TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف اور مذمت کی کتاب - تعریف اور مذمت کی کتاب - Book 165 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 165 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 122 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

122 Hadith · 17 Chapters
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔
Takhreej
(۱۰۱۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۱۶۲۵(انظر: ۶۵۲۰)
Explanation
فوائد:… یہ حکم بن ابی العاص تھا، یہ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا چچا اور مروان کا باپ تھا، یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا اور پھر مدینہ منورہ میںسکونت اختیار کی،لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو طائف کی طرف بھیج دیا، پھر یہ وہیں رہا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی خلافت میں اس کو مدینہ میں بلا لیا، پھر یہیں اس نے وفات پائی۔ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں کہا: حکم بن ابی العاص پر لعنت کرنے اور اس کو جلاوطن کرنے سے متعلقہ کافی ساری احادیث ہیں، ان سب کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بہرحال یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی امرِ عظیم کی وجہ سے ایسے کیا، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بردبار اور چشم پوش تھے۔
10107
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مخنث مردوں،مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور تبتل اختیار کرنے والے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے، اور بیابان میں اکیلے سوار پر بھی لعنت کی،یہ باتیں صحابہ پر بڑی گراں گزریں،یہاں تک کہ ان کے چہروں سے واضح ہونے لگا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اکیلا رات گزارنے والابھی ۔
Takhreej
(۱۰۱۰۸) تخریج: صحیح دون لعنۃ راکب الفلاۃ والبائت وحدہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ طیب بن محمد (انظر: ۷۸۹۱)
10108
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگ دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح اور اس کی لعنت میں شام کریں گے، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۰۱۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۵۷ (انظر: ۸۰۷۳)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو ایسے گناہ سے محفوظ رہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنیں۔
10109
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۱۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُجَیْرٍ، ثَنَا سَیَّارٌ اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ۔)) اَوْ قَالَ: ((یَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ مَعَھُمْ اَسْیَاطٌ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ الْبَقَرِ، یَغْدُوْنَ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ، وَیَرُوْحُوْنَ فِیْ غَضَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۲۵۰۲)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔
Takhreej
(۱۰۱۱۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۰۰۰ (انظر: ۲۲۱۵۰)
10110
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَھْدًا لَنْ تُخْلِفَنِیْہِ، اِنّمَااَنَا بَشَرٌ فاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ آذَیْتُہُ اَوْ شَتَمْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ صَلَاۃً وَزَکَاۃً وَقُرْبَۃً تُقَرِّبُہُ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے ۔
Takhreej
(۱۰۱۱۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۳۳۸، وابویعلی: ۱۲۶۲ (انظر: ۱۱۲۹۰)
Explanation
فوائد:… کتنی دلچسپ بات ہے کہ رحمۃ للعالمین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بددعائیں بھی دوسروں کے لیے باعث ِ تزکیہ و طہارت اور باعث ِ اجر و ثواب بن جاتی ہیں،یہ دراصل رحمۃ للعالمین کا لقب پانے والے کی عظمت و منقبت ہے، امام مسلم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث پر یہ باب قائم کیا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی پر لعنت کریںیا کسی کو گالی اور بدعا دیں اور وہ اس کا اہل نہ ہو، تو یہ اس کے لیے تزکیہ، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی۔
10111
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ اَبِیْ قُرَّۃَ، قَالَ: کَانَ حُذَیْفَۃُ (یَعْنِیْ ابْنَ الْیَمَانِِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) بِالْمَدَائِنِ فَکَانَ یَذْکُرُ اَشْیَائً قَالَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ حُذَیْفَۃُ اِلَی سَلْمَانَ فَیَقُوْلُ سَلْمَانُ: یَا حُذَیْفَۃُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْضَبُ فَیَقُوْلُ وَیَرْضٰی وَیَقُوْلُ، لَقَدْ عَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ فَقَالَ: ((اُیَّمَا رَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ سَبَبْتُہُ سَبَّۃً فِیْ غَضَبِیْ، اَوْ لَعَنْتُہُ لَعْنَۃً فَاِنّمَا اَنَا مِنْ وُلْدِ آدَمَ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُوْنَ، وَاِنّمَا بَعَثَنِیْ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ، فَاجْعَلْھَا صَلَاۃً عَلَیْہِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۷)
۔ عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے
Takhreej
