TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف اور مذمت کی کتاب - تعریف اور مذمت کی کتاب - Book 165 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 165 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 122 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

122 Hadith · 17 Chapters
مال کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۶۷)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ اِمْرَاَۃِ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی حَمْزَۃَ فَتَذَاکَرَا الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا بُوْرِکَ لَہُ فِیْھَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِیْ مَالِ اللّٰہِ وَمَالِ رَسُوْلِہِ لَہُ النَّارُ یَوْمَیَلْقَی اللّٰہَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۹۴)
۔ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور پھر دونوں نے دنیا کا ذکر کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے، جو اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھس تو جاتے ہیں، لیکن جس دن وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اس دن ان کے لیے آگ ہو گی۔
Takhreej
(۱۰۰۶۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۳۷۴ (انظر: ۲۷۰۵۴)
10067
Sahih
مال کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۶۸)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ، وَاِنَّ رِجَالًا یَتَخَوَّضُوْنَ فِیْ مَالِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِغَیْرِ حَقٍّ لَھُمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۶۱)
۔ سیدہ خولہ بنت ثامر انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشکیہ دنیا سر سبزو شاداب، میٹھی (اور پر کشش) ہے اور جو لوگ بغیر حق کے اللہ کے مال میں گھس جاتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہو گی۔
Takhreej
(۱۰۰۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۱۸ (انظر: ۲۷۳۱۸)
Explanation
فوائد:… اس دور میں پائی جانے والی ایک بدخصلت یہ بھی ہے کہ کئی لوگ مال و دولت کے حصول کے معاملے میں حلت و حرمت کا خیال نہیں رکھتے۔
10068
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یُخْرِجُ اللّٰہُ مِنْ نَبَاتِ الْاَرْضِ وَزَھْرَۃِ الدُّنْیَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَیْ رَسُوْلَ اللّٰہ! اَوَ یَاْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَکَتَ حَتّٰی رَاَیْنَا اَنَّہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ قَالَ: وَغَشِیَہُ بُھْرٌ وَعَرِقَ فَقَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ؟)) فَقَالَ: ھَا اَنَا وَلَمْ اُرِدْ اِلَّا خَیْرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، اِنَّ الْخَیْرَ لَایَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، اِنَّ الْخَیْرَ لَا یَاْتِیْ اِلَّا بِالْخَیْرِ، وَلٰکِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ وَکُلُّ مَا یُنْبِتُ الرَّبِیْعُیَقْتُلُ حَبَطًا اَوْ یُلِمُّ اِلَّا آکِلَۃَ الْخَضِرِ فَاِنَّھَا اَکَلَتْ حَتَّی امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاھَا وَاسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَاَکَلَتْ فَمَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّھَا بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَھَا بِغَیْرِ حَقِّھَا لَمْ یُبَارَکْ لَہُ۔)) وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْ کُلُ وَلَا یَشْبَعُ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدِ بْنِ حَنَّبَلٍL ): قَالَ اَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ: وَکَانَ الْاَعْمَشُ یَسْاَلُنِیْ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: بیشک مجھے سب سے زیادہ ڈر اس چیز کے بارے میں ہے، جو اللہ تعالیٰ زمین کی انگوریوں اور دنیا کے مال و متاع کی صورت میں نکالے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر بھی شرّ کو لاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سانس پھولنے لگا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت زیادہ پسینہ آ گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک خیر صرف خیر لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو ہی لاتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا سر سبزو شادات اور میٹھی ہے، موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے، وہ سوجن کی وجہ سے یا تو قتل کر دیتا ہے، یا قتل کے قریب کر دیتا ہے، ایک جانور چارہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں، پھر وہ سورج کے سامنے لیٹ جاتا ہے اورپتلا پاخانہ اور پیشاب کر کے پھر کھانا شروع کر دیتا ہے، بات یہ ہے کہ جو آدمی دنیا کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو بغیر حق کے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۱۰۰۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۲۱، ومسلم: ۱۰۵۲(انظر: ۱۱۰۳۵)
