اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰییَکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا، وَحَتّٰی ُیقَذَفَ فِی النَّارِ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ اَنْ نَجَّاہُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَلَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اللہ اور اس کا رسول اس کو باقی سب چیزوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو جائیں اور وہ کفر سے نجات پانے کے بعد اس کی طرف لوٹنے کی بہ نسبت آگ میں پھینکے جانے کو زیادہ پسند سمجھے اور کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
Takhreej
(۹۴۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۳۱۵۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنا عین ایمان ہے، اس لیے اس حکم کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے۔
9424
Sahih