TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف اور مذمت کی کتاب - تعریف اور مذمت کی کتاب - Book 165 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 165 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 122 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

122 Hadith · 17 Chapters
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَحَدَ اَغْیَرُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَلِذٰلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَابَطَنَ، وَلَا اَحَدَ اَحَبُّ اِلَیْہِ الْمَدْحُِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اس نے ظاہر ی اور باطنی ہر قسم کی بری چیزکو حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت تعریف زیادہ پسند ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۳۴، ۴۶۳۷، ومسلم: ۲۷۶۰ (انظر: ۳۶۱۶)
Explanation
فوائد:… جب خاوند اپنی بیوییا بیٹی کے پاس کوئی غیر آدمی دیکھتا ہے تو اس میں جلن پیدا ہوتی ہے، اسی کو غیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے کہ وہی اس کا خالق،ربّ اور مالک ہے، اسی کا کھاتا، پیتا اور پہنتا ہے، لیکن اس کے باجود یہ اس کی نافرمانی کرتاہے۔
10027
Sahih
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ مِثْلُہُ) وَزَادَ (وَلِذٰلِکَ مَدَحَ نَفْسَہُ) بَعْدَ قَوْلِہِ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۴۱۵۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10028
Sahih
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۲۹)۔ عَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلََا اُنْشِدُکَ مَحَامِدَ حَمِدْتُ بِھَا رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟ قَالَ: ((اَمَا اِنَّ رَبَّکَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْمَدْحَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۱)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ زائد الفاظ ہیں: اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کی ہے۔کے ذریعے میں نے اپنے ربّ کی تعریف کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تیرا ربّ تعریف کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحسن البصری لم یسمع من الاسود بن سریع أخرجہ النسائی فی الکبری : ۷۷۴۵، والطبرانی فی الکبیر : ۸۲۰، والحاکم: ۳/ ۶۱۴ (انظر: ۱۵۵۸۶)
10029
Zaeef
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۳۰)۔ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَدْ وَفَدَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ رَھْطٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ، قَالَ: فَاَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ، فَقُلْنَا: اَنْتَ وَلِیُّنَا، واَنْتَ سَیِّدُنَا، وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا، (قَالَ یُوْنُسَ: وَاَنْتَ اَطْوَلُ عَلَیْنَا طَوْلًا) وَاَنْتَ اَفَضَلُ عَلَیْنَا فَضْلًا، وَاَنْتَ الْجَفْنَۃُ الْغرَّائُ، فَقَالَ: ((قُوْلُوْا قَوْلَـکُمْ وَلَا یَسْتَجْرِیَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ۔)) قَالَ: وَرُبَمَا قَالَ: وَلَا یَسْتَھْوِیَنَّکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ بنو عامر کے چند ساتھیوں سمیت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا اور اس واقعہ کو یوں بیان کیا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: آپ ہمارے دوست ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، آپ ہم پر مہربانی و کرم کرنے میں بہت مہربان ہیں، آپ فضیلت میں ہم سے زیادہ ہیں اور آپ بہت بڑے سخی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مقصد کی بات کرو، ہرگز شیطان تم کو اپنے جال میں نہ پھنسانے پائے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۴۸۰۶ (انظر: ۱۶۳۱۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدرجۂ اتم ان سے متصف تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے تعریف کی جائے۔ عرب لوگ بہت زیادہ کھلانے والے سردار کو جَفْنَہ کہتے تھے، جس کے لفظی معنی ٹب کے ہیں اور غَرّائ کا معنی سفید ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ٹب چربی اور تیل سے بھرا ہوا ہو، ہم نے ان الفاظ کا مفہومی ترجمہ کیا ہے۔
10030
Sahih