Explanation
فوائد:… موسم بہار میں بہت سی انگوریاں اگتی ہیں، جو جانور ضرورت کے مطابق چرتا رہے، اس کو ان انگوریوں کا فائدہ ہو گا، لیکن جو جانور اپنی ضرورت سے زیادہ کھائے گا، وہ بیمار پڑ جائے گا اور بالآخر مر جائے گا یا مرنے کے قریب ہو جائے گا، یہی معاملہ دنیوی مال و دولت کا ہے، جو آدمی ضرورت کے مطابق اس کو حاصل کرے گا، اس کو اس سے بڑا فائدہ ہو گا اور جو حرص میں پڑ کر اس کے پیچھے پڑ جائے گا اور اس کے معاملے میں شرعی حدود کا خیال بھی نہیں رکھے گا، اس کے لیےیہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔
10069
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِیْنَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْاَحْیَائِ وَالْاَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ فَرَطُکُمْ وَاَنَا عَلَیْکُمْ شَھِیْدٌ، وَاِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ، وَاِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلَیْہِ، وَلَسْتُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا (اَوْ قَالَ: تَکْفُرُوُا) وَلٰکِنِ الدُّنْیَا اَنْ تَنَافَسُوْا فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۷)
۔ سیدہ عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ برسوں کے بعد غزوۂ احد کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھی، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا اور تمہارے حق میں گواہی دوں گا، بیشک تمہارے وعدے کی جگہ حوض ہے اور میں اس حوض کی طرف دیکھ رہا ہوں، مجھے تمہارے بارے میں شرک کا ڈر نہیں ہے، بلکہ دنیا کا ڈر ہے کہ تم اس میں پڑ جاؤ گے۔ ایک روایت میں شرک کے بجائے کفر کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۱۰۰۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۰۴۲(انظر: ۱۷۴۰۲)
Explanation
فوائد:… جو دنیا میں پڑ گیا، اس نے اپنی شہوات کو پورا کرنے کی کوشش کی، نتیجتاً وہ معصیتوں میں پڑ گیا اور آخرت کے لیے عمل کرنے کے لیے فارغ نہ ہو سکا، سو اس نے اپنے نفس کے ذریعے اپنی آخرت کو نقصان دیا۔
10070
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ دُنْیَاہُ اَضَرَّ بِآخِرَتِہِ، وَمَنْ اَحَبَّ آخِرَتَہُ اَضَرَّ بِدُنْیَاہُ، فَآثِرُوْا مَایَبْقٰی عَلٰی مَا یَفْنٰی۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۳۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی دنیا سے محبت کی، اس کی آخرت کو نقصان پہنچا اور جس نے اپنی آخرت کو پسند کیا، اس کی دنیا کو نقصان پہنچا، پس تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو۔
Takhreej
(۱۰۰۷۱) تخریج: حسن لغیرہ،أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۹، وابن حبان: ۷۰۹ (انظر: ۱۹۶۹۷)
Explanation
فوائد:… چشم فلک اور ہر صاحب ِ بصارت کی بصیرت گواہ ہے کہ دنیوی آسائشوں کی وجہ سے عبادات کا سلسلہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی وجہ ہے کہ آج مساجد میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اچھے خاصے نمازی لوگ صرف اس وجہ سے نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے مذکورہ بالا حدیث کو دیکھا جائے تو کہنا پڑے گا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود یہ تھا کہ معمولی نیند کر کے جسم کا حق ہی ادا کرنا ہے نا، اتنا نرم و ملائم بچھونا استعمال کرنے سے نیند میں اضافہ ہو گا، سستی بڑھے گی اور دنیوی آسائشوں کی طرف میلان میں اضافہ ہو گا۔
10071
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ ھَمُّہُ الْآخِرَۃَ جَمَعَ اللّٰہُ شَمْلَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖوَاَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ، وَمَنْ کَانَ نِیَّتُہُ الدُّنْیَا فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ضَیْعَتَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَاْتْہِ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَاکُتِبَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۲۵)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی فکر آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے امور کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر (اس کے مقدر کے مطابق) اس کے پاس پہنچ جاتی ہے، لیکن جس آدمی کا رنج و غم دنیا ہی دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اس کی فقیری و محتاجی کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۶۶۰، وابن ماجہ: ۴۱۰۵، والترمذی: ۲۶۵۶ (انظر: ۲۱۵۹۰)
