TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

محبت اور صحبت کے مسائل - محبت اور صحبت کے مسائل - Book 159 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 159 of Musnad Ahmad, with 10 chapters and 60 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

60 Hadith · 10 Chapters
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰییَکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا، وَحَتّٰی ُیقَذَفَ فِی النَّارِ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَعُوْدَ فِی الْکُفْرِ بَعْدَ اَنْ نَجَّاہُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَلَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۸۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اللہ اور اس کا رسول اس کو باقی سب چیزوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو جائیں اور وہ کفر سے نجات پانے کے بعد اس کی طرف لوٹنے کی بہ نسبت آگ میں پھینکے جانے کو زیادہ پسند سمجھے اور کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
Takhreej
(۹۴۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۱۳۱۵۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنا عین ایمان ہے، اس لیے اس حکم کو سب سے مقدم رکھنا چاہیے۔
9424
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۵)۔ عَنْ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ عَنْدَہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: فَلَاَنْتَ الْآنَ وَاللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الآنَ یَا عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۱)
۔ زہرہ کے دادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہیں، ما سوائے اپنی جان کے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک مجھے اپنے نفس سے زیادہ محبوب نہیں سمجھے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اب آپ ہی مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب ٹھیک ہے۔
Takhreej
(۹۴۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۹۴، ۶۲۶۴، ۶۶۳۲ (انظر: ۱۸۰۴۷)
9425
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۵)۔ عَنْ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِلَّا نَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ عَنْدَہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہِ۔)) فَقَالَ عُمَرَ: فَلَاَنْتَ الْآنَ وَاللّٰہِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الآنَ یَا عُمَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۱۱)
۔ سیدنا فیروز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ اسلام لائے اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے، پس انھوں نے اپنی بیعت اور اسلام کے ساتھ اپنے وفد کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبول فرمایا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسلام تو قبول کر لیا، اب ہمارا ولی کون ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ انھوں نے کہا: ہمیں یہ کافی ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں۔
Takhreej
(۹۴۲۶) تخریج: ھدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی: ۱۸/ ۸۵۱، والدارمی: ۲۱۰۸ (انظر: ۱۸۰۳۷)
9426
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَشَدُّ اُمَّتِیْ لِیْ حُبًّا قَوْمٌ یَکُوْنُونَ اَوْ یَخْرُجُوْنَ بَعْدِیْ،یَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنَّہُ اَعْطٰی اَھْلَہُ وَمَالَہُ وَاَنَّہُ رَآنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے میری امت کے وہ لوگ ہیں، جو میرے بعد آئیں گے اور یہ پسند کریں گے کہ اپنے اہل اور مال کو خرچ کر کے میرا دیدار کر لیں۔
Takhreej
(۹۴۲۷) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۱۴۹۴)
Explanation
فوائد:… یہ نیک آرزو ہے، کسی عمل کا نام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اتنی محبت پیدا کریں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دیدار کرنے کاشوق پیدا ہو جائے۔
9427
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۸)۔ عَنْ ثَوْبَانٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْعَبْدَ لَیَلْتَمِسُ مَرْضَاۃَ اللّٰہِ، وَلَا یَزَالُ بِذٰلِکَ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِجِبْرِیْلَ: اِنَّ فُلَانًا عِبْدِیْیَلْتَمِسُ اَنْ یُّرْضِیَنِیْ، اَلَا وَاِنَّ رَحْمَتِیْ عَلَیْہِ، فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی فُلَانٍ، وَیَقُوْلُھَا حَمْلَۃُ الْعَرْشِ، وَیَقُوْلُھَا مَنْ حَوْلَھُمْ، حَتّٰییَقُوْلَھَا اَھْلُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَھْبِطُ لَہُ اِلَی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۶۴)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے لگا رہتا ہے، یہاں تک اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کے درپے تھا، خبردار! اب اس پر میری رحمت ہو چکی ہے، جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو چکی ہے، پھر حاملین عرش اس جملے کو دوہراتے ہیں، پھر ان کے ارد گرد والے فرشتے کہتے ہیں،یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہی کلمہ کہتے ہیں، پھر اسی بیان کو زمین پر اتار دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۲۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۱۲۶۲(انظر: ۲۲۴۰۱)
Explanation
