چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ، قَالَ: کَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ، فََقَالَ الْاَنْصَارِیُّ: یَا لَلْاَنْصَارِ! وَقَالَ الْمُھَاجِرِیُّ: یَا لَلْمَھَاجِرِیْنَ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اَلَا مَا بَالُ دَعْوَیالْجَاھِلیَّۃِ دَعُوْا الْکَسْعَۃَ فَاِنَّھَا مُنْـتِـنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۹۶)
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری آدمی کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مارا (اور اس وجہ سے لڑائی ہو گئی)، انصاری نے آواز دی: او انصاریو! مہاجر نے آواز لگائی: او مہاجرو!، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جاہلیت والی پکار پکارنے کی کیا وجہ ہے، اس طرح کی شرارتیں چھوڑ دو، یہ قابل مذمت ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۱۹، ومسلم: ۲۵۸۴(انظر: ۱۵۱۲۹)
Explanation
فوائد:… مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
10147
Sahih