Explanation
فوائد:… حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنی عبادات و معاملات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مدنظر رکھے۔ اپنی عبادات میں حسن پیدا کرے اور جائز و مباح اسباب کے ذریعے حصولِ رزق کے لیے کوشاں رہے۔ روزی کے حصول کے لیے کبھی بھی حرام وسیلہ استعمال نہ کرے، نیز اگر اپنے کام کاج کے دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دوسری ذمہ داری عائد کر دی جاتی ہے تو اپنے مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر پہلے اس ذمہ داری کو پورا کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کبھی بھی اس کی دنیوی ضروریات پوری نہیں ہوں گی۔ اس کا ذہن مزید، مزید اور مزید کی تلاش میں لگا رہے گا اور اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغامِ اجل آ جائے گا۔
10072
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۳)۔ عَنْ عُبَیْدِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، اَنَّ اَبَا مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ: یَا سامَعَ الْاَشْعَرِیِّیْنَ لِیُبَلِّغْ مِنْکُمُ الْغَائِبَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((حُلْوَۃُ الدُّنْیَا مُرَّۃُ الْآخِرَۃِ، وَمُرَّۃُ الدُّنْیَا حُلْوَۃُ الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۸۷)
۔ عبید حضرمی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے کہا: اے اشعریوں کی جماعت! موجودہ لوگ، غائب لوگوں تک میری بات پہنچا دیں۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: دنیا کی لذت آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی تلخی آخرت کی لذت و شیری ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ،، شریح بن عبید لم یسمع ابا مالک الاشعری، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۰، والبیھقی فی الشعب : ۱۰۳۳۶(انظر: ۲۲۸۹۹)
Explanation
فوائد:… حقیقت میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فرمانبرداری میں آخرت میں تو کجا، دنیا میں بھی لذت ہی لذت اور حلاوت ہی حلاوت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن عام لوگ جن پر نیکی کرنا اور برائی ترک کرنا گراں گزرتا ہے، انھیں سمجھانے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ذہن کے مطابق جس چیز کو کڑوا اورکٹھن سمجھتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کی سعادت کیعلامت ہو گی اور جو چیز زیادہ مرغوب اور پسندیدہ لگے، لیکن بندے کی آخرت کے لیے مضر ہو تو اسے ترک کرنے میں اگرچہ تکلیف ہو گی، لیکنیہ تکلیف کئی رحمتوں کا سبب بن جاتی ہے۔
10073
Zaeef
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِثَوْبَانَ: ((کَیْفَ اَنْتَ یَا ثَوْبَانُ! اِذَا تَدَاعَتْ عَلَیْکُمُ الْاُمَمُ کَتَدَاعِیْکُمْ عَلٰی قَصْعَۃِ الطَّعَامِ یُصِیْبُوْنَ مِنْہُ؟)) قَالَ ثَوْبَانُ: بِاَبِیْ وَاُمِّیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قِلَّۃٌ بِنَا؟ قَالَ: ((لَا، اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیْرٌ، وَلٰکِنْ یُلْقٰی فِیْ قُلُوْبِکُمُ الْوَھَنُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الْوَھَنُ؟ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((حُبُّکُمُ الدُّنْیَا وَکَرَاھِیَتُکُمْ لِلْقِتَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تمہارا کیا بنے گا، جب دوسری امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیںَ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تمھاری بہت زیادہ تعداد ہو گی، دراصل تمھارے دلوں میں وہنڈال دیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہن کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور جہاد کی کراہیت کو وہن کہتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۰۷۴) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۸۷۱۳)
Explanation
فوائد:… عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔
10074
