TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف اور مذمت کی کتاب - تعریف اور مذمت کی کتاب - Book 165 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 165 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 122 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

122 Hadith · 17 Chapters
عمارتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۸۷)۔ عَنْ قَیْسٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ نَعُوْدُہُ ھُوَ یَبْنِیْ حَائِطًا لَہُ، فَقَالَ: ((الْمُسْلِمُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَا مَا یَجْعَلُ فِیْ ھٰذَا التُّرَابِ۔)) وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا فِیْ بَطْنِہِ، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھَانَا، اَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِہٖ (زَادَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اَصْحَابَنَا الَّذِیْنَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْھُمُ الدُّنْیَا شَیْئًا، وَاِنَّا اَصَبْنَا بَعْدَھُمْ مَا لَا نَجِدُ لَہُ مَوْضِعًا اِلَّا التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۴)
۔ قیس کہتے ہیں: ہم سیدنا خباب بن ارت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، جبکہ وہ ایک دیوار بنا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے، ماسوائے اس سرمائے کے، جس کو اس مٹی پر خرچ کرتا ہے۔سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے پیٹ پر سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا، پھر انھوں نے کہا: ہمارے بعض ساتھی ایسے تھے کہ وہ دنیا سے چلے گئے، لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی، جبکہ ہم نے تو ان کے بعد اتنا مال و متاع حاصل کر لیاہے کہ ہم اس کے لیے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں پاتے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۳۰، ومسلم: ۲۶۸۱ (انظر: ۲۱۰۵۹)
Explanation
فوائد:… لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مشرف باسلام ہونے کے بعد دنیا کی کوئی نعمت پائے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے، اس طرح ان کو ان کا سارا اجر قیامت کے روز ملے گا۔
10087
Sahih
عمارتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۸۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّالَنَا، فَقَالَ: ((مَاھٰذَا؟)) قُلْنَا: خُصًّا لَنَا وَھٰی فَنَحْنُ نُصْلِحُہُ قَالَ: فَقَالَ: ((اَمَا اِنَّ الْاَمْرَ اَعْجَلُ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۶۵۰۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس سے گزرے، جبکہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کو مرمت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: جییہ ہماری چھونپڑی کمزور ہو گئی تھی، اس کی مرمت کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک موت کا معاملہ اس سے جلدی آنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۸۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۵۲۳۶، والترمذی: ۲۳۳۵، وابن ماجہ: ۴۱۶۰(انظر: ۶۵۰۲)
10088
Sahih
عمارتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۸۹)۔ عَنْ اُمِّ مُسْلِمٍ الْاَشْجَعِیَّۃِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاھَا وَھِیَ فِیْ قُّبَّۃٍ، فَقَالَ: ((مَا اَحْسَنَھَا اِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْھَا مَنِیَّۃٌ۔)) قَالَتْ: فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُھَا۔ (مسند حمد: ۲۸۰۱۲)
۔ سیدہ ام مسلم اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ اپنے ایک گنبد میں تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کتنا خوبصورت ہے، بشرطیکہ اس میں موت نہ ہوتی۔ وہ کہتی ہیں: پھر میں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
Takhreej
(۱۰۰۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ام مسلم، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۵/ ۳۷۵ (انظر: ۲۷۴۶۵)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ان احادیث میں مسلمان کو ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ وہ ضرورت سے زائد عمارتوں پر زیادہ توجہ نہ دھرے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کسی فرد کے کنبے کے قلیلیا کثیر افراد اور مہمانوں کی کثرت یاقلت کو سامنے رکھا جائے تو عمارت کے سلسلے میں کوئی معینہ حدّ پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ کو درجہ بالا احادیث کا متضاد نہیں سمجھا گیا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِأِمْرَأَتِہِ، وَالثَّالِثُ لِلضَیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ایک بچھونا مرد کے لیے، ایک بچھونا اس کی بیوی کے لیے، ایک مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ یہ صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث ہے، میں نے صحیح ابو داود میں اس کی تخریج کی ہے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر ؒنےکہا: انتمامروایات کو (ان عمارتوں پر) محمول کیا جائے گا، جن کی تعمیر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،یعنی وہ رہائش کے لیے اور گرمی و سردی سے بچنے کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ پھر حافظ صاحب نے بعض لوگوں کے ایسے اقوال بیان کیے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی عمارت گناہ ہے، پھر ان کا تعاقب کرتے ہوئے کہا: عمارت کا معاملہ اس طرح نہیں ہے،بلکہ اس میں تفصیل ہے، ضرورت سے زائد ہر عمارت کو گناہ نہیں قرار دیا جا سکتا… بلکہ بعض عمارتوں میں تو ثواب ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ دوسرے لوگ ان سے استفادہ کرتے ہیں، ایسی صورت میں مالک اجرو ثواب کا مستحق ہو گا۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۸۳۱) عصرِ حاضر میں پرشکوہ محلات اور کوٹھیوں اور ان کے لوازمات پر بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے، حالانکہ گھر بنانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف موسموں کی سختیوں سے اپنی حفاظت کی جائے اور یہ مقصد دس گیارہ مرلہ کے پلاٹ پر پانچ چھ لاکھ روپیہ صرف کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور کروڑہا روپیہ بھی،یہ۱۴۳۵ ھ (۲۰۱۴ ئ) کی بات ہے۔ قومِ عاد نے مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: {وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ} … اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہیہاں رہو گے۔ (سورۂ شعرائ: ۱۲۹)
10089
Zaeef
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
۔ (۱۰۰۹۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((لَا اَدْرِیْ۔)) فلَمَّا اَتَاہُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام قَالَ: ((یَاجِبْرِیْلُ! اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ حَتّٰی اَسْاَلَ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ثُمَّ مَکَثَ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَمْکُثَ، ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ سَاَلْتَنِیْ اُیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: لَا اَدْرِیْ اِنِّیْ سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: اَسْوَاقُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۶۵)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔
Takhreej
(۱۰۰۹۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل، أخرجہ البزار: ۱۲۵۲، وابویعلی: ۷۴۰۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۵۴۸ (انظر: ۱۶۷۴۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:((أَحَبُّ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین مقام مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقام بازار ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۷۱) بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔
10090
Zaeef
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
۔ (۱۰۰۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْا مَسَاکِنَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِلَّا اَنْ تَکُوْنُوْا بَاکِیْنَ اَنْ یُصِیْبَکُمْ مَا اَصَابَھُمْ۔)) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِہِ وَھُوَ عَلَی الرَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۵۷۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر تھے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۸۱، ومسلم: ۲۹۸۰ (انظر: ۵۷۰۵)
Explanation
فوائد:… حجر، ثمود کی وادی ہے، جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے، صالح علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس وادی میں ان پر عذاب آیا تھا، ایسے مقام سے گزرتے وقت خوف و خشیت کا عالَم طاری ہونا چاہیے، وگرنہ جو آدمی وہاں سے گزرتے وقت ان کی حالت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے نہ رویا، تو اس نے ان کے عمل سے مشابہت اختیار کی اور اس کادل سخت ہو گیا، پس ممکن ہے کہ اس کو بھی اس قسم کے عذاب سے دوچار کر دیا جائے۔
10091
Sahih
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
۔ (۱۰۰۹۲)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَا جَفَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، لکن المتن صحیح من حدیث ابی ھریرۃ، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ (انظر: ۱۸۶۱۹)
Explanation
فوائد:… بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل کبھی بھی معمور نہیں ہوتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔
10092
Zaeef
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَاعَنُوْا بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ، وَلَا بِغَضَبِہٖ،وَلَابِالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۴۳۷)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۰۹۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۹۰۶، والترمذی: ۱۹۷۶ (انظر: ۲۰۱۷۵)
Explanation