(۱۰۱۱۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۶۵۹ (انظر: ۲۳۷۰۶)
10112
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ اِلٰی حَفْصَۃَ اِبْنَۃِ عُمَرَ رَجُلًا، فَقَالَ: احْتَفِظِیْ بِہٖ،قَالَ: فَغَفَلَتْحَفْصَۃُ وَمَضَی الرَّجُلُ، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((یَاحَفْصَۃُ! مَا فَعَلَ الرَّجُلُ؟)) قَالَتْ: غَفَلْتُ عَنْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ۔)) فَرَفَعَتْ یَدَیْھَا ھٰکَذَا، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاشَاْنُکِ یَا حَفْصَۃُ؟)) فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْتَ قَبْلُ لِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ لَھَا: ((صُفِّیْیَدَیْکِ، فَاِنِّیْ سَاَلْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ اِنْسَانٍ مِنْ اُمَّتِیْ دَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ اَنْ یَجْعَلَھَا لَہُ مَغْفِرَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۵۸)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا: اس کی حفاظت کر کے رکھنا۔ لیکن انھوں نے غفلت برتی اور وہ بندہ نکل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: حفصہ! اس آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے غفلت ہو گئی اور وہ نکل گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں کو کاٹ دے۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر لیے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئی اور پوچھا: حفصہ! تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے یہ بد دعا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو سیدھا کر لے، پس بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنی امت کے جس فرد کو بد دعا دوں، وہ اس کو اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔
Takhreej
(۱۰۱۱۳) تخریج: صحیح بالشواھد (انظر: ۱۲۴۳۱)
10113
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۴)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلیٰ عَائِشَۃَ،عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَسِیْرٍ فَلَھَوْتُ عَنْہُ فَذَھَبَ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَافَعَلَ الْاَسِیْرُ؟)) قَالَتْ: لَھَوْتُ عَنْہُ مَعَ النِّسْوَۃِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: ((مَالَکِ قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ اَوْ یَدَیْکِ۔)) فَخَرَجَ فَآذَنَ بِہٖالنَّاسَفَطَلَبُوْہُفَجَائُوْابِہٖفَدَخَلَعَلَیَّ وَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ، فَقَالَ: ((مَالَکِ اَجُنِـنْتِ؟)) قُلْتُ: دَعَوْتَ عَلَیَّ فَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ اَنْظُرُ اَیُّھُمَایُقْطَعَانِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِرَفَعَیَدَیْہِ مَدًّا وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ بَشَرٌ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَوْ مُؤْمِنَۃٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ زَکَاۃً وَطُھْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۶۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قیدی میرے پاس لائے، لیکن میں اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھاگ گیا، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی میں دوسری خواتین کے ساتھ غافل ہو گئی تھی، پس وہ نکل گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں یا پاؤں کو کاٹ دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں اس قیدی کا اعلان کیا، پس انھوں نے اس کو تلاش کیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے، پاگل ہو گئی ہے تو؟ میں نے کہا: جی آپ نے مجھ پر بد دعا کی ہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی ہوں کہ کون سا ہاتھ پہلے کٹتا ہے، ہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! بیشک میں ایک بشر ہوں اور بشر کی طرح ہی غصے ہو جاتا ہوں، پس میں جس مؤمن مردیا عورت پر بد دعا کروں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب بنا دے۔
Takhreej
(۱۰۱۱۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۲۴۲۵۹)
10114
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ اِزَارٍ وَرِدَائٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَبَسَطَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَیُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِکَ ضَرَبْتُ، اَوْ آذَیْتُ فَـلَا تُعَاقِبْنِیْ بِہٖ۔)) قَالَ: بھزفیہ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔
Takhreej
(۱۰۱۱۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10115
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنَّ اَمْدَادَ الْعَرَبِ کَثَرُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی غَمُّوْہُ وَقَامَ الْمُھَاجِرُوْنَ یُفَرِّجُوْنَ عَنْہُ حَتَّی قَامَ عَلٰی عَتَبَۃِ عَائِشَۃَ، فَرَھِقُوْہُ فَاَسْلَمَ رِدَائَہُ فِیْ اَیْدِیْھِمْ، وَوَثَبَ عَلَیالْعَتَبَۃِ فَدَخَلَ وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((کَلَّا وَاللّٰہِ! یَا بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ! لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَہُ۔)) فَقُلْتُ: ((اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ اَضِیْقُ کَمَا یَضِیْقُ بِہٖالْبَشَرُ،فَاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ بَدَرَتْ اِلَیْہِ مِنِّیْ بَادِرَۃٌ فَاجْعَلْھَا لَہُ کَـفَّارَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔
Takhreej
(۱۰۱۱۶) تخریج: قولہ : انما انا بشر اضیق بما یضیق بہ البشر … الی آخرہ صحیح، وھذا اسناد فیہ ابن ابی الزناد مختلف فیہ، وعبد الرحمن بن الحارث مختلف فیہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۵۰۷ (انظر: ۲۴۷۶۴)
10116
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۷)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَانِ فَاَغْلَظَ لَھُمَا وَسَبَّھُمَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمَنْ اَصَابَ مِنْکَ خَیْرًا مَا اَصَابَ ھٰذَانِ مِنْکَ خَیْرًا قَالَتْ: فَقَالَ: ((اَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَھِدْتُ عَلَیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ فَاجْعَلْھَا لَہُ مَغْفِرَۃً وَعَافِیَۃً وَکَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۸۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔
Takhreej
(۱۰۱۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۰۰ (انظر: ۲۴۱۷۹)
10117
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَالَ: فَبَلَغَہُ اَنَّ فِیْ الْمَائِ قِلَّۃً الَّذِیْیَرِدُہُ فَاَمَرَ مُنَادِیًا فَنَادٰی فِیْ النَّاسِ اَنْ لَا یَسْبِقْنِیْ اِلَی الْمَائِ اَحَدٌ، فَاَتَی الْمَائَ وَقَدْ سَبَقَہُ قَوْمٌ فَلَعَنَھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۷)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر لعنت کی۔
Takhreej
(۱۰۱۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۷۹(انظر: ۲۳۳۹۵)
Explanation
فوائد:… غزوۂ تبوک کے سفر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رفقاء صحابۂ کرام تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لعنت پر مشتمل بد دعاان کے لیے باعث ِ تزکیہ و رحمت ہو گی۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔
10118
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ السَّوَّارِ، عَنْ خَالِہِ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُنَاسٌ یَتْبَعُوْنَہُ، فَاَتَّبَعْتُہُ مَعَھُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِی الْقَوْمُ یَسْعَوْنَ، قَالَ: وَاَبْقَی الْقَوْمُ، قَالَ: فَاَتَی عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبَنِیْضَرْبَۃً،اِمَّا بِعَسِیْبٍ، اَوْ قَضِیْبٍ، اَوْ سِوَاکٍ، اَوْ شَیْئٍ کَانَ مَعَہُ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا اَوْجَعَنِیْ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَیْلَۃٍ، قَالَ: وَقُلْتُ: مَاضَرَبَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا لِشَیْئٍ عَلَّمَہُ اللّٰہُ فِیَّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ نَفْسِیْ اَنْ آتِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّکَ رَاعٍ لَا تَکْسِرَنَّ قُرُوْنَ رَعِیَّتِکَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَیَّنَا الْغَدَاۃَ، اَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنَّ اُنَاسًا یَتْبَعُوْنِیْ، وَاِنِّیْ لَا یُعْجِبُنِیْ اَنْ یَتَّبِعُوْنِیْ، اَللّٰھُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ، اَوْ سَبَبْتُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ کَفَّارَۃً وَاَجْرًا، اَوْ قَالَ: مَغْفِرَۃً وَرَحْمَۃًََ۔)) اَوْ کَمَا قَالَ۔(مسند احمد: ۲۲۸۷۷)
۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۱۱۹) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۰۷۶ (انظر: ۲۲۵۱۰)
10119
Sahih
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
۔ (۱۰۱۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی اَبِیْ الطُّفَیْلِ فَوَجَدْتُہُ طَیَّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: لَاَغْتَنِمَنَّ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! النَّفَرُ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْنِھِمْ مَنْ ھُمْ؟ فَھَمَّ اَنْ یُخْبِرَنِیْ بِھِمْ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ سَوْدَۃُ: مَہْ یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! اَمَا بَلَغَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَیُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ دَعَوْتُ عَلَیْہِ دَعْوَۃً فَاجْعَلْھَا لَہُ زَکَاۃً وَرَحْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۳)
۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۱۲۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۳۳۰ (انظر: ۲۳۷۹۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی مسلمان کے حق میں بددعائیہ کلمات کہہ دیں تو وہ اس کے حق میں رحمت ثابت ہوں گے، رحمۃ للعالمین ہوں تو ایسے۔
10120
Sahih
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
۔ (۱۰۱۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ، قَالَ: کَانَتْ رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْ بَعِیْرٌ عَلَیْھَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَیْھَا جَارِیَۃٌ فَاَخَذُوْا بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَتَضَایَقَ بِھِمُ الطَّرِیْقُ فَاَبْصَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: حَلْ حَلْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَاحِبُ ھٰذِہِ الْجَارِیَۃِ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْبَعِیْرٌ عَلَیْھَا مِنْ لَعْنَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۴)
۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ پر کچھ بعض افراد کا سامان لدا ہوا تھا اور ایک لونڈی بھی سوار تھی، جب لوگ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے میں چلے اور راستہ تنگ ہو گیا تو اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، تو کہا: چل چل، اے اللہ! اس اونٹنی پر لعنت کر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ اس سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ کو نہ چلایا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی گئی ہو۔
Takhreej
(۱۰۱۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۹۶ (انظر: ۱۹۷۶۶)
10121
Sahih
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
۔ (۱۰۱۲۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ وَاِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ عَلٰی نَاقَۃٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْھَا، فَسَمِعَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْا مَا عَلَیْھَا وَدَعُوْھَا فَاِنَّھَا مَلْعُوْنَۃٌ۔)) قَالَ عِمْرَانُ: فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْھَا الْآنَ تَمْشِیْ فِیْ النَّاسِ مَا یَعْرِضُ لَھَا اَحَدٌ یَعْنِیْ النَّاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۱)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سفر میں تھے، ایک انصاری خاتون ایک اونٹنی پر تھی، اس نے اس کو ڈانٹا اور اس پر لعنت کر دی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر جو سامان لدا ہوا ہے، وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو، کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں، وہ لوگوں کے بیچ میں چل رہی تھی اور کوئی بھی اس کے درپے نہیں ہو رہا تھا۔
Takhreej
(۱۰۱۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۹۵(انظر: ۱۹۸۷۰)
10122
Sahih
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
۔ (۱۰۱۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ یَسِیْرُ فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَۃً فَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ النَّاقَۃِ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: اَنَا، قَالَ: ((اَخِّرْھَا فَقَدْ اُجِبْتَ فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ متعلقہ آدمی نے کہا: جی میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کو پیچھے کر دے، اس پر کی گئی بددعا قبول کرلی گئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۲۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۸۱۵ (انظر: ۹۵۲۲)
10123
Sahih
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
۔ (۱۰۱۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ الْجَوْزَائِ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھَا کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَامَرَ بِہٖالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُرَدَّ وَقَالَ: ((لَا یَصْحَبُنِیْ شَیْئٌ مَلْعَوْنٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَرْکَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۴۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔
Takhreej
(۱۰۱۲۴) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ (انظر: ۲۶۲۱۰)
10124
Sahih
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
۔ (۱۰۱۲۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَعَنَ رَجُلٌ دِیْکًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلْعَنْہُ فَاِنَّہُ یَدْعُوْ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۰)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر، بیشکیہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۲۵) تخریج: صحیح بلفظ ابی داود ، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۵۱۰۱ (انظر: ۱۷۰۳۴)
Explanation
فوائد:… جو چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر معاون ہو، وہ مدح کی مستحق ہوتی ہے، نہ مذمت کی۔ سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یُوْقِظُ لِلصَّلاَ ۃِ۔)) … مرغ کو گالی نہ دیا کرو، کیونکہیہ نماز کے لیے جگاتاہے۔ عام تجربہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرغ کے اندر جو فطرت ودیعت رکھی ہے، اس کی وجہ سے وہ فجر سے پہلے اور زوال کے وقت لگاتار آواز نکالنا شروع کر دیتا ہے، اس طرح سے نمازِ فجر اور نمازِ ظہر کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بہرحال یہ ایک علامت ہے، اس کے بعد وقت کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔
10125
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ شُعْبَۃَ، حَدَّثَنِیْ زُبَیْدٌ، عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِیْ ابْنَ مَسْعُوْدٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سِبَابُ الْمُسْلِم فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہُ کُفْرٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِاَبِیْ وَائِلٍ: اَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۳۶۴۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۸، ومسلم: ۶۴ (انظر: ۳۶۴۷)
10126
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.