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّـۃُ الْکَافِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۷۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مسلم: ۲۹۵۶(انظر: ۱۰۲۸۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مصداق دنیا کے ظاہری حالات ہیں، وگرنہ دنیا میں جو تسکین مومن کو نصیب ہوتی ہے، اس کا کسی نافرمان کو احساس تک نہیں ہو سکتا، اگر ایک آدمی صدقہ کر کے سکون حاصل کر رہا ہو اور دوسرا دولت جمع کر کے خوش ہو رہا ہو تو صدقہ کرنے والے کا سکون زیادہ ہو گا، اسی طرح اگر ایک آدمی نماز فجر ادا کر کے تسکین حاصل کر رہا ہے اور دوسرا نیند کے ذریعے آرام کر رہا ہو تو نماز ادا کرنے والے کا سکون بہت زیادہ ہو گا۔
10075
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُہُ، فَاِذَا فَارَقَ الدُّنْیَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا مؤمن کے لیے قیدخانہ اور قحط سالی ہے، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سالی سے الگ ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۷۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن جنادۃ المعافری، لم یوثقہ غیر ابن حبان، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۵ (انظر: ۶۸۵۵)
10076
Zaeef
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُہُ، فَاِذَا فَارَقَ الدُّنْیَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۵۵)
۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں غربت و افلاس کا ڈر ہے، کیا تمہاری پریشانی دنیا ہے، پس بیشک اللہ تعالیٰ تم پر فارس اور روم کی سلطنتیں تمہارے لیے فتح کروانے والا ہے، دنیا تم پر اس طرح بہہ پڑے گیکہ کوئی چیز تم کو گمراہ کرنے والی نہیں ہو گی، مگر یہی دنیا۔
Takhreej
(۱۰۰۷۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۹۳، والبزار: ۲۷۵۸(انظر: ۲۳۹۸۲)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی امت کے بارے میں فقر و فاقہ کا ڈر نہیں تھا، بلکہ مال کی کثرت کا اندیشہ تھا، کیونکہیہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کییاد سے غافل کر دیتی ہے۔
10077
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ نَاقَۃُرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَمَّی الْعَضْبَائَ وَکَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ عَلٰی قَعُوْدٍ فَسَبَقَھَا فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فلَمَّا رَاٰی مَافِیْ وُجُوْھِھِمْ، قَالُوْا: سُبِقَتِ الْعَضْبَائُ فَقَالَ: ((اِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا وَضَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۳۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک اونٹنی تھا، اس کا نام عضباء تھا، کوئی دوسرا اونٹ اس سے سبقت نہیں لے جا سکتا تھا، پس ایک دن ایک بدّو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس سے آگے گزر گیا،یہ چیز مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے چہروں سے ان کی پریشانی کو محسوس کیا تو اتنے میں انھوں نے خود کہہ دیا کہ عضباء تو پیچھے رہ گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز کو بلند کرے گا، اس کو نیچے بھی کرے گا۔
Takhreej
(۱۰۰۷۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۹۳، والبزار: ۲۷۵۸(انظر: ۲۳۹۸۲)
Explanation
فوائد:… شاید ہی کوئی بشر ایسا ہو، جس نے اپنی زندگی میں دنیوی اعتبار سے عروج اور زوال کو نہ پایا ہو، وگرنہ عام طور پر دیکھایہ گیا ہے کہ غربت کے بعد امیری اور امیری کے بعد غربت، محرومی کے بعد بڑے بڑے عہدے اور بڑے بڑے عہدوں کے بعد محرومی ، ایک وقت میں آدمیاپنی بڑی عزت دیکھتا ہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ معاشرے کا بے وقعت فرد بنا ہوا ہوتا ہے، فرعون، قارون، نمرود، ابو جہل اور ابولہب جیسے بڑے بڑے سرکش اپنے آپ کو اس قانون سے مستثنی نہ کر سکے۔ یہ دنیا اور اہل دنیا سے متعلقہ قانون ہے، نہ کہ دین اور اہل دین کے بارے میں، دین اور اس پر عمل کرنے والوں کا مقدر ایسی رفعت و بلندی ہے کہ جس میںہمیشہ عروج رہتا ہے، اس کو کوئی زوال نہیں ہے۔ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ صاحب نے کہا: اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی دلائی گئی ہے کہ اس میں جو چیز بھی رفعت اختیار کرتی ہے، وہ بالآخر پست ہو جاتی ہے۔ حافظ منذری کہتے ہیں: بعض نے کہا کہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کا مقام بیان کی گیا ہے کہ یہحقیر اور پست چیز ہے۔ در حقیقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی امت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے مال و متاع کی بنا پر فخر و مباہاۃ کرنا ترک کردیں اور ہر اہل دین و دانش کو چاہئے کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے اور اس کو پا کر دوسروں پر برتری جتانا چھوڑ دے، کیونکہدنیوی سازو سامان بہت قلیل ہے اور اس کا حساب و کتاب بڑا طویل ہے۔ (عون المعبود)