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَنْتَ سَیِّدُ قُرَیْشٍ، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّیِّدُ اللّٰہُ۔)) فَقَالَ: اَنْتَ اَفَضَلُھَا فِیْھَا قَوْلًا، وَاَعْظَمُھَا فِیْھَا طَوْلًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقُلْ اَحَدُکُمْ بِقَوْلِہِ وَلَا یَسْتَجِرَّنَّہُ الشَّیْطَانُ اَوِ الشَّیَاطِیْنُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سردار تو اللہ ہے۔ پھر اس نے کہا: آپ بات کے لحاظ سے ہم میں سب سے افضل ہیں، مہربانی و کرم میں سب سے زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر کوئی اپنے مقصد کی بات کرے اور ہر گز شیطان کسی کو اپنے تابع فرمان نہ کرنے پائے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب لفظ سردار کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو گی تو اس کی شان و عظمت کے لائق اس کا معنی ہو گا اور جب اس کی نسبت بندوں کی طرف ہو گی تو ان کی حیثیت کے مطابق اس کا معنی کیا جائے گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا: ((اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ، وَلَا فَخْرَ)) … میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔
10031
Sahih
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ زُھَیْرِ نِ الثَّقَفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّبَائَۃِ اَوِ النَّبَاوَۃِ (شَکَّ نَافِعٌ) مِنَ الطَّائِفِ وَھُوَ یَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تُوْشِکُوْنَ اَنْ تَعْرِفُوْا اَھْلَ الْجَنّۃِ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّيِّئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، وَاَنْتُمْ شُھْدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)
۔ سیدنا زہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے طائف میں نباوہ مقام پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! بیشک قریب ہے کہ تم جنت والوں اور جہنم والوں یا نیکوکاروں اور بدکاروں کو پہچان لو۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری اور اچھی تعریف کے ذریعے، دراصل تم ایک دوسرے پر گواہی دینے میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۳۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۲۱ (انظر: ۱۵۴۳۹)
10032
Sahih
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
۔ (۱۰۰۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یَعْمَلُ الْعَمَلَ فَیَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، وَیُثْنُوْنَ عَلَیْہِ بِہٖفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ عَاجِلُ بَشْرَی الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آدمی عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے اس کی تعریف اور مدح سرائی کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مؤمن کے لیے جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۴۲(انظر: ۲۱۳۸۰)
Explanation
فوائد:… قارئین کرام! کسی آدمی کے منہ پر اس کی تعریف کرنا بھی سخت منع ہے، مدح سرائی کا خواہش مند ہونا بھی قابل مذمت ہے اور ریاکاری کرنا بھی باعث ِ ہلاکت ہے، تو پھر اس حدیث میں مذکورہ خوشخبری کون سی ہے؟ دراصل یہ مدح سرائی اس محبت کا اثر ہے، جو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اپنے خاص بندے کے لیے الہام کر دیتا ہے، جبکہ وہ آدمی خلوص کے ساتھ اور لوگوں سے بے پروا ہو کر عمل بھی کرتا ہے اور اپنے سامنے تعریفی کلمات سننا بھی گوارہ نہیں کرتا، اس کے باوجود جب وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ لوگ اپنی مجلسوں میںیا ایک دوسرے کے ساتھ اس کا تذکرۂ خیر کرتے ہیں تو وہ اس کو اپنے حق میں خوشخبری سمجھتا ہے، لیکن ریاکاری، عجب پسندی، تکبر اور خودنمائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
10033
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی کا تذکرہ کیا اور ایک شخص نے اس کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی شخص نہیں ہے، جو فلاں فلاں عمل میں اللہ کے رسول کے بعد افضل ہو، مگر وہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اپنے ساتھ کی گردن کاٹ دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: اگر کسی نے لامحالہ طور پر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو وہ یوں کہے: میرا گمان ہے کہ وہ آدمی ایسے ایسے ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا، دراصل اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال میں اس کو ایسے ایسے گمان کرتا ہوں۔