فوائد:… لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔ کسی معین شخص بالخصوص مؤمن آدمییا کسی مخصوص چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی بد دعا کرنا سخت منع ہے، کیونکہ اس بد دعا کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کافر مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے، بیشتر لوگ ہنسی مذاق یا سنجیدگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو لعنتی جیسے قبیح القاب سے پکارنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ سیدنا ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اگر کوئی آدمی ایسے الفاظ کہنے سے گریز نہیں کرتا تو خود اس کے ملعون ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَیْئًا صَعِدَتِ اللَّعَنَۃُ اِلَی السَّمَائِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَائِ دُوْنَھَا، ثُمَّ تَھْبِطُ اِلَی الْاَرْضِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُھَا دُوْنَھَا۔ ثُمَّ تَأْخُذُ یَمِیْنًا وَ شِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَی الَّذِیْ لُعِنَ، فَاِنْ کَانَ اَھْلًا لِذَالِکَ، وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلٰی قَائِلِھَا۔)) (ابوداود: ۴۹۰۵) … جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے کہ تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے دروازے بھی اس کے ورے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دائیں اور بائیں سمت اختیار کرتی ہے، پھر جب کوئی گنجائش نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ پس اگر وہ چیز اس لعنت کی مستحق ہو (تو اسی پر پڑتی ہے) وگرنہ وہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (اور یوں لعنت کرنے والا خود اپنی لعنت کا حقدار بن جاتا ہے)۔ لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی تعیین کے بغیر کافروں، فاسقوں اور بدکاروں کے حق میں اور ان لوگوں کے حق لعنت کی بددعا کی جا سکتی ہے، جن کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے،جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چوری کرنے والے، والدین پر لعنت کرنے والے، غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے، تصویر بنانے والے، سود کھانے والے، مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے لعنت کی بددعا کرنا ثابت ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرناجائز نہیں، چاہے وہ بظاہر ظالم ہو، جھوٹا ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو یا قاتل ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص پر اس کے ظلم یا جھوٹ یا کسی اور گناہ کی وجہ سے لعنت کی جا رہی ہے، اس نے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو یاآئندہ کر لے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ظالم یا جھوٹا نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف کر دے۔ اس لیے کسی بھی گنہگار مسلمان کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، اس پر اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد لعنت کرنا جائز نہیں۔ صرف یہ کہنا جائز ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو، ظالموں پر لعنت ہو، ابو جہل پر لعنت ہو، منافقوں اور کافروں پر لعنت ہو،کیونکہ اس انداز میں صرف وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹے اور ظالم ہی قرار پاتے ہیں۔
10093
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۴)۔ عَنْ جَرْمُوْزِ نِ الْھُجَیْمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ اَنْ لَا تَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۵۴)
۔ سیدنا جرموز ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۴) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۱۸۱(انظر: ۲۰۶۷۸)
Explanation
فوائد:… لعنت کی بد دعا کی ممنوعہ صورتیں مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے۔
10094
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ یُرْسِلُ اِلٰی اُمِّ الدِّرْدَائِ فَتَبِیْتُ عِنْدَ نِسَائِہِ وَیَسْاَلُھَا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَامَ لَیْلَۃً فَدَعَا خَادِمَہُ فَاَبْطَاَتْ عَلَیْہِ فَلَعَنَھَا، فَقَالَت: لَا تَلْعَنْ! فَاِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِیْ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعَّانِیْنَ لَا یَکُوْنُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُھْدَائَ وَلَا شُفَعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۷۹)
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتی اور وہ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔
Takhreej
(۱۰۰۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۹۸ (انظر: ۲۷۵۲۹)
10095
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِاللَّعَّانِ، وَلَاالطَّعَّانِ، وَالْفَاحِشِ، وَلَا الْبَـذِیِّ۔)) (مسند احمد: ۳۹۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۵۳۷۹، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۴۸۳، والبیھقی: ۱۰/ ۱۹۳ (انظر: ۳۹۴۸)
Explanation
فوائد:… متانت، سنجیدگی،وقار اور ٹھہراؤ، باایمان لوگوں کا زیور ہے، ان کے چال چلن، اٹھک بیٹھک، قول و کردار اور بول چال غرضیکہ ہر چیز میں اعتدال ہوتا ہے، جبکہ حدیث میں مذکورہ خصائل ذمیمہ ایمان اور اعتدال کے منافی امور ہیں، اس لیے مومن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
10096
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِلصِّدِیْقِ اَنْ یَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۹۷) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۹۷(انظر: ۸۷۸۲)
10097
