مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Book 158 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 158 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 80 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان بندے کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ ہے کہ وہ اس کی دو آنکھیں بھی سلب کر لے اور پھر آگ میں بھی داخل کر دے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جس آدمی سے اس کی آنکھیں سلب کر لوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو اس کے ثواب میں جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گا۔
فوائد:… قوتِ بینائی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر آدمی کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا تعلق نہ ہو تو اس نعمت کے بغیر زندگی اندھیر ہے، ہاں اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو اور اس نعمت پر شکر اور صبر کیا جائے تو پھر اس کا صلہ بھی بہت بڑا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک عمل کرتا تھا، تم اس وقت تک وہی عمل لکھتے رہو، جب تک یہ میری قید میں ہے۔
فوائد:… آدمی باقاعدگی کے ساتھ جو اعمالِ صالحہ سرانجام دے رہا ہو، اگر بیماری کی وجہ سے اس کی روٹین متاثر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب پورا ملتا رہتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے: تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دن کے عمل کو اسی دن پر ہی ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن جب مؤمن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے فلاں بندے کو پابند کر دیا ہے، (اب اس کے عمل کا کیا جائے)؟ اللہ تعالیٰکہتا ہے: تم اس کے دن کو اس کے اسی عمل پر ختم کرتے رہو، جو یہ کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ شفایاب ہو یا جائے یا فوت ہو جائے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔
فوائد:… بیمار ہونے سے جہاں مختلف قسم کی آزمائشوں اور بیماریوں سے بندوں کو صبر آزما ساعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ان کو اجرو ثواب ملتا ہے، گناہوں کے اثرات زائل ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ جب بندہ بیماری کی وجہ سے وہ نفلی عبادات برقرار نہیں رکھ سکتا ، جو وہ صحت و تندرستی کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا، یا فرضی عبادات کو ان کی اصل کیفیت میں ادا نہیں کر سکتا، مثلا بیٹھ کر نماز ادا کرنا، تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادات کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آنے دیتا، بلکہ اس کی نیت اور ارادے کو دیکھ کر اس کے نامۂ اعمال میں اس کے عبادت والے سلسلے کا انداراج ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وہ عملی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، اس کی صحت اور قوت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے اُمِّ مِلْدَم کو کب محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: اُم مِلْدَم کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار۔ اس نے کہا: جی بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چمڑے اور ہڈیوں کے درمیان پیدا ہونے والی حرارت کو بخار کہتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے تو کبھی بھییہ محسوس نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پھر پوچھا: اچھا تو نے کبھی صُدَاع محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: صُدَاع کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کن پٹیوں اور سر کے درمیان درد ہوتی ہے۔ اس نے کہا: مجھے تو یہ بھی کبھی محسوس نہیں ہوا، جب وہ بدّو چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات خوش کرے کہ وہ کسیجہنمی شخص کو دیکھے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ ایک روایت میں ہے: جو آدمی آگ والوں میں سے کسی شخص کو دیکھنا پسند کرتا ہو، وہ اس کو دیکھ لے۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ صحت و عافیت کی دعا کرنے اور آزمائشوں اور بیماریوں کے ٹل جانے کا سوال کرنے کی تعلیم دی ہے، جبکہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے، ہاں اگر آدمی کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو اس کو صبر کرنا چاہیے اور یہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری کو اس کی خطاؤں کا کفارہ بنائے گا۔
اور جہاں بیمار ہونابندے کا فعل ہی نہیں ہے، وہاں بیماری کی دعا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، اس لیے مذکورہ بالا حدیث کییہ تاویل کی جائے گی کہ ممکن ہے کہ وہ بندہ گنہگار ہو اور اس نے نہ توبہ تائب ہو کر ان کی بخشش کروائی ہو اور نہ
وہ بیمار ہوا ہو کہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود بیماری کی فضیلت بیان کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اَلْدَمَیُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنا ہے اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، سنان بن ربیعۃ ضعفہ ابن معین، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۳۴ (انظر: ۱۲۵۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے بندے کی پسندیدہ چیز لے لیتا ہوں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس کو بطورِ عوض دینے کے لیے میرے پاس صرف جنت ہوتی ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۲(انظر: ۷۷۲۱)
Explanation
فوائد:… قسم کے پورا ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔}… تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شدہ امر ہے۔ (سورۂ مریم: ۷۱)
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ کچھ خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مردوں کی مجلس میں تشریف رکھتے ہیں تو ہم آپ کے پاس نہیں آ سکتے، اس لیے آپ ہمارے لیے ایک دن کا تعین کر دیں، ہم اس میں آپ کے پاس آ جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا وعدہ فلاں کا گھر ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعدے کے مطابق اس گھر میں تشریف لے آئے اور خواتین کو جو باتیں ارشاد فرمائیں، ان میں یہ فرمان بھی تھا: جو عورت تین بچوں کو آگے بھیج دیتی ہے اور پھر ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ایک خاتون نے کہا: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ د وہوں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے جس خاتون کے تین بچے فوت ہو جاتے ہیں تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔ پس ایک عورت نے کہا: …۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ محمود راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا خیال ہے کہ اگر تم ایک بچے کے بارے میں سوال کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دینا تھا کہ اگرچہ ایک بھی ہو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان بھییہی ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۲۹۴۶(انظر: ۱۴۲۸۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔
Takhreej
(۹۳۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، فیہ ضعف وانقطاع، محمد بن ابی محمد لایعرف، وابوعبیدۃ بن عبد اللہ لم یسمع من ابیہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، أخرجہ الترمذی: ۱۰۶۱، وابن ماجہ: ۱۶۰۶(انظر: ۳۵۵۴)
Explanation
فوائد:… جونہی آدمی غم والی خبر سنتا ہے، اسی وقت سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ وہ صبر کرے، نوحہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کوئی بات نہ کہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا:
۔ اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں کہ وہ اس کو زندہ رکھے، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سے اسلام قبول کیا، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو (آگ سے بچنے کا) بڑا مستحکم ذریعۂ حفاظت ہے۔ ماویہ کہتی ہیں: مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا: اے ماویۃ بات اچھی طرح سن (اور اس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ) محمد بن سیرین کہتے ہیں: یہ عورت (ماویہ) ابن معمر کے پاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی۔
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے ملیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۰۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۶۰۴(انظر: ۱۷۶۴۴)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی نسل سے تین نابالغ بچے اللہ تعالیٰ کے لیے آگے بھیج دیئے تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ثابت ہوں گے۔