Takhreej
(۱۰۰۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۰۶۱، ومسلم: ۳۰۰۰ (انظر: ۲۰۴۲۲)
10034
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّھُمْ ذَکَرُوْا رَجُلًا عِنْدَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَفَضْلُ مِنْہُ فِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْحَکَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ)) مِرَارًا یَقُوْلُ ذٰلِکَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ کَانَ اَحَدُکُمْ مَادِحًا اَخَاہُ لَا مَحَالَۃَ فَلْیَقُل: اَحْسِبُ فُلَانًا اِنْ کَانَ یَرٰی اَنَّہُ کَذَاکَ وَلَا اُزَکِّیْ عَلَی اللّٰہِ تَبَارَکَ اَحَدًا وَحَسِیْبُہُ اللّٰہُ، اَحْسَبُہُ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اپنے ایک ساتھی کی تعریف کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، تو نے تو اس کی گردن کاٹ کے رکھ دی ہے، اگر تو نے لامحالہ طور پر تعریف کرنی ہی ہے تو اس طرح کہہ: میرا گمان ہے کہ وہ شخص ایسے ایسے ہے اور اس کا محاسب اللہ تعالیٰ ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔
Takhreej
(۱۰۰۳۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10035
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۶)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ، قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ ھٰکَذَا یَحْثُوْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا رَاَیْتُمُ الْمَدَّاحِیْنَ فَاحْثُوْا فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۴)
۔ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی تعریف کی اور انھوں نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم تعریف کرنے والوں کو پاؤ تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالا کرو۔
Takhreej
(۱۰۰۳۶) تخریج: صححیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۵۷۶۹، وابن ابی شیبۃ: ۹/۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۳۵۸۹(انظر: ۵۶۸۴)
10036
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۷)۔ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ اَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَابِ الْمَسْجِدِ اِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ، قَالَ: ((اَتَقُوْلُہُ صَادِقًاَ)) قَالَ: قُلْتُ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فُلَانُ، وَھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ، اَوْ قَالَ: اَکْثَرُ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ صَلَاۃً، قَالَ: ((لَا تُسْمِعْہُ فَتُھْلِـکَہُ۔)) (مَرَّتَیْنِِ اَوْ ثَلَاثًا) اِنَّـکُمْ اُمَّۃٌ اُرِیْدَ بِکُمُ الْیُسْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۱۴)
۔ سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مسجد کے دروازے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جب انھوں نے اچانک ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تیرا کیا خیال ہے کہ یہ آدمی سچا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ فلاں آدمی ہے، مدینہ میں سب سے اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا شخص ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے یہ بات اس کو سنا کر نہیں کرنی، وگرنہ اس کو ہلاک کر دو گے۔ دو تین بار یہ بات کی اور پھر فرمایا: بیشک تم ایسی امت ہو، جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۲۷، والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۷۰۶ (انظر: ۲۰۳۴۷)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ جس شخص کو مدینہ منورہ کا اچھا اور سب سے زیادہ نماز پڑھنے والا قرار دیا جا رہا ہے، اس کے سامنے بھی تعریفی کلمات کہنے سے منع کیا گیا، اس سے مقصود اس کی سلامت و حفاظت ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا تذکرۂ خیر کیا جا سکتا ہے۔
10037
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یُثْنِیْ عَلَی رَجُلٍ وَیُطْرِیْہِ فِیْ الْمِدْحَۃِ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اَھْلَکْـتُمْ اَوْ قَطَعْتُمْ ظَھْرَ الرَّجُلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۲۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنا کہ آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے اس شخص کی کمر کو ہلاک کر دیا ہے، یا کاٹ دیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۶۳، ۶۰۶۰، ومسلم: ۳۰۰۱ (انظر: ۱۹۶۹۲)