فوائد:… جب آدمی اپنے اعمالِ صالحہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو جاتا ہے، تو آسمانوں اور زمینوں میں اس کی مقبولیت عام ہو جاتی ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ عمل میں اخلاص ہونا چاہیے اور عمل کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں ہونا چاہیے، اگر دوسرا مقصد ہوا تو ممکن ہے کہ عارضی طور پر مقبولیت مل جائے، وگرنہ انجام میں مذمت کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔
9428
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۲۹)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کاَنَ یُعْجِبُنَا اَنْ یَّجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ فَیَسْاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، مَتّٰی قِیَامُ السَّاعَۃِ؟ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟)) قَالَ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا؟)) قَالَ: مَا اَعْدَدْتُ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ، لَا صَلَاۃٍ وَ لَا صِیَامٍ اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبَتَ وَلَکَ مَا اَحْبَبْتَ) قَالَ اَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا رَاَیْتُ الْمِسْلِمِیْنَ فَرِحُوْا بَعْدَ الْاِسْلَامِ بِشَیْئٍ مَافَرِحُوْا بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۲۰۳۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرے، پس ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کر دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اور تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل تو نہیں کیے، نہ زیادہ نماز ہے اور نہ زیادہ روزے ہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرے گا۔ ایک روایت میں: پس بیشک تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تو پسند کرتا ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ مسلمان قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنے زیادہ خوش ہوئے ہوں، جتنے اس دن ہوئے تھے۔
Takhreej
(۹۴۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۱۵۳، ۶۱۷۱، ومسلم: ۲۶۳۹ (انظر: ۱۲۰۱۳)
9429
Sahih
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۹۴۳۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسٍ بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ قَالَ اَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَمَا فَرِحْنَا بِشَیْئٍ بَعْدَ الْاِسْلَامِ، فَرِحْنَا بِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: فَاَنَا اُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَاَنَا اَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ مَعَھُمْ لِحُبِّیْ اِیَّاھُمْ وَاِنْ کُنْتُ لَا اَعْمَلُ بِعَمَلِھِمْ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمیں جو خوشی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشاد سے ہوئی کہ بیشک تو اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ تجھے محبت ہے قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی، پس میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان کے اعمال جیسے نہیں ہیں۔
Takhreej
(۹۴۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ان کے عمل، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے دو خلفاء کے اعمال کی طرح کے نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے اور اپنے دل میں نیک لوگوں کی محبت رکھے، بالخصوص نبی کریم اور صحابہ کرام۔
9430
Sahih
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
۔ (۹۴۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا قَالَ: یَا جِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِی السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُلْقٰی حُبُّہُ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ فَیُحِبُّ، وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ: یَاجِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُلْقِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُوْضَعُ لَہُ الْبُغْضُ لِاَھْلِ الْاَرْضِ فَیُبْغَضُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس جبریل آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پاس تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس کی محبت اہل زمین میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں بندے سے بغض رکھتا ہوں، پس تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر جبریل آسمانوں میں یہ اعلان کر تے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر اہل زمین میں بھی اس کا بغض رکھ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس سے بغض کرنے لگ جاتے ہیں۔
Takhreej
(۹۴۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۴۸۵، ومسلم: ۲۶۳۷ (انظر: ۱۰۶۱۵)
9431
Sahih
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
۔ (۹۴۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اَنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا فَاَحِبَّہُ، فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ لِاَھْلِ السَّمَائِ: اَنَّ رَبَّکُمْ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، قَالَ: فَیُحِبُّہُ اَھْلُ السَّمَائِ قَالَ: وَیُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ، قَالَ: وَاِذَا اَبْغَضَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہو، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے ۔
Takhreej