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۸)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جَرْوَلِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ یُکَنَّی اَبَا عُمَیْرٍ اَنَّہُ کَانَ صَدِیْقًا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، وَاَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ زَارَہُ فِیْ اَھْلِہِ فَلَمْ یَجِدْہُ، قَالَ: فَاسْتَاْذَنَ عَلٰی اَھْلِہِ فَاسْتَسْقٰی، قَالَ: فَبَعَثَتِ الْجَارِیَۃَ تَجِیْئُہُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِیْرَانِ، فَاَبْطَاَتْ فَلَعَنَتْھَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ، فَجَائَ اَبُوْ عُمَیْرٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لَیْسَ مِثْلُکَ یُغَارُ عَلَیْہِ، ھَلَّا سَلَّمْتَ عَلٰی اَھْلِ اَخِیْکَ وَجَلَسْتَ وَاَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَتُ، فَاَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَاَبْطَاَتْ اِمَّا لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ وَاِمَّا رَغِبُوْا فِیْمَا عِنْدَھُمْ فَاَبْطَاَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْھَا، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعْنَۃَ اِلٰی مَنْ وُجِّھَتْ فَاِنْ اَصَابَتْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا اَوْ وَجَدَتْ فِیْہِ مَسْلِکًا وَ اِلَّا قَالَتْ : یَا رَبِّ! وُجِّھْتُ اِلٰی فُلَانٍ، فَلَمْ اَجِدْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا، وَلَمْ اَجِدْ فِیْہِ مَسْلَکًا فَیُقَال‘ لَھَا: ارْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ)) فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ الْخَادِمُ مَعْذُوْرَۃً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَۃُ فَاَکُوْنَ سَبَبَھَا۔)) مسند احمد: ۳۸۷۶)
۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوںسے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جائوں گا۔
Takhreej
(۱۰۰۹۸) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین (انظر: ۳۸۷۶)
10098
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۰۹۹)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَـقَتْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۸)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۰۵، ۶۶۵۲، ومسلم: ۱۱۰ (انظر: ۱۶۳۸۵)
10099
Sahih
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
۔ (۱۰۱۰۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہَ بِشَیْئٍ عُذِّبَ بِہٖ،وَمَنْشَھِدَعَلٰی مُسْلِمٍ (اَوْ قَالَ: مُؤْمِنٍ) بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ لَعَنَہُ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَی مِلَّۃٍ غَیْرِ الْاِسْلَامِ کَاذِبًا فَھُوَ کَمَا حَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۵)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۰۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمییوں کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو یا کروں تو میں یہودییا عیسائی ہو جاؤں، جبکہ وہ جھوٹا بھی ہو، اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا ذکر ہو سکتا ہے۔ یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو، لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔ بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
10100
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، اَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، کَانَ یَاْمُرُ بِالْاَمْرِ فَیْؤُتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُوْلُ : صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْاَشْتَرُ: اِنَّ ھٰذَا الَّذِیْ تَقُوْلُ، قَدْ تَفَشَّغَ فِیْ النَّاسِ اَ فَشَیْئٌ عَھِدَہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا عَھِدَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا خَاصَّۃً دُوْنَ النَّاسِ، اِلَّا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْہُ فَھُوَ فِیْ صَحِیْفَۃٍ فِیْ قِرَابِ سَیْفِیْ، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوْا بِہٖحَتّٰی اَخْرَجَ الصَّحِیْفَۃَ، قَالَ: فَاِذَا فِیْھَا: ((مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا اَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ والْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ۔)) قَالَ وَاِذَا فِیْھَا: ((اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۹۵۹)
۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کییہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا …۔
Takhreej
(۱۰۱۰۱) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۲۰۳۵، والنسائی: ۸/ ۲۴(انظر: ۹۵۹)
Explanation
فوائد:… بدعت ہر اعتبار سے ضلالت ہے اور بدعتی انسان کا اکرام کرنا، اس کا دفاع کرنا اور اس کی پشت پناہی کرنا بہت بڑا شرعی ظلم ہے۔ اس میں ان حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو مجرموں کو تحفظ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹی ناموری کے لیے لعنت اور پھٹکار کے مستحق ٹھہرتے ہیں،بالخصوص عصر حاضر کے سیاسی لوگ۔
10101