10038
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۳۹)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ، اَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ بَعَثَ وَفْدًا مِنَ الْعِرَاقِ اِلٰی عُثْمَانَ، فَجَائُ وْا یُثْنُوْنَ عَلَیْہِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثُوْ فِیْ وُجُوْھِھِمُ التُّرَابَ، وَقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَحْثُوَا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔ وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: فَقَامَ الْمِقْدَادُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((احْثُوْا فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) قَالَ الزُّبَیْرُ: اَمَّا الْمِقْدَادُ فَقَدْ قَضٰی مَاعَلَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۲۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: سیدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عراق سے ایک وفد سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا، جب وہ لوگ آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف کرنے لگے، لیکن سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے چہروں پر مٹی پھینکی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔ امام سفیان نے اپنی روایت میں کہا: سیدنا مقداد نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکو۔ پھر زبیر راوی نے کہا: سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
Takhreej
(۱۰۰۳۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۵۹، والطبرانی: ۲۰/ ۵۷۰(انظر: ۲۳۸۲۴)
10039
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۴۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ یُثْنِیْ عَلٰی اَمِیْرٍ مِنَ الْاُمَرَائِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ یَحْثِیْ فِیْ وَجْھِہِ التُّرَابَ وقَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْ نَحْثِیَ فِیْ وُجُوْہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۲۹)
۔ ابو معمر کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ ایک امیر کی تعریف کرنے لگا، اُدھر سے سیدنا مقداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکنا شروع کر دی اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینکیں۔
Takhreej
(۱۰۰۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۰۰۲ (انظر: ۲۳۸۲۸)
Explanation
فوائد:… امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے دو مفاہیم پیش کیے ہیں:(۱)زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے، جیسا کہ راوی ٔ حدیث سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کیا، وگرنہ (۲) اگر تاویل کی جائے تو اس کا معنییہ ہوگا کہ تعریف کرنے والے کو ناکام و نامراد بنا دیا جائے، اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جائے، تعریف کرنے کی وجہ سے اسے کچھ نہ دیا جائے، تاکہ اس کی زجر و توبیخ ہو سکے اور اسے ایسا کرنے سے روکا جا سکے۔ باقی تمام تاویلوں میں بُعد پایا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ تعریف کرنے والے کو مادِح اور جس کی تعریف کی جائے اس کو مَمدُوح کہتے ہیں۔ )امام غزالی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: کسی کی تعریف کرنے میں چھ آفات پائی جاتی ہیں، چار کا تعلق مادح سے ہے اور دو کا ممدوح سے۔ (۱)تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتے ہوئے ایسی صفات کا تذکرہ بھی کر دیتا ہے، جن سے درحقیقت متعلقہ فرد متصف نہیں ہوتا، سو وہ جھوٹا قرار پاتا ہے۔(۲) مادِح تعریف کرتے وقت ظاہری طور پر ایسی محبت و مودّت کا اظہار کرتا ہے، جو اس کے باطن میں نہیں ہوتی، سو وہ منافق قرار پاتا ہے۔ (۳)بسا اوقات مادِ ح تحقیق کیے بغیر باتیں کر جاتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ (۴)بعض اوقات ممدوح ظالم ہوتا ہے، لیکن مادِح اس کی تعریف کرکے اس کو خوش کر دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا نافرمان ٹھہرتا ہے۔ (۵)تعریف و توصیف کی وجہ سے ممدوح میں تکبر اور بڑائی جیسی بیماری پیدا ہو سکتی ہے اور (۶)بسا اوقات یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممدوح اپنی تعریف پر اتنا اترائے کہ اس کا عمل ضائع ہو جائے۔ (تحفۃ الاحوذی) قارئین کرام! اس قسم کی سخت وعید وں کے باوجود عصرحاضر میں سامعین و حاضرین کے سامنے سجائے گئے سٹیج پر ایک دوسرے کی تعریف کرنے میں حد سے تجاوز کیا جاتا ہے، اس سٹیج پر مذہبی قائدین تشریف فرما ہوںیا سیاسی لیڈر۔ ایسے ہی الیکشن، جلسے جلوس اور کانفرنسوں کے مواقع پر جو اشتہار شائع کیے جاتے ہیں، ان میں بھی قائدین کے القاب و اوصاف بیان کرنے میں غلوّ سے کام لیا جاتا ہے ، جیسے ولی کامل، پیکر اخلاص، شہنشاہِ خطابت، قاطع شرک و بدعت، سرمایۂ اسلام، محسِنِ اسلام، عالم باعمل، شب بیدار۔
10040
Sahih
تعریف کی ناجائز صورتیں
۔ (۱۰۰۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ اِنِّیْ قُمْتُ رَمَضَانَ کُلَّہُ اَوْ صُمْتُہُ۔)) قَالَ: فَـلَا اَدْرِیْ اَکَرِہَ التَّزْکِیَۃَ اَمْ لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَۃٍ اَوْ رَقْدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۷۷)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز اس طرح نہ کہے کہ اس نے سارے رمضان کا قیام کیا ہے یا سارے رمضان کے روزے رکھے ہیں۔ راوی کہتا ہے:یہ بات مجھے سمجھ نہ آ سکی کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ بندہ اپنا تزکیہ نہ کرے، یا کوئی اور ارادہ تھا، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ غفلت اختیار کی جائے، یا سویا جائے۔
Takhreej
(۱۰۰۴۱) تخریج: ضعیف، عنعنۃ الحسن البصری، أخرجہ ابوداود: ۲۴۱۵، والنسائی: ۴/ ۱۳۰ (انظر: ۲۰۴۰۶)
10041
Zaeef
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۲)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا تَرَکْتُ فِیْ النَّاسِ بَعْدِیْ فِتْنَۃً اَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۷۲)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے بعد لوگوں میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا، جو مردوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہو، ما سوائے عورتوں کے۔
Takhreej
(۱۰۰۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۲۵۹۶،والنسائی فی الکبری : ۹۲۷۰ (ا فنظر: ۲۱۸۲۹)
Explanation
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں ایک طرف تو عورت کو کلیدی حیثیت کا مالک ٹھہرایا گیا ہے، یہ عورت ہی ہے جو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا روپ اختیار کرکے اپنے بیٹوں، اپنے باپوں، اپنے بھائیوں اور اپنے خاوندوں سے الفت و محبت اور احترام و اکرام وصول کرتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَ خَیْرُ مَتَاعِھَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔ )) (مسلم: ۱۴۶۷) … دنیا ساز و سامان ہے اور دنیا کا بہترین سامان، نیک عورت ہے۔ عورتوںکے ساتھ بہترین حسن سلوک اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِھِمْ۔)) (ترمذی: ۱۱۶۲) … تم میں کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے اور تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو سب سے زیادہ تحفظ، احترام اور مقام عطا کیا، مردوں کو ان کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا، ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سرے سے غیر محرم عورتوں کی طرف دیکھنے اور بالخصوص نظرِ بد سے دیکھنے سے منع کر دیا۔ بہرحال اس مقام ومرتبہ کے باوجود عورت فتنہ باز، سازشی، مکار، ناشکری اور شکایتی ثابت ہوئی ہے۔ اس کی نالائقی اور بے صبری کو دیکھیں کہ یہ ایک خاوند، ساس سسر اور گھر میں بسنے والے چند افراد کو راضی نہیں رکھ سکتی ہے۔ عصر حاضر میں عورتوں کی نیم برہنہ حالت اور بے پردگی اچھے خاصے مومنوں کے لیے بڑی آزمائش ثابت ہوئی ہے، بازاروں میں بدکاری اور نظروں کا زنا عام ہے، گھروں سے باہر نکل کر جدھر نگاہ اٹھائیں، ہر طرف شیطانوں کے روپ میں عورتوں کے جاذبِ نظر چہرے اور بدکاری کے اسباب و وسائل نظر آتے ہیں، رہی سہی کمی میڈیا اور اشتہار بازی نے خوب پوری کر دی ہے۔ اس سے بڑا مکر و فریب کیا ہو سکتا ہے کہ شادی کے چند روز بعد ہی عورت نے اپنے خاوند کے سامنے قسما قسم کے بتول پڑھ پڑھ کے اسے خرید لیا اور اس کو اس کے والدین اور بہن بھائیوں کا دشمن ثابت کر دکھایا۔ آجکل مرد حضرات اپنے مجازی خالق والدین کی گستاخی کرتے ہیں، اپنے بہن بھائیوں کی محبتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے بھتیجے اور بھانجے ان کے میٹھے بولوں کو ترسنے لگتے ہیں، ان سب کارستانیوں کی جڑ عورت ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ شادی سے پہلے رشتہ داروں کے ساتھ معاملات اور ہوتے ہیں اور شادی کے بعد رخ بدلتے ہوئے نظرآنے لگتے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟ ساس کے کردار پر نگاہ ڈالیں، اس کی سازشوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ اس کا داماد اس کی بیٹی کا ہو کر رہ جائے اور اپنے جنم دینے والوں کو دشمن سمجھنے لگے۔ کتنے بدبخت اور کمینے ہیں وہ لوگ، جو اپنی بیویوں اور ساسوں کے پاس بیٹھ کر اپنی ماؤں بہنوں کی بدخوئی کرتے ہیں۔ مسلم معاشرہ کے اکثر افراد بدکار، چالباز اور آوارہ عورتوں کے جال میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ نے کبھی پوری دنیا میں تعلیمی میدان میں شکست کھاجانے والے ذہین نوجوانوں کے پست ہو جانے کے اسباب پر کبھی غور کیاہے؟ کالجز اور یونیورسٹیز کے آوارہ صفت ماحول کے نتائج پر کبھی غور کیا ہے؟ والدین سے بے رخی کرنے والے بیس سالہ لڑکے کے اسباب کے بارے میںدریافت کیا ہے؟ معاشرے کے اکثر نوجوان شادیوں کے قابل کیوں نہیں رہے؟ شادی کا نام سن کر ان کے رنگ پیلے کیوں پڑ جاتے ہیں؟ والدین کی طے شدہ نسبتوں کو کیوں ٹھکرا دیا گیا؟ ایک آدمی بچوں کا باپ ہونے، ان کے ناز نخرے پورے کرنے اور ان سے پیارو محبت کے دعوے کرنے کے باوجود اپنے ماں اور باپ کو کیوں بھول جاتا ہے؟ وسعت ہونے کے باوجود اپنے والدین پر خرچ کرنے کے معاملے میں کیوں کنجوسی برتی جاتی ہے؟ … … شاید ان سب سوالوں کے جوابات لفظ عورت پر آ کر رک جائیں۔ یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ خاتون کو ہر ایک کے احسانات یاد ہوتے ہیں، وہ اپنے بھائیوں اور بہنوئیوں کی تعریف کرے گی، وہ اس شخص کی مدح سرائی کرنا بھی نہیں بھولے گی، جس نے خوشی کے موقع پر اس کے بچے کو پانچ سو روپیہ دیا ہو گا، ما سوائے اپنے خاوند کے، جو مہینوں میں اس پر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے منفی پہلو کو سامنے رکھ کر اس کی بغاوت اور احسان فراموشی کی جائے گی، الا ما شاء اللہ۔
10042
Sahih
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الدُّنْیَا فَقَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ فَاتَّقُوْھَا وَاتَّقُوْا النِّسَائَ، ثُمَّ ذَکَرَ نِسْوَۃً ثَلَاثًا مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ امْرَاَتَیْنِ طَوَیْلَتَیْنِتُعْرَفَانِ وَاِمْرَاَۃٌ قَصِیْرَۃٌ لَا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَیْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْہُ مِنْ اَطْیَبِ الطِّیْبِ الْمِسْکِ، وَجَعَلَتْ لَہُ غَلَقًا، فَاِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَائِ اَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِہٖفَفَتَحَتْہُفَفَاحَرِیْحُہُ، قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِہِ الْیُسْرٰی فَاَشْخَصَھَا دُوْنَ اَصَابِعِہِ الثَّلَاثِ شَیْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔
Takhreej
(۱۰۰۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۶۹۹، وابن حبان: ۵۵۹۱، وابویعلی: ۱۲۹۹۳(انظر: ۱۱۴۲۶)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فاسق عورتیں ایسا لباس زیبِ تن کرتی ہیں اور (ایسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں) جس کی وجہ سے لوگ اپنی نگاہوں کو ان کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ آج کل بھییہ مصیبت عام ہو گئی ہے کہ عورتیں اونچی ہیل والی جوتیاں پہنتی ہیں اور جوتوں کے نیچے لوہا (وغیرہ) لگواتی ہیں، تاکہ چلتے وقت پٹک پٹک کی خوب آواز ہو۔ شایدیہودیوں نے یہ چیز ایجاد کی ہو، جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے جوتوں اور لباسوں سے اجتناب کریں۔ واللہ المستعان۔ (صحیحہ: ۴۸۶) خواتین کی ہر چیز جاذب نظر اور پر کشش بنا دی گئی ہے، یہاں تک کہ برقعوں پر بہت ڈیزائننگ کر دی گئی، دیدہ زیب لباس بنا دیئے گئے ہیں،خوشبو کا استعمال بہت عام ہو گیا ہے، زیب و زینت، بناؤ سنگھار اور حسن و جمال کے بہت اسباب پیدا کر دئیے گئے ہیں، صرف جوتوں کے ڈیزائنوں سے ہر چیز کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
10043
Sahih