10078
Sahih
دنیا کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّنْیَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَہُ وَلَھَا یَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا اس شخص کا گھر ہے، جس کا کوئی گھر نہیں ہوتا اور وہ آدمی اس کے لیے جمع کرتا ہے، جو عقل سے خالی ہوتاہے۔
Takhreej
(۱۰۰۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، دوید غیر منسوب، و زرعۃ شیخ ابی اسحاق لم یتبین لنا من ھو، ثم انہ قد اختلف فیہ علی حسین بن محمد (انظر: ۲۴۴۱۹)
Explanation
فوائد:… بہرحال آخرت والا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔} … اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔ (سورۂ عنکبوت: ۶۴)
10079
Zaeef
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ قَدْ اَلْقَاھَا اَھْلُھُا، فَقَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، جس کو اس کے مالکوں نے پھینک دیا تھا، اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی اہمیت اس بکری کی اس کے مالکوں کے ہاں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی اہمیت اس سے بھی کم ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۶۹۱، وابویعلی: ۲۵۹۳ (انظر: ۳۰۴۷)
Explanation
فوائد:… اگر دنیا و آخرت میں صرف یہ فرق ہوتا کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے، تب بھی آخرت کو ترجیح دی جاتی، جبکہ آخرت دائمی بھی ہے اور بہت قیمتی بھی ہے۔
10080
Sahih
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَخْلَۃٍ جَرْبَائَ قَدْ اَخْرَجَھَا اَھْلُھَا فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہِ ھَیِّنَۃً عَلٰی اَھْلِھَا؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک خارش زدہ بھیڑیا بکری کے بچے کے پاس سے گزرے، اس کے مالکوں نے اس کو گھر سے نکال دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہو گا؟ لوگوںنے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جتنا یہ بچہ اپنے مالکوں کے ہاں حقیر ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الدارمی: ۲۷۳۷ (انظر: ۸۴۶۴)
Explanation
فوائد:… جب آدم علیہ السلام اور حواm نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو ان کی توبہ تو قبول ہو گئی، لیکن پھر بھی ان کو زمین پر اتار دیا گیا اور کہا گیا کہ کھوئے ہوئے ورثے کو پانے کی کوشش کریں، درحقیقت انسان جنت کو پانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، نہ کہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کے لیے۔
10081
Sahih
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۲)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَی الْعَالِیَۃَ فَمَرَّ بِالسُّوْقِ فَمَرَّ بِجَدْیٍ اَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہُ فَرَفَعَہُ ثُمَّ قَالَ: ((بِکَمْ تُحِبُّوْنَ اَنَّ ھٰذَا لَکُمْ۔)) قَالُوْا: مَانُحِبُّ اَنَّہُ لَنَا بِشَیْئٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ؟قَالَ: ((بِکَمْتُحِبُّوْنَاَنَّہُلَکُمْ؟)) قَالُوْا: وَاللّٰہِ! لَوْکَانَحَیًّا لَکَانَ عَیْبًا فِیْہِ اَنَّہُ اَسَکُّ، فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۹۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالائی علاقے میں تشریف لائے اور وہاں چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے ایک مردار بچے کے پاس سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کو پکڑا اور بلند کیا اور پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض لینا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس کے عوض کوئی چیز دینا بھی گوارا نہیں کریں گے، بھلا ہم نے اس کو کیا کرنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم اس کو کتنی قیمت کے عوض خریدنا چاہو گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو اس کو اس بنا پر معیوب سمجھا جاتا کہ اس کے کان چھوٹے چھوٹے ہیں، اب تو سرے سے ہے ہی مردہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۷(انظر: ۱۴۹۳۰)
10082
Sahih
