوک کی وجہ سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لئے حرام چیزیں کھا لینا۔ کیونکہ جان بچانا ضروری اور فرض ہے قرآن مجید میں ہے: {لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ} (البقرۃ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
8929
Sahih
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
۔ (۸۹۳۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَّمْ یَقْبَلْ رُخْصَۃَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الذُّنُوْبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۷)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہ کی، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کی مانند گناہ ہوں گے۔
Takhreej
(۸۹۳۰) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ رُزیق الثقفی، وابن لھیعۃ سییء الحفظ وقد اضطرب فی اسنادہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۴۵۳۲(انظر: ۱۷۴۵۰)
8930
Zaeef
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ اَمْرٍ، فَتَنَزَّہَ عَنْہُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَغَضِبَ، حَتّٰی بَانَ الْغَضْبُ فِیْ وَجْھِہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ قَوْمٍ یَرْغَبُوْنَ عَمَّا رُخِّصَ لِیْفِیْہِ، فَوَاللّٰہِ! لَاَنَا اَعْلَمُھُمْ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاَشَدُّھُمْ لَہٗخَشْیَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کام میں کوئی رخصت دی، لیکن بعض لوگوں نے اس کو قبول کرنے سے گریز کیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے غصے ہو گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کر رہے ہیں، جس میں مجھے (بھی) رخصت دی گئی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔
Takhreej
(۸۹۳۱) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۱۰۱، ۷۳۰۱، ومسلم: ۲۳۵۶(انظر: ۲۴۱۸۰)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت رکھنے والے اور اس معرفت کے تقاضے پورے کرنے والے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تمام افعال و اعمال و اقوال سر آنکھوں پر۔ یہ خطرناک چیز ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رخصت دیں اور لوگ اس کے بارے میں تردّد میں پڑ جائیں۔
8931
Sahih
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یُذَکِّرُ کُلَّ خَمِیْسٍ، اَوْ اِثْنَیْنِ، الْاَیَّامَ، قَالَ: فَقُلْنَا اَوْ فَقِیْلَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اِنَّا لَنُحِبُّ حَدِیْثَکَ وَنَشْتَھِیْہِ، وَوَدِدْنَا اَنَّکَ تُذَکِّرُنَا کُلَّ یَوْمٍ، فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِنَّہٗلَایَمْنَعُنِیْ مِنْ ذٰلِکَ اِلاَّ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ، وَاِنِّیْ لَاَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَوَّلُنَا۔ (مسند احمد: ۴۴۳۹)
۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہر جمعرات یا سوموار کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! ہم آپ کی گفتگو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ و نصیحت کریں، جواب میں سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ میں تمہیں اکتا دینے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت سے تمہاری ایسے ہی نگہداشت کرتا ہوں، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۳۲) تخریج:أخرجہ البخاری: ۷۰، ومسلم: ۲۸۲۱ (انظر: ۴۴۳۹)
8932
Sahih
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۳)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: کُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْمَسْجِدِ، یَخْرُجُ عَلَیْنَا فَجَائَ یَزِیْدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَیَعْنِیْ النَّخْعِیَّ قَالَ: فَقَالَ: اَلاَ اَذْھَبُ فَاَنْظُرُ، فَاِنْ کَانَ فِی الدَّارِ لَعَلِّیْ اَنْ اُخْرِجَہُ اِلَیْکُمْ، فَجَائَ نَا فَقَامَ عَلَیْنَا فَقَالَ: اِنَّہٗلَیُذَکِّرُ لِیْ مَکَانُکُمْ فَمَا آتِیْکُمْ کَرَاھِیَۃَ اَنْ اُمِلَّکُمْ، لَقَدْ کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَۃِ کَرَاھِیَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا۔ (مسند احمد: ۳۵۸۷)
۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میںیزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔
Takhreej
(۸۹۳۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۸، ۶۴۱۱، ومسلم: ۲۸۲۱(انظر: ۳۵۸۷)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر روز خطاب نہیں کرتے تھے، بلکہ وعظ و نصیحت کے معاملے میں سامعین کی دلچسپی اور اکتاہٹ کا خیال رکھتے تھے، موجودہ دور کے مُصلح حضرات اور واعظین اس قسم کی مصلحت اور دانائی کا لحاظ نہیں کرتے اور پھر عوام سے یہ شکوہ رکھتے ہیں کہ شرعی مسائل سننے میںدلچسپی نہیں رکھتے۔ اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔ لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔
8933
Sahih
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
۔ (۸۹۳۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاء ِ أَبُو الْعَلَاء ِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِی عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِیرِیَّیَقُولُ کُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَیُحَدِّثُنِی فَإِذَا سَأَلْتُہُ الزِّیَادَۃَ قَالَ لَیْسَ عِنْدِی غَیْرُ ذَا وَکَانَ ضَرِیرًا۔ (مسند احمد: ۲۰۸۹۷)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عبیداللہ قواریری کہتے ہیں: میں ناصح بن علاء کے پاس سے گزرتا تھا اور وہ مجھے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب میں ان سے مزید کا سوال کرتا تو وہ کہتے: میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ نابینا آدمی تھے۔
Takhreej
(۸۹۳۴) تخریج:صحیح لغیرہ (انظر: ۲۰۶۲۱)
8934
Sahih
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
۔ (۸۹۳۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ، قَرَاْتُ عَلٰی اَبِیْ، حَدَّثَنَا اَبُوْ عُبَیْدَۃَ الْحَدَّادُ، حَدَّثَنَا سُکَیْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْعَبَدِیُّ، حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ الْھِجْرِیُّ، عَنْ اَبِی الْاَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ۔))(مسند احمد: ۴۲۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میانہ روی اختیار کی، وہ محتاج نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۸۹۳۵) تخریج:اسنادہ ضعیف، ابراہیم الھجری لین الحدیث، وسکین بن عبد العزیز مختلف فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۰۱۱۸(انظر: ۴۲۶۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک سنہری اصول ہے کہ معاملات دینی ہوں یا دنیوی، جو آدمی میانہ روی اختیار کرے گا، وہ دونوں جہانوں میں سرخرو ہو گا۔
8935
Zaeef
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
۔ (۸۹۳۶)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مِنْفِقْہِالرَّجُلِرِفْقُہٗفِیْ مَعِیْشَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۳۸)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کی سمجھداری کی علامت ہو گی کہ وہ معیشت میں نرمییعنی اعتدال اختیار کرے۔
Takhreej
(۸۹۳۶) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۳۱۳، والبیھقی فی الشعب : ۶۵۶۴ (انظر: ۲۱۶۹۵)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔} … اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ (سورۂ فرقان: ۶۷)
8936
Zaeef