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِیٍّ : اَخْبِرْنَا بِشَیْئٍ اَسَرَّہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا اَسَرَّ اِلَیَّ شَیْئًا کَتَمَہُ النَّاسَ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ یَعْنِیْ الْمَنَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۵)
۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔
Takhreej
(۱۰۱۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۷۸ (انظر: ۸۵۵)
Explanation
فوائد:… جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اورہستی (پیر، پیغمبر، نبی، قطب، ابدال، نیک صالح اور بزرگ وغیرہ) کے لیے، ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر جانور ذبح کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔ نشانات کو بدلنے سے کیا مراد ہے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۰۱۵)
10102
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی رَجُلٍ یَقْتُلُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غصہ سخت ہو گیا، جس کو اللہ کا رسول اس کی راہ میں قتل کر دے۔
Takhreej
(۱۰۱۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۷۵(انظر: ۸۲۱۳)
Explanation
فوائد:… یہ بہت بڑی بد نصیبی ہے کہ کوئی آدمی کسی جنگ میں نبی کی مخالفت میں لڑ رہا ہو اور نبی اس کو قتل کر دے۔
10103
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۴)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ، حَدَّثَنِیْ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ وَعُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ(یَعْنِیْ الْقَوَارِیْرِیَّ) قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُُ دَاوٗدَ،عَنْنُعَیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃَ الْوَلِیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ الْوَلِیْدَیَضْرِبُھَا، وَقَالَ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَشْکُوْہُ، قَالَ: ((قُوْلِیْ لَہُ قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) قَالَ عَلِیٌّ: فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّایَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فاَخَذَ ھُدْبَۃً مِنْ ثَوْبِہٖفَدَفَعَھَااِلَیْھا، وَقَالَ: ((قولِیْ لَہُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ، فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فَرَفَعَ یَدَیْہِ وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ الْوَلِیْدَ، اَثِمَ بِیْ مَرَّتَیْنِ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ الْقَوَارِیْرِیِّ وَمَعَنَاھُمَا وَاحِدٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ولید مجھے مارتا ہے، اس طرح اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دے دی ہے۔ وہ چند دن ٹھہرنے کے بعد پھر آئی اور کہا: اس نے تو میری پٹائی کرنے میں اضافہ ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کپڑے کا جھالر پکڑا اور اس کو دے کر فرمایا: اس کو کہنا کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دی ہے۔ وہ معمولی عرصہ گزارنے کے بعد پھر آگئی اور کہا: اس نے میری مار میں ہی اضافہ کیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! تو ولید کی گرفت کر، وہ میری وجہ سے دو بار گنہگار ہو چکا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی مریم، وضعفِ نعیم بن حکیم (انظر: ۱۳۰۴)
10104
Zaeef
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنُ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اُمَّہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ کَمَہَ اَعْمٰی عَنْ طَرِیْقٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ وَقَعَ عَلیٰ بَھِیْمَۃٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو گالی دینے والا ملعون ہے، اپنی ماں کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے، زمین کے نشانات کو تبدیل کر دینے والا ملعون ہے، اندھے کو راستے سے بھٹکا دینے والا ملعون ہے، چوپائے سے بد فعلی کرنے والا ملعون ہے اور قوم لوط والا فعل کرنے والا بھی ملعون ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۰۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۵۴۶، والحاکم: ۴/ ۳۵۶، والبیھقی: ۸/ ۲۳۱ (انظر: ۱۸۷۵)
10105
Sahih
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)
۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو افراد کو گاتے ہوئے سنا، وہ ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے مددگاروں کی ہڈیاں تو (دفن نہ ہونے کی وجہ سے) نظر آتی رہیں، اس نے اپنے آپ سے لڑائی کے ہٹ جانے کو روک دیا کہ اس کو مٹی کے نیچے چھپا کر دفن کر دیاجاتا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھویہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں اور فلاں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے سر کے بال گرا دے اور دھتکار دے جہنم میں۔
Takhreej
(۱۰۱۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، مسلسل بالضعفاء والمجاھیل،یزید بن ابی زیاد ضعیف، کبر فتغیر وصار یتلقن، وسلیمان مجھول، وابوھلال لایعرف، أخرجہ البزار: ۳۸۵۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/۲۳۲ (انظر: ۱۹۷۸۰)
10106
Zaeef

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.