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۳)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((وَاللّٰہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ)! مَاالدُّنْیَا فِیْ الْآخِرَۃِ اِلَّا کَرَجُلٍ وَضَعَ اِصْبَعَہُ فِیْ الْیَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ اِلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَنْظُرْ بِمَا یَرْجِعُ اَشَارَ بِالسَّبَابَۃِ وَفِیْلَفْظٍ: یَعْنِیْ اَلَّتِیْ تَلِیْ الْاِبْھَامَ) قَالَ: وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: اَشْھَدُ اَنِّیْ کُنْتُ مَعَ الرَّکْبِ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدِ ارْتَحَلُوْا عَنْہُ فَاِذَا سَخْلَۃٌ مَطْرُوُحَۃٌ، فَقَالَ: ((اَتَرَوْنَ ھٰذِہٰ ھَانَتْ عَلٰی اَھْلِھَا حِیْنَ اَلْقَوْھَا؟)) قَالُوْا: مِنْ ھَوَانِھَا عَلَیْھِمْ اَلْقَوْھَا، قَالَ: ((فَوَاللّٰہِ! لَلدُّنْیَا اَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ ھٰذِہِ عَلٰی اَھْلِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۸۴)
۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ آدمی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور پھر اس کو باہر نکالے اور دیکھے کہ وہ کتنے پانی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگشت ِ شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ سیدنا مستورد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس قافلے کے ساتھ تھا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قوم کے مقام کے پاس سے گزرے، وہ وہاں سے کوچ کر چکے تھے، وہاں ایک بکری کا بچہ پڑا ہوا تھا، جس کو ان لوگوں نے پھینک دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس کے مالکوں نے اس کو حقیر سمجھ کر ہی چھوڑ دیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: جی اس کی کم اہمیت کی وجہ سے وہ اس کو پھینک گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم ہے کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مسلم: ۲۸۵۸ دون قصۃ سخلۃ، وأخرج ھذہ القصۃ الترمذی: ۲۳۲۱، وابن ماجہ: ۴۱۱۱ (انظر: ۱۸۰۲۱)
10083
Sahih
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۴)۔ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ سُفْیَانَ الْکِلَابِیِّ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((یَا ضَحَّاکُ! مَاطَعَامُکَ؟)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اللَّبَنُ وَاللَّحْمُ، قَالَ: ((ثُمَّ یَصِیْرُ اِلٰی مَاذَا؟)) قَالَ: اِلٰی مَا قَدْ عَلِمْتَ؟ قَالَ (النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): ((فَاِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ضَرَبَ مَایَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۹)
۔ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ضحاک! کون سی چیز تمہارا کھانا ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ اور گوشت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: بالآخر یہ کیا بن کر وجود سے نکلتا ہے ؟ انھوں نے کہا: جناب آپ جانتے ہی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک اللہ تعالیٰ نے ابن آدم سے خارج ہونے والی چیز کو دنیا کے لیے بطورِ مثال بیان کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۱۳۸(انظر: ۱۵۷۴۷)
10084
Sahih
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
۔ (۱۰۰۸۵)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْیَا، وَاِنْ قَزَّحَہُ وَمَلَّحَہُ فَانْظُرُوْا اِلٰی مَایَصِیْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۹)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لیے بطورمثال بیان کیا گیا ہے، ، اگرچہ کھانا مسالے دار اور نمکین ہو، پس دیکھو کہ وہ (بالآخر) کیا ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۷۰۲، والطبرانی فی الکبیر : ۵۳۱(انظر: ۲۱۲۳۹)
Explanation
فوائد:… مطلب یہ ہے کہ ابن آدم کو لالچی اور حریص او رزبان کے چسقوں کاغلام اور گرویدہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کا تعلق حلق سے اوپر تک ہے۔ حلق سے نیچے کھانے کا کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیںکیا جاتا کہ وہ مزیدار تھا یا بے مزہ۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَامَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَائً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ ُصْلَبٗہ،فَاِنْکَانَلَامَحَالَۃً، فَثُلُثٌ لِطَعَامِہِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِہٖ،وَثُلُثٌلِنَفَسِہِ۔)) (ترمذی) … کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ اپنے کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پانی کے لیے اور تیسرا حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔
10085
Sahih
عمارتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۸۶)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقِ الْمَدِیْنَۃِ فَرَاٰی قُبَّۃً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: ((لِمَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بَنَائٍ ھَدٌّ عَلٰی صَاحِبِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا مَاکَانَ فِیْ مَسْجِدٍ (اَوْ فِیْ بِنَائِ مَسْجِدِ،شَکَّ اَسْوَدُ) اَوْ اَوْ اَوْ۔)) ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ یَرَھَا فَقَالَ: ((مَافَعَلَتِ الْقُبَّۃُ؟)) قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَھَا مَا قُلْتَ فَھَدَمَھَا، قَالَ: فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۳۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک راستے میں جا رہا تھا، راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچی اینٹوں کا ایک گنبد دیکھا اور پوچھا: یہ کس کا ہے؟ میں نے کہا: جی،یہ فلاں آدمی کا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! ہر عمارت کو قیامت والے دن اس کے مالک پر گرا دیا جائے گا، مگر وہ جو مسجد کی تعمیر میں لگا دیا جائے، یا پھر فلاں فلاں امور میں۔ بعد میں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اسی راستے سے گزر ہوا تو وہ گنبد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نظر نہ آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس گنبد کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جب آپ کی بات اس کے مالک تک پہنچی تو اس نے اس کو گرا دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۶) تخریج: حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۶۱، وأخرجہ ابوداود بنحوہ: ۵۲۳۷ (انظر: ۱۳۳۰۱)
Explanation
فوائد:… اس روایت کی تفصیل درج ذیل ہے: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّۃً مُشْرِفَۃً، فَقَالَ: ((مَاھٰذِہٖ؟)) قَالَلَہُأَصْحَابُہُ: ھٰذِہٖلِفُلَانٍرَجُلٍمِنَالْاَنْصَارِفَسَکَتَوَحَمَلَھَافِیْ نَفْسِہٖ،حَتّٰی إِذَا جَائَ صَاحِِبُھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَلِّمُ عَلَیْہِ فِی النَّاسِ، أَعْرَضَ عَنْہُ، صَنَعَ ذَالِکَ مِرَارًا حَتّٰی عَرَفَ الرَّجُلُ الْغَضَبَ فِیْہِ وَالْاِعْرَاضَ عَنْہُ فَشَکـٰی ذَالِکَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَقَالَوَاللّٰہِاِنِّیْ لَاُنْکِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا خَرَجَ فَرَاٰی قُبَّتَکَ۔ فَرَجَعَ الرَّجُلُ اِلٰی قُبَّتِہٖفَھَدَمَھَاحَتّٰی سَوَّاھَا بِالْاَرْضِ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَرَھَا قَالَ: ((مَا فَعَلَتِ الْقُبَّۃُ۔)) قَالُوْا شَکـٰی اِلَیْنَا صَاحِبُھَا اِعْرَاضَکَ فَاَخْبَرْنَاہُ فَھَدَمَھَا، فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ کُلَّ بِنَائٍ وَبَالٌ عَلٰی صَاحِبِہٖاِلَّامَالَا۔)) یَعْنِیْ: مَالَا بُدَّ مِنْہُ۔ … سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے، ایک بلند گنبد دیکھا اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کہا: یہ فلاں انصاری آدمی کا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے اور اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا۔ جب اس کا مالک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اُس سے اعراض کیا، اُس نے کئی مرتبہ سلام کہا (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعراض کرتے رہے)۔ بالآخر اس آدمی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ناراضگی اور اعراض کا اندازہ ہو گیا، اُس نے صحابہ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: بخدا! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عجیب و اجنبی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: آپ باہر نکلے تھے اور تیرا گنبد دیکھا تھا۔ سو وہ آدمی فوراً اپنے گنبد کی طرف لوٹا اور اُس کو گرا کر زمین کے برابر کردیا۔ (پھر) ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے اور وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: گنبدکو کیا ہوا؟ صحابہ نے کہا: اس نے ہمارے سامنے آپ کے اعراض کرنے کا شکوہ کیا، ہم نے (آپ کی ناپسندیدگی کی ساری صورتحال) اس پر واضح کر دی، اس لیے اس نے اس کو منہدم کر دیا۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار!ہر عمارت اپنے مالک کے حق میں وبال ہے، سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ (ابوداود: ۲/۳۴۷، صحیحہ: ۲۸۳۰) یہ صحابۂ کرام میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، جو چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند تھی، وہ ان کو بھی پسند تھی اور جو چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند تھی، وہ ان کو بھی ناپسند تھی۔
10086
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.