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْفُسَّاقَ ھُمْ اَھْلُ النَّارِ۔)) قِیْلَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: ((النِّسَائُ۔)) وقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْ لَسْنَ اُمَّھَاتِنَا وَاَخَوَاتِنَا وَاَزْوَاجَنَا قَالَ: ((بَلٰی، وَلٰکِنَّھُنَّ اِذَا اُعْطِیْنَ لَمْ یَشْکُرْنَ، وَاِذَا ابْتُلِیْنَ لَمْ یَصْبِرْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۵۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے مروی سے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک فاسق لوگ جہنمی ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاسق لوگ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔
Takhreej
(۱۰۰۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۶۰۴ (انظر: ۱۵۶۶۶/۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں عورتوں کے لیے بڑی عبرت کا درس موجود ہے، کاش عورتیں اپنے خاوندوں کے احسانات کو سامنے رکھ کر شکر گزار اور احسان مند بن جاتیں، جبکہ وہ ان سے مستغنی بھی نہیں ہو سکتیں۔
10044
Sahih
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَاَیْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَ کالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ۔)) قَالُوْا: لِمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِکُفْرِھِنَّ۔)) قِیْلَ: اَیَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ، وَیَکْفُرْنَ الُاِحْسَانَ، لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحَدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: مَارَاَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم کو دیکھا ہے اور آج کی طرح سخت منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس میں اکثریت عورتوں کی تھی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے۔ کسی نے کہا: کیایہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے خاوندوں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تو زمانہ بھر کسی عورت کے ساتھ احسان کرتا رہے، لیکن پھر بھی جب وہ تجھ میں قابل اعتراض چیز دیکھے گی تو کہے گی: میں نے کبھی بھی تیرے پاس بھلائی نہیں پائی۔
Takhreej
(۱۰۰۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹، ۴۳۱، ۷۴۸، ۱۰۵۲، ومسلم: ۹۰۷(انظر: ۲۷۱۱)
10045
Sahih
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۶)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَجٍّ حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِمَرِّالظُّھْرَانِ فَاِذَا اِمْرَاَۃٌ فِیْ ھَوْدَجِھَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا اِمْرَاَۃٌ فِیْیَدَیْھَا حَبَائِرُھَا وَخَوَاتِیْمُھَا) قَدْ وَضَعَتْ یَدَیْھَا عَلٰی ھَوْدَجِھَا قَالَ: فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ، فَدَخَلْنَا مَعَہُ، فَقَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ فَاِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ کَثِیْرَۃٍ فِیْھَا غُرَابٌ اَعْصَمُ، اَحْمَرُ الْمِنْقَارِ، وَالرِّجْلَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ مِنَ النِّسَائِ اِلَّا مِثْلُ ھٰذَا الْغُرَابِ فِیْ ھٰذِہِ الْغِرْبَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۸۰)
۔ عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سفرِ حج میں تھے، جب ہم مر ظہران مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے کجاوے میں تھی، ایک روایت میں ہے: ایک خاتون کے ہاتھ مزین تھے اور اس نے انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں اور اس نے اپنے ہاتھوں کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا، پھر سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک طرف مڑے اور گھاٹی میں داخل ہو گئے، پس ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ داخل ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: ہم اس مقام میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے اچانک بہت زیادہ کوے دیکھے، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پائوں والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی، مگر سرخ چونچ اور سرخ پائوں والے کوے کی طرح بہت کم۔
Takhreej
(۱۰۰۴۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ (انظر: ۱۷۸۲۶)
Explanation
فوائد:… جس طرح سرخ چونچ اور سرخ پنجوں والے کوے تعداد میں دوسرے کوووں کی بہ نسبت بہت کم ہوتے ہیں،یہی معاملہ مذکورہ بالا عورتوں کا ہے کہ جنت میں جانے والی خواتین بہت کم ہوں گی۔
10046
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.