(۹۴۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ کسی مسلمان کی قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے عرش پر کیے جاتے ہیں اور پھر ان کو نشر کر دیا جاتا ہے، جس آدمی کے عمل میں اخلاص نہیں ہو گا، اس کا عمل اس کے لیے مذمت کا سبب بنے گا، کیونکہ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیںہے۔
9432
Sahih
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
۔ (۹۴۳۳)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا رَضِیَ عَنِ الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الْخَیْرِ لَمْ یَعْمَلْہُ، وَاِذَا سَخِطَ عَلَی الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ یَعْمَلْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔
Takhreej
(۹۴۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۳۱، وابن حبان: ۳۶۸ (انظر: ۱۱۳۳۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اس کو سات قسم کی نیکیاں کرنے کی توفیق دے گا، لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا تذکرۂ خیر لوگوں میں عام کر دے گا، اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کی معائب و نقائص پر پردہ تو ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی نیکیوں کو مخفی نہیں رہنے دیتا، اگرچہ ان کو خلوت میں سر انجام دیا گیا ہو، جب کسی بندۂ خدا کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں۔
9433
Zaeef
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
۔ (۹۴۳۴)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ نِ الْوَاسِطِیِّ، عَنْ اَبِیْ طَیْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمِقَۃَ مِنَ اللّٰہِ، قَالَ شَرِیْکٌ: ھِیَ الْمَحَبَّۃُ وَالصَّیْتُ مِنَ السَّمَائِ، فَاِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَمِقُیَعْنِیْیُحِبُّ فُلانًا فَاَحِّبُوْہُ، اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَنْزِلُ لَہُ الْمَحَبَّۃُ فِیالْاَرْضِ، وَ اِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضْہُ، قَالَ: فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ رَبَّکُمْ یُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوْہُ، قَالَ: اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَجْرِیْ لَہُ الْبُغْضُ فِی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۲۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک محبت اور شہرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آتی ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم سب اس سے محبت کرو، پھر زمین میں بھی اس کی محبت اتر آتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے بغض رکھتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں، پس تو بھی اس سے بغض رکھ، پھر جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر زمین میں بھی اس کے لیے بغض اتار دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۲۲۷۰)
9434
Sahih
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
۔ (۹۴۳۵)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ صَبِیٌّ عَلٰی ظَھْرِ الطَّرِیْقِ، فَمَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ نَاسٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ،فَلَمَّارَاَتْاَمُّالصَّبِیِّ الْقَوْمَ خَشِیَتْ اَنْ یُوْطَاَ اِبْنُھَا، فَسَعَتْ وَحَمَلَتْہُ، وَقَالَتْ: اِبْنِیْ اِبْنِیْ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَانَتْ ھٰذِہِ لِتُلْقِیَ اِبْنَھَا فِی النَّارِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ولَا یُلْقِی اللّٰہُ حَبِیْبَہُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۰۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
Takhreej
(۹۴۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۳۴۷۶، وابویعلی: ۳۷۴۷، والحاکم: ۱/ ۵۸(انظر: ۱۳۴۶۷)
Explanation
فوائد:… کوئی اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے، اس کی طرف سے جوابی کاروائی محبت کرنے والے کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
9435
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۳۶)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبَنَانِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ کَعَمَلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔))، فَقَالَ اَنَسٌ: فَمَا رَاَیْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرِحُوْا بِشَیْئٍ قَطُّ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ الْاِسْلَامَ مَافَرِحُوْا بِھٰذَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَعْمَلَ کَعَمَلِہِ، فَاِذَا کُنَّا مَعَہُ فَحَسْبُنَا۔(مسند احمد: ۱۳۳۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۳۳۱۶)
Explanation
فوائد:… اس میں اہل خیر و صلاح لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کی فضیلت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا بھی بیان ہے کہ وہ ان سے محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے کم مرتبہ لوگوں کو بھی بلند تر درجوں پر فائز کر کے محبوبین کے ساتھ ملا دے گا۔ لیکن اس بشارت کے ساتھ ساتھ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے وعید بھی ہے جو بدکردار لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلق اور محبت رکھتے ہیں اور حقیقی محبت نہ ہونے کی صورت میں خوشامد، چاپلوسی اور دو رخی سے کام لیتے ہوئے پرخلوص محبتوں کے دعوے کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان کا حشر بھی ان کے ساتھ ہو۔
9436
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۳۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِطُ۔)) وقَالَ مُؤْمِلٌ: مَنْ یُخَالِلُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔
Takhreej
(۹۴۳۷) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ ابوداود: ۴۸۳۳، والترمذی: ۲۳۷۸ (انظر: ۸۰۲۸)
Explanation
فوائد:… ضرب المثل ہے: خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہر دوست کو اپنے دوست کا طرزِ حیات، عادات و اطوار اور طریقہ و سیرت اختیار کرنا پڑتا ہے، نمازی لوگ بے نمازوں کی مجلسوں میں جانے کی وجہ سے اپنی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر گانا اور موسیقی سن کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے، اس لیے دوستی لگاتے وقت غور و فکر کرنا چاہیے، اگر کسی کا دین اور اخلاق پسند ہے تو اسے دوست بنا لیا جائے۔ اچھا آدمی اس وجہ سے بدنام ہو جاتا ہے کہ برے لوگ اس کے دوست ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ برے آدمی کو سمجھانے کے لیے اس سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے اور کسی سے دوستی لگانا اور بات ہے۔
9437
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سمَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا تَصْحَبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَایَاْ کُلْ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔
Takhreej
(۹۴۳۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۸۳۲، والترمذی: ۲۳۹۵ (انظر: ۱۱۳۳۷)
Explanation
فوائد:… مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صاحب ِ ایمان لوگ اس کے دوست ہوں اور پرہیزگار لوگ اس کے مہمان بنیں،یہ بات علیحدہ ہے کہ ہر مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔
9438
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! الرَّجُل یُحِبُّ الْقَوْمَ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ بِاَعْمَالِھِمْ، قَالَ: ((اَنْتَ یَااَبَاذَرٍّ! مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ یُعِیْدُھَا مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۰۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔
Takhreej
(۹۴۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۵۱۲۶ ۲۱۳۷۹ (انظر: )
9439
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ رَجُلًا اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا یَلْحَقْ بِھِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۴۱ (انظر: ۱۹۶۲۸)
Explanation
فوائد:… جو آدمی اخلاص کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے دل کے قرب کو دیکھ کر ان ہی لوگوں میں اس کا شمار کر لیتا ہے، اس میں نیک لوگوں سے محبت دینے کی ترغیب ہے۔ لیکن ان روایات سے یہ مفہوم کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اگر نیک لوگوں سے محبت ہو تو اعمالِ صالحہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
9440
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، رِوَایَۃً، قَالَ: ((اَلْمُؤُمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ اِنْ لَمْ یُحْذِکَ مِنْ عِطْرِہِ عَلِقَکَ مِنْ رِیْحِہِ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ مَثَلُ الْکِیْرِ اِنْ لَمْ یُحْرِقْکَ نَالَکَ مِنْ شَرَرِہِ، وَالْخَازِنُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْیُؤَدِّیْ مَا اُمِرَ بِہٖمُؤْتَجِرًااَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بعضہ البخاری: ۲۱۰۱، ومسلم: ۲۶۲۸ (انظر: ۱۹۶۲۴)
9441
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۴۲)۔ (وَمِنْ طریقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّیَقُوْلُ : عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ الْعَطَّارِ۔))، فَذَکَرَ نَحْوَہُ مُخْتَصَرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۹۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۹۴۴۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… نیک ہم نشین نیکیوں کا سبب بنے گا اور برا ہم مجلس برائیوں کا۔
9442
Sahih
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۴۴۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: وَفَدْتُ فِیْ خَلَافَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَاِنّمَا حَمَلَنِیْ عَلَی الْوِفَادَۃِ لُقِیُّ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَاَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)فَقُلْتُ لَہُ: ھَلْ رَاَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزَوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۹)
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔
Takhreej
(۹۴۴۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۳۶۱ (انظر: ۱۸۰۹۰)
Explanation
فوائد:… صحابۂ کرام سے محبت نے زِرّ بن حبیش کو آنے پر مجبور کیا۔
9443
Sahih

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
7 Hadith
02
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
5 Hadith
03
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
10 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
8 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
6 Hadith
06
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
2 Hadith
07
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
3 Hadith
08
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
4 Hadith
09
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
9 Hadith
10
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
6 Hadith
No chapter matched that.